مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا، أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَوَضَعَهُ وَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی والا گوشت کھا رہے تھے کہ مؤذن آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3463]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ،" أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ". قَالَ: وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کس بناء پر وضو کر رہا ہوں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نفی میں جواب دیا، انہوں نے بتایا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھا لئے تھے، اب ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ آپ جس بناء پر وضو کر رہے ہیں میں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں فرمایا۔ راوی حدیث سلیمان بن یسار مذکورہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3464]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 207، م: 354
حدیث نمبر: 3465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، فقَالَ: عِلْمِي، وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ إِخْلَاءِ الْجُنُبَيْنِ جَمِيعًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے چھوڑے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے، راوی حدیث عبدالرزاق کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے استاذ سے دو جنبی مرد و عورت کے ایک ہی پانی سے غسل کرنے کا مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنا دی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3465]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ. قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عشا کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سوئے اور جاگے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا کہ ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشا کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3466]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 571، م: 642
حدیث نمبر: 3467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں، اور (مغرب و عشا کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3467]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1174، م: 705
حدیث نمبر: 3468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ، فَذَكَرَ نَحْوَ دُعَاءِ سُفْيَانَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ووَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ"، وَقَالَ" وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے، پھر راوی نے مکمل دعا ذکر کی اور یہ بھی کہا: آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ میرے معبود ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3468]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7699، م: 769
حدیث نمبر: 3469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ الْبَشَرِ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ يَدْخُلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، وہ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، اور تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3469]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6، م: 3308
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَشَفَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى عَلَيْهِ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ، فَقَبَّلَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ زبیا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3470]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"، قَالَ طَاوُسٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ؟ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو، اور تیل خوشبو لگایا کرو“؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3471]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 885، م: 848
حدیث نمبر: 3472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ، وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ أَوْ قَالَ: وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ، شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ:" نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ". فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي: أَخَصَّ الشِّعْبَ؟ قَالَ: هَكَذَا قَالَ، فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا لَذَلِكَ، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ، وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مقبرہ پر ہوا جو اس پہلے راستے پر واقع تھا (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہاتھ سے ریت کے تودے کے پیچھے کی طرف اشارے سے فرمایا) اور فرمایا کہ ”یہ بہترین قبرستان ہے“، میں نے اس شخص سے پوچھا جنہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کسی گوشے کی تخصیص فرمائی تھی؟ لیکن وہ مجھے یہ نہ بتا سکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ کو خاص کیا تھا، سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے، لیکن ہم یہ بات سنتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حصے کو خاص کیا جو بیت اللہ کے سامنے تھا۔ فائدہ: بظاہر اس قبرستان سے مراد جنت المعلی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3472]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لضعف إبراهيم بن أبي خداش