سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب : القران
باب: حج قِران کا بیان۔
حدیث نمبر: 2722
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَغَيْرِهِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ، فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا، فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا، فَقَالَ الصُّبَيُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ شَقِيقٌ: وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ.
شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2722]
حضرت شقیق بن سلمہ ابو وائل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنو تغلب کے ایک شخص جنہیں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا اور وہ پہلے عیسائی تھے، پھر وہ مسلمان ہو گئے، اپنے پہلے حج کو آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ کی بیک وقت «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہی۔ وہ اسی طرح دونوں کی بیک وقت «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہتے جا رہے تھے کہ ان کا گزر سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے قریب سے ہوا تو ان میں سے ایک نے کہا: تو تو اپنے اس اونٹ سے بھی کم عقل ہے۔ حضرت صبی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات سے بہت پریشانی ہوئی حتیٰ کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے یہ ساری بات ان کے گوش گزار کی۔ وہ فرمانے لگے: تمہیں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ کی توفیق ملی ہے۔ حضرت شقیق رحمہ اللہ نے کہا: میں اور حضرت مسروق بن اجدع رحمہ اللہ حضرت صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس بکثرت آتے جاتے تھے اور ان سے یہ واقعہ سنانے کی گزارش کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2720 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2722 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2722
اردو حاشہ:
حج اور عمرے کی بیک وقت لبیک یوں ہوگی: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وعُمْرَةٍ۔
حج اور عمرے کی بیک وقت لبیک یوں ہوگی: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وعُمْرَةٍ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2722]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2722 in Urdu
صبي بن معبد التغلبي ← عمر بن الخطاب العدوي