🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة القمر
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
اقتربت الساعة وانشق القمر
قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
2
وإن يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر
اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
3
وكذبوا واتبعوا أهواءهم وكل أمر مستقر
اور انھوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام انجام کو پہنچنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
4
ولقد جاءهم من الأنباء ما فيه مزدجر
اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس کئی خبریںآئی ہیں، جن میں باز آنے کا سامان ہے۔
ابن کثیر ↑
5
حكمة بالغة فما تغن النذر
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔
ابن کثیر ↑
6
فتول عنهم يوم يدع الداع إلى شيء نكر
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
7
خشعا أبصارهم يخرجون من الأجداث كأنهم جراد منتشر
ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔
ابن کثیر ↑
8
مهطعين إلى الداع يقول الكافرون هذا يوم عسر
پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے، کافر کہیں گے یہ بڑا مشکل دن ہے۔
ابن کثیر ↑
9
كذبت قبلهم قوم نوح فكذبوا عبدنا وقالوا مجنون وازدجر
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور انھوں نے کہا دیوانہ ہے اور جھڑک دیا گیا۔
10
فدعا ربه أني مغلوب فانتصر
تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں، سو تو بدلہ لے۔
ابن کثیر ↑
11
ففتحنا أبواب السماء بماء منهمر
تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے، ایسے پانی کے ساتھ جو زور سے برسنے والا تھا۔
ابن کثیر ↑
12
وفجرنا الأرض عيونا فالتقى الماء على أمر قد قدر
اور زمین کو چشموں کے ساتھ پھاڑ دیا، تو تمام پانی مل (کر ایک ہو) گیا، اس کام کے لیے جو طے ہو چکا تھا۔
13
وحملناه على ذات ألواح ودسر
اور ہم نے اسے تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر دیا۔
ابن کثیر ↑
14
تجري بأعيننا جزاء لمن كان كفر
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی، اس شخص کے بدلے کی خاطر جس کا انکار کیا گیا تھا۔
ابن کثیر ↑
15
ولقد تركناها آية فهل من مدكر
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے ایک نشانی بنا کر چھوڑا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
16
فكيف كان عذابي ونذر
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
ابن کثیر ↑
17
ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
18
كذبت عاد فكيف كان عذابي ونذر
عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
19
إنا أرسلنا عليهم ريحا صرصرا في يوم نحس مستمر
بے شک ہم نے ان پر ایک تند آندھی بھیجی، ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔
ابن کثیر ↑
20
تنزع الناس كأنهم أعجاز نخل منقعر
لوگوں کو اکھاڑ پھینکتی تھی، جیسے وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
ابن کثیر ↑
21
فكيف كان عذابي ونذر
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
ابن کثیر ↑
22
ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
23
كذبت ثمود بالنذر
ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلا دیا۔
24
فقالوا أبشرا منا واحدا نتبعه إنا إذا لفي ضلال وسعر
پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ یقینا ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
25
أألقي الذكر عليه من بيننا بل هو كذاب أشر
کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔
ابن کثیر ↑
26
سيعلمون غدا من الكذاب الأشر
عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبر کون ہے؟
ابن کثیر ↑
27
إنا مرسلو الناقة فتنة لهم فارتقبهم واصطبر
بے شک ہم یہ اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے بھیجنے والے ہیں، سو ان کا انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔
ابن کثیر ↑
28
ونبئهم أن الماء قسمة بينهم كل شرب محتضر
اور انھیں بتا دے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا، پینے کی ہر باری پر حاضر ہوا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
29
فنادوا صاحبهم فتعاطى فعقر
تو انھوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، سو اس نے (اسے) پکڑا، پس کونچیں کاٹ دیں۔
ابن کثیر ↑
30
فكيف كان عذابي ونذر
تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
ابن کثیر ↑
31
إنا أرسلنا عليهم صيحة واحدة فكانوا كهشيم المحتظر
بے شک ہم نے ان پر ایک ہی چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کی کچلی، روندی ہوئی باڑ کی طرح ہو گئے۔
ابن کثیر ↑
32
ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر
اور بلا شبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
33
كذبت قوم لوط بالنذر
لوط کی قوم نے ڈرانے والوں کو جھٹلا دیا۔
34
إنا أرسلنا عليهم حاصبا إلا آل لوط نجيناهم بسحر
بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں ہم نے صبح سے کچھ پہلے نجات دی۔
ابن کثیر ↑
35
نعمة من عندنا كذلك نجزي من شكر
اپنی طرف سے انعام کرتے ہوئے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے۔
ابن کثیر ↑
36
ولقد أنذرهم بطشتنا فتماروا بالنذر
اور بلاشبہ یقینا اس نے انھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تو انھوں نے ڈرانے میں شک کیا۔
ابن کثیر ↑
37
ولقد راودوه عن ضيفه فطمسنا أعينهم فذوقوا عذابي ونذر
اور بلاشبہ یقینا انھوں نے اسے اس کے مہمانوں سے بہکانے کی کوشش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔
ابن کثیر ↑
38
ولقد صبحهم بكرة عذاب مستقر
اور بلاشبہ یقینا صبح سویرے ہی ان پر ایک نہ ٹلنے والے عذاب نے حملہ کر دیا۔
ابن کثیر ↑
39
فذوقوا عذابي ونذر
سو چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔
ابن کثیر ↑
40
ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
41
ولقد جاء آل فرعون النذر
اور بلاشبہ یقینا فرعون کی آل کے پاس ڈرانے والے آئے۔
42
كذبوا بآياتنا كلها فأخذناهم أخذ عزيز مقتدر
انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلادیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔
ابن کثیر ↑
43
أكفاركم خير من أولئكم أم لكم براءة في الزبر
کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں، یا تمھارے لیے (پہلی) کتابوں میں کوئی چھٹکارا ہے؟
ابن کثیر ↑
44
أم يقولون نحن جميع منتصر
یا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں، جو بدلہ لے کر رہنے والے ہیں؟
ابن کثیر ↑
45
سيهزم الجمع ويولون الدبر
عنقریب یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے ۔
ابن کثیر ↑
46
بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔
ابن کثیر ↑
47
إن المجرمين في ضلال وسعر
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔
48
يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر
جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔
ابن کثیر ↑
49
إنا كل شيء خلقناه بقدر
بے شک ہم نے جو بھی چیز ہے، ہم نے اسے ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
ابن کثیر ↑
50
وما أمرنا إلا واحدة كلمح بالبصر
اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔
ابن کثیر ↑