🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب الغصب
غصب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 758
وعن عروة بن الزبير رضي الله عنهما قال: قال رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إن رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في أرض غرس أحدهما فيها نخلا والأرض للآخر فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالأرض لصاحبها وأمر صاحب النخل أن يخرج نخله وقال: «‏‏‏‏ليس لعرق ظالم حق» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وإسناده حسن. وآخره عند أصحاب السنن من رواية عروة عن سعيد بن زيد واختلف في وصله وإرساله وفي تعيين صحابيه.
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول نے بتایا کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمین کا جھگڑا لے کر آئے۔ زمین ایک کی تھی اور کھجور کے درخت دوسرے نے لگا دیئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ زمین مالک کی ہے اور کھجور کے درخت لگانے والا اپنے درخت اکھاڑ لے اور فرمایا ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند حسن ہے۔ اس حدیث کا آخری جزء «أصحاب السنن» نے «عروة عن سعيد بن زيد» کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ اس روایت کے مرسل اور موصول ہونے اور اس کے صحابی کے تعین میں اختلاف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إحياء الموات، حديث:3074، أبوإسحاق عنعن، ورواية عروة عن سعيد بن زيد: أخرجه الترمذي، الأحكام، حديث:1378، وأبوداود، الخراج، حديث:3073، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761، وأصله متفق عليه [البخاري، بدء الخلق، حديث:3198، ومسلم، المساقاة، حديث:1610 /139، 140]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 759
وعن أبي بكرة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في خطبته يوم النحر بمنى: «‏‏‏‏إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب الشفعة
شفعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 760
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: الشفعة في كل شرك: أرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو ربع،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو حائط،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه وفي رواية الطحاوي: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل شيء،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورجاله ثقات.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدود بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے (مثلا) زمین میں، مکان میں، باغ میں۔ اپنے حصہ دار (شریک) کے روبرو پیش کئے بغیر کسی کیلئے چیز فروخت کرنا درست نہیں اور طحاوی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ رکھا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشفعة، باب الشفعة فيما لم يقسم، حديث:2257، ومسلم، المساقاة، باب الشفعة، حديث:1608، والطحاوي في معاني الأثار:4 /126.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 761
وعن أبي رافع رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الجار أحق بصقبه» .‏‏‏‏ أخرجه البخاري وفيه قصة.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمسایہ اپنے قریبی ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور اس بارے میں لمبا قصہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشفعة، باب عرض الشفعة علي صاحبها قبل البيع، حديث:2258، والحاكم: لم أجده، والطحاوي في معاني الأثار:4 /123، وابن حبان (الإحسان):7 /309، 310، وأحمد:6 /390.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 762
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏جار الدار أحق بالدار» .‏‏‏‏رواه النسائي وصححه ابن حبان وله علة.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکان کا ہمسایہ اس مکان کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں علت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الشفعة، حديث:3517، والترمذي، الأحكام، حديث:1368، والنسائي: لم أجده، وابن حبان (الإحسان):7 /309، حديث:5159.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
وعن جابر رضى الله عنه قال: رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الجار أحق بشفعة جاره ينتظر بها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا» .‏‏‏‏رواه أحمد والأربعة ورجاله ثقات.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمسایہ اپنے ہمسایہ کا شفعہ میں زیادہ حقدار ہے۔ اس کا انتظار بسبب شفعہ کیا جائے گا۔ اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الشفعة، حديث:3518، والترمذي، الأحكام، حديث:1369، وابن ماجه، الشفعة، حديث:2494، والنسائي، البيوع، حديث:4650، وأحمد:3 /303.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 764
وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الشفعة كحل العقال» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه والبزار وزاد: «‏‏‏‏ولا شفعة لغائب» .‏‏‏‏وإسناده ضعيف
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شفعہ رسی کھولنے کی طرح ہے۔ اسے ابن ماجہ اور بزار نے روایت کیا ہے اور بزار نے اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ غیرحاضر و غائب کے لئے شفعہ کا کوئی حق نہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الشفعة، باب طلب الشفعة، حديث:2500، والزار: لم أجده، * محمد بن الحارث متروك كما قال البيهقي وغيره، وشيخه ضعيف، والسند ضعفه البوصيري.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب القراض
مضاربت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 765
عن صهيب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏ثلاث فيهن البركة: البيع إلى أجل والمقارضة وخلط البر بالشعير للبيت لا للبيع» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین کام بڑے بابرکت ہیں۔ ایک مدت مقررہ تک بیچنا اور مضاربت کرنا اور گندم میں جو ملانا گھر کے لئے، فروخت کرنے کے لئے نہیں۔ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، التجارات، باب الشركة والمضاربة، حديث:2289.* عبدالرحيم بن داود "مجهول بالنقل، حديثه غير محفوظ" قاله العقيلي، ونصر مجهول، وصالح مجهول الحال.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه: أنه كان يشترط على الرجل إذا أعطاه مالا مقارضة أن لا تجعل مالي في كبد رطبة ولا تحمله في بحر ولا تنزل به في بطن مسيل فإن فعلت شيئا من ذلك فقد ضمنت مالي. رواه الدارقطني ورجاله ثقات. وقال مالك في الموطأ عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن جده: إنه عمل في مال لعثمان على أن الربح بينهما. وهو موقوف صحيح.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب المساقاة والإجارة
آبپاشی اور زمین کو ٹھیکہ پر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 767
عن ابن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عامل أهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع. متفق عليه. وفي رواية لهما: فسألوه أن يقرهم بها على أن يكفوا عملها ولهم نصف الثمر فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏نقركم بها على ذلك ما شئنا» ‏‏‏‏ فقروا بها حتى أجلاهم عمر. ولمسلم: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولهم شطر ثمرها.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے اس طرح معاملہ طے کیا کہ پھل اور کھیتی باڑی سے جو کچھ حاصل ہو اس میں سے آدھا تمہارا۔ (بخاری و مسلم) اور ان دونوں کی ایک روایت میں ہے کہ اہل خیبر (یہود) نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہاں ٹھہرنے دیں (یعنی زمینوں پر قابض رہنے دیں)۔ وہ کھیتی باڑی کریں گے اور اس کی پیداوار میں سے مسلمانوں کو آدھا حصہ دیا کریں گے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شرط پر کہ ہم تمہیں جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے۔ یہ فرما کر ان کو ان زمینوں پر برقرار رکھا۔ یہ زمینوں پر برقرار رہے تاآنکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلا وطن کر دیا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کی کھجوریں اور زمین اسی شرط پر دی تھیں کہ وہ اپنے اموال سے ان پر کام کریں گے اور ان کے لئے ان کی پیداوار کا آدھا حصہ ہو گا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الإجارة، باب إذا استأجر أرضًا فمات أحدهما، حديث:2285، ومسلم، المساقاة، باب المساقاة والمعاملة بجزء من الثمر والزرع، حديث:1551.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں