🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چنانچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1366]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے یا خیمے کی چوکھٹ کو اپنا تکیہ بنا لیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہلکی ہلکی، پھر دو رکعتیں پڑھیں لمبی لمبی، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے قدرے کم لمبی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر (ایک) وتر پڑھا، یہ (مکمل) تیرہ رکعات ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (765)، سنن الترمذی/الشمائل (269)، سنن النسائی/الکبری/قیام اللیل 26 (1336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1362)، (تحفة الأشراف: 3753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 2 (12)، مسند احمد (5/192) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (765)
مشكوة المصابيح (1197)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 55]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ صاف کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 55]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 73 (245)، الجمعة 8 (889)، التھجد 9 (1136)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (255)، سنن النسائی/الطھارة 2 (2)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (286)، (تحفة الأشراف: 3336)، مسند احمد (5/382، 390، 397)، سنن الدارمی/الطھارة 20 (712) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (245، 889) صحيح مسلم (255)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ۱؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورۃ ختم کے قریب ہو گئی، یا ختم ہو گئی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا (یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورۃ ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 58]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں (ان کے گھر میں) رات گزاری، تو جب آپ بیدار ہوئے تو اس جگہ آئے جہاں پانی رکھا ہوا تھا، آپ نے مسواک لی اور مسواک کرنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں (سورہ آل عمران کی آخری آیات) ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ [سورة آل عمران: 190] حتیٰ کہ اختتام سورت کے قریب پہنچے بلکہ سورت ختم ہی کر دی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور اپنی جائے نماز پر آ گئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ اپنے بستر پر لوٹ آئے اور سو گئے، اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے، پھر (دوبارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا اور پھر اپنے بستر پر لوٹ آئے اور جتنا اللہ نے چاہا سوئے رہے۔ پھر (سہ بارہ) جاگے اور پہلے کی مانند کیا۔ ہر بار مسواک کرتے اور دو رکعت پڑھتے، پھر آپ نے وتر پڑھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن فضیل نے حصین کے واسطے سے روایت کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مسواک کی اور وضو کیا اور اس اثناء میں آپ آیات کریمہ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] پڑھ رہے تھے حتیٰ کہ سورت ختم کر دی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 58]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن النسائی/الإمامة 21 (803)، 22 (805)، الغسل 29 (441)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 6287)، وراجع حدیث رقم: (1353، 1357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الطہارة 3 (684) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں (سورۃ آل عمران: ۱۹۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 610
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آ کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 610]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے (ایک بار) اپنی خالہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رات گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کھولا اور اس سے وضو کیا، پھر اس کا منہ بند کر دیا، پھر آپ نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ تب میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پیچھے سے گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز (تہجد) پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، (تحفة الأشراف: 5908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، والأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، واللباس 71 (5919)، سنن النسائی/الغسل 29 (443)، الإمامة 22 (807)، وقیام اللیل 9 (1621)، مسند احمد (1/215، 252، 258، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا اثبات ہے کہ انہیں اوائل عمر ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کے مشاہدہ کا شوق تھا۔ ایک شخص جو اپنی نماز پڑھ رہا ہو، اس کو امام بنانا جائز ہے خواہ اس نے امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔ بعض اوقات تہجد یا نفل نماز کی جماعت کرائی جا سکتی ہے۔ دو آدمیوں کی جماعت بھی درست ہے اور اس صورت میں وہ دونوں ایک صف میں برابر کھڑے ہوں گے۔ اثنائے نماز میں کوئی ضروری اصلاح ممکن ہو تو کر دینے اور قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ الْفَجْرِ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1334]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دس رکعتیں پڑھا کرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، اور (بعد ازاں) دو رکعتیں فجر کی پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعات ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 10 (1140)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738) سنن النسائی/قیام اللیل 33 (1697)، (تحفة الأشراف: 17448)، مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1140) صحيح مسلم (738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1335]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 17(736)، سنن الترمذی/الصلاة 213 (440، 441)، (تحفة الأشراف: 16593)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر والتھجد 3 (1123)، سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1697)، 44 (1727)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 181 (1358)،حم (6/ 34، 35، 83، 143، 167، 168، 182، 215، 228)، سنن الدارمی/الصلاة 165(1514) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «اضطجاع» یعنی دائیں کروٹ پر صلاة وتر سے فارغ ہو کر لیٹنے کا ٹکڑا شاذ ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَقَالَ نَصْرٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن (بلانے کے لے) آتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1336]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر طلوع ہونے کے درمیان میں گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ہر دو رکعتوں پر سلام کہتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں اتنی دیر رہتے کہ جس میں تم پچاس آیتیں پڑھ لو۔ اور مؤذن جب فجر کی اذان کہتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن آ جاتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأذان 41 (686)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1358)، (تحفة الأشراف: 16515، 16618)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 15 (626)، والوتر 994)، والتہجد 3 (1123)، و 23 (1160)، والدعوات 5 (6310)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 126 (1198)، مسند احمد (6/34، 74، 83، 143، 167، 215، 248، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 147 (1486)، 165 (1514، 1515) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الزھري صرح بالسماع عند أبي يعلي الموصلي (4787 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ فَيُسَلِّمُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1338]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعت پڑھتے، ان میں سے پانچ رکعت وتر ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچوں رکعات میں کسی میں بھی (تشہد) نہ بیٹھتے، بلکہ آخر ہی میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابن نمیر نے ہشام سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 17294)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/لمسافرین 17 (738)، سنن النسائی/قیام اللیل 39 (1718)، مسند احمد (6/ 123، 161، 205) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1339]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھا کرتے، پھر جب صبح کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 27 (1170)، (تحفة الأشراف: 17150)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 4 (1605)، مسند احمد (6/ 177) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي، قَالَ مُسْلِمٌ: بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے (پہلے) آٹھ رکعتیں پڑھتے (پھر) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «بعد الوتر» وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں (پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1340]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) آٹھ رکعات پڑھتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے۔ اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوتا کہ رکوع کریں تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے۔ پھر اذان فجر اور اقامت کے مابین دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، وانظر ایضا رقم: (1338، 1339)، (تحفة الأشراف: 17781) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِتِسْعٍ، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1350]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھتے، نو رکعتیں وتر ہوتیں یا جیسے کہ کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے بیٹھے ہوئے اور اذان اور اقامت کے درمیان فجر کی سنتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16110، 16111، 17755) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
علقمہ بن وقاص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) نو رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، پھر سات رکعت (وتر) پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت بھی کیا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے اور رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: خالد بن عبداللہ واسطی نے یہ دونوں حدیثیں (یعنی حدیث ابی سلمہ اور علقمہ) محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں۔ ان میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اے اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1411)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (738) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ، قَبْلَ الصُّبْحِ يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے: دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1359]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ چھ رکعتیں دو دو کر کے، پھر پانچ وتر اور ان میں صرف آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/275) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (3/28)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1360]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏م /المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 16371)، مسند احمد (6/222) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1361
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا". قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے «جالسا» (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1361]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور دونوں اذانوں (فجر کی اذان اور اقامت) کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ترک نہ کیا کرتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت ہے کہ دو اذانوں کے مابین دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ یہ اضافہ (بیٹھ کر) جعفر بن مسافر کا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 22 (1159)، (تحفة الأشراف: 17735)، وانظر حدیث رقم: (1342) (صحیح)» ‏‏‏‏ «وركعتين جالساً بين الأذانين» خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5؍ 103- 104)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله بين الأذانين والمحفوظ بعد الوتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ:" وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ"، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ". وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ:" وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1362]
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعات وتر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) چار اور تین، (کبھی) آٹھ اور تین اور (کبھی) دس اور تین رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر سات سے کم اور تیرہ رکعت سے زیادہ نہ ہوتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: احمد بن صالح نے مزید روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعتیں وتر نہ کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ وتر کرنے کا کیا معنی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ رکعتیں چھوڑا نہ کرتے تھے۔ اور احمد نے چھ اور تین رکعات کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16282)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (307)، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (16282)، مسند احمد (6/149) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1264)
عبدالله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الطحاوي في معاني الآثار (1/ 285، وسنده صحيح / معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ،" فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب تہائی رات گزر گئی یا آدھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، مشکیزے کی طرف گئے، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تب میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں طرف کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کان کو چھو رہے ہوں، مجھے جگا رہے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہلکی ہلکی، میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیرا۔ حتیٰ کہ گیارہ رکعتیں پڑھیں وتر سمیت، پھر سو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: نماز، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطہارة 37 (183)، الأذان 58 (698)، الوتر 1 (992)، التفسیر 18 (4570)، 19 (4571)، 20 (4572)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الشمائل (265)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1621)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1363)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد 1 (222، 358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (992) صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ حَزَرْتُ قِيَامَهُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِقَدْرِ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ، لَمْ يَقُلْ نُوحٌ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہر رکعت میں سورۃ مزمل کے بقدر ہوتا تھا، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے: اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1365]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات پڑھیں، ان میں فجر کی سنتیں بھی شامل تھیں۔ میں نے ہر رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کہ سورہ مزمل کے برابر تھا۔ نوح نے اپنی روایت میں فجر کی سنتوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، والکبری/ الوتر 59 (1425)، (تحفة الأشراف: 5984) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لم يقل نوح منها ركعتا الفجر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں