🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الشركة والوكالة
شراکت اور وکالت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 748
وعن جابر رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نحر ثلاثا وستين وأمر عليا أن يذبح الباقي. الحديث. رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ خود نحر کئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ باقی وہ ذبح کریں۔ (الحدیث) (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 748]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَحَرَ» نحر کیے – «ثَلَاثًا وَسِتِّينَ» تریسٹھ (اونٹ) – «وَأَمَرَ» اور حکم دیا – «عَلِيًّا» علی کو – «أَنْ يَذْبَحَ» کہ وہ ذبح کریں – «الْبَاقِيَ» باقی کو۔ – «الْحَدِيثَ» (آخر تک) حدیث۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنے ہاتھ سے) تریسٹھ اونٹ نحر کیے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو باقی (اونٹ) ذبح کرنے کا حکم دیا۔ (آخر تک) حدیث۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 748]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، حديث:1218، تقدم:607.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 749
وعن أبي هريرة في قصة العسيف قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «واغد يا أنيس على امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها» .‏‏‏‏ الحديث. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کے قصہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ ”اے انیس! اس عورت کے پاس جاؤ اگر وہ تسلیم کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 749]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «فِي قِصَّةِ» قصے میں – «الْعَسِيفِ» مزدور کے – «قَالَ» فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَاغْدُ» اور صبح جاؤ – «يَا أُنَيْسُ» اے انیس – «عَلَى امْرَأَةِ» عورت کے پاس – «هَذَا» اس (شخص) کی – «فَإِنِ اعْتَرَفَتْ» پس اگر وہ اعتراف کر لے – «فَارْجُمْهَا» تو اسے رجم کر دو۔ – «الْحَدِيثَ» (آخر تک) حدیث۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزدور (عسیف) کے قصے میں روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے انیس! صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو۔“ (آخر تک) حدیث۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشروط، باب الشروط التي لاتحل في الحدود، حديث:2724، 2725، ومسلم، الحدود، باب من اعترف علي نفسه بالزني، حديث:1697، 1698.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب الإقرار
اقرار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 750
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏قل الحق ولو كان مرا» .‏‏‏‏ صححه ابن حبان من حديث طويل.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا ”حق کہو خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔“ اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ ایک لمبی حدیث میں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 750]
«عَنْ» سے – «أَبِي ذَرٍّ» ابو ذر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لِي» مجھ سے فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قُلِ» کہو – «الْحَقَّ» حق – «وَلَوْ كَانَ» اگرچہ ہو – «مُرًّا» کڑوا۔ – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ» ایک لمبی حدیث میں سے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی ہو۔“ ابن حبان نے اسے ایک لمبی حدیث کے ضمن میں صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 750]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:94.* إبراهيم بن هشام بن يحي الغساني ضعيف متروك.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب العارية
ادھار لی ہوئی چیز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 751
عن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «على اليد ما أخذت حتى تؤديه» .‏‏‏‏ رواه أحمد والأربعة وصححه الحاكم.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 751]
«عَنْ» سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى الْيَدِ» ہاتھ پر (ذمہ) ہے – «مَا أَخَذَتْ» جو اس نے لیا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «تُؤَدِّيَهُ» وہ اسے ادا کر دے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں (اصحاب سنن) نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ نے جو (چیز) لی ہے وہ اس کے ذمے ہے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے۔“ اسے احمد اور چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3561، والترمذي، البيوع، حديث:1266، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2400، وأحمد:5 /8، 13، والنسائي في الكبرٰي:3 /411، حديث:5783.* قتادة عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 752
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك» .‏‏‏‏ رواه أبو داود والترمذي وحسنه وصححه الحاكم واستنكره أبو حاتم الرازي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے تمہارے پاس امانت رکھی ہو تو اسے امانت واپس کر دو اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابوحاتم رازی نے اسے منکر سمجھا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 752]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَدِّ» ادا کرو – «الْأَمَانَةَ» امانت – «إِلَى مَنِ» اس کی طرف جس نے – «ائْتَمَنَكَ» تمہیں امین بنایا – «وَلَا تَخُنْ» اور خیانت نہ کرو – «مَنْ خَانَكَ» اس سے جس نے تم سے خیانت کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن کہا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَاسْتَنْكَرَهُ» اور اسے منکر قرار دیا – «أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ» ابو حاتم رازی نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تمہیں امین بنایا اس کی امانت ادا کرو اور جس نے تم سے خیانت کی اس سے خیانت نہ کرو۔“ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے حسن کہا، حاکم نے صحیح کہا اور ابو حاتم رازی نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبواداود، البيوع، باب في الرجل يأخذ حقه من تحت يده، حديث:3535، الترمذي، البيوع، حديث:1264، والحاكم:2 /46 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.* حميد الطويل عنعن، وانظر علل الحديث لابن أبي حاتم:1 /375، وللحديث شواهد.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 753
وعن يعلى بن أمية رضي الله عنه قال: قال لي رسول صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا أتتك رسلي فأعطهم ثلاثين درعا» ‏‏‏‏ قلت: يا رسول الله أعارية مضمونة أو عارية مؤداة؟ قال:«‏‏‏‏بل عارية مؤداة» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ”تمہارے پاس جب میرے ایلچی و قاصد آئیں تو ان کو تیس زرہیں دے دینا۔“ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا عاریتاً جس میں ضمانت ہو گی یا اس ادھار کے طور پر جو قابل واپسی ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسا ادھار جو ادا کر دیا جائے گا۔“ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 753]
«وَعَنْ» اور سے – «يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ» یعلیٰ بن امیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لِي» مجھ سے فرمایا – «رَسُولُ» (اللہ کے) رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا» جب – «أَتَتْكَ» تمہارے پاس آئیں – «رُسُلِي» میرے قاصد – «فَأَعْطِهِمْ» تو انہیں دے دینا – «ثَلَاثِينَ» تیس – «دِرْعًا» زرہیں – «قُلْتُ» میں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَعَارِيَةٌ» کیا عاریت (ادھار) ہے – «مَضْمُونَةٌ» ضمانت والی – «أَوْ عَارِيَةٌ» یا عاریت – «مُؤَدَّاةٌ» واپس کی جانے والی؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «بَلْ» بلکہ – «عَارِيَةٌ» عاریت – «مُؤَدَّاةٌ» واپس کی جانے والی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب میرے قاصد تمہارے پاس آئیں تو انہیں تیس زرہیں دے دینا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ضمانت والی عاریت ہے یا واپس کی جانے والی عاریت؟ آپ نے فرمایا: ”بلکہ واپس کی جانے والی عاریت ہے۔“ اسے احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:4 /222، وأبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3566، وابن حبان (الإحسان):7 /109، حديث:4700، قتادة عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 754
وعن صفوان بن أمية رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استعار منه دروعا يوم حنين فقال: أغصب يا محمد؟ قال: «‏‏‏‏بل عارية مضمونة» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وأحمد والنسائي وصححه الحاكم. وأخرج له شاهدا ضعيفا عن ابن عباس رضي الله عنهما.
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقع پر اس (صفوان) سے کچھ زرہیں عاریتاً لیں۔ اس نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ زبردستی غصب کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں! بلکہ ضمانت کے ساتھ عاریتاً لے رہا ہوں۔“ اسے ابوداؤد، نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک ضعیف روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی بطور شہادت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 754]
«وَعَنْ» اور سے – «صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ» صفوان بن امیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اسْتَعَارَ» عاریتاً (ادھار) لیں – «مِنْهُ» ان سے – «دُرُوعًا» کچھ زرہیں – «يَوْمَ حُنَيْنٍ» حنین کے دن – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «أَغَصْبٌ» کیا زبردستی لینا ہے – «يَا مُحَمَّدُ» اے محمد؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «بَلْ» بلکہ – «عَارِيَةٌ» عاریت – «مَضْمُونَةٌ» ضمانت والی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَأَحْمَدُ» اور احمد – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔ – «وَأَخْرَجَ لَهُ» اور (حاکم نے) اس کے لیے روایت کیا – «شَاهِدًا» ایک شاہد – «ضَعِيفًا» ضعیف – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو
اور سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریتاً لیں، تو انہوں نے کہا: اے محمد! کیا یہ زبردستی (غصب) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(نہیں) بلکہ ضمانت والی عاریت ہے۔“ اسے ابو داود، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے، اور حاکم نے اس کا ایک ضعیف شاہد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3562، والحاكم:2 /47 وصححه، ووافقه الذهبي. وحديث ابن عباس أخرجه الحاكم وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي وإسناده حسن، إسحاق بن عبدالواحد وثقه الجمهور فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن. [وفيه قال صفوان: يا رسول الله ] »

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب الغصب
غصب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 755
عن سعيد بن زيد رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين» . متفق عليه.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے ایک بالشت بھر زمین کسی سے چھین لی، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اتنا حصہ زمیں، ساتوں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 755]
«عَنْ» سے – «سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ» سعید بن زید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنِ» جس نے – «اقْتَطَعَ» کاٹ کر لے لیا – «شِبْرًا» ایک بالشت – «مِنَ الْأَرْضِ» زمین سے – «ظُلْمًا» ظلم سے – «طَوَّقَهُ اللَّهُ» اللہ اسے طوق بنا کر پہنائے گا – «إِيَّاهُ» وہ (ٹکڑا) – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن – «مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ» سات زمینوں سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظلم سے ایک بالشت زمین بھی (ناحق) لے لی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس (حصے) کا طوق اس کے گلے میں ڈالے گا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المظالم، باب إثم من ظلم شيئًا من الأرض، حديث:2452، ومسلم، المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، حديث:1610.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 756
وعن أنس رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان عند بعض نسائه فأرسلت إحدى أمهات المؤمنين مع خادم لها بقصعة فيها طعام فضربت بيدها فكسرت القصعة فضمها وجعل فيها الطعام وقال: «كلوا» ودفع القصعة الصحيحة للرسول وحبس المكسورة. رواه البخاري والترمذي وسمى الضاربة عائشة وزاد: فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏طعام بطعام وإناء بإناء» .‏‏‏‏ وصححه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے ہاں تشریف فرما تھے۔ کسی دوسری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے خادم کے ذریعہ ایک پیالہ بھیجا جس میں کچھ کھانا تھا تو اس بیوی نے اپنا ہاتھ مارا کہ وہ پیالہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ کو جوڑ کر اس میں کھانا ڈال دیا اور فرمایا کہ ”کھاؤ اور لانے والے کے ہاتھ سالم پیالہ بھیج دیا اور ٹوٹا ہوا اپنے پاس رکھ لیا۔“ (بخاری و ترمذی) ہاتھ مار کر پیالہ توڑنے والی کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا لیا گیا ہے۔ اور ترمذی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھانے کے بدلہ میں کھانا اور برتن کے بدلہ میں برتن“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 756]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ» تھے – «عِنْدَ» پاس – «بَعْضِ نِسَائِهِ» اپنی بعض بیویوں میں سے ایک کے – «فَأَرْسَلَتْ» تو بھیجا – «إِحْدَى» ایک نے – «أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ» امہات المومنین میں سے – «مَعَ خَادِمٍ لَهَا» اپنے ایک خادم کے ساتھ – «بِقَصْعَةٍ» ایک پیالہ – «فِيهَا» جس میں – «طَعَامٌ» کھانا تھا – «فَضَرَبَتْ» تو (اُس بیوی نے) مارا – «بِيَدِهَا» اپنے ہاتھ سے – «فَكَسَرَتِ» اور توڑ دیا – «الْقَصْعَةَ» پیالہ – «فَضَمَّهَا» تو آپ نے اسے جوڑا – «وَجَعَلَ» اور رکھا – «فِيهَا» اس میں – «الطَّعَامَ» کھانا – «وَقَالَ» اور فرمایا: – «كُلُوا» کھاؤ – «وَدَفَعَ» اور دے دیا – «الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ» صحیح سالم پیالہ – «لِلرَّسُولِ» قاصد کو – «وَحَبَسَ» اور روک لیا – «الْمَكْسُورَةَ» ٹوٹا ہوا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَسَمَّى» اور (ترمذی نے) نام لیا – «الضَّارِبَةَ» مارنے والی کا – «عَائِشَةَ» عائشہ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «فَقَالَ» تو فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «طَعَامٌ بِطَعَامٍ» کھانا کھانے کے بدلے – «وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ» اور برتن برتن کے بدلے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے پاس تھے کہ امہات المومنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھیجا جس میں کھانا تھا، تو (جس زوجہ کے گھر آپ تھے) انہوں نے اپنا ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا، آپ نے اسے جوڑا، اس میں کھانا رکھا اور فرمایا: ”کھاؤ۔“ اور صحیح سالم پیالہ قاصد کو دے دیا اور ٹوٹا ہوا روک لیا۔ اسے بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے، ترمذی نے مارنے والی کا نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتایا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور برتن کے بدلے برتن۔“ اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المظالم، باب إذا كسر قصعة أو شيئًا لغيره، حديث:2481، والترمذي، الأحكام، حديث:1359.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 757
وعن رافع بن خديج رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته» . رواه أحمد والأربعة إلا النسائي وحسنه الترمذي ويقال إن البخاري ضعفه.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی تو اسے اس زراعت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اسے صرف وہ اخراجات ملیں گے جو اس نے خرچ کئے ہیں۔“ اسے احمد اور نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 757]
«وَعَنْ» اور سے – «رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ» رافع بن خدیج – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ» جس نے – «زَرَعَ» کھیتی کی – «فِي أَرْضِ قَوْمٍ» کسی قوم کی زمین میں – «بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ» ان کی اجازت کے بغیر – «فَلَيْسَ لَهُ» تو اس کے لیے نہیں – «مِنَ الزَّرْعِ» کھیتی میں سے – «شَيْءٌ» کچھ بھی – «وَلَهُ» اور اس کے لیے ہے – «نَفَقَتُهُ» اس کا خرچ۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَيُقَالُ» اور کہا جاتا ہے – «إِنَّ الْبُخَارِيَّ» کہ بخاری نے – «ضَعَّفَهُ» اسے ضعیف کہا۔
اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کی تو اس کے لیے کھیتی میں سے کچھ نہیں، البتہ اسے اس کا خرچ (ملے گا)۔“ اسے احمد اور نسائی کے سوا چاروں نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 757]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في زرع الأرض بغير إذن صاحبها، حديث:3403، والترمذي، الأحكام، حديث:1366، وابن ماجه، الرهون، حديث:2466، وأحمد:4 /141.* عطاء لم يسمع من رافع رضي الله عنه، وأبوإسحاق عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں