سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : كفارة النذر
باب: نذر کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3882
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3882]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمانی کی نذر پوری نہ کی جائے اور نہ اس چیز کی جس کا وہ انسان مالک نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3843 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3823
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز ملکیت میں نہیں، اس میں نہ نذر مانی جا سکتی ہے، نہ قسم کھائی جا سکتی ہے اور (اسی طرح اللہ تعالیٰ کی) نافرمانی اور قطع رحمی کی نذر اور قسم بھی معتبر نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 15 (3274مطولا)، مسند احمد (2/112) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہو جاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3837
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3837]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی اطاعت کی نذر مانے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 28 (6696)، 31 (6700)، سنن ابی داود/الأیمان 22 (3289)، سنن الترمذی/الأیمان 2 (1526)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2126)، (تحفة الأشراف: 17458)، موطا امام مالک/النذور 4 (8)، مسند احمد 6/36، 41، 224)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 3 (2383)، ویأتي فیمایلي: 3838، 3839 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نذر کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے تو اسے پوری کرے اور اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے تو اسے پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ دیدے، رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور نافرمانی کا بھی یہی حکم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3838
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3838]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اطاعت کرے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ ہرگز نافرمانی نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3843
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور انسان کی غیر مملوکہ چیز میں نذر ماننا غیر معتبر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ال نذر 3 (1641)، سنن ابی داود/ال نذر 28 (3316)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16(2124)، (تحفة الأشراف: 10884، 10888)، مسند احمد (4/429، 430، 432، 433، 434)، سنن الدارمی/النذور 3 (2382)، وأعادہ المؤلف برقم: 3882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3864
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہ کے کاموں) میں نذر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3864]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ والی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17567) (صحیح) (سند میں زہری اور قاسم کے درمیان انقطاع ہے، مگر سند متصل ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3865
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3865]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔ ایسی نذر کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 23 (3291)، سنن الترمذی/الأیمان1(1524)، سنن ابن ماجہ/الکفارات16(2125)، (تحفة الأشراف: 17770)، مسند احمد (6/247)، ویأتی فیما یلي: 3866-3869 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر کسی نے معصیت کی نذر مانی ہے تو وہ اسے پوری نہیں کرے گا البتہ اس کا کفارہ ضرور ادا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3866]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی والی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3867
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3867]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت والی نذر پوری نہ کی جائے (بلکہ اس کا کفارہ دیا جائے) اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3865 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3868
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ قِيلَ: أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3868]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کہا گیا ہے کہ امام زہری نے حضرت ابو سلمہ سے یہ روایت نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3865 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن اگلی روایت میں زہری کے ابوسلمہ سے سننے کی صراحت موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3869
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرَوِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3869]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ کی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے (بلکہ اس میں کفارہ ہے) اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3865 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ , وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ , أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , خَالَفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ”سلیمان بن ارقم“ متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3870]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہ کی جائے (بلکہ اس کا کفارہ دیا جائے) اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (راوئ حدیث) سلیمان بن ارقم «مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ» ”متروک الحدیث“ ہے، «وَاللَّهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ سب سے بہتر جانتا ہے“۔ اس حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر کے کئی ایک شاگردوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 23 (3292)، سنن الترمذی/الأیمان 1 (1525)، (تحفة الأشراف: 17782) (صحیح) (اس کے راوی ”سلیمان بن ارقم“ ضعیف ہیں، لیکن اس کی پچھلی سندیں صحیح ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے سلیمان بن ارقم جو متروک الحدیث ہیں نے یحییٰ سے حدیث کی روایت میں ثقافت کی مخالفت کی ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے رواۃ سے ثابت ہے، اور یہ مخالفت بعد کی سندوں میں ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3871
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , عَنْ وَكِيعٍ , عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ عَلِيٌّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہ کے کاموں) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3871]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گناہ کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے برابر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10822)، مسند احمد (4/433، 439، 440، 443)، ویأتي بأرقام: 3872-3875) (صحیح) (اس کے راوی ’’محمد بن زبیر‘‘ ضعیف الحدیث ہیں، لیکن عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3872
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت (گناہ کے کام) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3872]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3878
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا غَضَبٍ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3878]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غصے اور نافرمانی کی نذر معتبر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10808)، مسند احمد (4/439، 443) (ضعیف) (لفظ ”غضب“ میں اس حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن الزبير: متروك (تقريب: 5885) ولم أجد لحديثه شاهدًا قويًا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
حدیث نمبر: 3879
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمٍ وَهُوَ عُبَيْدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي الْمَعْصِيَةِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ". خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي لَفْظِهِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے“۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3879]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمانی والی نذر درست نہیں اور اس کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔“ الفاظِ حدیث میں منصور بن زاذان نے محمد بن زبیر کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3880
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے“۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اس چیز میں نذر نہیں مان سکتا جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مان سکتا ہے۔“ علی بن زید نے منصور بن زاذان کی مخالفت کی ہے، اس نے یہ روایت بواسطہ حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10811)، مسند احمد (4/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3881
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ , وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین رضی اللہ عنہما ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3881]
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نافرمانی کی نذر معتبر نہیں اور نہ اس چیز کی جس کا وہ مالک نہیں۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی بن زید ضعیف راوی ہے اور (اس کی بیان کردہ) یہ حدیث خطا ہے، جبکہ درست (عبدالرحمن بن سمرہ کے بجائے) حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہی ہیں، نیز حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ایک اور سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9700) (صحیح) (اس کے راوی ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4616
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: عُثْمَانُ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ سَيْفٍ , عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 4616]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جس چیز کا مالک نہیں، اس کی بیع نہیں کر سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 4616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 7 (2190)، (تحفة الأشراف: 8804)، مسند احمد (2/189، 190) (حسن، صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن