بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب الهبة والعمری والرقبی
ھبہ عمری اور رقبی کا بیان
حدیث نمبر: 798
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من وهب هبة فهو أحق بها ما لم يثب عليها» . رواه الحاكم وصححه والمحفوظ من رواية ابن عمر عن عمر قوله.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کوئی چیز ہبہ کرے وہی اس کا زیادہ مستحق ہے جبکہ اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /52 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، والدارقطني:3 /43، حديث:2937 وقال: "لا يثبت هذامرفوعًا والصواب عن ابن عمر عن عمر موقوفًا" وأعله البيهقي وغيره، وهم أحد رواته عبيد الله بن موسي، والصواب موقوف كما رواه جماعة.»
19. باب اللقطة
لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان
حدیث نمبر: 799
عن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بتمرة في الطريق فقال: «لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها» . متفق عليه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں گری پڑی ایک کھجور پر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا ” اگر مجھ کو اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو، تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.»
حدیث نمبر: 800
وعن زيد بن خالد الجهني قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسأله عن اللقطة فقال: «اعرف عفاصها ووكاءها ثم عرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فشأنك بها» قال: فضالة الغنم؟ قال: «هي لك أو لأخيك أو للذئب» قال: فضالة الإبل؟ قال: «ما لك ولها معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتأكل الشجر حتى يلقاها ربها» . متفق عليه.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کا ڈاٹ اور تسمہ خوب پہچان کے رکھو۔ سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو۔ پھر اگر اس کا اصل مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو ورنہ جو چاہو کرو۔“ پھر اس نے گمشدہ بکریوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی یا بھیڑئیے کی۔“ پھر اس نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کا پانی، اس کے جوتے اس کے پاس ہیں۔ گھاٹ پر آ کے پانی پی لے گا، درختوں کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کے پاس پہنچ جائے گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، اللقطة، باب ضالة الإبل، حديث:2427، ومسلم، اللقطة، باب معرفة العفاص والوكاء....، حديث:1722.»
حدیث نمبر: 801
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» . رواه مسلم.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے گمشدہ چیز کو اپنے ہاں پناہ دی اور اس کا اعلان نہ کیا تو وہ خود گمراہ ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اللقطة، باب في لقطة الحاج، حديث:1725.»
حدیث نمبر: 802
وعن عياض بن حمار رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من وجد لقطة فليشهد ذوي عدل وليحفظ عفاصها ووكاءها ثم لا يكتم ولا يغيب فإن جاء ربها فهو أحق بها وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء» . رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي وصححه ابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی کی کوئی گمشدہ چیز کہیں گری پڑی ملے تو اسے چاہیئے کہ دو منصف و عادل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لے اور خود اس کے ڈاٹ اور سربند کو خوب یاد رکھے اور پھر اسے چھپانے اور غائب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پھر اگر اس چیز کا اصل مالک آ جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے ترمذی کے اور ابن خزیمہ، ابن جارود اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، اللقطة، باب التعريف باللقطة، حديث:1709، وابن ماجه، اللقطة، حديث:2505، والنسائي في الكبرٰي كما في تحفة الأشراف:11013، وأحمد:4 /162، 266، وابن حبان(الموارد)، حديث:1169.»
حدیث نمبر: 803
وعن عبد الرحمن بن عثمان التيمي رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن لقطة الحاج. رواه مسلم.
سیدنا عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجاج کی گری پڑی چیز کو اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اللقطة، باب في لقطة الحاج، حديث:1724.»
حدیث نمبر: 804
وعن المقدام بن معد يكرب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الأهلي ولا اللقطة من مال معاهد إلا أن يستغني عنها» . رواه أبو داود.
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سن لو! درندوں میں سے کچلیوں والا جانور حلال نہیں اور نہ ہی گھریلو گدھا اور ذمی کی گمشدہ گری پڑی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں ہے، الایہ کہ مالک کے نزدیک اس کی خاص اہمیت و ضرورت نہ ہو۔“ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، حديث:3804.»
20. باب الفرائض
فرائض (وراثت) کا بیان
حدیث نمبر: 805
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر» .متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریعت کے مقرر کردہ حصے ان کے مستحق حصہ داروں کو ادا کر دو اور پھر جو کچھ باقی بچ جائے اسے سب سے قریبی مرد وارث کو دے دو۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب ميراث الولد من أبيه وأمه، حديث:6732، ومسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأهلها، حديث:1615.»
حدیث نمبر: 806
وعن أسامة بن زيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«لا يرث المسلم الكافر، ولا يرث الكافر المسلم» . متفق عليه.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر، حديث:6764، ومسلم، الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر.....، حديث:1614.»
حدیث نمبر: 807
وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه، في بنت، وبنت ابن، وأخت: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم:«للابنة النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقى فللأخت» . رواه البخاري.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی، پوتی اور بہن کی موجودگی میں فیصلہ فرمایا کہ ”دو تہائی پورا کرنے کے لیے بیٹی کو آدھا ترکہ اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہو گا، پھر جو باقی بچے وہ بہن کا۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب ميراث الأخوات مع البنات عصبة، حديث:6742.»