🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ہر اچھے کام میں دائیں ہاتھ اور دائیں جانب کو مقدم کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2320 ترقیم فقہی: -- 1877
-" من أطعمه الله طعاما فليقل: اللهم بارك لنا فيه وارزقنا خيرا منه ومن سقاه الله لبنا فليقل: اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه، فإني لا أعلم شيئا يجزئ من الطعام والشراب إلا اللبن".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں اور خالد بن ولید خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنگل میں مقیم میرے بھائی نے جو ہدیہ پیش کیا ہے، کیا میں وہ آپ کو کھلاؤں؟ پھر انہوں نے کھجوروں کے گچھے پر لٹکا کر بھونی ہوئے دو عدد سانڈے پیش کیے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری قوم کے ماکولات میں سے نہیں ہے اور مجھے اس سے گھن آتی ہے۔“ پھر سیدنا ابن عباس اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہم نے ان کو کھا لیا، لیکن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جو کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کھاتے، میں بھی وہ نہیں کھاتی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب طلب کیا۔ دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں خالد کو پلاؤں؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے سلسلے میں کسی کو اپنے نفس پر ترجیح نہیں دوں گا۔ پس ابن عباس [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1877]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2320

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدو لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2985 ترقیم فقہی: -- 1878
-" نهى أن نأكل طعام (وفي رواية: هدية) الأعراب".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام سنبلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ہدیہ لے کر میرے پاس آئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس موجود نہ تھے۔ میں نے اسے کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدوؤں کے کھانوں سے منع کیا ہے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ام سنبلہ! یہ تمہارے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطور ہدیہ لے کر آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سنبلہ! (کسی پیالے میں) ڈالو اور ابوبکر کو دو۔“ پھر فرمایا: ”ام سنبلہ! (پھر کسی پیالے میں) ڈالو اور عائشہ کو دو۔“ پھر فرمایا: ”ام سنبلہ! اور ڈالو“ اس نے اس دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوش فرما لیا۔ میں (عائشہ) نے کہا: ہائے! میرے کلیجے کو اطمینان نصیب ہو۔ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے بدو لوگوں کے کھانے سے منع نہیں کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ (ام سنبلہ لوگ) بدو نہیں ہیں، یہ ہمارے دیہات والے ہیں اور ہم ان کے شہر یا قصبے والے ہیں، لہٰذا یہ بدو نہیں ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1878]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2985

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اکھٹا کھانا کھانے کی برکت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1686 ترقیم فقہی: -- 1879
-" إن طعام الواحد يكفي الاثنين، وإن طعام الاثنين يكفي الثلاثة والأربعة، وإن طعام الأربعة يكفي الخمسة والستة".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کو، دو افراد کا کھانا تین کو اور چار آدمیوں کا کھانا پانچ چھ افراد کو کفایت کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1879]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1686

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ایک بڑی صحنک میں اکٹھا کھانا کھاتے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2105 ترقیم فقہی: -- 1880
-" كان له قصعة يقال لها: الغراء، يحملها أربعة رجال".
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحنک تھی، اس کو ”غراء“ کہتے تھے اور اسے چار آدمی اٹھاتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1880]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2105

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 393 ترقیم فقہی: -- 1881
-" كلوا من جوانبها، ودعوا ذروتها يبارك لكم فيها، ثم قال: خذوا فكلوا، فوالذي نفس محمد بيده ليفتحن عليكم أرض فارس والروم، حتى يكثر الطعام فلا يذكر اسم الله عليه".
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ دی گی اور اس دن کھانے کی مقدار کم تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے فرمایا: ”یہ بکری پکاؤ، اس آٹَے کا جائزہ لو، اس کی روٹیاں بناؤ، پھر ان کو پکا کر ثرید بنا دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ”غراء“ نامی (کوئی ٹب نما) بڑا پیالہ تھا، چار آدمی اس کو اٹھا سکتے تھے۔ جب صبح ہوئی اور صحابہ نے چاشت کی نماز ادا کی تو وہی پیالہ لایا گیا۔ لوگ (‏‏‏‏کھانے کے لیے) جمع ہو گے، جب کھانے والے زیادہ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ ایک بدو نے کہا: یہ بیٹھنے کی کون سی کیفیت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالی نے مجھے (سادہ مزاج) معزز بندہ بنایا ہے نہ کہ جبار اور سرکش۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیالے کے کناروں سے کھاؤ، نہ کہ چوٹی (‏‏‏‏یعنی وسط) سے، اس طرح سے تمہارے لیے برکت ہو گی۔“ پھر فرمایا ”لیجیئو اور کھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، تمہارے لیے فارس اور روم کی سر زمین ضرور فتح ہو گی اور ماکولات کی اتنی زیادتی ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر نہیں ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1881]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 393

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مردار سے استفادہ کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3133 ترقیم فقہی: -- 1882
- (لا تنتَفِعُوا من الميْتةِ بشيءٍ) .
عبداللہ بن حکیم کہتے ہیں: ہمارے جہینہ قبیلے کے کسی سردار نے ہمیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف (یہ پیغام) لکھ کر بھیجا تھا: ”مردار کی کسی چیز سے استفادہ مت کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1882]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3133

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مردار کا چمڑا پاک کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2163 ترقیم فقہی: -- 1883
-" لو أخذتم إهابها، يطهرها الماء والقرظ".
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں: احد مقام پر میری کچھ بکریاں تھیں، وہ مرنے لگ گئیں۔ میں زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور صورتحال کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا: اگر تو ان کے چمڑے لے کر ان سے استفادہ کرتی رہے (تو درست ہے)۔ میں نے کہا: کیا ایسا کرنا میرے لیے حلال ہو گا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کچھ لوگ اپنی (مردار) بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کاش تم لوگ اس کا چمڑا لے لیتے۔“ انہوں نے کہا: یہ تو مردار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی اور قرظ کے پتے اس کو پاک کر دیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1883]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2163

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دو مردار اور دو خون حلال ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1118 ترقیم فقہی: -- 1884
-" أحلت لنا ميتتان ودمان، فأما الميتتان فالحوت والجراد وأما الدمان فالكبد والطحال".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں۔ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر (کلیجہ) اور تلی ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1884]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1118

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اپنی قربانی کا گوشت کھانا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3563 ترقیم فقہی: -- 1885
- (إذا ضحّى أحدكم، فليأكل من أُضْحِيَّتِهِ) ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قربانی کرو تو اپنی قربانی کا کچھ گوشت کھایا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1885]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3563

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قربانی کا وقت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2707 ترقیم فقہی: -- 1886
-" من كان ذبح - أحسبه قال - قبل الصلاة فليعد ذبحته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحیٰ والے روز فرمایا: ”جس نے نماز (عید) سے پہلے (اپنی قربانی) ذبح کر دی وہ دوبارہ ذبح کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1886]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2707

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں