سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الْحَثِّ عَلَى التَّزْوِيجِ:
شادی پر ابھارنے کا بیان
حدیث نمبر: 2201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْج، عَنْ أَبِي الْمُغَلِّسِ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَدَرَ عَلَى أًنّ يَنْكِح، فَلَمْ يَنْكِحْ، فَلَيْسَ مِنَّا".
ابونجیح نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قدرت نکاح کے باوجود نکاح (شادی) نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2201]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث ولكن الحديث مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 2210] »
اس حدیث کے راوی ثقات ہیں اور ابن اسحاق نے حدثنا سے صراحت کی ہے لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مجمع الزوائد 7396] ، [المطالب العالية 1579] و [مراسيل أبى داؤد 202]
اس حدیث کے راوی ثقات ہیں اور ابن اسحاق نے حدثنا سے صراحت کی ہے لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مجمع الزوائد 7396] ، [المطالب العالية 1579] و [مراسيل أبى داؤد 202]
وضاحت: (تشریح حدیث 2200)
نکاح لغت میں جماع کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں یہ عبارت ہے اس عقد سے جس سے مرد عورت کا مالک بن جاتا ہے، اور عورت سے ہر طرح کا استمتاع جائز ہوتا ہے، اور غیر مرد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ یہ عقد قائم رہے۔
اس حدیث میں نکاح و شادی کرنے کی ترغیب ہے اور جو شخص استطاعت و قدرت رکھنے کے باوجود شادی نہ کرے اس کے لئے سخت وعید ہے: «ليس منا» یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں، یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے، تو کیا ایسا شخص خارج عن الملۃ ہے؟ اس بارے میں کلام ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ملتِ اسلام سے خارج تو نہ ہوگا لیکن یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں، اسی طرح حدیث «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ» ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
نکاح لغت میں جماع کو کہتے ہیں اور شرعی اصطلاح میں یہ عبارت ہے اس عقد سے جس سے مرد عورت کا مالک بن جاتا ہے، اور عورت سے ہر طرح کا استمتاع جائز ہوتا ہے، اور غیر مرد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک کہ یہ عقد قائم رہے۔
اس حدیث میں نکاح و شادی کرنے کی ترغیب ہے اور جو شخص استطاعت و قدرت رکھنے کے باوجود شادی نہ کرے اس کے لئے سخت وعید ہے: «ليس منا» یعنی وہ شخص ہم میں سے نہیں، یعنی مسلمانوں میں سے نہیں ہے، تو کیا ایسا شخص خارج عن الملۃ ہے؟ اس بارے میں کلام ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ملتِ اسلام سے خارج تو نہ ہوگا لیکن یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں، اسی طرح حدیث «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ» ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
2. باب مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَوْلٌ فَلْيَتَزَوَّجْ:
اس کا بیان کہ جس کے پاس استطاعت ہو اس کو شادی کر لینی چاہیے
حدیث نمبر: 2202
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَال: قَالَ عَبْدُ اللَّه: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَيْسَ لَنَا شَيْءٌ، فَقَال:"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَة، فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نوجوان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہ تھی۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نو جوانو! تم میں سے جس کے پاس نکاح کی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے کیونکہ یہ نظر کو بہت زیادہ نیچی رکھنے والا اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے، اور جو نکاح کی (بوجہ غربت) طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کی نفسانی (جنسی) خواہشات کا توڑ ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2202]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2211] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1905، 5066] ، [مسلم 1400] ، [ترمذي 1081] ، [نسائي 2238] ، [أبويعلی 5110] ، [ابن حبان 4026] ، [الحميدي 115]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1905، 5066] ، [مسلم 1400] ، [ترمذي 1081] ، [نسائي 2238] ، [أبويعلی 5110] ، [ابن حبان 4026] ، [الحميدي 115]
وضاحت: (تشریح حدیث 2201)
اس حدیث میں نکاح کے فوائد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ غیر عورتوں سے زنا کاری و فحاشی سے بچنے اور نظر نیچی رکھنے کا سبب ہے، اور جس کو نکاح کی طاقت نہ ہو اس کو روزہ رکھنے کا حکم ہے کیونکہ روزہ شہوت کو کم کر دیتا ہے، بلکہ كل خواہشیں روزے سے ٹوٹ جاتی ہیں۔
اس حدیث میں نکاح کی قوت و استطاعت سے مراد کھانے، کپڑے، مہر اور جماع کی طاقت ہے، اور نکاح کرنا سنّت ہے۔
استطاعت کے باوجود نکاح نہ کرنا خلافِ سنّت ہے، اور اگر گناه میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، اس صورت میں نکاح نہ کر کے گناہ کا مرتکب ہوگا۔
اس حدیث میں نکاح کے فوائد بیان کئے گئے ہیں کہ وہ غیر عورتوں سے زنا کاری و فحاشی سے بچنے اور نظر نیچی رکھنے کا سبب ہے، اور جس کو نکاح کی طاقت نہ ہو اس کو روزہ رکھنے کا حکم ہے کیونکہ روزہ شہوت کو کم کر دیتا ہے، بلکہ كل خواہشیں روزے سے ٹوٹ جاتی ہیں۔
اس حدیث میں نکاح کی قوت و استطاعت سے مراد کھانے، کپڑے، مہر اور جماع کی طاقت ہے، اور نکاح کرنا سنّت ہے۔
استطاعت کے باوجود نکاح نہ کرنا خلافِ سنّت ہے، اور اگر گناه میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، اس صورت میں نکاح نہ کر کے گناہ کا مرتکب ہوگا۔
حدیث نمبر: 2203
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَة، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَقِيَهُ عُثْمَانُ وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ لَكَ فِي جَارِيَةٍ بِكْرٍ تُذَكِّرُك؟، فَقَالَ: قُلْتَ: ذَاكَ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ كَانَ يَسْتَطِيعُ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
علقمہ نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے (منیٰ میں) ملاقات کی اور فرمایا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ منظور کریں گے کہ ہم آپ کا نکاح کسی کنواری لڑکی سے کردیں؟ جو آپ کو گزرے ہوئے ایام یاد دلا دے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو سنیے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے نوجوانو! تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اس کو نکاح کر لینا چاہیے اور جو طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ یہ خواہشِ نفسانی کو توڑ دے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2203]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2212] »
اس روایت کی سند صحیح و حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1905، 5060] ، [مسلم 1398] ، [أبوداؤد 2046] ، [ترمذي 1081] ، [نسائي 2239] ، [ابن ماجه 1845]
اس روایت کی سند صحیح و حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1905، 5060] ، [مسلم 1398] ، [أبوداؤد 2046] ، [ترمذي 1081] ، [نسائي 2239] ، [ابن ماجه 1845]
وضاحت: (تشریح حدیث 2202)
یعنی خصی ہونے سے یہ بہتر و افضل ہے کہ روزہ رکھ کر شہوت کو کم کیا جائے، خصی ہونے کی کسی حالت میں اجازت نہیں، اس لئے مجرد نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنا چاہیے کہ خواہشِ نفسانی ان کو گناہ پر نہ ابھار سکے۔
آج کی دنیا میں ایسے خدا ترس ایماندار نوجوانوں کا فرض ہے کہ سینما بازی و فحش رسائل کے پڑھنے اور ریڈیائی فحش گانوں کے سننے سے بالکل دور رہیں۔
وجاء کے معنی خصی ہو جانا ہے، یعنی روزہ رکھنے سے گویا شہوت کا زور ٹوٹ گیا اور آدمی خصی ہوگیا۔
یعنی خصی ہونے سے یہ بہتر و افضل ہے کہ روزہ رکھ کر شہوت کو کم کیا جائے، خصی ہونے کی کسی حالت میں اجازت نہیں، اس لئے مجرد نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنا چاہیے کہ خواہشِ نفسانی ان کو گناہ پر نہ ابھار سکے۔
آج کی دنیا میں ایسے خدا ترس ایماندار نوجوانوں کا فرض ہے کہ سینما بازی و فحش رسائل کے پڑھنے اور ریڈیائی فحش گانوں کے سننے سے بالکل دور رہیں۔
وجاء کے معنی خصی ہو جانا ہے، یعنی روزہ رکھنے سے گویا شہوت کا زور ٹوٹ گیا اور آدمی خصی ہوگیا۔
3. باب النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ:
تبتل (شادی نہ کرنے) کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2204
أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: "لَقَدْ رَدَّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ التَّبَتُّلَ، لَاخْتَصَيْنَا".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے آپ کو خصی بنا لیتے. (تاکہ عورت کا خیال ہی نہ آئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2204]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2213] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5074] ، [مسلم 1402] ، [ترمذي 1083] ، [ابن ماجه 1848] ، [أبويعلی 788] ، [ابن حبان 4027]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5074] ، [مسلم 1402] ، [ترمذي 1083] ، [ابن ماجه 1848] ، [أبويعلی 788] ، [ابن حبان 4027]
وضاحت: (تشریح حدیث 2203)
تبتل سے مراد خواہشِ نفس کو مارنا اور عورت سے دور رہنا، اسی طرح عورت کا مرد سے دور رہنا ہے، اسی طرح خصی ہونا ہے۔
اسلام میں اس کی اجازت نہیں جسے لوگ فقیری اور قلندری کا نام دیتے ہیں اور تجرد کی زندگی اختیار کرتے ہیں، نصاریٰ بھی ایسا ہی کرتے تھے اور اس کو رہبانیت کا نام دیتے تھے، یعنی دنیا و عورت اور خواہشات سے ترکِ تعلق، لیکن اسلام اور پیغمبرِ اسلام نے کہا: «لا رهبانية فى الإسلام.» آج کے پیر فقیر اور راہب و عامل شادی نہ کرنے کا ڈھونگ رچا کر دوسروں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں کی عزت پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، عمل کے نام پر خلوت میں عورتوں سے استمتاع کرتے ہیں، اور اسلام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے شریعت کی دھجیاں اڑاتے ہیں، بے شرع شیخ تھوکتا بھی نہیں، اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو ایسے دین و ایمان کے لٹیروں سے بچائے۔
آمین۔
تبتل سے مراد خواہشِ نفس کو مارنا اور عورت سے دور رہنا، اسی طرح عورت کا مرد سے دور رہنا ہے، اسی طرح خصی ہونا ہے۔
اسلام میں اس کی اجازت نہیں جسے لوگ فقیری اور قلندری کا نام دیتے ہیں اور تجرد کی زندگی اختیار کرتے ہیں، نصاریٰ بھی ایسا ہی کرتے تھے اور اس کو رہبانیت کا نام دیتے تھے، یعنی دنیا و عورت اور خواہشات سے ترکِ تعلق، لیکن اسلام اور پیغمبرِ اسلام نے کہا: «لا رهبانية فى الإسلام.» آج کے پیر فقیر اور راہب و عامل شادی نہ کرنے کا ڈھونگ رچا کر دوسروں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں کی عزت پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، عمل کے نام پر خلوت میں عورتوں سے استمتاع کرتے ہیں، اور اسلام کی تعلیمات سے روگردانی کرتے شریعت کی دھجیاں اڑاتے ہیں، بے شرع شیخ تھوکتا بھی نہیں، اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو ایسے دین و ایمان کے لٹیروں سے بچائے۔
آمین۔
حدیث نمبر: 2205
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّبَتُّلِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تبتل» (عورت سے دور رہنے اور نکاح نہ کرنے) سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2214] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1082] ، [نسائي 3216] ، [ابن ماجه 1849] ، [أحمد 157/5، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1082] ، [نسائي 3216] ، [ابن ماجه 1849] ، [أحمد 157/5، وغيرهم]
حدیث نمبر: 2206
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ الَّذِي كَانَ مِنْ تَرْكِ النِّسَاءِ، بَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"يَا عُثْمَانُ إِنِّي لَمْ أُومَرْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي؟"، قَالَ: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِنَّ مِنْ سُنَّتِي أَنْ أُصَلِّي، وَأَنَام، وَأَصُومَ، وَأَطْعَمَ، وَأَنْكِحَ , وَأُطَلِّقَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي يَا عُثْمَانُ، إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا". قَالَ سَعْدٌ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ أَجْمَعَ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ هُوَ أَقَرَّ عُثْمَانَ عَلَى مَا هُوَ عَلَيْهِ أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَتَبَتَّلَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا معاملہ پیش آیا جنہوں نے عورتوں سے ترک تعلق کر لیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: ”اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا ہے، کیا تم میری سنت سے بیزار ہو گئے؟“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا نہیں ہے، فرمایا: ”پھر میری سنت تو یہ ہے کہ (رات کو) نماز پڑھتا ہوں تو سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں تو (افطار بھی کرتا رہتا ہوں) کھاتا بھی ہوں، نکاح بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں۔ پس جس نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی صحابہ نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اگر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حالت پر برقرار رہنے کی اجازت دے دی تو ہم سب اپنے آپ کو خصی بنا لیتے اور (عورت سے) ترک تعلق کر لیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2215] »
اس حدیث کی تخریج (2204) پرگذر چکی ہے اور یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5063] ، [مسلم 1401]
اس حدیث کی تخریج (2204) پرگذر چکی ہے اور یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5063] ، [مسلم 1401]
وضاحت: (تشریح احادیث 2204 سے 2206)
اس حدیث سے نکاح کی اہمیت و ضرورت معلوم ہوئی، اور جو اس سنّت پر عمل نہیں کرتا اور بطورِ اہانت سنّت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ امّتِ محمدیہ سے خارج ہے۔
یہ جملہ «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ.» جوامع الکلم میں سے ہے اور بدعات کے قلع قمع کے لئے کافی ہے، اور اتباعِ سنّت کے لئے دلیل و برہان ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا آخر میں بیان بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہر کام میں سنّتِ رسول مقدم، اتباعِ رسول لازم ہے۔
صحابۂ کرام مستعد تھے کہ اگر عثمان بن مظعون کو خصی ہونے اور عورتوں سے ترکِ تعلق کی اجازت ملی تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، لیکن جب قولِ پیغمبر سامنے آیا تو سب نے اس کام سے توبہ کر لی اور اپنی رائے کو چھوڑ دیا۔
امام نووی رحمہ اللہ نے آدمی کا خصی کرنا حرام لکھا ہے خواہ بچپن میں ہو یا جوانی میں۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا: ایسے ہی جو جانور حرام ہیں ان کا خصی کرنا بھی حرام ہے، اور جو جانور حلال ہیں ان کا بچپن میں خصی کرنا جائز ہے اور بعد میں حرام ہے۔
مذکورہ بالا حدیث سے حقیقتِ اسلام پر روشنی پڑتی ہے جس میں رہبانیت کی بیخ کنی کی گئی ہے، اور جس سے ادیانِ عالم کے مقابلہ میں اسلام کا دینِ فطرت ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
اسلام دنیا و دین ہر دو کی تعمیر چاہتا ہے، وہ غلط رہبانیت اور غلط طور پر ترکِ دنیا کا قائل نہیں ہے، ایک عالمگیر آخری دین کے لئے ان ہی اوصاف کا ہونا لابدی ہے اس لئے اسے ناسخِ ادیان قرار دے کر بنی نوع انسان کا آخری دین قرار دیا: «﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ﴾ [آل عمران: 19] » ۔
اس حدیث سے پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا اور انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنا بھی ثابت ہوا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، عبادت، معاملات، نکاح و طلاق سارے امور کی بجا آوری یہی ایک بندے کے اوصافِ جلیلہ ہیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ سارے انسانوں بلکہ تمام انبیاء و رسل سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔
آیتِ شریفہ: «﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ﴾ [الكهف: 110] » بھی اسی طرف دلالت اور رہنمائی کرتی ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے نکاح کی اہمیت و ضرورت معلوم ہوئی، اور جو اس سنّت پر عمل نہیں کرتا اور بطورِ اہانت سنّت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ امّتِ محمدیہ سے خارج ہے۔
یہ جملہ «فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ.» جوامع الکلم میں سے ہے اور بدعات کے قلع قمع کے لئے کافی ہے، اور اتباعِ سنّت کے لئے دلیل و برہان ہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا آخر میں بیان بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہر کام میں سنّتِ رسول مقدم، اتباعِ رسول لازم ہے۔
صحابۂ کرام مستعد تھے کہ اگر عثمان بن مظعون کو خصی ہونے اور عورتوں سے ترکِ تعلق کی اجازت ملی تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، لیکن جب قولِ پیغمبر سامنے آیا تو سب نے اس کام سے توبہ کر لی اور اپنی رائے کو چھوڑ دیا۔
امام نووی رحمہ اللہ نے آدمی کا خصی کرنا حرام لکھا ہے خواہ بچپن میں ہو یا جوانی میں۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا: ایسے ہی جو جانور حرام ہیں ان کا خصی کرنا بھی حرام ہے، اور جو جانور حلال ہیں ان کا بچپن میں خصی کرنا جائز ہے اور بعد میں حرام ہے۔
مذکورہ بالا حدیث سے حقیقتِ اسلام پر روشنی پڑتی ہے جس میں رہبانیت کی بیخ کنی کی گئی ہے، اور جس سے ادیانِ عالم کے مقابلہ میں اسلام کا دینِ فطرت ہونا ظاہر ہوتا ہے۔
اسلام دنیا و دین ہر دو کی تعمیر چاہتا ہے، وہ غلط رہبانیت اور غلط طور پر ترکِ دنیا کا قائل نہیں ہے، ایک عالمگیر آخری دین کے لئے ان ہی اوصاف کا ہونا لابدی ہے اس لئے اسے ناسخِ ادیان قرار دے کر بنی نوع انسان کا آخری دین قرار دیا: «﴿إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ﴾ [آل عمران: 19] » ۔
اس حدیث سے پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا اور انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنا بھی ثابت ہوا، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، عبادت، معاملات، نکاح و طلاق سارے امور کی بجا آوری یہی ایک بندے کے اوصافِ جلیلہ ہیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ سارے انسانوں بلکہ تمام انبیاء و رسل سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔
آیتِ شریفہ: «﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ﴾ [الكهف: 110] » بھی اسی طرف دلالت اور رہنمائی کرتی ہے۔
واللہ اعلم۔
4. باب تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى أَرْبَعٍ:
عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ: لِلدِّينِ، وَالْجَمَالِ، وَالْمَالِ، وَالْحَسَبِ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاك".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جا تا ہے: دین، خوبصورتی، مال اور حسب نسب کی وجہ سے، اور تم دیندار عورت سے شادی کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی اگر ایسا نہیں کیا تو تمہارے ہاتھوں کو مٹی لگے گی اور اخیر میں تم کو ندامت ہو گی)۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2216] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5090] ، [مسلم 1466] ، [أبوداؤد 2047] ، [نسائي 3230] ، [أبويعلی 6578] ، [ابن حبان 4036]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5090] ، [مسلم 1466] ، [أبوداؤد 2047] ، [نسائي 3230] ، [أبويعلی 6578] ، [ابن حبان 4036]
حدیث نمبر: 2208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2208]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2217] »
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
ترجمہ و تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2206 سے 2208)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عموماً لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مال و جمال حسب نسب کے طالب ہوتے ہیں سو دیندار کو لازم ہے کہ ان سب خصلتوں پر دین کو مقدم جانے تاکہ نیک صحبت حاصل ہو اور نیکی کی برکت سے الله تعالیٰ اس کو حسنِ خلق اور حسنِ معاشرت بھی عنایت کرے گا اور نیکی کے سبب دینی و دنیوی فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
«تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“، یہ بد دعا نہیں ایک جملہ ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے، اور کسی چیز پر ابھارنا اس سے مقصود ہوتا ہے، اسی طرح «لَا أُمَّ لَهُ، لَا أَبَالَكْ، وَيْلٌ لِأُمِّهِ» وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو محاورةً استعمال ہوتے ہیں اور جن کا معنی مراد نہیں ہوتا۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عموماً لوگوں کی عادت یہ ہے کہ مال و جمال حسب نسب کے طالب ہوتے ہیں سو دیندار کو لازم ہے کہ ان سب خصلتوں پر دین کو مقدم جانے تاکہ نیک صحبت حاصل ہو اور نیکی کی برکت سے الله تعالیٰ اس کو حسنِ خلق اور حسنِ معاشرت بھی عنایت کرے گا اور نیکی کے سبب دینی و دنیوی فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
«تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“، یہ بد دعا نہیں ایک جملہ ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے، اور کسی چیز پر ابھارنا اس سے مقصود ہوتا ہے، اسی طرح «لَا أُمَّ لَهُ، لَا أَبَالَكْ، وَيْلٌ لِأُمِّهِ» وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو محاورةً استعمال ہوتے ہیں اور جن کا معنی مراد نہیں ہوتا۔
5. باب الرُّخْصَةِ في النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ الْخِطْبَةِ:
منگنی کے وقت عورت کو دیکھنے کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 2209
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِي، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اذْهَبْ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے انصار کی ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے دیکھ لو کیونکہ اس سے تم دونوں کے درمیان محبت و موافقت زیادہ ہو گی۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2218] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1087] ، [نسائي 3235] ، [ابن ماجه 1865] ، [أبويعلی 3438] ، [ابن حبان 4043] ، [موارد الظمآن 1236]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1087] ، [نسائي 3235] ، [ابن ماجه 1865] ، [أبويعلی 3438] ، [ابن حبان 4043] ، [موارد الظمآن 1236]
وضاحت: (تشریح حدیث 2208)
نکاح سے پہلے منگنی کے وقت جس لڑکی سے شادی کرنی ہے اس کو دیکھنا جائز ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اور امام شافعی، امام احمد، امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ و تمام اہل الحدیث کا یہی مسلک ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: عورت اگر اجازت دے تو اسے منگنی کے وقت دیکھنا درست ہے ورنہ نہیں۔
مسلم شریف میں ہے: ایک اور صحابی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا، فرمایا: ”کیا تو نے اس کو دیکھا تھا؟“ عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اس کو دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خلل ہوتا ہے۔
“ اس سے بھی ثابت ہوا کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کو دیکھنا مستحب ہے، اور دیکھنے سے مراد چہرے اور ہاتھ کو دیکھنا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں باب ہے: «كِتَاب النِّكَاحِ، بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا.» اور اگر خود نہ دیکھ سکے تو گھر کی عورتوں، ماں، بہن وغیرہ کے دیکھنے پر اعتماد کرے لیکن خود دیکھنا بعد میں پیدا ہونے والے بہت سے فتنوں سے بچنے کا سبب ہے۔
نکاح سے پہلے منگنی کے وقت جس لڑکی سے شادی کرنی ہے اس کو دیکھنا جائز ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اور امام شافعی، امام احمد، امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ و تمام اہل الحدیث کا یہی مسلک ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: عورت اگر اجازت دے تو اسے منگنی کے وقت دیکھنا درست ہے ورنہ نہیں۔
مسلم شریف میں ہے: ایک اور صحابی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا، فرمایا: ”کیا تو نے اس کو دیکھا تھا؟“ عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اس کو دیکھ لو کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خلل ہوتا ہے۔
“ اس سے بھی ثابت ہوا کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو اس کو دیکھنا مستحب ہے، اور دیکھنے سے مراد چہرے اور ہاتھ کو دیکھنا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں باب ہے: «كِتَاب النِّكَاحِ، بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا.» اور اگر خود نہ دیکھ سکے تو گھر کی عورتوں، ماں، بہن وغیرہ کے دیکھنے پر اعتماد کرے لیکن خود دیکھنا بعد میں پیدا ہونے والے بہت سے فتنوں سے بچنے کا سبب ہے۔
6. باب إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ مَا يُقَالُ لَهُ:
جب کوئی شادی کر لے تو اس کے لئے کیا دعا کی جائے؟
حدیث نمبر: 2210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: قَدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ، فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَقَالُوا لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: "بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ".
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (ان کے چچا) سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بصرہ تشریف لائے تو بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، لوگوں نے عادت کے مطابق انہیں مبارکباد دی اور کہا: «بالرفاء والبنين» (یعنی خیر و برکت اور موافقت مودت اور بیٹوں کی امید کے ساتھ آپ کو شادی مبارک ہو)، اس پر انہوں نے کہا: ایسے نہ کہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «بالرفاء و البنين» کہنے سے منع کیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ یوں کہیں: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»، یعنی ”اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور تمہارے اوپر برکت سایہ فگن رکھے۔“ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2210]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في القلب ميل إلى تصحيح هذا الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 2219] »
یہ روایت دوسری اسانید سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3371] ، [ابن ماجه 1906] ، [ابن السني فى عمل اليوم و الليلة 602] ، [النسائي فى الكبرى 10092] ، [طبراني فى الكبير 193/17، 512، 517، 518]
یہ روایت دوسری اسانید سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3371] ، [ابن ماجه 1906] ، [ابن السني فى عمل اليوم و الليلة 602] ، [النسائي فى الكبرى 10092] ، [طبراني فى الكبير 193/17، 512، 517، 518]
وضاحت: (تشریح حدیث 2209)
«الرِّفَاءِ وَالْبَنِيْنَ» دولہا کے لئے کہنا بھی کچھ ایسا برا نہیں تھا، مگر چونکہ اس سے یہ نکلتا تھا کہ بیٹیوں کا پیدا ہونا انہیں پسند نہیں، اس وجہ سے ممانعت کی، بہرحال شادی کے بعد دولہا کے لئے «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْر» کہنا ہی سنت ہے، کما سیأتی۔
«الرِّفَاءِ وَالْبَنِيْنَ» دولہا کے لئے کہنا بھی کچھ ایسا برا نہیں تھا، مگر چونکہ اس سے یہ نکلتا تھا کہ بیٹیوں کا پیدا ہونا انہیں پسند نہیں، اس وجہ سے ممانعت کی، بہرحال شادی کے بعد دولہا کے لئے «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْر» کہنا ہی سنت ہے، کما سیأتی۔