🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شکار کے احکام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1350 ترقیم فقہی: -- 1857
-" إذا رميت الصيد فأدركته بعد ثلاث ليال وسهمك فيه فكله ما لم ينتن".
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو شکار کو تیر وغیرہ مارتا ہے، لیکن وہ (غائب ہو جاتا ہے اور) تجھے تین دنوں کے بعد ملتا ہے اور تیرا تیر اس میں موجود ہوتا ہے تو جب تک وہ بدبودار (اور متعفن) نہ ہو، اسے کھانے کے لیے استعمال کر لیا کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1857]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2028 ترقیم فقہی: -- 1858
-" كل ما ردت عليك قوسك".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کمان (جس شکار کو) واپس پلٹا دے (یعنی جس جانور کو شکار کر لے) اسے کھا لے۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا ابوثعلبہ خشنی، سیدنا عقبہ بن عامر اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1858]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2028

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سفر کے آداب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1357 ترقیم فقہی: -- 1859
-" إذا سرتم في أرض خصبة، فأعطوا الدواب حقها أو حظها، وإذا سرتم في أرض جدبة فانجوا عليها، وعليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل، وإذا عرستم، فلا تعرسوا على قارعة الطريق فإنها مأوى كل دابة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سبزہ زاروں میں سفر کر رہے ہو تو جانوروں کو ان کا حق دیا کرو (یعنی ان کو چرنے دیا کرو) اور جب قحط زدہ زمین سے گزر ہو رہا ہو تو تیز چلا کرو اور رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات میں زمین کی مسا فت مختصر ہو جاتی ہے۔ جب تم کہیں پڑاؤ ڈالو تو وسط راہ میں ڈیرہ مت لگایا کرو، کیونکہ (ایسے مقامات رات کو) ہر قسم کے جانوروں کا ٹھکانہ ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1859]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1357

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہمسائیوں کے حقوق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1368 ترقیم فقہی: -- 1860
-" إذا طبختم اللحم فأكثروا المرق أو الماء، فإنه أوسع، أو أبلغ للجيران".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم گوشت پکاؤ تو اس میں شوربہ یا پانی زیادہ کر لیا کرو، کیونکہ وہ زیادہ پڑوسیوں کو دیا جا سکے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1860]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1368

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صدقے کا ہدیے میں تبدیل ہونا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2546 ترقیم فقہی: -- 1861
-" اشووا لنا منه، فقد بلغ محله".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہوئے اور گوشت دیکھ کر فرمایا: ”اس کا کچھ حصہ ہمارے لیے بھونو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تم اس کا کچھ حصہ ہمارے لیے بھون دو، یہ اپنے مقام پر پہنچ چکا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1861]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2546

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کھانا کھلانے، شیریں گفتگو کرنے اور اس کی ترغیب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1465 ترقیم فقہی: -- 1862
-" أطعموا الطعام، وأطيبوا الكلام".
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگوں کو) کھانا کھلایا کرو اور عمدہ کلام کیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1862]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1465

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1466 ترقیم فقہی: -- 1863
-" أطعموا الطعام، وأفشوا السلام، تورثوا الجنان".
محمد بن زیاد کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگوں کو) کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو، جنتوں کے وارث بن جاؤ گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1863]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1466

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں میں معجزانہ برکت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3162 ترقیم فقہی: -- 1864
- (أَعطاني - صلى الله عليه وسلم - شَيئاً من تمر، فجعلتُه في مِكْتَلِ لنا، فعلّقناه في سَقْفِ البيتِ، فلمْ نَزَل نأكلُ منه؛ حتَّى كانَ آخرُهُ أصابَهُ أهلُ الشام حيثُ أغارُوا على المدينةِ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کھجوریں دیں، میں نے ان کو ایک ٹوکرے میں رکھا اور گھر کی چھت کے ساتھ لٹکا دیا، ہم (عرصہ دراز تک) اس سے (کجھوریں نکال کر) کھاتے رہے، جب اہل شام نے مدینہ پر حملہ کیا تو وہ (ٹوکرا) ان کے ہتھے لگ گیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1864]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3162

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مجبوری میں مردار کھانا جائز ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2702 ترقیم فقہی: -- 1865
-" أعندكم ما يغنيكم؟ قال: لا. قال: فكلوها (يعني الناقة) وكانت قد ماتت".
”سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حرہ مقام پر ایک آدمی کی اونٹنی تھی اس نے وہ کسی دوسرے آدمی کو دے دی اور وہ اب بیمار ہو گئی تھی۔ جب وہ مرنے لگی تو اس کی بیوی نے اسے کہا: (بہتر ہے کہ) آپ اس کو نحر کر دیں تاکہ ہم سب (اس کا گوشت تو) کھا لیں۔ لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا (اور وہ اونٹنی مر گئی)۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات ذکر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس تمہیں کفایت کرنے کے بقدر کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس (اونٹنی کے مردار) کو کھا لو۔“ اس وقت وہ اونٹنی مر چکی تھی۔ اس نے کہا: پس ہم بیس دن تک اس کی چربی اور گوشت کھاتے رہے۔ پھر ہمیں اس کا پہلا مالک ملا اور پوچھا: تم لوگوں نے اس کو نحر کیوں نہیں کر لیا تھا؟ میں نے کہا: بس میں آپ سے شرماتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1865]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2702

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چیز کے حلال ہونے کی تحقیق کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1136 ترقیم فقہی: -- 1866
-" أمرت الرسل قبلي ألا تأكل إلا طيبا ولا تعمل إلا صالحا".
سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، نے طویل دن اور سخت گرمی کی وجہ سے افطاری کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ بھیجا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قاصد کو واپس کر دیا اور فرمایا کہ (پوچھ کر آؤ کہ) یہ دودھ کہاں سے لیا؟ اس نے جواب بھیجا کہ اپنی بکری کا دودھ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کو دوبارہ واپس کر دیا کہ (یہ پوچھ کر آؤ کہ) وہ بکری کہاں سے لی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اپنے مال کے عوض خریدی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنی چھان بین کے بعد) وہ پی لیا۔ دوسرے دن ام عبداللہ رضی اللہ عنہا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے طویل دن اور سخت گرمی کی وجہ سے آپ پر ترس کھاتے ہوئے (کل) دودھ کا پیالہ بھیجا تھا، لیکن آپ نے (تحقیق کرنے کے لیے) میرے قاصد کو میری طرف پلٹا دیا، (ایسے کیوں ہے)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے قبل رسولوں کو یہی حکم دیا گیا کہ وہ طیّب (یعنی حلال) چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1866]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1136

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں