مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ:" رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسماعیل! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3444]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3445
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آخِذًا رَأْسَهُ إِمَّا قَالَ: بِشِمَالِهِ، وَإِمَّا بِيَمِينِهِ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ، فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، يَقُولُ يَا رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟".
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا . . . . .، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ میں نے تمہاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے اپنا سر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا ہوگا اور اس کے زخموں سے خون رس رہا ہوگا، وہ کہتا ہوگا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3445]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3446]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإرساله، فإن إبراهيم النخعي من أتباع التابعين
حدیث نمبر: 3447
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3447]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي لم يرو عنه غير أبى إسحاق، وأبو إسحاق مختلط
حدیث نمبر: 3448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا، وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو“، اور تین مرتبہ فرمایا کہ ”جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کر لینا چاہئے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3448]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 3449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ أَوْ عَقَاره، قَالَ: وَعَفَارُ النَّخْلِ أَوْ عَقَارها: أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ ثُمَّ تُعْفَرُ، أَوْ تُغْفَرُ، أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ، قَالَ: فَوَجَدْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي، وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا، حَمْشًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ رَجُلٌ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ، جَعْدٌ قَطَطٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَيِّنْ، اللَّهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ ”اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما“، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3449]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَجَعَل يَغْرِفُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى الْيُسْرَى".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنے کا طریقہ نہ بتاؤں؟ یہ کہہ کر پانی منگوایا اور دائیں ہاتھ سے چلو بھر کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالنے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3450]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ، قَالَ:" كُنْتُ قُمْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى شِمَالِهِ، فَأَدَارَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3451]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟" قَالُوا: وَكَيْفَ وَهِيَ مَيْتَةٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا". قَالَ مَعْمَرٌ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ، وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ مردہ ہے، فرمایا: ”اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3452]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ احْتَزَّ مِنْ كَتِفٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر شانہ کا گوشت تناول فرمایا، پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3453]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 207، م: 354