سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في تَقْبِيلِ الْحَجَرِ:
حجر اسود کو بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ:"إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک میں تجھے چومتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو یقیناً ایک پتھر ہے، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ تجھے چومتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1906] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1597] ، [مسلم 1270] ، [أبويعلی 189] ، [ابن حبان 3821] ، [الحميدي 9]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1597] ، [مسلم 1270] ، [أبويعلی 189] ، [ابن حبان 3821] ، [الحميدي 9]
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ "يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، ثُمَّ يُقَبِّلُهُ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ"، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ خَالَكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَفْعَلُهُ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ فَعَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ هَذَا.
جعفر بن عبداللہ بن عثمان نے کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا وہ حجر اسود کو چھوتے، بوسہ دیتے اور اس پر سر رکھتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے دیکھا اور یہ کہتے ہوئے سنا: میں جانتا ہوں کہ تو بیشک ایک پتھر ہے اور ایسا اس لئے کرتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1907] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن خزيمه 2714] ، [البحر الزخار 215] ، [الطيالسي 1043] ، [أبويعلی 189، 219] ، [الحاكم 455/1] ، [بيهقي 74/5، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن خزيمه 2714] ، [البحر الزخار 215] ، [الطيالسي 1043] ، [أبويعلی 189، 219] ، [الحاكم 455/1] ، [بيهقي 74/5، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 1901 سے 1903)
اس حدیث سے حجرِ اسود کا استلام کرنا (چھونا اور ہاتھ پھیرنا)، بوسہ دینا اور اس پر سر رکھنا معلوم ہوا، اور یہ افعال سب پیرویٔ سنّتِ سید المرسلین میں ہیں، اس سے پتھر کی تعظیم مقصود نہیں، اس کی تفصیل حدیث نمبر (1877) پر توضیح میں گزر چکی ہے۔
اس حدیث سے حجرِ اسود کا استلام کرنا (چھونا اور ہاتھ پھیرنا)، بوسہ دینا اور اس پر سر رکھنا معلوم ہوا، اور یہ افعال سب پیرویٔ سنّتِ سید المرسلین میں ہیں، اس سے پتھر کی تعظیم مقصود نہیں، اس کی تفصیل حدیث نمبر (1877) پر توضیح میں گزر چکی ہے۔
42. باب الصَّلاَةِ في الْكَعْبَةِ:
کعبہ (شریف) کے اندر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَأَنَاخَ فِي أَصْلِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَسَعَى النَّاسُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ مِنْ وَرَاءِ الْبَاب:"أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، کعبہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو بٹھایا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: لوگ دوڑ پڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ کعبہ میں داخل ہوئے، میں نے دروازے کے پیچھے سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ کہا: دونوں ستون کے درمیان۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1908] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 397، 1599] ، [مسلم 1329] ، [أبوداؤد 2024] ، [نسائي 691] ، [ابن ماجه 3063] ، [ابن حبان 2220] ، [الحميدي 709] ، [ابن خزيمه 3008] ، [الحاكم 329/3]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 397، 1599] ، [مسلم 1329] ، [أبوداؤد 2024] ، [نسائي 691] ، [ابن ماجه 3063] ، [ابن حبان 2220] ، [الحميدي 709] ، [ابن خزيمه 3008] ، [الحاكم 329/3]
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا بلال اور سیدنا عثمان بن طلحہ الحجبی رضی اللہ عنہم کعبہ کے اندر داخل ہوئے ...... اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1909] »
اس روایت کی سند بھی صحیح ہے۔ اور تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
اس روایت کی سند بھی صحیح ہے۔ اور تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1903 سے 1905)
ان احادیث سے کعبہ کے اندر داخل ہونا اور نماز پڑھنا ثابت ہوا، اور کعبہ کے اندر دروازہ بند کر کے جس طرف چاہیں منہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
ان احادیث سے کعبہ کے اندر داخل ہونا اور نماز پڑھنا ثابت ہوا، اور کعبہ کے اندر دروازہ بند کر کے جس طرف چاہیں منہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
43. باب الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ:
حجر (حطیم) کعبہ میں داخل ہے
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ، لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ لَبَنَيْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتْ اسْتَقْصَرَتْ، ثُمَّ جَعَلَتْ لَهَا خَلْفًا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو توڑ دیتا اور اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو (سامان کی قلت کی وجہ سے) اس میں کمی کر دی، میں دوبارہ تعمیر کرتا اور پیچھے ایک اور دروازہ بنا دیتا۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1910] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1585] ، [مسلم 1333] ، [نسائي 2901] ، [أبويعلی 4363] ، [ابن حبان 3815-3818]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1585] ، [مسلم 1333] ، [نسائي 2901] ، [أبويعلی 4363] ، [ابن حبان 3815-3818]
حدیث نمبر: 1907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَجَرِ: أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟. قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ فَقَالَ:"إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ". قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ:"فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ، لَعَمَدْتُ إِلَى الْحِجْرِ فَجَعَلْتُهُ فِي الْبَيْتِ وَأَلْزَقْتُ بَابَهُ بِالْأَرْضِ".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا حطیم بھی بیت الله میں داخل ہے؟ فرمایا: ”ہاں“، میں نے عرض کیا: پھر لوگوں نے اسے کعبہ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ فرمایا: ”تمہاری قوم کے پاس سامان تعمیر کی قلت ہو گئی تھی“، میں نے عرض کیا: پھر دروازه اتنا اونچا کیوں رکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری قوم نے ایسا اس لئے کیا کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں روک دیں، اگر تمہاری قوم کے لوگ زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتے تو میں حطیم کو خانہ کعبہ میں ملا دیتا اور دروازہ بھی زمین سے لگا دیتا، مجھے ڈر ہے کہ ان کے دل اس (تبدیلی) کو قبول نہ کریں گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1911] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1584] ، [مسلم 1343] ، [ابن ماجه 2955]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1584] ، [مسلم 1343] ، [ابن ماجه 2955]
وضاحت: (تشریح احادیث 1905 سے 1907)
خانۂ کعبہ اللہ تعالیٰ کا روئے زمین پر سب سے پہلا گھر ہے، جس پر سب سے پہلے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر کی، طوفانِ نوح کے بعد اس کے آثار مٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو اس کی نشاہی کی اور تعمیر کا کام لیا، «﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ ...﴾ [البقره: 127] » بنائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد بنو جرہم نے اسی اساس پر دوبارہ تعمیرِ خانۂ کعبہ کی، پھر عمالقہ نے، اور ان کے بعد قصی بن کلاب نے، اور پھر قریش نے تعمیرِ کعبہ کی جو نبوتِ محمدی (علی صاحبہ الصلاة والسلام) سے صرف پانچ سال پہلے عمل میں آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی تعمیر میں حصہ لیا، اور جب حجرِ اسود کو متبرک جگہ پر رکھنے کا قضیہ کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشرافِ مکہ کے کہنے پر بڑی دانشمندی اور سب کی رضا مندی سے اس قضیہ کو حل فرمایا، تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
اس تعمیر میں خرچ کی کمی کی وجہ سے خانۂ کعبہ کا کچھ حصہ باہر خالی چھوڑنا پڑا جو حطیم کے نام سے یا حجر کے نام سے معروف ہے، اور اس کے گرد ایک میٹر سے اونچی سنگِ مرمر کی دیوار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھنے کو کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مترادف قرار دیا، کعبہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہی اگر کوئی شخص اس کے اندر سے طواف کے لئے گزرے تو اس کا طواف پورا نہ ہوگا، قریش نے خانۂ کعبہ کی دیواروں کو اٹھارہ ہاتھ اونچا کر دیا، فرش بچھایا، چت ڈالدی، پرنالہ لگایا، دروازے کو اونچا اس کی حالت پر رہنے دیا، اندرونِ بیت الله شمالاً و جنوباً تین تین ستون قائم کئے، بعده عبداللہ بن الزبیر نے حطیم کو کعبہ میں داخل کیا لیکن خلافتِ امویہ یا عباسیہ میں پھر اصلی قریش کی تعمیر پر لوٹا دیا گیا، اب دورِ حکومتِ سعودیہ میں ملک فہد رحمہ اللہ کے زمانے میں تعمیر و تزئین اور تغليف و آرائش کا بہترین تعمیری نمونہ سامنے آیا، ملک خالد رحمہ اللہ نے دروازے کو خالص سونے کا بنا دیا۔
خانۂ کعبہ اللہ تعالیٰ کا روئے زمین پر سب سے پہلا گھر ہے، جس پر سب سے پہلے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر کی، طوفانِ نوح کے بعد اس کے آثار مٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو اس کی نشاہی کی اور تعمیر کا کام لیا، «﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ ...﴾ [البقره: 127] » بنائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد بنو جرہم نے اسی اساس پر دوبارہ تعمیرِ خانۂ کعبہ کی، پھر عمالقہ نے، اور ان کے بعد قصی بن کلاب نے، اور پھر قریش نے تعمیرِ کعبہ کی جو نبوتِ محمدی (علی صاحبہ الصلاة والسلام) سے صرف پانچ سال پہلے عمل میں آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی تعمیر میں حصہ لیا، اور جب حجرِ اسود کو متبرک جگہ پر رکھنے کا قضیہ کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشرافِ مکہ کے کہنے پر بڑی دانشمندی اور سب کی رضا مندی سے اس قضیہ کو حل فرمایا، تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
اس تعمیر میں خرچ کی کمی کی وجہ سے خانۂ کعبہ کا کچھ حصہ باہر خالی چھوڑنا پڑا جو حطیم کے نام سے یا حجر کے نام سے معروف ہے، اور اس کے گرد ایک میٹر سے اونچی سنگِ مرمر کی دیوار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھنے کو کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مترادف قرار دیا، کعبہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہی اگر کوئی شخص اس کے اندر سے طواف کے لئے گزرے تو اس کا طواف پورا نہ ہوگا، قریش نے خانۂ کعبہ کی دیواروں کو اٹھارہ ہاتھ اونچا کر دیا، فرش بچھایا، چت ڈالدی، پرنالہ لگایا، دروازے کو اونچا اس کی حالت پر رہنے دیا، اندرونِ بیت الله شمالاً و جنوباً تین تین ستون قائم کئے، بعده عبداللہ بن الزبیر نے حطیم کو کعبہ میں داخل کیا لیکن خلافتِ امویہ یا عباسیہ میں پھر اصلی قریش کی تعمیر پر لوٹا دیا گیا، اب دورِ حکومتِ سعودیہ میں ملک فہد رحمہ اللہ کے زمانے میں تعمیر و تزئین اور تغليف و آرائش کا بہترین تعمیری نمونہ سامنے آیا، ملک خالد رحمہ اللہ نے دروازے کو خالص سونے کا بنا دیا۔
44. باب في التَّحْصِيبِ:
مکۃ المکرّمہ جاتے ہوئے وادی محصب میں اترنے کا بیان
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:"التَّحْصِيبُ لَيْسَ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: التَّحْصِيبُ مَوْضِعٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ مَوْضِعٌ بِبَطْحَاءَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: محصب میں اترنا حج میں شامل نہیں، یہ تو بس ایسی جگہ تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تحصیب مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے جو وادی بطحاء میں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1912] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور بخاری و مسلم نے صحیحین میں اس کو ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1766] ، [مسلم 1312] ، [أبويعلی 2397] ، [الحميدي 506]
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور بخاری و مسلم نے صحیحین میں اس کو ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1766] ، [مسلم 1312] ، [أبويعلی 2397] ، [الحميدي 506]
وضاحت: (تشریح حدیث 1907)
سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اس مقام پر پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض دیگر صحابہ فرماتے تھے کہ وہاں رکنا اور ٹھہرنا ضروری نہیں اور یہ نہ شعائرِ حج میں سے ہے نہ ارکان و واجباتِ حج میں سے، بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہاں نزول و قیام فرمایا۔
سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اس مقام پر پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بعض دیگر صحابہ فرماتے تھے کہ وہاں رکنا اور ٹھہرنا ضروری نہیں اور یہ نہ شعائرِ حج میں سے ہے نہ ارکان و واجباتِ حج میں سے، بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہاں نزول و قیام فرمایا۔
45. باب كَمْ صَلاَةً تُصَلَّى بِمِنًى حَتَّى يَغْدُوَ إِلَى عَرَفَاتٍ:
عرفات جانے سے پہلے منیٰ میں کتنی نمازیں پڑھنی چاہئیں؟
حدیث نمبر: 1909
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ هُوَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 1913] »
اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، اس لئے قابلِ حجت و عمل ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1911] ، [ترمذي 880] ، [أحمد 297/1، 303] ، [ابن خزيمه 2799] ، [حاكم 461/1] ، [أبويعلی 2426]
اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں، اس لئے قابلِ حجت و عمل ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1911] ، [ترمذي 880] ، [أحمد 297/1، 303] ، [ابن خزيمه 2799] ، [حاكم 461/1] ، [أبويعلی 2426]
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: "اصْنَعْ مَا يَصْنَعُ أُمَرَاؤُكَ".
عبدالعزیز بن رفیع نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (خادم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کیا: آپ کو یاد ہو تو بتایئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ فرمایا: منیٰ میں، اور بارہویں ذی الحجہ کو عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ بتایا کہ ابطح میں، پھر انہوں نے فرمایا کہ جس طرح تمہارے حکام کرتے ہیں اسی طرح تم کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1914] »
یہ روایت صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1653] ، [مسلم 1309] ، [أبوداؤد 1912] ، [ترمذي 963] ، [أبويعلی 4053] ، [ابن حبان 3846] ، [ابن خزيمه 2796]
یہ روایت صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1653] ، [مسلم 1309] ، [أبوداؤد 1912] ، [ترمذي 963] ، [أبويعلی 4053] ، [ابن حبان 3846] ، [ابن خزيمه 2796]
وضاحت: (تشریح احادیث 1908 سے 1910)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکام و امراء کی اطاعت واجب ہے جب تک کہ ان کا حکم خلافِ شرع نہ ہو۔
ابن منذر رحمہ اللہ نے کہا: سنّت یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز آٹھ تاریخ کو منیٰ میں پڑھے، اور منیٰ کی طرف کسی بھی وقت نکلا جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اور ظہر وہیں پڑھی تھی، کما مر۔
اب اگر امیر یا حاکم کچھ تأخیر سے منیٰ کے لئے روانہ ہو تو اس کی اطاعت اور جماعت کے ساتھ رہنا واجب ہے، کیونکہ یہ سنّت اور مستحب ہے، اور حج میں یوم الترویہ کو تأخیر سے منیٰ پہنچنے پر کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکام و امراء کی اطاعت واجب ہے جب تک کہ ان کا حکم خلافِ شرع نہ ہو۔
ابن منذر رحمہ اللہ نے کہا: سنّت یہ ہے کہ امام ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز آٹھ تاریخ کو منیٰ میں پڑھے، اور منیٰ کی طرف کسی بھی وقت نکلا جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اور ظہر وہیں پڑھی تھی، کما مر۔
اب اگر امیر یا حاکم کچھ تأخیر سے منیٰ کے لئے روانہ ہو تو اس کی اطاعت اور جماعت کے ساتھ رہنا واجب ہے، کیونکہ یہ سنّت اور مستحب ہے، اور حج میں یوم الترویہ کو تأخیر سے منیٰ پہنچنے پر کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1911
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے قتادہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی نماز منیٰ میں پڑھیں پھر تھوڑی دیر نیند لی اور سوار ہو کر خانہ کعبہ گئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1915] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1764] ، [أبويعلی 5694]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1764] ، [أبويعلی 5694]
وضاحت: (تشریح حدیث 1910)
اس طواف سے مراد غالباً طوافِ وداع ہے جیسا کہ امام بخاری کے باب «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْأَبْطَحِ» سے معلوم ہوتا ہے، نیز باب طواف الوداع (1757) میں بھی امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
اس طواف سے مراد غالباً طوافِ وداع ہے جیسا کہ امام بخاری کے باب «مَنْ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْأَبْطَحِ» سے معلوم ہوتا ہے، نیز باب طواف الوداع (1757) میں بھی امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔