🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
پانی ملا پتلا دودھ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3217 ترقیم فقہی: -- 1867
- (إن آخر زادك من الدنيا ضيحٌ من لبنٍ. يعني: عمار بن ياسرٍ) .
ابراہیم بن سعد اپنے باپ اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو صفین کے مقام پر، جس دن وہ شہید ہوئے، کہتے ہوئے سنا: جنت قریب کر دی گئی اور خوبصورت آنکھوں والی حور سے شادی کر لی گئی، آج ہم اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہم اپنے محبوبوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کو ملیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ دنیا سے تیرا آخری توشہ پانی ملا پتلا دودھ ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1867]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3217

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنا حرام ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3417 ترقیم فقہی: -- 1868
- (إنّ الذِي يشربُ في إناءِ الفضّةِ [والذهبِ] إنما يُجرجرُ في بطنهِ نارَ جهنّم؛ إلا أن يتوبَ) .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جو آدمی چاندی اور سونے کے برتنوں میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہوتا ہے الا یہ کہ وہ توبہ کر لے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1868]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3417

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3568 ترقیم فقہی: -- 1869
- (نهى عن الأكل والشرب في آنية الذهب والفضّة) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1869]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3568

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 388 ترقیم فقہی: -- 1870
-" نهى عن الشرب من ثلمة القدح، وأن ينفخ في الشراب".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے پیالے میں پینے سے اور برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1870]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 388

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2689 ترقیم فقہی: -- 1871
-" نهي أن يشرب من كسر القدح".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے برتن میں پینے سے منع فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1871]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2689

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تمام برتنوں کے استعمال کی اجازت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 886 ترقیم فقہی: -- 1872
-" اجتنبوا كل ما أسكر".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے، (چار قسم کے) برتنوں (کے استعمال) سے اور تین دنوں کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن (کچھ عرصہ کے بعد) فرمایا: ”بلاشبہ میں نے تم لوگوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ آخرت یاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لیے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو اور میں نے تم کو قربانیوں کا گوشت تین ایام سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا، لیکن (اب کہتا ہوں کہ) جب تک چاہو، اپنے پاس گوشت روکے رکھو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1872]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 886

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2951 ترقیم فقہی: -- 1873
-" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نبيذ الجر".
ابوعالیہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1873]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2951

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2425 ترقیم فقہی: -- 1874
-" لا تشربوا في الدباء ولا في المزفت ولا في النقير وانتبذوا في الأسقية.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وفد عبدالقیس کے لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم کن برتنوں میں نہ پئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدو کے برتن میں، تارکول والے برتن میں اور پیالہ نما گڑھا کی ہوئی لکڑی میں نہ پیو اور مشکیزوں میں نبیذ بنایا کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مشکیزوں میں بھی (‏‏‏‏نبید) جوش مارنے لگ جائے تو؟ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ایسی صورت میں) مزید پانی ڈال دیا کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ... پھر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیسری یا چوتھی دفعہ فرمایا کہ ” اسے بہا دیا کرو۔“ پھر فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، «كوبه» اور ہر نشہ آور چیز کو حرام کر دیا ہے۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے «كوبه» کی بابت دریافت کیا؟ انہوں نے کہا: ڈھول کو کہتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1874]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2425

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر اچھے کام میں دائیں ہاتھ اور دائیں جانب کو مقدم کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1236 ترقیم فقہی: -- 1875
-" ليأكل أحدكم بيمينه وليشرب بيمينه وليأخذ بيمينه وليعط بيمينه، فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله ويعطي بشماله ويأخذ بشماله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کوئی دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں سے پئے، دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1875]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1236

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1771 ترقیم فقہی: -- 1876
-" الأيمن فالأيمن ـ وفي طريق: الأيمنون الأيمنون ـ ألا فيمنوا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی ملا دودھ لایا گیا، آپ کی دائیں جانب ایک بدو اور بائیں جانب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا اور باقی بدو کو تھما دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا، پس دائیں طرف والا (مقدم ہے)“ اور ایک روایت میں ہے: ”دائیں طرف والے، پس دائیں طرف والے، خبردار! دائیں طرف سے شروع کیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1876]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1771

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں