مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے، اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3069]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن ابن عباس، وقد تقدم بإسناد صحيح برقم: 2192
حدیث نمبر: 3070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى، قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ قُلْتُ: إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ، غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا، وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا، يَعْنِي، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا، إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا، وَبِمَا نَعْمَلُ، فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا"، قالوا: سَمِعْنا وأَطَعْنا. قَالَ: فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 285 - 286، فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ، وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ابوالعباس! میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، وہ یہ آیت پڑھ کر رونے لگے، انہوں نے پوچھا کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: « ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ﴾ [البقرة: 284] » ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شدید غم و پریشانی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہماری باتوں اور ہمارے اعمال پر مواخذہ ہو تو ہم ہلاک ہو جاتے ہیں، ہمارے دل تو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہی کہو کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حکم نبوی کی تعمیل میں کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، بعد میں یہ حکم اگلی آیت: « ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا . . . . .﴾ [البقرة: 286] » ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق، . . . . .“ نے منسوخ کر دیا اور دل میں آنے والے وسوسوں سے در گزر کر لی گئی اور صرف اعمال پر مواخذہ کا دار و مدار قرار دے دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3070]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3071
(حديث مرفوع) حدثنا عبدُ الرزاق ، أَخبرنا إِسرائيل والأسودُ ، قال: حدثنا إِسرائيلُ ، عن سِماك ، عن عِكْرمة ، عن ابن عباس ، قال: قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرُّؤيا الصَّالحةُ جُزْءٌ من سَبْعينَ جُزءاَ مِن النُّبَّوِة".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3071]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، لكن فى رواية سماء عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 3072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً، فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ؟ فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ، ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ. فَجَرُّوا، ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا،" فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ. فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے لوگ ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ بتائیے، ہم میں سے اس مقام ابراہیم والے کے مشابہہ سب سے زیادہ کون ہے؟ اس نے کہا کہ تم اس زمین پر ایک چادر بچھاؤ اور اس پر چلو تو میں تمہیں بتاؤں؟ چنانچہ انہوں نے اس پر چادر بچھائی اور اس پر سے چل کر گئے، اس کاہنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی کہ یہ تم میں سے سب سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہہ ہے، اس واقعے کے بیس سال یا بیس سال کے قریب گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3072]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فإن رواية سماك عن عكرمة، فيها اضطراب
حدیث نمبر: 3073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3073]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 157
حدیث نمبر: 3074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ، فَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ وَالْيَمَانِيَ". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا.
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے، اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3074]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 3075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا، اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3075]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 3076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرّ عَنْ بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَصَهُ أَوْ أَقْصَعَهُ، شَكَّ أَيُّوبُ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبِهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3076]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1265، م: 1206
حدیث نمبر: 3077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: مَعْمَرٌ ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرّ عَنْ بَعِيرٍ نَادٍّ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوُقِصَ وَقْصًا... ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَيُّوبَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3077]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 3078
عربی حدیث ابھی نہیں ملی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3078]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2761، م: 1638