مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3078M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا، فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی، چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اسے اس کی اجرت دی تھی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3078M]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 3079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَفْطَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ" قَالَ لِي مَعْمَرٌ: اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عدن سے بارہ ہزار آدمی اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لئے نکلیں گے، یہ لوگ میرے اور ان کے درمیان تمام لوگوں سے بہتر ہوں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3079]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 3080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ: ابْنُ بَكْرٍ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطَ الْمَخْرَفِ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا. وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْمِخْرَافِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3080]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2756
حدیث نمبر: 3081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حضرت جبرئیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے قریب ایک مرتبہ میری امامت کی، چنانچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہو گیا اور ایک تسمہ کے برابر وقت گزر گیا، عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، اور عشا کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھائی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، عشا کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی، اور فجر کی نماز خوب روشنی کر کے پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا وقت رہا ہے، نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3081]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 3082
حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَجْرِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي:" لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ، قَالَ"، وَقَالَ فِي الْعِشَاءِ:" صَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3082]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 3083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مَانُوسَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاء، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کر دیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3083]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3084
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے ایک اور حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3084]
الحكم على الحديث:
هذا ليس بحديث، بل هو إخبار من الإمام أحمد
حدیث نمبر: 3085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ سُحْتًا، لَمْ يُعْطِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا اس نے) سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (ڈیڑھ مد گندم بطور) اجرت کے عطا فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3085]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گزر چکی ہے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3086]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 53، م: 17
حدیث نمبر: 3087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3087]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1421