صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب من لم يتوضأ من لحم الشاة والسويق:
باب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے زید بن اسلم سے خبر دی، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 210
وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 215
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں بشیر بن یسار نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بتلایا انہوں نے کہا کہ ہم خیبر والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے منگوائے۔ مگر (کھانے میں) صرف ستو ہی لایا گیا۔ سو ہم نے (اسی کو) کھایا اور پیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور (نیا) وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 675
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذِرَاعًا يَحْتَزُّ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو جعفر بن عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ ان کے باپ عمرو بن امیہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی ران کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور چھری ڈال دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ مِنْ كَتِفٍ يَحْتَزُّ مِنْهَا، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فَأَلْقَى السِّكِّينَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شانے کا گوشت (چھری سے) کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے (اس روایت میں) یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ فَصَلَّوْا الْعَصْرَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَطْعِمَةِ، فَلَمْ يُؤْتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِسَوِيقٍ، فَلُكْنَا فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا وَصَلَّيْنَا".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4175
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ," كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلَاكُوهُ , تَابَعَهُ مُعَاذٌ , عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ:" خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5384
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، قَالَ يَحْيَى: وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَوْدًا وَبَدْءًا.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، انہوں نے بشیر بن یسار سے سنا، کہا کہ ہم سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف (سنہ 7 ھ میں) نکلے جب ہم مقام صہباء پر پہنچے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ صہباء خیبر سے دوپہر کی راہ پر ہے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے اسی کو سوکھا پھانک لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی، ہم نے بھی کلی کی۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا (مغرب کے لیے کیونکہ پہلے سے باوضو تھے)۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے اس حدیث میں یوں سنا کہ آپ نے نہ ستو کھاتے وقت وضو کیا نہ کھانے سے فارغ ہو کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5384]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5390
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ عَلَى رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا سَوِيقًا فَلَاكَ مِنْهُ، فَلُكْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَصَلَّيْنَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے، انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام صہبا میں تھے۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے (اس نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5405
وَعَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" انْتَشَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا مِنْ قِدْرٍ، فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ایوب اور عاصم سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکتی ہوئی ہنڈیا میں سے ادھ کچی بوٹی نکالی اور اسے کھایا پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5405]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5407
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، فَالْتَفَتُّ، فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ، فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَغَضِبْتُ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ، فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ، فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، مِثْلَهُ.
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس (شکار کا گوشت) کھانا کیسا ہے؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5408
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا (کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں جعفر بن عمر بن امیہ ضمری نے، انہیں ان کے والد نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ میں سے گوشت کاٹ رہے تھے، پھر آپ نے اس میں سے کھایا۔ پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے اور چھری ڈال دی اور نماز پڑھی لیکن نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5455
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ بُشَيْرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، قَالَ يَحْيَى: وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ فَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَقَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى.
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ ہم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور کلّی (غرارے) کی، اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کلّی (غرارے) کی، پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5455]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5462
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور لیث نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ گوشت اور چھری جس سے آپ کاٹ رہے تھے، چھوڑ کر کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 5462]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة