مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ: يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، أَنَا وَالْفَضْلُ مُرْتَدِفَانِ عَلَى أَتَانٍ، فَقَطَعْنَا الصَّفَّ وَنَزَلْنَا عَنْهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا الصَّفَّ، وَالْأَتَانُ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، لَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ". وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ، فَجِئْنَا وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن انہوں نے اپنی نماز نہیں توڑی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3454]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 504
حدیث نمبر: 3455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ لَمْ يَدْخُلْ، وَأَمَرَ بِهَا، فَمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ:" قَاتَلَهُمْ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3455]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3352
حدیث نمبر: 3456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى، أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ ”اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر، یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3456]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2021
حدیث نمبر: 3457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ"، قَالَ: وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ بَعْضَ خَرَاجِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطا فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے کچھ مقدار کو کم کر دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3457]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2103، م: 1202
حدیث نمبر: 3458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں، اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3458]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6834
حدیث نمبر: 3459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ" يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، میں بائیں جانب آ کر کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں سے ہر رکعت میں میرے اندازے کے مطابق سورہ مزمل کے بقدر قیام کیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3459]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حتى بَلَغَ الكَدِيدَ، أَفْطَر".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3460]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1944، م : 1113
حدیث نمبر: 3460M
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَيوب ، عن عِكْرمة ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ، وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: فَعَطِشَ النَّاسُ، وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ، وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ، ثُمَّ شَرِبَ، فَشَرِبَ النَّاسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، لیکن مقام غدیر میں پہنچے تو لوگوں کو سخت پیاس لگی کیونکہ دوپہر کا وقت تھا، لوگ اپنی گردنیں اونچی کرنے لگے اور انہیں پانی کی خواہش شدت سے محسوس ہونے لگی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3460M]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4278، تعليقا
حدیث نمبر: 3461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَعْنِي عَطَاءً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كَانَتْ شَاةٌ أَوْ دَاجِنَةٌ لِإِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا، أَوْ مَسْكِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3461]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1992، م: 364
حدیث نمبر: 3462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَضَى عُمَرُ لِسَعْدٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ: يَا سَعْدُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ، أَمْ بَعْدَهَا؟ قَالَ: فَقَالَ رَوْحٌ أَوْ بَعْدَهَا؟ قَالَ: لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ، فَسَكَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مسح علی الخفین کے متعلق سوال کیا تو میں اس وقت وہیں موجود تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں؟ آپ کو یہ بات کوئی بھی نہیں بتائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3462]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبدالرحمن الجزري