صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب قول الله تعالى: {أو صدقة} وهى إطعام ستة مساكين:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”یا صدقہ“ (دیا جائے) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
حدیث نمبر: 1815
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ:" وَقَفَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، أَوْ قَالَ: احْلِقْ، قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196، إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوئیں تو تمہارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سر منڈا لے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ لفظ فرمایا کہ منڈا لے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی کہ ”اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو“ آخر آیت تک، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک فرق غلہ سے چھ مسکینوں کو کھانا دے یا جو میسر ہو اس کی قربانی کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1815]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب کھڑے ہوئے تو میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوئیں تمہارے لیے تکلیف کا باعث ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو۔“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو۔۔۔“ آخر تک، میرے ہی حق میں نازل ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”تین دن روزے رکھ یا ایک «فَرَقٍ» (تین صاع) اناج چھ مساکین کو صدقہ کر یا جو قربانی تجھے میسر ہو اسے ذبح کر۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جس سال آپ عمرے سے روک دیے گئے تھے) پہلے قربانی کی، پھر سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:احْلِقْ رَأْسَكَ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید بن قیس نے، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے، انہوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنا سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1814]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو، پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِدْيَةِ، فَقَالَ:" نَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً، حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَوْ مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى تَجِدُ شَاةً؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، ان سے عبداللہ بن معقل نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر فرمایا) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اتنی زیادہ تکلیف ہو گی یا (آپ نے یوں فرمایا کہ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ جہد (مشقت) تمہیں اس حد تک ہو گی، کیا تجھ میں بکری (بطور فدیہ) دینے کی طاقت ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1816]
حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے فدیے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: مذکورہ (فدیے والی) آیت کریمہ میرے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی، البتہ اس کا حکم تمہارے لیے عام ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یقین نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہوگی۔ کیا تجھے بکری مل جائے گی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو نصف صاع دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، مِثْلَهُ.
اور محمد بن یوسف سے روایت ہے کہ ہم کو ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1818]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا جبکہ ان کے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ , فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ , أَوْ يُهْدِيَ شَاةً , أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4159]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا جبکہ ان کے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حدیبیہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر واضح نہیں کیا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں احرام کھول کر اس کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گے بلکہ انہیں امید تھی کہ وہ مکہ میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیے کا حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک «فَرَق» (تقریباً چھ کلو تین سو گرام) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری قربانی کریں یا تین دن کے روزے رکھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4190
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي , فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ , أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً" , قَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي بِأَيِّ هَذَا بَدَأَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ‘ ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ عمرہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ جوئیں جو تمہارے سر سے گر رہی ہیں ‘ تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سر منڈوا لو اور تین دن روزہ رکھ لو یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دو یا پھر کوئی قربانی کر ڈالو۔ (سر منڈوانے کا فدیہ ہو گا) ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان تینوں امور میں سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4190]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے سر کی جوئیں تجھے تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو اور تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک جانور ذبح کرو۔“ (راویِ حدیث) ایوب کہتے ہیں کہ ”اب مجھے یاد نہیں رہا کہ میرے استاد نے پہلے کیا ذکر کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4191
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ , قَالَ: وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي , فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196.
مجھ سے ابوعبداللہ محمد بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ ادھر مشرکین ہمیں بیت اللہ تک جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے سر پر بال بڑے بڑے تھے جن سے جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”پس اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دینے والی چیز ہو تو اسے (بال منڈوا لینے چاہئیں اور) تین دن کے روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا چاہیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4191]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مقام حدیبیہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہم نے احرام باندھ رکھا تھا اور مشرکین مکہ نے ہمیں عمرہ کرنے سے روک دیا تھا۔ میرے سر پر لمبے لمبے بال تھے۔ ان میں پڑی ہوئی جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہارے سر کی جوئیں اذیت پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اس کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ [سورة البقرة: 196] ”جو شخص مریض ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو (سر منڈوا سکتا ہے بشرطیکہ) روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے اس کا فدیہ ادا کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4517
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ , قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، فَقَالَ: حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي , فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ هَذَا أَمَا تَجِدُ شَاةً؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَاحْلِقْ رَأْسَكَ"، فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهْيَ لَكُمْ عَامَّةً.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، کہا میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا، ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ لے گئے اور جوئیں (سر سے) میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا، پھر تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4517]
حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ کی مسجد میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اور میں نے ان سے روزوں کے فدیے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”مجھے محرم کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بایں حالت اٹھا کر لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر کر پھیل رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تیری یہ مشقت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ (جو تو فدیہ میں دے سکے)۔“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو آدھے صاع کے برابر اناج دو اور سر منڈوا لو۔“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت تو یہ آیت کریمہ [سورة البقرة: 196] میرے متعلق نازل ہوئی تھی، البتہ اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5665
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ أَمَرَنِي بِالْفِدَاءِ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح اور ایوب نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزرے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ سلگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام بلوایا اور اس نے میرا سر مونڈ دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ ادا کر دینے کا حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 5665]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے سر کی جوئیں تجھے اذیت پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو بلایا تو اس نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے بال صاف کر دیے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ دینے کا حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 5665]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5703
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبٍ هُوَ ابْنُ عُجْرَةَ، قَالَ:" أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَنْ رَأْسِي فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةً، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: لَا أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوویں میرے سر سے گر رہی تھی (اور میں احرام باندھے ہوئے تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سر کی یہ جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ فرمایا کہ پھر سر منڈوا لے اور (کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک قربانی کر دے۔ ایوب نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ (ان تین چیزوں میں سے) کس کا ذکر سب سے پہلے کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 5703]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے سر سے گر رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تیرے سر کی جوئیں تجھے تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو پھر بطور کفارہ تین دن روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ یا بکری ذبح کرو۔“ راویِ حدیث ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مجھے یاد نہیں کہ کسی چیز کا ذکر پہلے کیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 5703]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6708
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُهُ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ادْنُ"، فَدَنَوْتُ فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، أَوْ صَدَقَةٍ، أَوْ نُسُكٍ"، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ: شَاةٌ وَالْمَسَاكِينُ: سِتَّةٌ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوشہاب عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور (کھانے کے لیے) چھ مسکین ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 6708]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ پھر میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر روزے رکھو یا صدقہ دو یا قربانی کا فدیہ دو۔“ ابن عون کے طریق سے ایوب نے کہا: ”روزے تین دن کے ہوں گے، قربانی ایک بکری کی اور کھانا چھ مساکین کے لیے ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة