قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
صِرَاطٍ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
11 |
صِرَاطٍ |
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [16-النحل:76]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے، دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وه اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیجے وه کوئی بھلائی نہیں ﻻتا، کیا یہ اور وه جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راه پر، برابر ہوسکتے ہیں؟
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتوان) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ نے ایک مثال بیان کی، دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے، کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے، وہ اسے جہاں بھی بھیجتا ہے، کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا یہ اور وہ شخص برابر ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ سیدھے راستے پر ہے۔
|
12 |
صِرَاطٍ |
شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [16-النحل:121]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ اس نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔
|
13 |
صِرَاطٍ |
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [22-الحج:54]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وه یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وه اس پر ایمان ﻻئیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو راه راست کی طرف رہبری کرنے واﻻ ہی ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور تاکہ وہ لوگ جنھیں علم دیاگیا ہے، جان لیں کہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں، پس ان کے دل اس کے لیے عاجز ہو جائیں اور بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
|
14 |
صِرَاطٍ |
وَإِنَّكَ لَتَدْعُوهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [23-المؤمنون:73]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً آپ تو انہیں راه راست کی طرف بلا رہے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بے شک تو یقینا انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔
|
15 |
صِرَاطٍ |
لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [24-النور:46]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بلاشک و شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راه دکھا دیتا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کیں ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے رستے کی طرف ہدایات کرتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلاشبہ یقینا ہم نے کھول کر بیان کرنے والی آیات نازل کر دی ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
|
16 |
صِرَاطٍ |
عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [36-يس:4]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
سیدھے راستے پر ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
سیدھے رستے پر
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
سیدھی راہ پر ہے۔
|
17 |
صِرَاطٍ |
وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [42-الشورى:52]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے، آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
|
18 |
صِرَاطٍ |
فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [43-الزخرف:43]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں بیشک آپ راه راست پر ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پس تو اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھ جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے، یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔
|
19 |
صِرَاطٍ |
أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ [67-الملك:22]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے؟
|