صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه إلى المدينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ , وَفَاطِمَةَ , عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي، قَالَ: فَشُقِّيهِ , فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین (دو پٹکوں والی) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو «ذات النطاقين.» کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3907]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا جب انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے کہا: میں اپنے ازار بند کے علاوہ توشہ دان باندھنے کے لیے کچھ نہیں پاتی۔ انہوں نے فرمایا: ”اس کے دو ٹکڑے کر لو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت سے میرا نام «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ ہو گیا۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو «ذَاتُ النِّطَاقِ» ”پٹکے والی“ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَقَلَّ يَوْمٌ كَانَ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا يَأْتِي فِيهِ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَحَدَ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَلَمَّا أُذِنَ لَهُ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَمْ يَرُعْنَا إِلَّا وَقَدْ أَتَانَا ظُهْرًا، فَخُبِّرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ حَدَثَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ، قَالَ: أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ: الصُّحْبَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الصُّحْبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ، فَخُذْ إِحْدَاهُمَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایسے دن (مکی زندگی میں) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ (معمول کے خلاف اچانک) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2138]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت صبح و شام کے کسی حصے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر نہ آتے ہوں۔ اور جب آپ کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی گئی تو آپ اچانک ظہر کے وقت تشریف لائے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی گئی تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی ناگہانی ضرورت کے پیش نظر ہی اس وقت ہمارے ہاں تشریف لائے ہیں۔ جب آپ گھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ان سے فرمایا: ”افرادِ خانہ میں سے اس وقت جو آپ کے پاس ہیں انہیں الگ کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میری دو بیٹیاں عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”آیا تمہیں معلوم ہے کہ مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل چکی ہے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھی آپ کے ساتھ رہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی میرے ساتھ رہو گے۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے ہجرت کے لیے تیار کر رکھا ہے، آپ ان میں سے ایک لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایک قیمت کے عوض لے لی۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،"وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا، الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ، قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ فَأَمِنَاهُ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلَاثٍ، فَارْتَحَلَا وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ، فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهُوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ہجرت کرتے وقت) بنو دیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ اور اسے بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا (حدیث کے لفظ) «خريت» کے معنی راہبری میں ماہر کے ہیں۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا۔ اسی لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی۔ وہ شخص تین راتوں کے گزرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہو گیا۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2263]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کا راستہ بتانے کے لیے ایک ماہر شخص کو رکھا جو بنو دیل سے تھا۔ یہ بنو عبد بن عدی کا ایک خاندان ہے۔ «خِرِّيت» راستہ بتانے میں ماہر شخص کو کہتے ہیں۔ وہ شخص عاص بن وائل کے خاندان سے معاہدے میں بڑا مضبوط شریک رہا تھا اور کفار قریش کے دین پر تھا۔ دونوں حضرات نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالے کر دیں اور اس سے تین دن کے بعد غارِ ثور میں آنے کا وعدہ لیا، چنانچہ وہ تیسری رات کی صبح کو دونوں سواریاں لے کر ان کے پاس آیا تو آپ دونوں روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی چلے اور وہ راہبر بھی جو قبیلہ دیل سے تھا۔ وہ انھیں مکے کے زیریں علاقے، یعنی ساحل سمندر کے راستے پر لے گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2264
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ هَادِيًا خِرِّيتًا وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کر لی تھی۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواروں کے ساتھ غار ثور پر آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2264]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ (ام المومنین) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک شخص کو، جو راستہ بتانے میں ماہر تھا، بطور گائیڈ (رہن) مقرر کیا، حالانکہ وہ کفارِ قریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں نے اپنی اونٹنیاں اس کے حوالے کر دیں اور اس سے یہ وعدہ لیا کہ وہ تین راتوں کے بعد (تیسری رات کی صبح کو اونٹنیاں لے کر) غارِ ثور پر آئے، چنانچہ وہ (حسبِ وعدہ) تیسری رات کی صبح دونوں سواریاں لے کر وہاں آگیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْبَرَاءُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" انْطَلَقْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَسَمَّاهُ، فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى، فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو نضر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو اسرائیل نے خبر دی ابواسحاق سے کہ مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خبر دی (دوسری سند) ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ابواسحاق سے، اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ (ہجرت کر کے مدینہ جاتے وقت) میں نے تلاش کیا تو مجھے ایک چرواہا ملا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اس نے قریشی کا نام بھی بتایا، جسے میں جانتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تمہارے ریوڑ کی بکریوں میں دودھ بھی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں نے اس سے کہا کیا تم میرے لیے دودھ دوہ لو گے؟ اس نے کہا، ہاں ضرور! چنانچہ میں نے اس سے دوہنے کے لیے کہا۔ وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑ لایا۔ پھر میں نے اس سے بکری کا تھن گرد و غبار سے صاف کرنے کے لیے کہا۔ پھر میں نے اس سے اپنا ہاتھ صاف کرنے کے لیے کہا۔ اس نے ویسا ہی کیا۔ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر صاف کر لیا۔ اور ایک پیالہ دودھ دوہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے ایک برتن ساتھ لیا تھا۔ جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے پانی دودھ پر بہایا۔ جس سے اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا پھر دودھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ دودھ حاضر ہے۔ یا رسول اللہ! پی لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2439]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں چلا تو ایک چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہانکے جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: ایک قریشی کا۔ اس نے نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، چنانچہ میں نے اس کو دوہنے کے لیے کہا تو اس نے بکریوں میں سے ایک بکری باندھ دی۔ میں نے کہا: اس بکری کے تھن سے غبار صاف کر دے۔ پھر میں نے اس سے کہا: اپنے ہاتھ بھی جھاڑ لے تو اس نے ایسا ہی کیا اور ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارا، پھر ایک پیالہ دودھ دوہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی کی ایک چھاگل رکھ لی تھی جس کے منہ پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔ میں نے پانی دودھ پر ڈالا حتیٰ کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نوشِ جاں کیجیے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا پیا کہ میرا دل خوش ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَحَدَّثَتْنِي أَيْضًا فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَتْ: فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ:" وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي، قَالَ: فَشُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ فَارْبِطِيهِ بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ وَبِالْآخَرِ السُّفْرَةَ فَفَعَلْتُ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، نیز مجھ سے فاطمہ نے بھی بیان کیا، اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ہجرت کا ارادہ کیا تو میں نے (والد ماجد سیدنا) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آپ کے لیے سفر کا ناشتہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب آپ کے ناشتے اور پانی کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی، تو میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بجز میرے کمر بند کے اور کوئی چیز اسے باندھنے کے لیے نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر اسی کے دو ٹکڑے کر لو۔ ایک سے ناشتہ باندھ دینا اور دوسرے سے پانی، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اسی وجہ سے میرا نام ”ذات النطاقین“ (دو کمر بندوں والی) پڑ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2979]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر میں آپ کے لیے سفری کھانا تیار کیا۔ انہوں نے فرمایا: جب مجھے آپ کے توشہ دان اور پانی کے مشکیزے باندھنے کے لیے کوئی چیز نہ ملی تو میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اپنے کمر بند کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی جس سے میں انہیں باندھوں، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے کمر بند کے دو حصے کر لو، ایک سے پانی کے ظرف کو باندھو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ میں نے ایسا ہی کیا تو اس وجہ سے میرا نام «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ رکھا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 2979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا، فَقَالَ" لِعَازِبٍ ابْعَثْ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي، قَالَ: فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، قُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَفَتَحْلُبُ، قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ شَاةً، فَقُلْتُ: انْفُضْ الضَّرْعَ مِنَ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْفُضُ فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِي مِنْهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ شَكَّ زُهَيْرٌ، فَقَالَ: إِنِّي أُرَاكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا، قَالَ: كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ، قَالَ: وَوَفَى لَنَا".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو۔ براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا (راوی نے کہا کہ) مکہ کے فلاں شخص سے، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (آپ سو رہے تھے) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ پی لیجئے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی۔ یہ شک (راوی حدیث) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے (اس مصیبت سے نجات کی) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3615]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے گھر تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا، پھر انہوں نے (میرے والد محترم) عازب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ اسے اٹھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ہمراہ کجاوہ اٹھایا۔ جب میرے والد ان سے اس کی قیمت لینے گئے تو ان سے میرے والد نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ! مجھے بتائیں، جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کر کے گئے تھے تو تمہارے ساتھ کیا بیتی تھی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رات بھر چلتے رہے، اگلے دن بھی سفر جاری رکھا حتیٰ کہ دوپہر ہو گئی۔ راستہ بالکل سنسان تھا۔ ادھر سے کوئی آدمی گزرتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس دوران میں ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کے نیچے دھوپ نہ تھی بلکہ سایہ تھا، لہٰذا ہم نے وہاں پڑاؤ کیا۔ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے ہاتھ سے ایک جگہ ہموار کی، وہاں پوستین بچھائی اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہاں آرام فرمائیں، میں آپ کے آس پاس کی نگرانی کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں آس پاس کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے نیچے ہم نے پڑاؤ کیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: برخوردار! تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا: میں مدینہ طیبہ یا مکہ مکرمہ کے ایک شخص کا غلام ہوں۔ میں نے اس سے کہا: کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا تو ہمارے لیے دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ لایا تو میں نے اس سے کہا کہ اس کے تھنوں کو مٹی، بالوں اور دوسری الائشوں سے صاف کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر تھن جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ بہرحال اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میرے پاس ایک چھاگل تھی جو میں مکہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پانی پیتے اور وضو بھی کرتے تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ کو بیدار کرنا مناسب خیال نہ کیا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے دودھ میں کچھ پانی ڈالا تو وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نوش فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اب چلنے کا وقت ہو چکا ہے، چنانچہ ہم سورج ڈھلنے کے بعد وہاں سے چل پڑے۔ دوسری طرف سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا وہاں آ پہنچا، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی ہمارے پیچھے آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40] ”فکر مت کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا اس سمیت پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ زہیر راوی نے کہا: سخت زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ دونوں نے میرے لیے بددعا کی ہے، اب آپ دونوں میرے لیے دعا کیجیے۔ اللہ کی قسم! آپ سے میرا وعدہ ہے کہ میں آپ کو تلاش کرنے والوں کو واپس کر دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو اس نے (زمین سے) نجات حاصل کی۔ پھر وہ جس سے ملتا اسے کہتا کہ میں تلاش کر چکا ہوں، ادھر کوئی نہیں، وہ ہر ملنے والے کو یہ کہہ کر واپس لوٹا دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا اسے پوری طرح نبھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرْ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْ إِلَيَّ رَحْلِي، فَقَالَ عَازِبٌ: لَا حَتَّى تُحَدِّثَنَا كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ، قَالَ: ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَأَحْيَيْنَا أَوْ سَرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ أَرَى مِنْ ظِلٍّ فَآوِيَ إِلَيْهِ , فَإِذَا صَخْرَةٌ أَتَيْتُهَا فَنَظَرْتُ بَقِيَّةَ ظِلٍّ لَهَا فَسَوَّيْتُهُ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، ثُمَّ قُلْتُ: لَهُ اضْطَجِعْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَنْظُرُ مَا حَوْلِي هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا , فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , سَمَّاهُ فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَهَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لَنَا؟ قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرْتُهُ , فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ , فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ , فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قُلْتُ: قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَلَى" , فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا".
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ان کے والد) عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم میں خریدا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء (اپنے بیٹے) سے کہو کہ وہ میرے گھر یہ پالان اٹھا کر پہنچا دیں اس پر عازب رضی اللہ عنہ نے کہا یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ وہ واقعہ بیان نہ کریں کہ آپ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے ہجرت کرنے کے لیے) کس طرح نکلے تھے حالانکہ مشرکین آپ دونوں کو تلاش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد ہم رات بھر چلتے رہے اور دن میں بھی سفر جاری رکھا۔ لیکن جب دوپہر ہو گئی تو میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ نظر آ جائے اور ہم اس میں کچھ آرام کر سکیں۔ آخر ایک چٹان دکھائی دی اور میں نے اس کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ سایہ ہے۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک فرش وہاں بچھا دیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اب آرام فرمائیں۔ چنانچہ آپ لیٹ گئے۔ پھر میں چاروں طرف دیکھتا ہوا نکلا کہ کہیں لوگ ہماری تلاش میں نہ آئے ہوں۔ پھر مجھ کو بکریوں کا ایک چرواہا دکھائی دیا جو اپنی بکریاں ہانکتا ہوا اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح سایہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے بڑھ کر اس سے پوچھا کہ لڑکے تم کس کے غلام ہو۔ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم دودھ دوہ سکتے ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا اور اس نے اپنے ریوڑ کی ایک بکری باندھ دی۔ پھر میرے کہنے پر اس نے اس کے تھن کے غبار کو جھاڑا۔ اب میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بھی جھاڑ لے۔ اس نے یوں اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا اور میرے لیے تھوڑا سا دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں نے پہلے ہی سے ساتھ لے لیا تھا اور اس کے منہ کو کپڑے سے بند کر دیا تھا (اس میں ٹھنڈا پانی تھا) پھر میں نے دودھ پر وہ پانی (ٹھنڈا کرنے کے لیے) ڈالا اتنا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا تو اسے آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ آپ بھی بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: دودھ پی لیجئے۔ آپ نے اتنا پیا کہ مجھے خوشی حاصل ہو گئی، پھر میں نے عرض کیا کہ اب کوچ کا وقت ہو گیا ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے، چلو۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور مکہ والے ہماری تلاش میں تھے لیکن سراقہ بن مالک بن جعشم کے سوا ہم کو کسی نے نہیں پایا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا، میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ یا رسول اللہ! ہمارا پیچھا کرنے والا دشمن ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فکر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3652]
حدیث میں «سَبَقَتْ» سے مراد یہ ہے کہ دین سے بے پروائی کی وجہ سے ان میں حرص اور لالچ کا غلبہ ہوگا، بس یہی ہوگا کہ جس چیز سے ابتدا کریں شہادت سے یا قسم سے، گویا ان دونوں کی وجہ سے ایک دوڑ لگی ہوگی۔ اس کا مصداق دیکھنا ہو تو ہماری عدالتوں میں تیار شدہ گواہوں کو دیکھ لیا جائے۔ دولت کی لالچ میں وہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم دینے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں، حالانکہ گواہی چشم دید واقعہ اور قسم یقینی امر کی ہوتی ہے لیکن انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ «تُرِيحُونَ» کے معنی ”شام کو چرانا“ اور «تَسْرَحُونَ» کے معنی ”صبح کو چرانا“ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا، فَقَالَ:" مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3653]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا جبکہ میں غارِ ثور میں تھا: ”اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہم اسے ضرور نظر آجائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! ان دو کے متعلق تیرا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3906
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ، يَقُولُ: جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ , فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ , إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بِأَعْيُنِنَا , ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ , وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَحَطَطْتُ بِزُجِّهِ الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَهُ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي , فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْهُمْ , فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ , فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَى كِنَانَتِي , فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ , فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ , سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا , ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا , فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ , فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ فَنَادَيْتُهُمْ بِالْأَمَانِ , فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ , وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ , وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ، قَالَ:" أَخْفِ عَنَّا" , فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ أَمْنٍ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَفَكَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنْ الشَّأْمِ فَكَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ , وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ , فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ , فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ , فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ , فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ , فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ , فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ , فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامِتًا , فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَيِّي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ , فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ , فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى , وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ:" هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ" , ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، فَقَالَا: لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ، وَيَقُولُ: وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرْ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرْ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَهْ فَارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ , فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرَ هَذَا الْبَيْتِ".
ابن شہاب نے بیان کیا اور مجھے عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے خبر دی، وہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی اور انہوں نے سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیا اور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا سراقہ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔ (سراقہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لیے ممکن تھا، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا۔ لیکن میں کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں۔ فال (اب بھی) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لیے جا رہا تھا۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لیے ڈانٹا میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لیے پکارا۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا۔ اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے (دوپہر کو) انہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں۔ (یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد (قباء) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر (جمعہ کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ سہیل اور سہل (رضی اللہ عنہما) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا۔ یہ دونوں بچے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاءاللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی۔ اس کی تعمیر کے وقت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ”یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے کہ ”اے اللہ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3906]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس کفارِ قریش کے قاصد آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس امر کا اعلان کر رہے تھے کہ جو شخص انہیں قتل کر دے یا زندہ گرفتار کر کے لائے تو ہر ایک کے بدلے ایک سو اونٹ اسے بطور انعام دیے جائیں گے، چنانچہ میں ایک وقت اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس کھڑا ہو گیا جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ”اے سراقہ! میں نے ابھی ابھی ساحل پر چند لوگ دیکھے ہیں۔ میں انہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی خیال کرتا ہوں۔“ سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں مگر میں نے ایسے ہی اس سے کہہ دیا: وہ نہیں ہوں گے بلکہ تو نے فلاں فلاں کو دیکھا ہو گا جو ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں جو اپنا گم شدہ کوئی جانور تلاش کر رہے تھے۔“ اس کے بعد میں تھوڑی دیر تک اس مجلس میں ٹھہرا رہا، پھر کھڑا ہوا اور اپنے گھر جا کر خادمہ سے کہا کہ وہ میرا گھوڑا لے کر باہر جائے اور اس کو ٹیلے کے پیچھے لے کر کھڑی رہے۔ پھر میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور مکان کی پچھلی جانب سے نکلا۔ نیزے کی نوک سے زمین پر خط لگا رہا تھا اور اس کا اوپر والا حصہ نیچے کیے ہوئے تھا۔ اس طرح میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور اس پر سوار ہو گیا۔ پھر اسے ہوا کی طرح سرپٹ دوڑایا تاکہ مجھے جلدی پہنچائے۔ لیکن جب میں ان کے قریب ہو گیا تو میرے گھوڑے نے ایسی ٹھوکر کھائی کہ میں گھوڑے سے گر پڑا۔ میں کھڑا ہوا اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے تیر نکال کر فال لی کہ میں ان لوگوں کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں؟ تو وہ بات سامنے آئی جو مجھے ناگوار تھی، مگر میں پھر بھی اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کی فال کو تسلیم نہ کیا۔ میرا گھوڑا مجھے لے کر پھر اتنا قریب پہنچ گیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اِدھر اُدھر بہت دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں میرے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور خود میں بھی اس کے اوپر سے گر پڑا۔ پھر میں نے گھوڑے کو ڈانٹا تو بڑی مشکل سے اس کے پاؤں نکلے، مگر جب وہ سیدھا ہوا تو اس کے اگلے دونوں پاؤں سے دھویں کی طرح غبار نمودار ہوا جو آسمان تک پھیل گیا۔ میں نے پھر تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں برا جانتا تھا۔ آخر میں نے انہیں امان کے ساتھ آواز دی تو وہ ٹھہر گئے۔ پھر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا اور جب مجھے ان تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیش آئیں تو میرے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ضرور بول بالا ہو گا، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق سو اونٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ پھر میں نے وہ باتیں بیان کیں جو وہ لوگ آپ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں میں نے انہیں زادِ راہ اور کچھ سامان پیش کیا، لیکن انہوں نے نہ تو میرے مال میں کمی کی اور نہ کچھ مانگا ہی، البتہ یہ ضرور کہا: ”ہمارا حال لوگوں سے پوشیدہ رکھیں۔“ میں نے ان سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک تحریرِ امن لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جس نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر سندِ امان لکھ دی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہو گئے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سوداگر مسلمانوں کی ایک جماعت سے ہوئی جو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ملک شام سے آ رہی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید پوشاک پہنائی۔ ادھر مسلمان اہل مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خبر پہنچی تو وہ لوگ مقامِ حرہ تک ہر روز صبح آپ کے استقبال کے لیے آتے اور آپ کا انتظار کرتے، پھر دوپہر کی گرمی انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیتی، چنانچہ وہ ایک روز حسب معمول بہت انتظار کے بعد واپس آ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھے تھے کہ ایک یہودی کسی کام کی خاطر، اپنے قلعوں میں سے کسی قلعے پر چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سفید لباس میں ملبوس دیکھا۔ جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نزدیک ہو رہے تھے اتنا ہی دور سے سراب کم ہوتا جاتا تھا تب اس یہودی سے نہ رہا گیا اور وہ فوراً بآوازِ بلند پکار اٹھا: ”اے جماعتِ عرب! یہ ہے تمہارا بلند مرتبہ معزز سردار جس کا تم شدت سے انتظار کر رہے تھے۔“ یہ سنتے ہی مسلمان ہتھیار لے کر آپ کے استقبال کو دوڑے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ حرہ کے پیچھے ملے، انہیں ساتھ لیے دائیں مڑے، پھر انہوں نے بنو عمرو بن عوف کے ہاں پڑاؤ کیا۔ یہ واقعہ ماہِ ربیع الاول سوموار کے دن کا ہے۔ الغرض حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر لوگوں سے ملنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ وہ انصاری جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کرتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آ گئی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر کا سایہ کیا تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے ہاں تقریباً دس راتیں قیام پذیر رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی اساس تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ آپ کی اونٹنی مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ اس میں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ سہل اور سہیل دو یتیم بچوں کی کھجوروں کا کھلیان تھا جو حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی کفالت میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ یہی مقام ہو گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور ان سے کھلیان کی قیمت معلوم کی تاکہ اسے مسجد بنا سکیں۔ ان دونوں نے کہا: ”ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے بلکہ اللہ کے رسول! ہم یہ زمین آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ منظور نہ فرمایا بلکہ قیمت دے کر ان سے وہ جگہ خرید لی اور وہاں مسجد کی بنیاد رکھی اور اس مسجد کی تعمیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں کے ساتھ اینٹیں اٹھاتے اور فرماتے: ”یہ بوجھ اٹھانا کوئی خیبر کا بوجھ اٹھانا نہیں۔ اے ہمارے رب! یہ تو باعثِ ثواب اور پاکیزہ کام ہے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اے اللہ! ثواب تو آخر ہی کا ثواب ہے۔ اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کا شعر پڑھا جس کے نام کا مجھے علم نہیں۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: احادیث میں ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیت کے علاوہ کسی کا پورا شعر پڑھا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ , فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ، قَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ فَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِرَاعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ , فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا کی۔ (اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں (ریوڑ کی ایک بکری کا) تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3908]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ آنے کا ارادہ کیا تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کے پیچھے لگ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کی: ”آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کریں، میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔“ راوی کہتا ہے کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں کچھ دودھ دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا حتی کہ میں خوش ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3918
قَالَ الْبَرَاءُ: فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا، وَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟".
براء نے بیان کیا کہ جب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی! طبیعت کیسی ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3918]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر گیا تو ان کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں، انہیں سخت بخار تھا۔ میں نے ان کے والد کو دیکھا، انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور فرمایا: ”پیاری بیٹی! تمہاری طبیعت کیسی ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3922
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا، قَالَ:" اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم (باہر) نظر آئے میں نے کہا، اے اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! خاموش رہو ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3922]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں غارِ ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے قومِ قریش کے قدم نظر آئے۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! خاموش رہو۔ ہم ایسے دو ہیں کہ جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے (اس لیے ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا)۔““ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ، فَرَأَيْتُ آثَارَ الْمُشْرِكِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ رَفَعَ قَدَمَهُ رَآنَا، قَالَ:" مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان بن ہلال باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: انہوں نے کہا کہ میں غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھے (جو ہمارے سر پر کھڑے ہوئے تھے) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور بولے: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4663]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: ”میں غار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھ کر عرض کی: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کے متعلق تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4663]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5807
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" هَاجَرَ نَاسٌ إِلَى الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَ تَرْجُوهُ بِأَبِي أَنْتَ، قَالَ: نَعَمْ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِصُحْبَتِهِ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ، وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَيْنَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًا لَكَ أَبِي وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ حِينَ دَخَلَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، قَالَ: إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، وَضَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا، فَأَوْكَأَتْ بِهِ الْجِرَابَ، وَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى ذَاتَ النِّطَاقِ، ثُمَّ لَحِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلٍ، يُقَالُ لَهُ ثَوْرٌ، فَمَكُثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، لَقِنٌ ثَقِفٌ فَيَرْحَلُ مِنْ عِنْدِهِمَا سَحَرًا، فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ، فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُكَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ، وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ، فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلِهِمَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، بِغَلَسٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے (ہجرت کی) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“ (پٹکے والی) کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 5807]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ چند مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاری کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ٹھہر جاؤ، مجھے امید ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی دی جائے گی۔“ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کیا آپ کو بھی ہجرت کی امید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے خود کو روک لیا اور اپنی دو اونٹنیوں کو چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سر، منہ ڈھانپے اس طرف تشریف لا رہے ہیں، عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اہم کام کے لیے اس وقت تشریف لائے ہیں، بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور آتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جو لوگ اس وقت تمہارے پاس ہیں انہیں یہاں سے اٹھا دو۔“ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا باپ آپ پر قربان ہو، اے اللہ کے رسول! یہ سب آپ کے گھر کے افراد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔“ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! پھر مجھے رفاقت کی سعادت حاصل رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان ہو، ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ قیمت سے لیتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر ہم نے جلدی جلدی دونوں سواریوں کا سامان تیار کیا، پھر دونوں کے لیے کھانا تیار کر کے توشہ دان میں رکھ دیا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے اس توشہ دان کا منہ باندھ دیا۔ اس بنا پر انہیں «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”ذات النطاقین“ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں جا کر چھپ گئے۔ وہاں تین راتیں قیام فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بیٹا عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے پاس رہتا تھا۔ وہ نوجوان، ذہین اور سمجھدار تھا، وہ ان کے پاس سے سحری کے وقت روانہ ہوتا اور مکہ مکرمہ میں صبح ہوتے ہی قریش کے ہاں پہنچ جاتا جیسا کہ وہ مکہ ہی میں رات کے وقت رہا ہو۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ کر لیتا پھر جونہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غارِ ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیتا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتا تھا اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غارِ ثور کی طرف ہانک کر لے جاتا۔ وہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) بکریوں کا دودھ پی کر رات بسر کرتے، پھر عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ صبح اندھیرے وہاں سے روانہ ہو جاتا۔ ان تین راتوں میں اس نے ہر رات ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 5807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6079
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْهِمَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ، قَالَ:" إِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، ان سے زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ (والد ماجد) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 6079]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کے تابع پایا۔ ان پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح شام ہمارے پاس تشریف نہ لاتے ہوں۔ ایک مرتبہ ہم سخت دوپہر کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں (ایسے وقت میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے) تشریف نہیں لاتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مکہ مکرمہ سے باہر چلے جانے کی اجازت مل گئی ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 6079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة