صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب الزكاة على الأقارب:
باب: اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا۔
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ , فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ , فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذِهِ زَيْنَبُ، فَقَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ، فَقِيلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَعَمْ ائْذَنُوا لَهَا، فَأُذِنَ لَهَا، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ‘ انہیں عیاض بن عبداللہ نے ‘ اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ پھر (نماز کے بعد) لوگوں کو وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا۔ فرمایا: لوگو! صدقہ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف گئے اور ان سے بھی یہی فرمایا کہ عورتو! صدقہ دو کہ میں نے جہنم میں بکثرت تم ہی کو دیکھا ہے۔ عورتوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اس لیے کہ تم لعن وطعن زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو کار آزمودہ مرد کی عقل کو بھی اپنی مٹھی میں لے لیتی ہو۔ ہاں اے عورتو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس گھر پہنچے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ زینب آئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون سی زینب (کیونکہ زینب نام کی بہت سی عورتیں تھیں) کہا گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا انہیں اجازت دے دو ‘ چنانچہ اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آج آپ نے صدقہ کا حکم دیا تھا۔ اور میرے پاس بھی کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن (میرے خاوند) ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے لڑکے اس کے ان (مسکینوں) سے زیادہ مستحق ہیں جن پر میں صدقہ کروں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا۔ تمہارے شوہر اور تمہارے لڑکے اس صدقہ کے ان سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں تم صدقہ کے طور پر دو گی۔ (معلوم ہوا کہ اقارب اگر محتاج ہوں تو صدقہ کے اولین مستحق وہی ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1462]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن عیدگاہ تشریف لے گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، فرمایا: ”لوگو! صدقہ کیا کرو۔“ پھر عورتوں کے پاس گئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، میں نے تمہیں بکثرت جہنم میں دیکھا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لعن و طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو، اے عورتو! میں نے عقل و دین میں تم سے زیادہ ناقص کسی کو نہیں دیکھا جو بڑے زیرک و دانا کی عقل کو مضمحل کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے، جب گھر تشریف لائے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، چنانچہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! زینب آئی ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ عرض کیا گیا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا! انہیں اجازت دے دو۔“ چنانچہ اجازت دی گئی۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے آج صدقہ دینے کا حکم دیا ہے اور میرے پاس کچھ زیور ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے خیرات کر دوں، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ اور اس کے بچے زیادہ مستحق ہیں کہ انہیں صدقہ دوں، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن مسعود نے صحیح کہا ہے، تمہارے خاوند اور تمہارے بچے اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کو صدقہ دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ، قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ، قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، وہ امام مالک سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا یا رسول اللہ! کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 29]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دوزخ دیکھی تو وہاں اکثر عورتیں تھیں (کیونکہ) وہ کفر کرتی ہیں۔“ لوگوں نے کہا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ اپنے خاوند کا کفر کرتی ہیں، یعنی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ وہ یوں کہ اگر تو ساری عمر عورت سے اچھا سلوک کرے پھر وہ معمولی سی (ناگوار) بات تجھ میں دیکھے تو کہنے لگتی ہے کہ مجھے تجھ سے کبھی آرام نہیں ملا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ عَطَاءٌ أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَبِلَالٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، یا عطاء نے کہا کہ میں ابن عباس پر گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سے) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو (خطبہ اچھی طرح) نہیں سنائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا (یہ وعظ سن کر) کوئی عورت بالی (اور کوئی عورت) انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں (یہ چیزیں) لینے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے عطاء سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں (اس میں شک نہیں ہے)۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی غرض یہ ہے کہ اگلا باب عام لوگوں سے متعلق تھا اور یہ حاکم اور امام سے متعلق ہے کہ وہ بھی عورتوں کو وعظ سنائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 98]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید کے دن مردوں کی صف سے عورتوں کی جانب) نکلے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ کو خیال ہوا کہ شاید عورتوں تک میری آواز نہیں پہنچی، اس لیے آپ نے انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ و خیرات دینے کا حکم دیا، تو کوئی عورت اپنی بالی اور کوئی اپنی انگوٹھی ڈالنے لگی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ (ان زیورات کو) اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل (ابن علیہ) نے ایوب سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے زید نے اور یہ زید اسلم کے بیٹے ہیں، انہوں نے عیاض بن عبداللہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 304]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی کے دن عید گاہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ کا گزر عورتوں پر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”اے عورتوں کے گروہ! تم صدقہ زیادہ کیا کرو کیونکہ میں نے تمہاری اکثریت جہنم میں دیکھی ہے۔“ وہ بولیں: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ کسی کو دین و عقل میں نقص رکھنے کے باوجود پختہ رائے مرد کی عقل کو لے جانے والا نہیں پایا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین میں نقصان (کمی) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا عورت کی گواہی مرد کی نصف گواہی کے برابر نہیں؟“ انہوں نے کہا: بے شک ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو وہ نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، یہ تو ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بس یہی عورت کے دین کا نقصان ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 863
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ رَجُلٌ:" شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلْقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، ثُمَّ أَتَى هُوَوَبِلَالٌ الْبَيْتَ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور ان سے ایک شخص نے یہ پوچھا تھا کہ کیا تم نے (عورتوں کا) نکلنا عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں دیکھا ہے اگر میں آپ کا رشتہ دار عزیز نہ ہوتا تو کبھی نہ دیکھتا (یعنی میری کم سنی اور قرابت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے) کثیر بن صلت کے مکان کے پاس جو نشان ہے پہلے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سنایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں بھی وعظ و نصیحت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خیرات کرنے کے لیے کہا، چنانچہ عورتوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنی شروع کر دیے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر تشریف لائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 863]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے کسی آدمی نے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کو کبھی باہر حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور اگر میرا مرتبہ اور مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اتنا نہ ہوتا تو میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے قریب ہے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے، انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا، چنانچہ کوئی عورت (اپنی بالی، کوئی انگوٹھی اور کوئی) اپنے زیور کی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی چادر میں ڈالنے لگی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اپنے گھر لوٹ آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ. ح فَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَاءً , قَالَتْ:" كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، قَالَ: فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ: سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي، فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي؟ وَقُلْنَا لَا تُخْبِرْ بِنَا، فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: مَنْ هُمَا؟ , قَالَ: زَيْنَبُ، قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ , قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے ‘ ان سے عمرو بن الحارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے۔ (اعمش نے) کہا کہ میں نے اس حدیث کا ذکر ابراہیم نحعی سے کیا۔ تو انہوں نے بھی مجھ سے ابوعبیدہ سے بیان کیا۔ ان سے عمرو بن حارث نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب نے ‘ بالکل اسی طرح حدیث بیان کی (جس طرح شقیق نے کی کہ) زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے ‘ صدقہ کرو ‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔ اور زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں۔ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو۔ آخر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا۔ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ (جو زینب ابومسعود انصاری کی بیوی تھیں) پھر ہمارے سامنے سے بلال گذرے۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنی زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں۔ ہم نے بلال سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ وہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی زینب؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! بیشک درست ہے۔ اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1466]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا زوجہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتو! تم صدقہ کرو اگرچہ زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔“ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان یتیم بچوں پر خرچ کرتی تھیں جو ان کی پرورش میں تھے۔ انہوں نے اپنے شوہر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں تم پر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کر لو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ایک انصاریہ عورت کو پایا۔ اس کی حاجت بھی میری حاجت جیسی تھی۔ اتنے میں ہمارے پاس سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو، آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اپنے شوہر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں جو میری پرورش میں ہیں؟ اور ہم نے یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا ذکر نہ کرنا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو عورتیں کون ہیں؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: زینب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون سی زینب؟“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ایک قرابت داری (صلہ رحمی) کا ثواب اور دوسرا صدقے کا اجر۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5880
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ" قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،" فَأَتَى النِّسَاءَ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ".
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے (اور صدقہ کی ترغیب دلائی) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 5880]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے (آپ نے انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی) تو انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں انگوٹھیاں اور چھلے ڈالنا شروع کر دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 5880]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5881
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (آبادی سے باہر) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 5881]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن باہر تشریف لے گئے اور دو رکعتیں پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید سے پہلے یا بعد کوئی نوافل نہیں پڑھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، انہیں صدقہ کرنے کا شوق دلایا تو انہوں نے اپنی بالیاں اور خوشبودار ہار صدقہ کرنا شروع کیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 5881]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة