سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : الحال التي يستحب للإمام أن يكون عليها إذا خرج
باب: استسقاء کے لیے جب امام نکلے تو اس کی ہئیت کیسی ہو؟
حدیث نمبر: 1508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَسْقَى وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور آپ کے جسم مبارک پر ایک سیاہ چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1508]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ استسقاء پڑھائی تو آپ پر سیاہ اونی چادر تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1505
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ , فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! چوپائے ہلاک ہو گئے، (اور پانی نہ ہونے سے) راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، تو جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی، تو پھر ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر منہدم ہو گئے، راستے (سیلاب کی وجہ سے) کٹ گئے، اور جانور مر گئے، تو آپ نے دعا کی: «اللہم على رءوس الجبال والآكام وبطون الأودية ومنابت الشجر» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں، ٹیلوں، نالوں اور درختوں پر برسا“ تو اسی وقت بادل مدینہ سے اس طرح چھٹ گئے جیسے کپڑا (اپنے پہننے والے سے اتار دینے پر الگ ہو جاتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1505]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جانور (قحط سالی کی بنا پر) ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے، اللہ تعالیٰ سے (بارش کی) دعا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس جمعے سے اگلے جمعے تک (مسلسل) بارش ہوتی رہی۔ تو (وہی) آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! (زیادہ بارش کی وجہ سے) گھر گر گئے اور راستے منقطع ہو گئے اور جانور مرنے لگے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر، ٹیلوں پر، وادیوں کے نشیب (نالوں) اور جنگلات میں بارش برسا۔“ تو بادل مدینہ منورہ سے اس طرح چھٹ گئے جس طرح درمیان سے کپڑا پھٹ جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستسقاء 6 (1013)، 7 (1014)، 9 (1016)، 10 (1017)، 12 (1019)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1175)، (تحفة الأشراف: 906)، موطا امام مالک/الإستسقاء 2 (3)، مسند احمد 3/4 10، 182، 194، 245، 261، 271 ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1516، 1519 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1506
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا غَلَطٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، وَهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ تو آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور اپنی چادر پلٹی، اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کی غلطی ہے ۱؎ عبداللہ بن زید جنہیں خواب میں اذان دکھائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبد ربہ ہیں، اور یہ جو استسقا کی حدیث روایت کر رہے ہیں عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1506]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (جنھیں خواب میں اذان سکھلائی گئی تھی) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی چادر الٹائی اور دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی غلطی ہے کیونکہ جس عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھلائی گئی تھی وہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ مذکورہ حدیث بیان کرنے والے عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 1 (1005) 4 (1011، 1012)، 15 (1023)، 16 (1024)، 17 (1025)، 18 (1026)، 19 (1027)، 20 (1028)، الدعوات 25 (6343)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (894)، سنن ابی داود/الصلاة 258 (1161، 1162، 1163، 1164)، 259 (1166، 1167)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (556)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1267)، موطا امام مالک/الإستسقاء 1 (1)، مسند احمد 4/38، 39، 40، 41، 42، سنن الدارمی/الصلاة 188 (1574، 1575)، (تحفة الأشراف: 5297)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1508، 1510، 1511، 1512، 1513، 1520، 1521، 1523 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سفیان بن عیینہ کا اس حدیث کے راوی کے بارے میں یہ کہنا کہ ”انہیں کو خواب میں اذان دکھائی گئی“ ان کا وہم ہے، اذان ”عبداللہ بن زیدبن عبدربہ“ کو دکھائی گئی، اور اس حدیث کے راوی کا نام ”عبداللہ بن زید بن عاصم“ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1510
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَحَوَّلَ لِلنَّاسِ ظَهْرَهُ وَدَعَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَرَأَ فَجَهَرَ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استسقاء کی نماز کے لیے نکلے تو آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور دعا کی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قرآت کی تو بلند آواز سے قرآت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1510]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا (حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں بھی دعائے استسقاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر الٹائی اور لوگوں کی طرف پشت کر لی اور دعا کرنے لگے، پھر دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں بلند آواز سے قراءت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1511
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1511]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا فرمائی اور دو رکعتیں پڑھیں اور اپنی چادر الٹائی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جائے نماز کی طرف) نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1512]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر نکلے اور بارش کی دعا کی اور جب (دعا کے لیے) قبلہ رخ ہوئے تو آپ نے اپنی چادر الٹائی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1513
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو تَقِيٍّ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الِاسْتِسْقَاءِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ الرِّدَاءَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استسقاء میں دیکھا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے، آپ نے اپنی چادر پلٹی، اور (دعا مانگنے کے لیے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1513]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعائے استسقاء میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ فرمایا، چادر کو الٹایا اور (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی دعا میں اتنے بلند ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے جتنے دعائے استسقاء میں، آپ اس میں ہاتھ اتنے بلند اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 22 (1031)، المناقب 23 (3565)، الدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (895)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1170)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 118 (1180)، (تحفة الأشراف: 1168)، مسند احمد 3/ 181، 282، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1515
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ:" يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو".
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے مقام پر بارش کی دعا کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور دعا فرما رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (557)، (تحفة الأشراف: 5)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 260 (1168)، مسند احمد 5/223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”احجار الزیت“ مدینہ میں ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَأَجْدَبَ الْبِلَادُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا"، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أُوسِعْنَا مَطَرًا وَأُمْطِرْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ رَجُلٌ لَا أَدْرِي هُوَ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقِ: لَنَا أَمْ لَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَ عَنَّا الْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا وَلَكِنْ عَلَى الْجِبَالِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ"، قَالَ: وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ تَمَزَّقَ السَّحَابُ حَتَّى مَا نَرَى مِنْهُ شَيْئًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، جانور ہلاک ہو گئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب کر“ تو قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا (مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ (اب) ہم سے بارش روک لے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» ”اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر (آسمان صاف ہو گیا) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1516]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم جمعے کے دن مسجد میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! راستے منقطع ہو گئے اور جانور ہلاک ہونے لگے اور شہروں میں قحط پڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے، ہمیں بارش عطا فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرۂ مبارک کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔“ اللہ کی قسم! ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم پر خوب زور سے بارش برسنے لگی بلکہ اس دن سے اگلے جمعے تک بارش برستی رہی۔ تو ایک آدمی کھڑا ہوا۔۔۔ میں نہیں جانتا یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کرنے کو کہا تھا یا کوئی اور۔۔۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے منقطع ہو گئے اور جانور مرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بارش روک لے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش فرما، ہم پر نہ فرما بلکہ پہاڑوں اور جنگلات پر بارش فرما۔“ اللہ کی قسم! جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے، بادل چھٹنے لگے حتیٰ کہ ہمیں ایک ٹکڑا بھی نظر نہ آتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1505 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1517]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ! اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔“” [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1666) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1518
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَحَطَتِ الْمَطَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، قَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا" , قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ , قَالَ: فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ إِنَّهَا أُمْطِرَتْ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَانْصَرَفَ النَّاسُ، فَلَمْ تَزَلْ تَمْطُرُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا"، فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَمَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کی طرف اٹھ کر بڑھے، اور چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! بارش نہیں ہو رہی ہے، اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ تو آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا اللہم اسقنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اس وقت ہم کو آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا (مگر آپ کے دعا کرتے ہی) بدلی اٹھی، اور پھیل گئی، پھر برسنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، اور آپ نے نماز پڑھی، اور لوگ فارغ ہو کر پلٹے تو دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ تو دوسرے جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے، تو لوگ پھر چلا کر کہنے لگے: اللہ کے نبی! گھر گر گئے، راستے ٹھپ ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ اب اسے ہم سے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور آپ نے دعا فرمائی: «اللہم حوالينا ولا علينا» ”اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا ہم پر نہ برسا“ تو بادل مدینہ سے چھٹ گئے، اور اس کے اطراف میں برسنے لگے، اور مدینہ میں ایک بوند بارش کی نہیں پڑ رہی تھی۔ میں نے مدینہ کو دیکھا کہ وہ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ تاج پہنے ہوئے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1518]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش (عرصۂ دراز سے) رکی ہوئی ہے اور جانور مر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ بارش نازل فرمائے۔ آپ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں پانی پلا۔ اے اللہ! ہمیں پانی پلا۔“ اللہ کی قسم! ہم آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے، پھر ایک چھوٹا سا بادل پیدا ہوا، پھر اس نے پھیلنا شروع کیا، پھر وہ برسنے لگا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور نماز پڑھائی۔ لوگ (بارش میں) گھروں کو گئے۔ اگلے جمعے تک (مسلسل) بارش ہوتی رہی۔ تو جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے پھر بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے نبی! گھر گر گئے اور راستے منقطع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے، اللہ تعالیٰ بارش روک لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش فرما، ہم پر نہ فرما۔“ بادل مدینہ منورہ سے چھٹ گئے۔ مدینے کے اردگرد بارش ہوتی تھی اور مدینے میں ایک قطرہ بھی نہیں برستا تھا۔ میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا، ایسے لگتا تھا جیسے اس پر تاج ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 14 (1021)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، (تحفة الأشراف: 456) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1519
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا"، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابَةٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ فَطَلَعَتْ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ وَأَمْطَرَتْ، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ، هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَهَا عَنَّا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ" قَالَ: فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ , قَالَ شَرِيكٌ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ قَالَ: لَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہو گئے، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم أغثنا اللہم أغثنا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ ہمیں سیراب فرما“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم کو آسمان میں کہیں بادل یا بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑی کے بیچ کسی گھر یا مکان کی آڑ نہ تھی، اتنے میں ڈھال کے مانند بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے درمیان میں پہنچا تو پھیل گیا، اور برسنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ میں اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، تو وہ آپ کی طرف چہرہ کر کے کھڑا ہو گیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کا سلام و صلاۃ (درود و رحمت) ہو آپ پر! مال ہلاک ہو گئے (جانور مر گئے)، اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہم سے اسے روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا اللہم على الآكام والظراب وبطون الأودية ومنابت الشجر» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! ٹیلوں، چوٹیوں، گھاٹیوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا“ یہ کہنا تھا کہ بادل چھٹ گئے، اور ہم نکل کر دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا، تو انہوں نے کہا: نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1519]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جانور مر گئے اور راستے منقطع ہوگئے، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارش برسائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔ اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان میں بادل کیا بادل کا ٹکڑا بھی نہ دیکھتے تھے، نیز ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی مکان یا گھر بھی حائل نہ تھا، اچانک ڈھال جتنا چھوٹا سا بادل کا ٹکڑا (پہاڑ کے پیچھے سے) ظاہر ہوا، جب وہ آسمان کے درمیان میں (یعنی ہمارے سروں پر) آیا تو پھیل گیا اور برسنے لگا، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! پھر ہم نے پورا ہفتہ (سات دن) سورج نہیں دیکھا، پھر آئندہ جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ پر (بے شمار) رحمتیں فرمائے، (پانی کی کثرت کی بنا پر) جانور مرنے لگے ہیں اور راستے بھی منقطع ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ ہم سے بارش روک لے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! ٹیلوں پر، تودوں پر، وادیوں کے نشیب اور جنگلات میں بارش برسا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (یہ کہنا تھا کہ) بارش فوراً رک گئی اور ہم مسجد سے نکلے تو دھوپ میں چلتے تھے، شریک (راوی) نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ پہلا آدمی ہی تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1505 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں جزم ہے، اور اس سے پہلے ایک روایت گزر چکی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا «لا أدری ہو الذی قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسق لنا أم لا» دونوں میں اس طرح تطبیق دی گئی ہے کہ شاید انہیں بھول جانے کے بعد یاد آیا ہو، یا یاد رہا ہو پھر بھول گئے ہوں یا «لا» یہاں «لا أدری» کے معنی میں ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1520
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ: وَقَرَأَ فِيهِمَا.
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کی غرض سے نکلے، تو آپ نے لوگوں کی جانب اپنی پیٹھ پھیری، اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کی، اور اپنی چادر الٹی، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی ذئب کہتے ہیں: حدیث میں یہ بھی ہے: «وقرأ فيهما» ”اور ان دونوں میں قرأت کی“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1520]
حضرت عباد بن تمیم نے اپنے چچا (حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے سنا، جو کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بارش کی دعا کرنے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے وقت لوگوں کی طرف پیٹھ کر لی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ مبارک قبلہ کی طرف تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بھی الٹائی تھی، پھر (دعا کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان دونوں میں قراءت بھی کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1521
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور قبلہ کی طرف منہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1521]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے (شہرسے) باہر نکلے، پھر آپ نے قبلہ رخ ہو کر (دعا کی اور) دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1523
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ فَاسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ".
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1523]
حضرت عباد بن تمیم کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ سے) باہر نکلے، بارش کی دعا کی، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز سے قرأت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1529
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: أَصَابَ النَّاسُ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" , فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ , حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي , وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِالْجَوْدِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط سالی سے دو چار ہونا پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک اعرابی (بدو) کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! مال (جانور) ہلاک ہو گئے، اور بال بچے بھوکے ہیں، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اس وقت ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں کو ابھی نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ بادل پہاڑ کے مانند امنڈنے لگا، اور آپ ابھی اپنے منبر سے اترے بھی نہیں کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ کی داڑھی سے ٹپک رہا ہے، ہم پر اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد والے دن یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی، تو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! عمارتیں منہدم ہو گئیں، اور مال و اسباب ڈوب گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے۔ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، اور آپ نے یوں دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا» ”اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور (اب) ہم پر نہ برسا“ چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ سے بادل کی جانب جس طرف سے بھی اشارہ کیا، وہ وہاں سے چھٹ گئے یہاں تک کہ مدینہ ایک گڈھے کی طرح لگنے لگا، اور وادی پانی سے بھر گئی، اور جو بھی کوئی کسی طرف سے آتا یہی بتاتا کہ خوب بارش ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1529]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں پر ایک سال تک قحط پڑ گیا، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ المبارک کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جانور مرنے لگے ہیں اور بال بچے بھوکے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بارش کی دعا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں مبارک ہاتھ اٹھا دیے، ہم آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھتے تھے، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے نہ فرمائے تھے کہ پہاڑوں جیسے بادل اٹھے، پھر ابھی اپنے منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ میں نے بارش کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک پر برستے دیکھے، وہ دن، اگلا دن، اس سے اگلا دن حتیٰ کہ اگلے جمعے تک بارش برستی رہی، پھر وہی اعرابی یا کوئی اور اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اب تو عمارتیں ڈھ گئیں (گھر گر پڑے) اور جانور ڈوبنے لگے، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بارش کے بند ہونے کی دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھا لیے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد (بارش) فرما اور ہم پر نہ برسا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرف کے بادل کی طرف بھی دستِ مبارک سے اشارہ فرماتے وہ چھٹ جاتا، حتیٰ کہ مدینہ منورہ حوض کی طرح ہو گیا، وادیِ (قتاۃ ایک ماہ تک) بہتی رہی اور جو شخص بھی کسی علاقے سے آیا اس نے خوب بارش بتلائی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 35 (933)، الإستسقاء 11 (1018)، 24 (1032)، صحیح مسلم/الإستسقاء 2 (897)، (تحفة الأشراف: 174)، مسند احمد 3/256 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ" , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , قُلْتُ: سَمِعْتَهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1749]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء (بارش کی دعا) کے علاوہ کسی بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا کہ میں نے (اپنے استاد) ثابت (بنانی) سے کہا: ”کیا آپ نے یہ روایت خود حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ انھوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ میں نے پھر کہا: ”آپ نے سنی ہے؟“ انھوں نے پھر کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ (یعنی کیا بغیر سنے بیان کررہا ہوں؟) [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، (تحفة الأشراف: 444)، مسند احمد 3/184، 209، 216، 259 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله قال شعبة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم