صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى الوتر:
باب: وتر کا بیان۔
حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ وِسَادَةٍ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَاسْتَيْقَظَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ،" ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے (آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) میں تکیہ کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی لمبائی میں لیٹیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب آدھی رات گزر گئی یا اس کے لگ بھگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نیند کے اثر کو چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کیا۔ اس کے بعد آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں۔ پھر ایک پرانی مشک پانی کی بھری ہوئی لٹک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر رکھ کر اور میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت سب بارہ رکعتیں پھر ایک رکعت وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ مؤذن صبح صادق کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت سنت نماز پڑھی۔ پھر باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 992]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی، وہ فرماتے ہیں کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ اس کے طول میں محوِ استراحت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی یا اس کے لگ بھگ رات تک سوئے رہے، پھر جب بیدار ہوئے تو اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کے اثرات دور کیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے بھری ہوئی آویزاں پرانی مشک کی طرف آئے، اس سے اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی اسی طرح کرتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں جا کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد دو رکعت، پھر دو رکعت، بعد ازاں دو رکعت، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں مزید ادا کیں، پھر وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن (نماز کی اطلاع دینے) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں (سنت فجر) پڑھیں، پھر باہر تشریف لے گئے اور فجر کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، ثُمَّ قَالَ: نَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان کو حکم نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن) ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی۔ پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت (نماز نفل) پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر اٹھے اور فرمایا کہ (ابھی تک یہ) لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔ پھر آپ (نماز پڑھنے) کھڑے ہو گئے اور میں (بھی وضو کر کے) آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب (کھڑا) کر لیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے (باہر) تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 117]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ، اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں بسر کی۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی کے پاس تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء (مسجد میں) ادا کی، پھر اپنے گھر تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر سو رہے۔ پھر بیدار ہوئے اور فرمایا: ”کیا بچہ سو گیا ہے؟“ یا اس سے ملتی جلتی بات فرمائی۔ اور پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا اور پانچ رکعات پڑھیں۔ اس کے بعد دو رکعت (سنت فجر) ادا کیں۔ پھر سو گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹے بھرنے کی آواز سنی۔ پھر (صبح کی) نماز کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 138
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ صَلَّى، وَرُبَّمَا قَالَ: اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ، وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَرُبَّمَا، قَالَ سُفْيَانُ: عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قُلْنَا لِعَمْرٍو: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ سورة الصافات آية 102".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے عمرو کے واسطے سے نقل کیا، انہیں کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور کبھی (راوی نے یوں) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر خراٹے لینے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے بعد نماز پڑھی۔ پھر سفیان نے ہم سے دوسری مرتبہ یہی حدیث بیان کی عمرو سے، انہوں نے کریب سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ وہ کہتے تھے کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنی خالہ (ام المؤمنین) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، تو (میں نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے۔ جب تھوڑی رات باقی رہ گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو اس کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتے تھے اور آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، تو میں نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر آ کر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان نے «عن يساره» کی بجائے «عن شماله» کا لفظ کہا (مطلب دونوں کا ایک ہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیر لیا اور اپنی داہنی جانب کر لیا۔ پھر نماز پڑھی جس قدر اللہ کو منظور تھا۔ پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے۔ حتیٰ کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ پھر آپ کی خدمت میں مؤذن حاضر ہوا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (سفیان کہتے ہیں کہ) ہم نے عمرو سے کہا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں، دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو نے کہا میں نے عبید بن عمیر سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ پھر (قرآن کی یہ) آیت پڑھی۔ ”میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 138]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے، یہاں تک کہ خراٹے بھرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیدار ہو کر) نماز پڑھی، کبھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کروٹ پر لیٹے، یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ پھر سفیان رحمہ اللہ نے اس روایت کو دوبارہ تفصیل سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے۔ جب کچھ رات گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لٹکتے ہوئے مشکیزے سے ہلکا وضو فرمایا۔ عمرو (راوی) اس (وضو) کا ہلکا پن اور معمولی ہونا بیان کرتا ہے۔ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح وضو کیا، پھر میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ سفیان رحمہ اللہ نے کبھی «يَسَارٍ» (بائیں جانب) کے بجائے «شِمَالٍ» کا لفظ استعمال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پھیرا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر اللہ کی توفیق میسر آئی، (تہجد کی) نماز ادا فرمائی، پھر کروٹ کے بل لیٹ کر سو گئے حتیٰ کہ خراٹے بھرنے لگے۔ پھر مؤذن آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔ (سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں) ہم نے (اپنے استاد) عمرو سے کہا: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نیند کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نہیں، بلکہ صرف آنکھ پر ہوتا تھا۔ عمرو نے جواب دیا: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، پھر درج ذیل آیت کو بطور دلیل تلاوت فرمایا: ﴿إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102] ”میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 183
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ، فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے مخرمہ بن سلیمان کے واسطے سے نقل کیا، وہ کریب ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ (وہ فرماتے ہیں کہ) میں تکیہ کے عرض (یعنی گوشہ) کی طرف لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ نے (معمول کے مطابق) تکیہ کی لمبائی پر (سر رکھ کر) آرام فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے اور جب آدھی رات ہو گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد آپ بیدار ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی نیند کو دور کرنے کے لیے آنکھیں ملنے لگے۔ پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر ایک مشکیزہ کے پاس جو (چھت میں) لٹکا ہوا تھا آپ کھڑے ہو گئے اور اس سے وضو کیا، خوب اچھی طرح، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا۔ پھر جا کر میں بھی آپ کے پہلوئے مبارک میں کھڑا ہو گیا۔ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھ کر اس کے بعد آپ نے وتر پڑھا اور لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اٹھ کر دو رکعت معمولی (طور پر) پڑھیں۔ پھر باہر تشریف لا کر صبح کی نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 183]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا، جو ان کی خالہ ہیں، کے گھر ایک رات بسر کی۔ انہوں نے کہا: میں تو بستر کے عرض میں لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ دونوں بستر کے طول میں محوِ استراحت ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے تاآنکہ جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا کچھ بعد، تو آپ بیدار ہوئے اور بیٹھ کر ہاتھ کے ذریعے سے چہرہ مبارک سے نیند کے اثرات دور کرنے لگے۔ پھر آپ نے ﴿سورة آل عمران﴾ کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے اچھی طرح وضو فرمایا، پھر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی اٹھا اور وہی کچھ کیا جو آپ نے کیا تھا۔ پھر میں اٹھ کر آپ کے پہلو میں جا کھڑا ہوا، چنانچہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑا۔ پھر آپ نے دو رکعات ادا کیں، پھر دو رکعات، پھر دو رکعات، پھر دو رکعات، پھر دو رکعات اور پھر دو رکعات پڑھیں۔ پھر وتر پڑھے اور لیٹ گئے تاآنکہ مؤذن آیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہلکی سی دو رکعات ادا کیں، پھر باہر نکلے اور نماز فجر پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 246
وَقَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: اخْتَصَرَهُ نُعَيْمٌ، عَنْ ابْن الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ
عفان نے کہا کہ ہم سے صخر بن جویریہ نے نافع کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ (خواب میں) مسواک کر رہا ہوں تو میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک ان میں سے دوسرے سے بڑا تھا، تو میں نے چھوٹے کو مسواک دے دی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ تب میں نے ان میں سے بڑے کو دی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کو نعیم نے ابن المبارک سے، وہ اسامہ سے، وہ نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 246]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے دیکھا، پھر میرے پاس دو شخص آئے، ان میں ایک عمر میں دوسرے سے بڑا تھا۔ میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی تو مجھے ہدایت کی گئی کہ بڑے کا لحاظ کرو، تب میں نے وہ مسواک بڑے کو دے دی۔“ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نعیم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بروایت ابن مبارک عن اسامہ عن نافع اس حدیث کو مختصر بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ قَالَ خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بتلایا کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد جب ان کے گھر تشریف لائے تو یہاں چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر نماز (تہجد کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے (اور نماز پڑھنے لگے) تو میں بھی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعت (سنت فجر) پڑھ کر سو گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز بھی سنی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے برآمد ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 697]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک مرتبہ اپنی خالہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد گھر تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر سو گئے۔ بعد ازاں (نماز کے لیے) اٹھے تو میں بھی آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد دو رکعت (سنت فجر) پڑھ کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرًا، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن حارث مصری نے عبد ربہ بن سعید سے بیان کیا، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات ام المؤمنین میمونہ کے ہاں سو گیا۔ اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وہیں سونے کی باری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر دائیں طرف کر دیا۔ پھر تیرہ رکعت (وتر سمیت) نماز پڑھی اور سو گئے۔ یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ پھر مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد (فجر کی) نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے بیان کیا میں نے یہ حدیث بکیر بن عبداللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھ سے کریب نے بھی بیان کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 698]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک رات سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات ان کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر اٹھ کر نفل پڑھنے لگے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ اس کے بعد مؤذن آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، نماز پڑھائی اور وضو نہ کیا۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے جب بکیر بن عبداللہ سے یہ حدیث لی تو اس نے حضرت کریب سے براہ راست اسے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سختیانی سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ آپ نے بتلایا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گذاری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا۔ میں (غلطی سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کر دیا۔ (تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہو جاؤں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 699]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے،، آپ نے بتلایا کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے گھر میں تہجد کی) نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا۔ پھر نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب مؤذن (نماز کی اطلاع دینے) آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 726]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔ میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر نماز پڑھی اور سو گئے۔ جب مؤذن آیا تو آپ کھڑے ہوئے، نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" قُمْتُ لَيْلَةً أُصَلِّي عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي أَوْ بِعَضُدِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: بِيَدِهِ مِنْ وَرَائِي".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں) نماز (تہجد) پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 728]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک شب نماز پڑھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا ہاتھ یا کندھا پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا اور میرے پیچھے ہی سے اپنے ہاتھ سے مجھے پکڑا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يَأْذَنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قُلْنَا لِعَمْرٍو: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، قَالَ عَمْرٌو، سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: إِنَّ رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی ابن عباس سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سویا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سو گئے۔ پھر رات کا ایک حصہ جب گزر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو (راوی حدیث نے) اس وضو کو بہت ہی ہلکا بتلایا (یعنی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم پانی استعمال فرمایا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اس کے بعد میں نے بھی اٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے داہنی طرف پھیر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ آخر مؤذن نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی مگر (نیا) وضو نہیں کیا سفیان نے کہا۔ ہم نے عمرو بن دینار سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ (سوتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (صرف) آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو بن دینار نے جواب دیا کہ میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے پھر عبید نے اس آیت کی تلاوت کی «إني أرى في المنام أني أذبحك» (ترجمہ) میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 859]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک رات اپنی خالہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزاری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے ہاں قیام فرمایا۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ایک لٹکتے ہوئے پرانے مشکیزے سے ہلکا سا وضو کیا (راوی حدیث حضرت عمرو رحمہ اللہ اسے بہت ہلکا اور خفیف سا بیان کرتے تھے) پھر آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس دوران میں میں بھی اٹھا اور آپ کے وضو جیسا وضو کیا، پھر آ کر آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سے پھیر کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر جس قدر اللہ کو منظور تھا آپ نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور نیند میں خراٹے بھرنے لگے۔ اتنے میں مؤذن آیا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہمراہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ہم نے حضرت عمرو رحمہ اللہ سے کہا کہ ہماری شنید کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ سوتی تھی لیکن دل بیدار رہتا تھا۔ عمرو نے کہا: میں نے (اپنے شیخ) عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، پھر انہوں نے بطور تائید یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102] ”(بیٹے!) میں خواب میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 859]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہ ہمیں سفیان ثوری نے منصور بن معمر اور حصین بن عبدالرحمٰن سے خبر دی، انہیں ابووائل نے، انہیں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو منہ کو مسواک سے خوب صاف کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 889]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 889]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 993
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ"، قَالَ الْقَاسِمُ: وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَكْنَا يُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ وَإِنَّ كُلًّا لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بَأْسٌ.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ قاسم سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 993]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازِ شب دو دو رکعت ہے۔ جب تو نماز ختم کرنے کا ارادہ کرے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ رکعت تیری سابقہ نماز کو وتر بنا دے گی۔“ قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے جوان ہونے تک لوگوں کو دیکھا کہ وہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ یقیناً (تین یا ایک) ہر ایک میں وسعت ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس میں چنداں حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 1136]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1198
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ:" فَاضْطَجَعْتُ عَلَى عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَمَسَحَ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتٍ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا بِيَدِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں مخرمہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ابن عباس کے غلام کریب نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے۔ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کی خالہ تھیں۔ آپ نے بیان کیا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کے طول میں لیٹے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ آدھی رات ہوئی یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے اور چہرے سے نیند کے خمار کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دور کرنے لگے۔ پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں اس کے بعد پانی کی ایک مشک کے پاس گئے جو لٹک رہی تھی، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں بھی اٹھا اور جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا میں نے بھی کیا اور پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے داہنے کان کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ سے مروڑنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی۔ اس کے بعد (ایک رکعت) وتر پڑھا اور لیٹ گئے۔ جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر باہر نماز (فجر) کے لیے تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 1198]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی، انہوں نے کہا کہ میں سرہانے کے عرض پر لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ محترمہ اس کے طول میں آرام فرما ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتی کہ جب آدھی رات ہوئی یا اس سے تھوڑا سا پہلے یا بعد تو پھر آپ بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرہ انور سے نیند کے اثرات دور کرنے لگے۔ پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر لٹکتے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بھی اٹھا اور اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر میں گیا اور آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ سے مروڑنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو، بعد ازاں دو، پھر دو، پھر دو رکعتیں ادا کیں، آخر میں پھر دو رکعتیں پڑھیں، اس کے بعد آپ نے وتر ادا کیے اور لیٹ گئے حتی کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں، پھر باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4569
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ:" إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190"، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ، وَاسْتَنَّ فَصَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ (ام المؤمنین) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گیا۔ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی (میمونہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ تھوڑی دیر تک بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف نظر کی اور یہ آیت تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن و رات کے مختلف ہونے میں عقلمندوں کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں تہجد اور وتر پڑھیں۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نے (فجر کی) اذان دی تو آپ نے دو رکعت (فجر کی سنت) پڑھی اور باہر مسجد میں تشریف لائے اور فجر کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4569]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک رات میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر تک تو اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ محو گفتگو رہے، اس کے بعد سو گئے۔ جب تہائی شب رہ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے، آسمان کی طرف نظر اٹھا کر یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] ”بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور دن اور رات کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، وضو کیا، مسواک کی اور گیارہ رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو دو رکعت (سنت) پڑھیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طُولِهَا فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ، ثُمَّ أَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا فَأَخَذَهُ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سو گیا، ارادہ یہ تھا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا۔ میری خالہ نے آپ کے لیے گدا بچھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے طول میں لیٹ گئے پھر (جب آخری رات میں بیدار ہوئے تو) چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار دور کئے۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، اس کے بعد آپ ایک مشکیزے کے پاس آئے اور اس سے پانی لے کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی کھڑا ہو گیا اور جو کچھ آپ نے کیا تھا وہی سب کچھ میں نے بھی کیا اور آپ کے پاس آ کر آپ کے بازو میں میں بھی کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا اور میرے کان کو (شفقت سے) پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت تہجد کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر وتر کی نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4570]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہا۔ میں نے (دل میں) سوچا کہ آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ضرور بغور مشاہدہ کروں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر بچھا دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لمبائی کے رخ لیٹ گئے۔ پھر جب بیدار ہوئے تو اپنے چہرۂ مبارک سے نیند کے آثار دور کرنے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران [سورة آل عمران: 190-200] کی آخری دس آیات تلاوت فرمانا شروع کیں حتی کہ سورت ختم کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس آئے، اسے پکڑا اور اس سے وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا وہ سب کچھ میں نے کیا۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میرے سر پر رکھا، پھر میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دو رکعت پڑھیں، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت اور پھر وتر پڑھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي بِيَدِهِ الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ گئے جو ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں آپ بیدار ہوئے اور چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کیا۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت کی۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر مشکیزے کے قریب گئے جو لٹکا ہوا تھا۔ اس کے پانی سے آپ نے وضو بہت ہی اچھی طرح سے پورے آداب کے ساتھ کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی آپ ہی کی طرح (وضو وغیرہ) کیا اور نماز کے لیے آپ کے بازو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور اسی ہاتھ سے (بطور شفقت) میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں وتر کی نماز پڑھی۔ اس سے فارغ ہو کر آپ لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی (فجر کی سنت) رکعتیں پڑھیں اور نماز فرض کے لیے باہر تشریف (مسجد میں) لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4571]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ اپنی خالہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ”میں وہاں تکیے کے عرض میں سو گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کے طول میں آرام فرما ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم و بیش آدھی رات تک سوئے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرہ انور سے نیند دور کرنے لگے۔ بعد ازاں سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں اور اٹھ کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کی۔ میں نے بھی وہی کچھ کیا جو آپ نے کیا تھا۔ پھر میں آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت اور پھر وتر پڑھا۔ اس کے بعد آپ لیٹ گئے۔ مؤذن کے آنے تک آپ لیٹے رہے، پھر ہلکی سی دو رکعت نماز ادا کی، پھر گھر سے باہر تشریف لائے اور نماز فجر پڑھائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4572
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ:" أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گئے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا تھوڑی دیر بعد آپ جاگے اور بیٹھ کر چہرہ پر نیند کے آثار دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے اور سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ اس کے بعد آپ مشکیزہ کے پاس گئے جو لٹکا ہوا تھا، اس سے تمام آداب کے ساتھ آپ نے وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو وغیرہ کیا اور جا کر آپ کے بازو میں کھڑا ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور (شفقت سے) میرے داہنے کان کو پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں انہیں وتر بنایا، پھر آپ لیٹ گئے اور جب مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر باہر مسجد میں تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4572]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سوئے اور وہ آپ کی خالہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”میں تکیے کے عرض میں لیٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ تکیے کی لمبائی میں محو استراحت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم و بیش آدھی رات تک آرام فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر چہرے سے نیند کے آثار دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر اٹھ کر لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اور اس کے پانی سے خوب اچھی طرح وضو کیا، بعد ازاں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں بھی اٹھ کھڑا ہوا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اسی طرح میں نے بھی کیا، پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھیں، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت اور پھر وتر پڑھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور مؤذن کے آنے تک لیٹے رہے۔ مؤذن کے آنے کے بعد دو ہلکی سی رکعت پڑھیں، اس کے بعد گھر سے باہر آ کر نماز فجر پڑھائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5919
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عَنْبَسَةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ خَالَتِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، قَالَ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَتِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن عنبسہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا ہم کو ابوالبشر جعفر نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے قریبہ بن سعید نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس رات انہیں کے ہاں باری تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے بالوں کی ایک لٹ پکڑی اور مجھے اپنی داہنی طرف کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 5919]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر سویا، جبکہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کی وجہ سے ان کے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گیسو پکڑے اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔“ عمرو بن محمد نے کہا: ”ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابو بشیر نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چوٹی یا میرا سر پکڑا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 5919]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6215
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190.
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ رضی اللہ عنہا (خالہ) کے گھر گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 6215]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بسر کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات وہیں قیام فرمایا۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف (نظر) اٹھا کر یہ آیات پڑھنے لگے: ﴿بلاشبہ زمین آسمان کی پیدائش میں اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے عظیم نشانیاں ہیں۔﴾ [سورة آل عمران: 190] “ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 6215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7452
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةً، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَتَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً، ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190، ثُمَّ قَامَ، فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس تھے۔ میرا مقصد رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو اپنی اہلیہ کے ساتھ بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ یا بعض حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی «إن في خلق السموات والأرض» ”بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ پھر اٹھ کر آپ نے وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر باہر آ گئے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 7452]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”میں ایک رات حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہا جبکہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس موجود تھے۔ وہاں رات گزارنے کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دیکھنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ وقت اپنی زوجہ محترمہ سے محو گفتگو رہے، پھر سو گئے، جب رات کا آخری تہائی حصہ یا کچھ حصہ باقی رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] ”بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں (رات اور دن کے باری باری آنے جانے میں) اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔“ پھر اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور مسواک کی، اس کے بعد گیارہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت (سنت فجر) پڑھیں، پھر باہر تشریف لے گئے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الوتر/حدیث: 7452]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة