🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44.  باب من لا يرحم لا يرحم 
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 71
71/96 عن جرير بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا يرحم الله من لا يرحم الناس"، (وفي طريق أخرى بلفظ:" من لا يرحم الناس لا يرحمه الله" 97) .
سیدنا جریر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اﷲ رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا۔ دوسری سند میں یہ الفاظ ہیں: جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اﷲ بھی رحم نہیں کرتا۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 72
72/99 عن أبي عثمان ؛ أن عمر رضي الله عنه استعمل رجلاً، فقال العامل: إن لي كذا وكذا، الولد، ما قبلتُ واحداً منهم! فزعم عمرُ، أو قال عمرُ:" إن الله عز وجل لا يرحمُ من عباده إلا أبرّهم".
ابوعثمان سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا۔ عامل نے کہا: میرے اتنے اتنے لڑکے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا تو سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ نے خیال کیا یا عمر نے کہا: اﷲ عزوجل اپنے بندوں میں صرف ان پر رحم فرما تا ہے جو ان میں سے سب سے اچھا سلوک کرتا ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45.  باب الرحمة مائة جزء 
رحمت کے سو حصے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 73
73/100 عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولُ:" جعلَ الله عز وجل الرحمة مائة جزءٍ (1) ، فأمسك عنده تسعة وتسعين، وأنزل في الأرض جزءاً واحداُ، فمن ذلك الجزء يتراحمُ الخلقُ، حتى ترفعَ الفرس حافرها عن ولدها ؛ خشية أن تصيبه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اﷲ عزوجل نے رحمت کے سو حصے بنائے، ننانوے حصے تو اپنے پاس رکھ لیے اور صرف ایک حصّہ زمین پر نازل فرمایا۔ اسی ایک حصے کی بدولت لوگ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گھوڑی اپنے کھر کو اٹھا لیتی ہے کہ اس کے بچے پر نہ پڑ جائے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. باب الوصاة بالجار
ہمسایہ کے متعلق تاکید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
74/101 عن عائشة رضي الله عنها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه".
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے متعلق مسلسل تاکید کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ ہمسایہ کو وارث قرار دیں گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 75
75/102 عن أبي شريح الخزاعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليحسن إلى جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت".
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے اور جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47.  باب حق الجار
ہمسایہ کا حق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
76/103 عن المقداد بن الأسود قال: سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابه عن الزنى؟ قالوا: حرامٌ ؛ حرمه الله ورسوله. فقال:" لأن يزني الرجل بعشر نسوة، أيسر عليه من أن يزني بامرأة جاره" وسألهم عن السرقة؟ قالوا: حرام؛ حرمه الله عز وجل ورسوله. فقال:" لأن يسرق من عشرة أهل أبياتٍ، أيسر عليه من أن يسرق من بيت جاره".
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے زنا کے متعلق سوال کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرام ہے، اﷲ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی دس عورتوں سے بدکاری کرے تو یہ اس سے کم درجے کا گناہ ہو گا کہ وہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔ اور ان سے پوچھا: چوری کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: یہ حرام ہے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا دس گھروں سے چوری کرنا اس سے کم درجے کا گناہ ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ کے گھر سے چوری کرے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48.  باب يبدأ بالجار
بھلائی کی ابتدا ہمسایہ کے ساتھ کرنا / اگر عطیہ وغیرہ دینا ہو تو پہلے پڑوسی کو دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
77/104 عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل مجھے ہمسائے کے متعلق مسلسل تاکید کرتے رہے، حتیٰ کہ میں نے یہ گمان کیا کہ یقیناًً وہ ہمسایہ کو وارث قرار دیں گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
78/105 عن عبد الله بن عمرو، أنه ذبحت له شاة، فجعل يقول لغلامه: أهديت لجارنا اليهوي؟ أهديت لجارنا اليهودي؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" ما زال جبريل يوصيني بالجارحتى ظننت أنه سيورثه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا کوئی بکرا ذبح کیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے غلام سے کہتے جاتے تھے: کیا آپ نے ہمارے پڑوسی یہودی کو تحفہ بھیجا ہے؟ کیا آپ نے ہمارے پڑوسی یہودی کو تحفہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جبریل مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو وارث قرار دیں گے۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49.  باب يهدي إلى أقربهم بابا 
(سب سے پہلے) اسے تحفہ دینا چاہیے جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 79
79/107 عن عائشة قالت: قلت يا رسول الله! إن لي جارين، فإلى أيهما أهدي؟ قال:" إلى أقربهما منك باباً".
سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے دو ہمسائے ہیں، میں اُن میں سے کسے تحفہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں میں سے جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: (صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50.  باب الأدنى فالأدنى من الجيران 
ہمسایوں میں قریب سے قریب تر کا لحاظ رکھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 80
80/109 عن الحسن ؛ أنه سئل عن الجار؟ فقال:" أربعين داراً أمامه، وأربعين خلفه، وأربعين عن يمينه، وأربعين عن يساره".
حسن (بصری) روایت کرتے ہیں کہ ان سے ہمسایہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: چالیس گھر (اپنے گھر کے) آگے، چالیس گھر پیچھے، چالیس گھر دائیں اور چالیس گھر بائیں۔ (یعنی چالیسواں گھر بھی ہمسایہ ہوتا ہے)۔ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: (حسن الإسناد)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں