🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب في مسح أعلى الخف وأسفله
باب: موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 63 (165)، سنن الترمذی/الطہارة 72 (97)، (تحفة الأشراف: 11537)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 8 (41) مسند احمد (4/251) سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: المشکاة: 521) (شاید سند میں انقطاع ہے کیونکہ ثور کا سماع حیوة سے ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (165) ترمذي (97)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى مِنْهَا، وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے، اور قضائے حاجت کی، جریر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنجاء کیا، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطہارة 43 (51)، (تحفة الأشراف: 3207)، وقد أخرجہ: دی/الطہارة 16 (706) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ''ابراہیم'' کا سماع ان کے والد جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: اوپر کی حدیث نمبر: 358، وصحیح ابی داود: 35)
وضاحت: ۱؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح سے صاف ہو جائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل اور ختم ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن جرير صدوق لكنه لم يسمع من أبيه
و الحديث السابق (الأصل: 358) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 7 (363)، صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن النسائی/الطہارة 66 (82)، (تحفة الأشراف: 11528)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 59 (149)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (41)، حم4/255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (صحیح) (یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 545)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ:" بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، (کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (272)، سنن الترمذی/الطہارة 70 (118)، سنن النسائی/الطہارة 96 (118)، القبلة 23 (775)، (تحفة الأشراف: 3235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 363، 364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں لوگوں سے مراد اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، جس کی صراحت مسلم کی روایت میں ہے، مطلب یہ کہ سورہ مائدہ میں وضو کا حکم ہے، اگر جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام نزول آیت سے پہلے ہوتا تو احتمال تھا کہ یہ حکم منسوخ ہو، اور جب متأخر ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت آیت کی مخصص ہے، اور حکم یہ ہے کہ اگر پیروں میں وضو کے بعد «خف» (موزے) پہنے ہوں تو مسح کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (305، 306)، (تحفة الأشراف: 3335) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 48 (182)، 49 (203)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799) صحیح مسلم/الطہارة 22 (274)، سنن ابی داود/الطہارة 59 (149)، سنن النسائی/الطہا رة 63 (79)، 66 (82)، 79 (96)، 80 (97)، (تحفة الأشراف: 11514)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 75 (100)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (41)، مسند احمد (4/255)، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ: أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ :" كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَمْ نَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک (سعد بن مالک ابن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10570، ومصباح الزجاجة: 225)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 49 (202)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (42)، مسند احمد (1/35) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سعید بن أبی عروبہ مدلس صاحب اختلاط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن بقول بوصیری محمد بن سواء نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے، نیز دوسرے طرق ہیں اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَمَرَنَا بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4800، ومصباح الزجاجة: 227) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف۔عبدالمھيمن ضعفه الجمھور ‘‘ وھو ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: کچھ پانی ہے؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 1093، ومصباح الزجاجة: 227) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962)
وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 61 (159)، سنن الترمذی/الطہارة 74 (99)، (تحفة الأشراف: 11534)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 96 (124)، مسند احمد (4/252) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ان کو طہارت کر کے پہنے، تو پھر ان پر مسح صحیح ہے، اتارنا ضروری نہیں، اور جن لوگوں نے اس میں قیدیں لگائی ہیں کہ پائے تابے چمڑے کے ہوں، یا موٹے ہوں، اتنے کہ خود بخود تھم رہیں، یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کی شرع میں کوئی دلیل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ شارع علیہ السلام نے اپنی امت پر آسانی کے لئے پاؤں کا دھونا ایسی حالت میں جب موزہ یا جراب یا جوتا چڑھا ہو معاف کر دیا ہے جیسے سر کا مسح عمامہ بندھی ہوئی حالت میں، پھر اس آسانی کو نہ قبول کرنا، اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (159) ترمذي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، وَبِشْرُ بْنُ آدَمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ"، قَالَ الْمُعَلَّى فِي حَدِيثِهِ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: وَالنَّعْلَيْنِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ معلی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے  «والنعلين»  کہا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9007، ومصباح الزجاجة: 226) (صحیح)» ‏‏‏‏ (عیسیٰ ضعیف الحفظ ہیں لیکن طرق و شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم قبلہ، (نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود 148)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البيهقي (ا/ 284،285): ’’ الضحاك بن عبد الرحمٰن لم يثبت سماعه من أبي موسي وعيسي بن سنان ضعيف ‘‘ والسند ضعفه أبو داود (159)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامہ (پگڑی) پر مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 23 (275)، سنن الترمذی/الطہارة 75 (101)، سنن النسائی/الطہارة 86 (104)، (تحفة الأشراف: 2047) وقد أخرجہ: مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ، عِنْ أَبِيِه ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ".
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 48 (204)، سنن النسائی/الطہارة 96 (119)، (تحفة الأشراف: 10701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/186ٔ 4/139، 179، 5/287، 288)، سنن الدارمی/الطہارة 38 (737) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمامہ پر مسح مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے، اور ان حدیثوں میں ذکر نہیں ہے کہ پیشانی پر مسح کر کے باقی ہاتھ عمامہ پر پھیرا، یہ حنفیوں کی تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، امام احمد نے سلمان رضی اللہ عنہ سے عمامہ کے مسح کی روایت کی ہے، ابوداؤد نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے، حاصل کلام یہ کہ سر پر اور عمامہ پر، اور سر اور عمامہ دونوں پر تینوں طرح صحیح اور ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ فَرَأَى رَجُلًا يَنْزِعُ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : امْسَحْ عَلَى خُفَّيْكَ، وَعَلَى خِمَارِكَ، وَبِنَاصِيَتِكَ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".
زید بن صوحان کے غلام ابو مسلم کہتے ہیں کہ میں سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وضو کے لیے اپنے موزے نکال رہا ہے، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنے موزے، عمامہ اور پیشانی پر مسح کر لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4511، ومصباح الزجاجة: 223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/439، 440) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن زید بن علی الکندی العبدی قاضی مرو کو ابو حاتم رازی نے «صالح الحدیث لابأس بہ» ‏‏‏‏، کہا ہے، ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے، اور ابن حجر نے مقبول کہا ہے، یعنی متابعت کی صورت میں، اور ابو مسلم العبدی مولیٰ زید بن صوحان بھی مقبول ہیں، اور ابو شریح بھی مقبول ہیں، متابعت کے نہ ہونے سے یہ حدیث ضعیف ہے، ان کا ترجمہ الاصابہ میں ہے)
وضاحت: ۱؎: بوصیری نے «مصباح الزجاجۃ» میں «باب الصلاة في الثوب الذي يجامع فيه» میں اس سیاق کو قدرے اختلاف سے دیا ہے جو یہ ہے: ابن حجر فرماتے ہیں: «وقد رأيته في رواية سعدون عند ابن ماجة في نسخة صحيحة موجودة، وفيها عدة أحاديث في الطهارة لم أرها في رواية غيره، وقد تتبعتها في أماكنها بعون الله. النكت الظراف» سنن ابی داود/عوض الشهري کے محقق نسخہ میں یہ حدیث (۲۲۹) نمبر پر ہے، موصوف فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہندوستانی حیدر آبادی نسخہ اور سنن ابی داود/ مصطفى الأعظمي کے نسخہ میں ساقط ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شريح: مجهول الحال وأبو مسلم العبدي: مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں