بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب الهبة والعمری والرقبی
ھبہ عمری اور رقبی کا بیان
حدیث نمبر: 798
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من وهب هبة فهو أحق بها ما لم يثب عليها» . رواه الحاكم وصححه والمحفوظ من رواية ابن عمر عن عمر قوله.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کوئی چیز ہبہ کرے وہی اس کا زیادہ مستحق ہے جبکہ اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 798]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «مَنْ وَهَبَ» جس نے ہبہ کیا – «هِبَةً» کوئی ہبہ – «فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے – «مَا لَمْ يُثَبْ عَلَيْهَا» جب تک اسے اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «وَالْمَحْفُوظُ» اور محفوظ (بات) یہ ہے کہ – «مِنْ رِوَايَةِ» روایت سے ہے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر کی – «عَنْ عُمَرَ» عمر سے – «قَوْلَهُ» ان کا اپنا قول (ہونا)۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کوئی ہبہ کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک اسے اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ ان کا اپنا قول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 798]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کوئی ہبہ کیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک اسے اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ ان کا اپنا قول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /52 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، والدارقطني:3 /43، حديث:2937 وقال: "لا يثبت هذامرفوعًا والصواب عن ابن عمر عن عمر موقوفًا" وأعله البيهقي وغيره، وهم أحد رواته عبيد الله بن موسي، والصواب موقوف كما رواه جماعة.»
الحكم على الحديث:
شاذ
19. باب اللقطة
لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان
حدیث نمبر: 799
عن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بتمرة في الطريق فقال: «لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها» . متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں گری پڑی ایک کھجور پر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا ” اگر مجھ کو اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو، تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 799]
«عَنْ» سے – «أَنَسٍ» انس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَرَّ» گزرے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِتَمْرَةٍ» ایک کھجور کے پاس سے – «فِي الطَّرِيقِ» راستے میں – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ» اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا – «أَنْ تَكُونَ» کہ یہ ہو – «مِنَ الصَّدَقَةِ» صدقہ میں سے – «لَأَكَلْتُهَا» تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے میں پڑی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 799]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے میں پڑی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 800
وعن زيد بن خالد الجهني قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسأله عن اللقطة فقال: «اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها» قال: فضالة الغنم؟ قال: «هي لك أو لأخيك أو للذئب» قال: فضالة الإبل؟ قال: «ما لك ولها معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها» . متفق عليه.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کا ڈاٹ اور تسمہ خوب پہچان کے رکھو۔ سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو۔ پھر اگر اس کا اصل مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو ورنہ جو چاہو کرو۔“ پھر اس نے گمشدہ بکریوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔“ پھر اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کا پانی، اس کے جوتے اس کے پاس ہیں۔ گھاٹ پر آ کے پانی پی لے گا، درختوں کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کے پاس پہنچ جائے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 800]
«وَعَنْ» اور سے – «زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ» زید بن خالد جہنی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «جَاءَ رَجُلٌ» ایک آدمی آیا – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَسَأَلَهُ» اور آپ سے پوچھا – «عَنِ اللُّقَطَةِ» گری پڑی چیز کے بارے میں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «اعْرِفْ» پہچان رکھو – «عِفَاصَهَا» اس کی تھیلی – «وَوِكَاءَهَا» اور اس کا بندھن – «ثُمَّ عَرِّفْهَا» پھر اس کا اعلان کرو – «سَنَةً» ایک سال – «فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا» پس اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو) – «وَإِلَّا» ورنہ – «فَشَأْنَكَ بِهَا» تو تم جانو اور وہ – «قَالَ» اس نے کہا: – «فَضَالَّةُ الْغَنَمِ» تو گمشدہ بکری؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «هِيَ لَكَ» وہ تمہاری ہے – «أَوْ لِأَخِيكَ» یا تمہارے بھائی کی – «أَوْ لِلذِّئْبِ» یا بھیڑیے کی – «قَالَ» اس نے کہا: – «فَضَالَّةُ الْإِبِلِ» تو گمشدہ اونٹ؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «مَا لَكَ وَلَهَا» تمہیں اس سے کیا غرض؟ – «مَعَهَا سِقَاؤُهَا» اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ (پیٹ) ہے – «وَحِذَاؤُهَا» اور اس کا جوتا (کھر) ہے – «تَرِدُ الْمَاءَ» وہ پانی پر جاتا ہے – «وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ» اور درخت کھاتا ہے – «حَتَّى يَلْقَاهَا» یہاں تک کہ اسے پا لے – «رَبُّهَا» اس کا مالک۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پس اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو)، ورنہ وہ تمہارے اختیار میں ہے۔“ اس نے کہا: گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔“ اس نے کہا: گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا غرض؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے جوتے ہیں، وہ پانی پر جاتا ہے اور درختوں کے پتے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 800]
اور سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پس اگر اس کا مالک آ جائے (تو اسے دے دو)، ورنہ وہ تمہارے اختیار میں ہے۔“ اس نے کہا: گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔“ اس نے کہا: گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا غرض؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے جوتے ہیں، وہ پانی پر جاتا ہے اور درختوں کے پتے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللقطة، باب ضالة الإبل، حديث:2427، ومسلم، اللقطة، باب معرفة العفاص والوكاء....، حديث:1722.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 801
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» . رواه مسلم.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے گمشدہ چیز کو اپنے ہاں پناہ دی اور اس کا اعلان نہ کیا تو وہ خود گمراہ ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 801]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ آوَى» جس نے پناہ دی (اپنے پاس رکھ لیا) – «ضَالَّةً» کسی گمشدہ جانور کو – «فَهُوَ ضَالٌّ» تو وہ گمراہ ہے – «مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا» جب تک اس کا اعلان نہ کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی گمشدہ جانور کو اپنے پاس رکھ لیا تو وہ گمراہ ہے جب تک اس کا اعلان نہ کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 801]
اور انہی (سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی گمشدہ جانور کو اپنے پاس رکھ لیا تو وہ گمراہ ہے جب تک اس کا اعلان نہ کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اللقطة، باب في لقطة الحاج، حديث:1725.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 802
وعن عياض بن حمار رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من وجد لقطة فليشهد ذوي عدل وليحفظ عفاصها ووكاءها ثم لا يكتم ولا يغيب فإن جاء ربها فهو أحق بها وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء» . رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي وصححه ابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی کی کوئی گمشدہ چیز کہیں گری پڑی ملے تو اسے چاہیئے کہ دو منصف و عادل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لے اور خود اس کے ڈاٹ اور سربند کو خوب یاد رکھے اور پھر اسے چھپانے اور غائب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پھر اگر اس چیز کا اصل مالک آ جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے ترمذی کے اور ابن خزیمہ، ابن جارود اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 802]
«وَعَنْ» اور سے – «عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ» عیاض بن حمار – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ وَجَدَ» جس نے پائی – «لُقَطَةً» کوئی گری پڑی چیز – «فَلْيُشْهِدْ» تو اسے چاہیے کہ گواہ بنائے – «ذَوَيْ عَدْلٍ» دو عادل آدمیوں کو – «وَلْيَحْفَظْ» اور محفوظ رکھے – «عِفَاصَهَا» اس کی تھیلی – «وَوِكَاءَهَا» اور اس کا بندھن – «ثُمَّ لَا يَكْتُمْ» پھر نہ چھپائے – «وَلَا يُغَيِّبْ» اور نہ غائب کرے – «فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا» پس اگر اس کا مالک آ جائے – «فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے – «وَإِلَّا» ورنہ – «فَهُوَ مَالُ اللَّهِ» تو وہ اللہ کا مال ہے – «يُؤْتِيهِ» وہ اسے دیتا ہے – «مَنْ يَشَاءُ» جسے چاہتا ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَالْأَرْبَعَةُ» اور چاروں نے – «إِلَّا التِّرْمِذِيَّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ الْجَارُودِ» اور ابن جارود نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لے اور اس کی تھیلی اور بندھن کو محفوظ رکھے، پھر نہ اسے چھپائے اور نہ غائب کرے، پس اگر اس کا مالک آ جائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے سوا چاروں (اصحاب سنن) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ، ابن جارود اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 802]
اور سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لے اور اس کی تھیلی اور بندھن کو محفوظ رکھے، پھر نہ اسے چھپائے اور نہ غائب کرے، پس اگر اس کا مالک آ جائے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔“ اسے احمد اور ترمذی کے سوا چاروں (اصحاب سنن) نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ، ابن جارود اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، اللقطة، باب التعريف باللقطة، حديث:1709، وابن ماجه، اللقطة، حديث:2505، والنسائي في الكبرٰي كما في تحفة الأشراف:11013، وأحمد:4 /162، 266، وابن حبان(الموارد)، حديث:1169.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 803
وعن عبد الرحمن بن عثمان التيمي رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن لقطة الحاج. رواه مسلم.
سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجاج کی گری پڑی چیز کو اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 803]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ» عبدالرحمن بن عثمان تیمی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» نے منع فرمایا – «عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ» حاجی کی گری پڑی چیز (اٹھانے) سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز (ملکیت کی نیت سے) اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 803]
اور سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز (ملکیت کی نیت سے) اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اللقطة، باب في لقطة الحاج، حديث:1724.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 804
وعن المقدام بن معد يكرب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الأهلي ولا اللقطة من مال معاهد إلا أن يستغني عنها» . رواه أبو داود.
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سن لو! درندوں میں سے کچلیوں والا جانور حلال نہیں اور نہ ہی گھریلو گدھا اور ذمی کی گمشدہ گری پڑی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں ہے، الایہ کہ مالک کے نزدیک اس کی خاص اہمیت و ضرورت نہ ہو۔“ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 804]
«وَعَنِ» اور سے – «الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ» مقدام بن معدی کرب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَلَا» خبردار! – «لَا يَحِلُّ» حلال نہیں – «ذُو نَابٍ» کچلی والا – «مِنَ السِّبَاعِ» درندوں میں سے – «وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ» اور نہ پالتو گدھا – «وَلَا اللُّقَطَةُ» اور نہ گری پڑی چیز – «مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ» کسی ذمی (معاہد) کے مال میں سے – «إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا» مگر یہ کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔
اور سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! کچلیوں والا کوئی درندہ حلال نہیں، اور نہ پالتو گدھا، اور نہ کسی معاہد (ذمی) کے مال میں سے گری پڑی چیز، مگر یہ کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 804]
اور سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! کچلیوں والا کوئی درندہ حلال نہیں، اور نہ پالتو گدھا، اور نہ کسی معاہد (ذمی) کے مال میں سے گری پڑی چیز، مگر یہ کہ وہ اس سے بے نیاز ہو جائے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، حديث:3804.»
الحكم على الحديث:
صحيح
20. باب الفرائض
فرائض (وراثت) کا بیان
حدیث نمبر: 805
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر» .متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریعت کے مقرر کردہ حصے ان کے مستحق حصہ داروں کو ادا کر دو اور پھر جو کچھ باقی بچ جائے اسے سب سے قریبی مرد وارث کو دے دو۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 805]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَلْحِقُوا» پہنچا دو – «الْفَرَائِضَ» مقررہ حصے – «بِأَهْلِهَا» ان کے حق داروں کو – «فَمَا بَقِيَ» پھر جو باقی بچے – «فَهُوَ» تو وہ – «لِأَوْلَى رَجُلٍ» سب سے قریبی مرد کے لیے ہے – «ذَكَرٍ» جو مذکر ہو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو، پھر جو باقی بچے وہ (میت کے) سب سے قریبی مرد کا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 805]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو، پھر جو باقی بچے وہ (میت کے) سب سے قریبی مرد کا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب ميراث الولد من أبيه وأمه، حديث:6732، ومسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأهلها، حديث:1615.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 806
وعن أسامة بن زيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«لا يرث المسلم الكافر، ولا يرث الكافر المسلم» . متفق عليه.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 806]
«وَعَنْ» اور سے – «أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ» اسامہ بن زید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا يَرِثُ» وارث نہیں ہوتا – «الْمُسْلِمُ» مسلمان – «الْكَافِرَ» کافر کا – «وَلَا يَرِثُ» اور نہ وارث ہوتا ہے – «الْكَافِرُ» کافر – «الْمُسْلِمَ» مسلمان کا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 806]
اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر، حديث:6764، ومسلم، الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر.....، حديث:1614.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 807
وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه، في بنت، وبنت ابن، وأخت: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم:«للابنة النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقى فللأخت» . رواه البخاري.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی، پوتی اور بہن کی موجودگی میں فیصلہ فرمایا کہ ”دو تہائی پورا کرنے کے لیے بیٹی کو آدھا ترکہ اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہو گا، پھر جو باقی بچے وہ بہن کا۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 807]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «فِي بِنْتٍ» ایک بیٹی – «وَبِنْتِ ابْنٍ» اور ایک پوتی – «وَأُخْتٍ» اور ایک بہن کے بارے میں – «قَضَى» فیصلہ فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِلِابْنَةِ» بیٹی کے لیے – «النِّصْفُ» آدھا – «وَلِابْنَةِ الِابْنِ» اور پوتی کے لیے – «السُّدُسُ» چھٹا حصہ – «تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ» دو تہائی پورا کرنے کے لیے – «وَمَا بَقِيَ» اور جو باقی رہے – «فَلِلْأُخْتِ» تو وہ بہن کے لیے ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن (کی وراثت) کے بارے میں روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”بیٹی کے لیے آدھا، پوتی کے لیے دو تہائی پورا کرنے کے لیے چھٹا حصہ، اور جو باقی بچے وہ بہن کا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 807]
اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن (کی وراثت) کے بارے میں روایت ہے کہ (انہوں نے کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”بیٹی کے لیے آدھا، پوتی کے لیے دو تہائی پورا کرنے کے لیے چھٹا حصہ، اور جو باقی بچے وہ بہن کا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب ميراث الأخوات مع البنات عصبة، حديث:6742.»
الحكم على الحديث:
صحيح