سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. باب : الأمر بإسباغ الوضوء
باب: کامل وضو کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل وضو کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 142]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو مکمل اور اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 111 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ،" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". يُسْنَدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 81]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ”اعضائے وضو کو تین تین بار دھویا“ اور وہ اس فعل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 81]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 46 (414)، (تحفة الأشراف: 7458)، مسند احمد 2/8، 132 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا".
ابواوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے (اپنی ہتھیلیوں پر) تین بار پانی ٹپکایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 83]
حضرت ابواوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے (اپنی ہتھیلیوں پر) تین دفعہ پانی بہایا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 83]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1740)، مسند احمد 4/9، 10، سنن الدارمی/الطہارة 26 (719) (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی سڑکے (ناک میں پانی ڈالے)، پھر اسے جھاڑے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 86]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے، تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی ڈالے اور پھر (اسے) اچھی طرح صاف کرے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 86]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث سفیان عن أبی الزناد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، (تحفة الأشراف: 13689)، صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابی داود/الطہارة 55 (140)، موطا امام مالک/فیہ 1 (2)، (تحفة الأشراف: 13820)، مسند احمد 2/242، 463، وحدیث مالک عن أبی الزناد أخرجہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 87
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ:" أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوری طرح وضو کرو، اور ناک میں پانی سڑکنے (ڈالنے) میں مبالغہ کرو، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 87]
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وضو کے (صحیح طریقے) کے بارے میں بتائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعضائے وضو کو مکمل (اچھی طرح) دھو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کر، سوائے اس کے کہ تو روزے سے ہو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 87]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 55 (142، 143، 144)، الصوم 27 (2366)، سنن الترمذی/الصوم 69 (788)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (407)، 54 (448)، (وعندہ ’’وخلل بین الأصابع‘‘ بدل ’’وبالغ في الاستنشاق‘‘)، (تحفة الأشراف: 11172)، وھکذا عند المؤلف في باب 92 (114)، مسند احمد 4/32، 33، 211، سنن الدارمی/الطہارة 34 (732) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ" دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَفَعَلَ هَذَا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا، پھر کہنے لگے: یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 91]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پھر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے بائیں ہاتھ سے جھاڑا۔ یہ کام تین دفعہ کیا، پھر فرمایا: ”یہ ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 91]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 50 (111، 112، 113)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، مسند احمد 1/ 110، 122، 123، 135، 139، 154، سنن الدارمی/الطہارة 31 (728)، وعبداللہ بن أحمد 1/ 113، 114، 115، 116، 123، 124، 125، 127، 141، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 92، 93، 94) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا: مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلَّا لِيُعَلِّمَنَا،" فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا.
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے (دل میں یا آپس میں) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، (ایسا کر کے) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 92]
حضرت عبد خیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ نے وضو کا پانی منگوایا۔ ہم نے کہا: ”آپ اس سے کیا کریں گے جبکہ آپ تو نماز پڑھ چکے ہیں؟“ دراصل آپ ہمیں وضو سکھانا چاہتے تھے، چنانچہ آپ کے پاس ایک پانی کا برتن اور ایک تھال لایا گیا۔ آپ نے برتن سے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے تین دفعہ دھویا۔ پھر اسی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنا دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور اپنا بایاں بازو تین دفعہ دھویا اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین دفعہ دھویا اور بایاں پاؤں بھی تین دفعہ دھویا، پھر فرمایا: ”جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو جاننا پسند کرتا ہے، وہ جان لے کہ وہ ایسا تھا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 92]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُهُ. وقَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، (شعبہ - جو حدیث کے راوی ہیں - نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو (گدی سے پیشانی تک) واپس لائے یا نہیں؟) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کرسی لائی گئی، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر پانی کا ایک تھال منگوایا، آپ نے اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، یہ تین بار کیا، اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے بازو تین تین دفعہ دھوئے، پھر کچھ پانی لیا اور سر کا مسح کیا، شعبہ نے ایک بار پیشانی سے لے کر سر کے مؤخر تک اشارہ کیا، پھر کہا: ”مجھے معلوم نہیں کہ پھر (ہاتھوں کو) لوٹایا تھا یا نہیں۔“ اور تین تین دفعہ اپنے پاؤں دھوئے، پھر فرمایا: ”جو شخص پسند کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو وہ جان لے کہ یہ آپ کا وضو ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ (نسائی) لکھتے ہیں: ”(سند میں) یہ غلطی ہے، صحیح نام خالد بن علقمہ ہے نہ کہ مالک بن عرفطہ۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 93]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قال: شَهِدْتُ عَلِيًّا دَعَا بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ" دَعَا بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا". ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا وُضُوءُهُ.
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی، پھر وہ اس پر بیٹھے، پھر ایک برتن میں پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 94]
حضرت عبد خیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے کرسی منگوائی، اس پر بیٹھے، پھر ایک تھال میں پانی منگوایا اور اپنے ہاتھ تین دفعہ دھوئے، پھر ایک ہی ہاتھ سے تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہرہ اور بازو تین تین دفعہ دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈبویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں تین تین دفعہ دھوئے، پھر فرمایا: ”جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسند کرے، تو وہ جان لے کہ یہ آپ کا وضو ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 94]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 91، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قال: دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ، فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: نَاوِلْنِي، فَنَاوَلْتُهُ الْإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ، فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا". فَعَجِبْتُ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: لَا تَعْجَبْ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ، يَقُولُ: لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا.
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے (وضو کے پانی کو) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار (پانی لے کر) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ (بھی) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر (دھویا)، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے (برتن) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی منگوایا، میں نے پانی آپ کے قریب کیا، آپ نے پہلے اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں، پہلے اس سے کہ انھیں پانی میں داخل کریں، پھر آپ نے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک صاف کیا۔ پھر چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین دفعہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح دھویا، پھر آپ نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں دھویا، پھر سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”مجھے برتن پکڑاؤ۔“ میں نے آپ کو برتن پکڑایا جس میں آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی تھا۔ آپ نے وہ کھڑے کھڑے پیا۔ مجھے تعجب ہوا۔ جب آپ نے مجھے دیکھا، تو فرمایا: ”تعجب نہ کر، کیونکہ میں نے تیرے نانا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح کرتے تھے جس طرح تو نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔“ آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کا اشارہ وضو اور کھڑے ہو کر وضو کا پانی پینے کی طرف تھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10075)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (عقیب 117) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 96
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ". ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طُهُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں (خوب) صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 96]
حضرت ابوحیہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کا آغاز کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو دھویا حتیٰ کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا، پھر تین دفعہ کلی کی اور پھر تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین تین دفعہ اپنے بازو دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں سمیت اپنے پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو سے بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پیا، پھر فرمایا: ”میں نے اچھا سمجھا کہ تمہیں دکھاؤں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 96]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 50 (116) مختصرًا، سنن الترمذی/فیہ 37 (48)، (تحفة الأشراف: 10321)، مسند احمد 1/120، 125، 127، 142، 148، وعبداللہ بن أحمد 1/127، 156، 157، 158، 160، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 97
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور (عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 97]
حضرت عمرو بن یحییٰ مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور عمرو بن یحییٰ کے نانا تھے، سے گزارش کی: ”کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے فرمایا کرتے تھے؟“ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے ہاتھ پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے، پھر تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے لائے، مسح کی ابتدا سر کے اگلے حصے سے کی، پھر ہاتھوں کو اپنی گدی کی طرف لے گئے، پھر واپس لائے حتیٰ کہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے مسح کی ابتدا کی تھی، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 97]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، 46 (199)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن ابی داود/فیہ 47 (100)، 50 (118، 119)، سنن الترمذی/فیہ 22 (28)، 24 (32)، 36 (47)، سنن ابن ماجہ/فیہ 43 (405)، 61 (471)، 51 (434)، (تحفة الأشراف: 5308)، موطا امام مالک/فیہ 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 42، سنن الدارمی/الطہارة 27 (700)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 98، 99 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ”وہ“ کی ضمیر عبداللہ بن زید بن عاصم کی طرف لوٹ رہی ہے، لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہے کیونکہ عمرو بن یحییٰ کے دادا کا نام عمارہ ہے جیسا کہ دوسری روایات سے ظاہر ہے، اس لیے صحیح یہ ہے کہ ضمیر سائل (عمارہ یا عمرو) کی طرف لوٹتی ہے نہ کہ مسئول کی طرف، صحیح بخاری میں اس کی صراحت موجود ہے کہ سائل یحییٰ نہیں بلکہ عمارہ یا عمرو ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ هُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ،" فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ان کے باپ عمارہ نے) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا - (وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے (مسح) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 98]
یحییٰ مازنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے گزارش کی، اور آپ عمرو بن یحییٰ رحمہ اللہ کے نانا تھے: ”کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیسے کرتے تھے؟“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہاں۔“ پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ پر ڈالا اور دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے، پھر تین دفعہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دو دو مرتبہ کہنیوں سمیت دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا اس طرح کہ دونوں ہاتھ آگے پیچھے لائے، مسح کی ابتدا سر کے اگلے حصے سے کی، پھر ہاتھوں کو اپنی گدی کی طرف لے گئے، پھر واپس لائے حتیٰ کہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے مسح کی ابتدا کی تھی، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 98]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 99]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی، سے منقول ہے، کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور دو بازو دو دفعہ دھوئے، پاؤں کو بھی دو مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح دو دفعہ کیا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 99]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 97، (تحفة الأشراف: 5308) (شاذ)»
وضاحت: ۱؎: «الذي أرى الندائ» یہ راوی کی غلطی ہے، اس لیے کہ وضو والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، اور اذان والی حدیث کے راوی عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، اس لیے اس سند میں زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ ۲؎: دو بار سے مراد پیچھے سے آگے لانا، اور آگے سے پیچھے لے جانا ہے، یہ فی الواقع ایک ہی مسح ہے، راوی نے اس کی ظاہری شکل دیکھ کر اس کی تعبیر «مرتین» (دو بار) سے کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، لشذوذه سفيان بن عيينة صرح بالسماع ولكنه شك فى هذا اللفظ ’’مسح برأسه مرتين‘‘ وهو شاذ. وللحديث شاهد ضعيف، فى سنن أبى داود (126) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
حدیث نمبر: 100
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُنَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَالِمٌ سَبَلَانُ، قال: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ، فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ" فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلَاثًا، وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخِّرِهِ، ثُمَّ أَمَرَّتْ يَديْهَا بِأُذُنَيْهَا، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ". قَالَ سَالِمٌ: كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ، فَقُلْتُ: ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: أَعْتَقَنِي اللَّهُ، قَالَتْ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب (غلام) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
حضرت ابو عبداللہ سالم سبلان رحمہ اللہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت داری سے بہت خوش تھیں اور ان سے اجرت پر کام کروایا کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ ”مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دکھلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑا اور اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا، پھر اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ (بازو) تین تین دفعہ دھویا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہاتھ سر کے اگلے حصہ پر رکھا اور پیچھے تک پورے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے کانوں پر پھیرے، پھر رخساروں پر پھیرے۔“ سالم رحمہ اللہ نے کہا: ”میں جب مکاتب تھا تو آپ کے پاس آیا کرتا تھا، وہ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں بلکہ میرے سامنے بیٹھ کر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں حتیٰ کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ام المومنین! میرے لیے برکت کی دعا فرمائیے۔ وہ کہنے لگیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد فرما دیا ہے۔ وہ کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے برکت فرمائے۔ اس کے بعد پردہ لٹکا لیا اور اس دن کے بعد میں نے انہیں نہیں دیکھا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16093) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً". قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنُ عَجْلَانَ، يَقُولُ فِي ذَلِكَ: وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 101]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ایک بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں بازو ایک ایک دفعہ دھوئے اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک دفعہ مسح کیا۔“ (راویِ حدیث) عبدالعزیز کہتے ہیں: ”مجھے ابن عجلان سے سننے والے نے خبر دی کہ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔“” [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 7 (140)، سنن ابی داود/الطہارة 52 (137) مطولاً، سنن الترمذی/الطہارة 28 (36) مختصرًا، سنن ابن ماجہ/الطہارة 43 (403) مختصرًا، 52 (439) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5978)، مسند احمد 1/268، 365، 703، سنن الدارمی/الطہارة 29 (723، 724) مختصرًا (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 102) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 102
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ بَاطِنِهِمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرِهِمَا بِإِبْهَامَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 102]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، چنانچہ ایک چلو پانی لیا، اس سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا۔ کانوں کے اندرونی جانب کا مسح شہادت کی انگلیوں سے اور بیرونی جانب کا انگوٹھوں سے کیا۔ پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک چلو پانی لیا اور اس سے بایاں پاؤں دھویا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 101، (تحفة الأشراف: 5978) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ يَعْنِي عُمَارَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ" فَأُتِيَ بِمَاءٍ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّةً وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِيَمِينِهِ كِلْتَيْهِمَا".
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 113]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابو قراد قیسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن سے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں ایک دفعہ دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کو ایک ایک دفعہ دھویا اور اپنے دونوں پاؤں اپنے دونوں ہاتھوں سے دھوئے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15648) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ‘’عمارہ بن عثمان بن حنیف“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «فقال على يديه» وارد ہے عرب قول کو مختلف افعال و اعمال کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً «قال بيده» سے ”لیا“ «قال برجله» سے ”چلا“ اور «قالت له العينان» سے ”اشارہ کیا“ مراد لیتے ہیں، اسی طرح «قال على يديه من الإنائ» سے ”برتن سے پانی دونوں ہاتھوں پر انڈیلا“ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 114
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 114]
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو اچھی طرح وضو کر اور انگلیوں کے درمیان خلال کر۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 11172) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 87)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا" تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 115]
حضرت ابوحیہ وادعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا کہ آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، اپنا چہرہ تین مرتبہ اور اپنے بازو بھی تین تین مرتبہ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیروں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر فرمایا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 96)، (تحفة الأشراف: 10321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 130
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قال: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ،" فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ، أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَمَسَحَ بِهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا". وَقَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ۱؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 130]
حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیٹھ گئے۔ جب عصر کا وقت ہوا تو آپ کے پاس پانی کا ایک تھال لایا گیا۔ آپ نے اس سے ایک چلو پانی لیا اور اپنے چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر مل لیا، پھر بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پی لیا اور فرمایا: ”لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں جبکہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے اور یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا پہلا وضو نہیں ٹوٹا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 16 (5615، 5616) مختصراً، سنن ابی داود/فیہ 13 (3718)، سنن الترمذی/الشمائل 32 (209)، (تحفة الأشراف: 10293)، مسند احمد 1/78، 120، 123، 139، 144، 153، 159 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی باوضو ہو اور نماز کا وقت آ جائے، اور وہ ثواب کے لیے تازہ وضو کرنا چاہے تو تھوڑا سا پانی لے کر سارے اعضاء پر مل لے تو کافی ہو گا، پورا وضو کرنا اور ہر عضو کے لیے الگ الگ پانی لینا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قال: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ"، وَقَالَ: صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَنَعْتُ.
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا (تو اپنے اعضاء) تین تین بار (دھوئے) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 136]
حضرت ابوحیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے اعضائے وضو کو تین تین دفعہ دھویا، پھر کھڑے ہوکر وضو سے بچا ہوا پانی پیا اور فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا۔“” [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 34 (44) مختصرًا، وانظر حدیث رقم: 96، 115 (تحفة الأشراف: 10322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوءِ" فَأَرَاهُ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: ”اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 140]
عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کا طریقہ پوچھتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین دفعہ اعضائے وضو دھو کر دکھائے، پھر فرمایا: ”وضو اس طرح ہے، جس نے اس سے زیادہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے بڑھا اور ظلم کا ارتکاب کیا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 51 (135) مطولاً، سنن ابن ماجہ/فیہ 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، مسند احمد 2/180 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بہتر ہے، اور اپنی عقل سے اس میں کمی بیشی کرنا مذموم ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن