سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمزوروں کا خیال رکھنا
ترقیم الباني: 2112 ترقیم فقہی: -- 2244
-" كان يأتي ضعفاء المسلمين ويزورهم ويعود مرضاهم ويشهد جنائزهم".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور مسلمانوں کے پاس جاتے، ان سے ملاقات کرتے، ان کے مریضوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2244]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2112
خلوتوں کی برائیاں جلوتوں کی نیکیوں کو لے ڈوبتی ہیں
ترقیم الباني: 505 ترقیم فقہی: -- 2245
-" لأعلمن أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة بيضا فيجعلها الله هباء منثورا. قال ثوبان: يا رسول الله صفهم لنا جلهم لنا أن لا نكون منهم ونحن لا نعلم، قال: أما إنهم إخوانكم ومن جلدتكم ويأخذون من الليل كما تأخذون ولكنهم أقوام إذا خلو بمحارم الله انتهكوها".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت کے ان لوگوں کو جانتا ہوں جو روز قیامت تہامہ پہاڑوں کی مثل (ڈھیروں) نیکیاں لے کر آئیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو فضا میں پھیلے ہوئے غبار کے باریک ریزوں کی طرح (بے اہمیت) کر دے گا۔“ ثوبان نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگوں کی صفات بیان کیجئیے، ان کی ذرا وضاحت کیجئیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم لاعلمی میں ان کی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، تمہاری ہی نسل سے ہوں گے، رات کو تمہاری طرح قیام کرنے والے ہوں گے، (بس ان کی خرابی یہ ہو گی) کہ خلوتوں میں اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2245]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 505
اعمال صالحہ کو مخفی رکھنا چاہیے
ترقیم الباني: 2313 ترقیم فقہی: -- 2246
-" من استطاع منكم أن يكون له خبئ من عمل صالح فليفعل".
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں عمل (صالح) کو مخفی رکھنے کی استطاعت ہو تو وہ اسے مخفی ہی رکھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2246]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2313
برائیوں میں اس امت کا سابقہ امتوں کی پیروی کرنا
ترقیم الباني: 1348 ترقیم فقہی: -- 2247
-" لتركبن سنن من كان قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع وباعا بباع حتى لو أن أحدهم دخل جحر ضب دخلتم وحتى لو أن أحدهم ضاجع أمه بالطريق لفعلتم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور پہلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے، بالشت کے بدلے بالشت، ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بدلے دو ہاتھ پھیلاؤ (یعنی ہو بہو ان کے نقش قدم پر چلو گے)، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے بل میں داخل ہوا تو تم بھی ایسا کرو گے اور ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے علانیہ بدکاری کی تو تم بھی کرو گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2247]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1348
مومن سے وقتاً فوقتاً گناہ ہوتے رہتے ہیں
ترقیم الباني: 2276 ترقیم فقہی: -- 2248
-" ما من عبد مؤمن إلا وله ذنب يعتاده الفينة بعد الفينة، أو ذنب هو مقيم عليه لا يفارقه حتى يفارق الدنيا، إن المؤمن خلق مفتنا تواب نساء، إذا ذكر ذكر".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی کسی نہ کسی گناہ کا عادی ہوتا ہے، وہ اس کا وقتاً فوقتاً ارتکاب کرتا رہتا ہے اور بسا اوقات وہ مرنے تک اس گناہ پر تسلسل کے ساتھ مصر بھی رہتا ہے، (دراصل) مومن کو اس حال میں پیدا کیا گیا کہ وہ آزمائش میں مبتلا ہونے والا، توبہ کرنے اور بھولنے والا ہوتا ہے۔ جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ وعظ و نصیحت قبول کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2248]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2276
گناہ کی نحوست
ترقیم الباني: 637 ترقیم فقہی: -- 2249
-" ما تواد اثنان في الله عز وجل، أو في الإسلام، فيفرق بينهما إلا ذنب يحدثه أحدهما".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اللہ کے لیے یا اسلام کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور ان میں بعد میں جدائی پڑ جاتی ہے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2249]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 637
گناہ کے بعد توبہ کرنے کی تلقین
ترقیم الباني: 1208 ترقیم فقہی: -- 2250
-" إن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه، فإن التوبة من الذنب: الندم والاستغفار".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو واقعی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھی ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر اور اس کی طرف توبہ کر، کیونکہ کسی گناہ سے توبہ کرنے کا طریقہ اس پر ندامت کا اظہار اور اس سے استغفار کرنا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2250]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1208
توبہ واستغفار کا حکم
ترقیم الباني: 1452 ترقیم فقہی: -- 2251
-" يا أيها الناس! توبوا إلى الله واستغفروه، فإني أتوب إلى الله وأستغفره في كل يوم مائة مرة".
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں اور ایک روایت میں ہے: وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد کوفہ میں ایک عمر رسیدہ صحابی کے پاس بیٹھا تھا، اس وقت انہوں نے مجھے ایک حدیث بیان کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ (رجوع) کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو۔ میں تو بارگاہ الہی میں روزانہ سو سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں اور اس سے بخشش کا مطالبہ کرتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2251]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1452
توبہ سے گناہوں کی معافی
ترقیم الباني: 903 ترقیم فقہی: -- 2252
-" لو أخطأتم حتى تبلغ خطاياكم السماء، ثم تبتم لتاب عليكم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم (اس قدر) گناہ کرتے رہو کہ وہ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگ جائیں اور پھر تم توبہ کرو تو وہ (اللہ) تمہاری توبہ قبول کر لے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2252]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 903
ترقیم الباني: 900 ترقیم فقہی: -- 2253
-" لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم".
علقمہ بن وائل کندی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک عورت نماز کے ارادے سے (گھر سے) نکلی، اسے راستے میں ایک آدمی ملا، اس نے اسے گرا دیا اور بدکاری کی۔ وہ چیخ و پکار کرنے لگی، وہ آدمی چل دیا۔ (اتنے میں) اس کے پاس سے کوئی دوسرا شخص گزرا، اس نے اسے بتایا کہ اس آدمی نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے۔ پھر وہ مہاجرین کے ایک گروہ کے پاس سے گزری اور انہیں بتایا کہ فلاں آدمی نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ وہ گئے اور اس آدمی کو پکڑ کر اس عورت کے سامنے لے آئے، اس نے کہا: واقعی یہی آدمی ہے۔۔۔ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو ایک دوسرا آدمی، جو درحقیقت مجرم تھا، اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس سے بدکاری کرنے والا (یہ شخص نہیں ہے) بلکہ میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“ پھر سابقہ آدمی کے بارے میں کلمہ خیر کہا اور (اپنے جرم کا اقرار کرنے والے) زانی آدمی کے بارے میں فرمایا: ”اس کو رجم (سنگسار) کر دو۔“ اور فرمایا: ”اس اقرار کرنے والے آدمی نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اتنی توبہ کر لیں تو ان سے قبول کی جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2253]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 900