🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب إحياء الموات
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
وعن ابن عباس أن الصعب بن جثامة الليثي أخبره أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا حمى إلا لله ولرسوله» .‏‏‏‏ رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے لئے چراگاہ مخصوص کر لے۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 778]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «أَنَّ» کہ – «الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ» صعب بن جثامہ لیثی نے – «أَخْبَرَهُ» انہیں خبر دی – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا حِمَى» کوئی چراگاہ مخصوص نہیں – «إِلَّا لِلَّهِ» سوائے اللہ کے لیے – «وَلِرَسُولِهِ» اور اس کے رسول کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(کسی چراگاہ کو) مخصوص (ممنوعہ) کرنا صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المساقاة، باب لا حمي إلا لله ولرسوله صلي الله عليه وسلم، حديث:2370.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 779
وعنه رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ضرر ولا ضرار» . رواه أحمد وابن ماجه. وله من حديث أبي سعيد مثله وهو في الموطأ مرسل.
انہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کو ایسا ضرر پہنچانا کہ اس کے حق میں کمی واقع ہو جائے اور پہنچائی گئی اذیت و ضرر سے زیادہ ضرر و نقصان پہنچانا جائز نہیں۔“ اسے احمد، ابن ماجہ نے روایت کیا اور ابن ماجہ میں ابوسعید سے اسی طرح کی حدیث منقول ہے اور وہی حدیث موطا میں مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 779]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا ضَرَرَ» نہ نقصان اٹھانا ہے – «وَلَا ضِرَارَ» اور نہ نقصان پہنچانا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے۔ – «وَلَهُ» اور ان (ابن ماجہ) کے ہاں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید کی – «مِثْلُهُ» اسی کی مثل – «وَهُوَ» اور وہ – «فِي الْمُوَطَّإِ» موطا میں – «مُرْسَلٌ» مرسل ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ (ابتداءً) نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ (بدلے میں) نقصان پہنچانا۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی اسی طرح ہے، اور موطا میں یہ مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الأحكام، باب من بني في حقه ما يضر بجاره، حديث:2341، وأحمد:5 /327، وحديث أبي سعيد أخرجه الحاكم:2 /58، والبيهقي:6 /69، 70، ومرسل يحي المازني أخرجه مالك:2 /745.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 780
وعن سمرة بن جندب رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من أحاط حائطا على أرض فهي له» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وصححه ابن الجارود.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے غیر مملوکہ زمین کے اردگرد دیوار بنا لی، اتنی زمین اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 780]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ أَحَاطَ» جس نے گھیر لیا – «حَائِطًا» دیوار سے – «عَلَى أَرْضٍ» کسی زمین کو – «فَهِيَ لَهُ» تو وہ اسی کی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْجَارُودِ» ابن جارود نے۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (کسی غیر آباد) زمین کے گرد دیوار بنا لی تو وہ اسی کی ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إحياء الموات، حديث:3077.* قتادة عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
وعن عبد الله بن مغفل أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من حفر بئرا فله أربعون ذراعا عطنا لماشيته» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کہیں کنواں کھودے تو وہاں مال مویشی باندھنے کیلئے چالیس ہاتھ زمین اس کی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 781]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ» عبداللہ بن مغفل – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ حَفَرَ» جس نے کھودا – «بِئْرًا» کوئی کنواں – «فَلَهُ» تو اس کے لیے ہے – «أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا» چالیس ہاتھ (جگہ) – «عَطَنًا» بٹھانے کی جگہ کے طور پر – «لِمَاشِيَتِهِ» اپنے مویشیوں کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی کنواں کھودا تو اس کے (گرد) چالیس ہاتھ جگہ اس کے مویشیوں کے بیٹھنے کے لیے اسی کی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الرهون، باب حريم البئر، حديث:2486، وسنده ضعيف، وله شاهد عند البيهقي:6 /155.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 782
وعن علقمة بن وائل عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أقطعه أرضا بحضرموت. رواه أبو داود والترمذي وصححه ابن حبان.
سیدنا علقمہ بن وائل نے اپنے باپ وائل رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرموت میں زمین بطور جاگیر عطا فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 782]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ» علقمہ بن وائل – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَقْطَعَهُ» نے انہیں جاگیر میں دی – «أَرْضًا» ایک زمین – «بِحَضْرَمَوْتَ» حضرموت میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حضرموت میں ایک زمین جاگیر کے طور پر عطا فرمائی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3058، والترمذي، الأحكام، حديث:1381، وابن حبان(الإحسان):9 /166، 167.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 783
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أقطع الزبير حضر فرسه فأجرى الفرس حتى قام ثم رمى بسوطه فقال: «أعطوه حيث بلغ السوط» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وفيه ضعف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ کے برابر زمین جاگیر کے طور پر عنایت فرمائی۔ جب ان کا گھوڑا ٹھہر گیا تو انہوں نے اپنا کوڑا آگے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہاں تک کوڑا گرا وہاں تک زبیر کی زمین ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مگر اس میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 783]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَقْطَعَ» جاگیر میں دی – «الزُّبَيْرَ» زبیر کو – «حُضْرَ فَرَسِهِ» ان کے گھوڑے کی دوڑ (کی مسافت) – «فَأَجْرَى الْفَرَسَ» تو انہوں نے گھوڑا دوڑایا – «حَتَّى قَامَ» یہاں تک کہ وہ رک گیا – «ثُمَّ رَمَى» پھر پھینکا – «بِسَوْطِهِ» اپنا کوڑا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَعْطُوهُ» اسے دے دو – «حَيْثُ بَلَغَ» جہاں تک پہنچا – «السَّوْطُ» کوڑا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَفِيهِ ضَعْفٌ» اور اس میں کمزوری ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ جتنی زمین جاگیر میں دی، تو انہوں نے گھوڑا دوڑایا یہاں تک کہ وہ رک گیا، پھر انہوں نے اپنا کوڑا (آگے) پھینکا، تو آپ نے فرمایا: ”جہاں تک کوڑا پہنچا ہے وہاں تک انہیں دے دو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3072.* عبدالله بن عمر العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف عن غيره.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
وعن رجل من الصحابة رضي الله عنه قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول: «‏‏‏‏الناس شركاء في ثلاثة: في الكلإ والماء والنار» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود ورجاله ثقات.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔“ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 784]
«وَعَنْ» اور سے – «رَجُلٍ» ایک آدمی – «مِنَ الصَّحَابَةِ» صحابہ میں سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «غَزَوْتُ» میں نے جہاد کیا – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَسَمِعْتُهُ» تو میں نے آپ کو سنا – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «النَّاسُ» لوگ – «شُرَكَاءُ» شریک ہیں – «فِي ثَلَاثَةٍ» تین چیزوں میں – «فِي الْكَلَإِ» گھاس میں – «وَالْمَاءِ» اور پانی میں – «وَالنَّارِ» اور آگ میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور صحابہ میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں: گھاس، پانی اور آگ میں۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في منع الماء، حديث:3477، وأحمد:5 /364.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب الوقف
وقف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 785
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا مات ابن آدم انقطع عنه عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو، صالح اولاد جو مرنے والے کیلئے دعا کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 785]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا مَاتَ» جب مر جاتا ہے – «ابْنُ آدَمَ» آدم کا بیٹا – «انْقَطَعَ عَنْهُ» اس سے منقطع ہو جاتا ہے – «عَمَلُهُ» اس کا عمل – «إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ» سوائے تین (چیزوں) کے – «صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ» جاری رہنے والا صدقہ – «أَوْ عِلْمٍ» یا علم – «يُنْتَفَعُ بِهِ» جس سے فائدہ اٹھایا جائے – «أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ» یا نیک اولاد – «يَدْعُو لَهُ» جو اس کے لیے دعا کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته، حديث:1631.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 786
وعن ابن عمر قال: أصاب عمر رضي الله عنه أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستأمره فيها فقال: يا رسول الله إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط هو أنفس عندي منه فقال: «‏‏‏‏إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها» ‏‏‏‏ قال: فتصدق بها عمر: أنه لا يباع أصلها ولا يورث ولا يوهب فتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول مالا.متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: تصدق بأصلها لا يباع ولا يوهب ولكن ينفق ثمره.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقہ میں زمین ملی تھی۔ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں کچھ زمین حاصل ہوئی ہے ایسی نفیس و قیمتی کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی زمین مجھے نہیں ملی۔ میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر چاہو تو اصل کو اپنے پاس روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو فقیروں، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے میں اور راہ خدا میں، راہ چلتے مسافروں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے وقف کر دیا اور وصیت بھی کر دی کہ اس کا منتظم و نگہبان معروف طریقہ کے مطابق خود بھی کھا سکتا ہے اور احباب و رفقاء کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مگر مال کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے اصل کو صدقہ کر دیا (یعنی وقف کر دیا) جو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ھبہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیداوار، راہ خدا میں خرچ کی جائے گی۔ [بلوغ المرام/حدیث: 786]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَصَابَ» حاصل کی – «عُمَرُ» عمر نے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَرْضًا» ایک زمین – «بِخَيْبَرَ» خیبر میں – «فَأَتَى النَّبِيَّ» تو وہ نبی کے پاس آئے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْتَأْمِرُهُ» آپ سے مشورہ لیتے ہوئے – «فِيهَا» اس کے بارے میں – «فَقَالَ» تو کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي» بے شک میں نے – «أَصَبْتُ» حاصل کی ہے – «أَرْضًا بِخَيْبَرَ» خیبر میں ایک زمین – «لَمْ أُصِبْ» میں نے حاصل نہیں کیا – «مَالًا قَطُّ» کبھی کوئی مال – «هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي» جو میرے نزدیک زیادہ نفیس ہو – «مِنْهُ» اس سے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنْ شِئْتَ» اگر تم چاہو – «حَبَسْتَ» روک (وقف کر) لو – «أَصْلَهَا» اس کی اصل – «وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو – «قَالَ» (راوی نے) کہا: – «فَتَصَدَّقَ بِهَا» تو اسے صدقہ کر دیا – «عُمَرُ» عمر نے – «أَنَّهُ» (اس شرط پر) کہ – «لَا يُبَاعُ» نہ بیچی جائے – «أَصْلُهَا» اس کی اصل – «وَلَا يُورَثُ» اور نہ وراثت میں دی جائے – «وَلَا يُوهَبُ» اور نہ ہبہ کی جائے – «فَتَصَدَّقَ بِهَا» پس انہوں نے اسے صدقہ کیا – «فِي الْفُقَرَاءِ» فقیروں میں – «وَفِي الْقُرْبَى» اور رشتہ داروں میں – «وَفِي الرِّقَابِ» اور گردنیں (غلام) آزاد کرانے میں – «وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ» اور اللہ کی راہ میں – «وَابْنِ السَّبِيلِ» اور مسافر – «وَالضَّيْفِ» اور مہمان (کے لیے) – «لَا جُنَاحَ» کوئی گناہ نہیں – «عَلَى مَنْ وَلِيَهَا» اس پر جو اس کا متولی ہو – «أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا» کہ وہ اس میں سے کھائے – «بِالْمَعْرُوفِ» دستور کے مطابق – «وَيُطْعِمَ» اور کھلائے – «صَدِيقًا» کسی دوست کو – «غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ» مال جمع نہ کرنے والا ہو کر – «مَالًا» مال۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: – «تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا» اس کی اصل کو صدقہ کر دو – «لَا يُبَاعُ» نہ بیچی جائے – «وَلَا يُوهَبُ» اور نہ ہبہ کی جائے – «وَلَكِنْ» لیکن – «يُنْفَقُ ثَمَرُهُ» اس کا پھل خرچ کیا جائے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس کے بارے میں مشورہ لینے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ نفیس ہو۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس کی اصل (زمین) کو وقف کر دو اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو۔“ راوی نے کہا: چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے گی، نہ وراثت میں تقسیم ہو گی اور نہ ہبہ کی جائے گی، اور انہوں نے اسے فقیروں، رشتہ داروں، غلام آزاد کرانے، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا، اور جو اس کا متولی ہو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دستور کے مطابق اس میں سے کھائے اور کسی دوست کو کھلائے، بشرطیکہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اس کی اصل کو صدقہ (وقف) کر دو، نہ وہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے، لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشروط، باب الشروط في الوقف، حديث:2737، ومسلم، الوصية، باب الوقف، حديث:1632.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عمر على الصدقة الحديث وفيه: «‏‏‏‏وأما خالد فقد احتبس أدراعه وأعتاده في سبيل الله» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقات کی وصولی پر مقرر فرما کر بھیجا۔ (الحدیث) اور اس میں ہے کہ ”رہا خالد (رضی اللہ عنہ) تو انہوں نے اپنی تمام زرہیں اللہ کے راستے میں وقف کر دی ہیں۔“ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 787]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «بَعَثَ» بھیجا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عُمَرَ» عمر کو – «عَلَى الصَّدَقَةِ» صدقہ (زکاۃ کی وصولی) پر – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «وَأَمَّا خَالِدٌ» اور رہے خالد – «فَقَدِ احْتَبَسَ» تو انہوں نے وقف کر رکھی ہیں – «أَدْرَاعَهُ» اپنی زرہیں – «وَأَعْتَادَهُ» اور اپنا سامانِ جنگ – «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقہ (زکاۃ) وصول کرنے پر بھیجا، (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”رہے خالد، تو انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنا جنگی سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب قول الله تعالي:(وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله)، حديث:1468، ومسلم، الزكاة، باب في تقديم الزكاة ومنعها، حديث:983.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں