الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. تقوية الحديث الضعيف بالعواضد
معاون و مؤید شواہد کے ذریعے حدیثِ ضعیف کی تقویت۔
حدیث نمبر: M71
وأحيانا أقبلُ الحديثَ الضعيفَ إذا كان ضعفُه خفيفًا بعضد القرآن له، أو بعمل الصحابة والتابعين كما يفعله الحافظ البيهقي وابن عبد البر وغيرهما، إلا أن ظاهر القرآن لا يجعل نسبة الحديث الضعيف إلى النبي صلى الله عليه وسلم صحيحا، وكذلك نسبة الحديث المرسل أو المنقطع موصولا، ولكن يجوز العمل بهذا الحديث لشهادة القرآن له.
وقد ذكر ابن القيم في بعض مؤلفاته العواضد التي تُقوّي الحديث الضعيف.
وأما تقوية الحديث بالشهرة فلم أجد من المحدثين المحققين من فعلَ ذلك إلا الحافظ ابن عبد البر، فإنه أحيانا يقوّي الحديث الضعيف من أجل شهرته عند بعض أهل العلم، وخاصة عند الفقهاء.
وأما تقويةُ الإسناد بإسناد آخر فهذا مما لا خلاف فيه، وإنما الخلاف في تقوية الإسناد بالمرسل، أو بالموقوف على الصحابي، أو بفتوى التابعي، أو بعمل الصالحين، أو بالخبرة والتجربة، فالأمر فيه يعود إلى اجتهاد المحدّث، وليس فيه شيء مطّرد، فالكل من قوّاه قد خالفه أيضا.
وقد قوّى البيهقي في السنن الكبرى (2/465-466) حديث عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر» . رواه من طريق عبدالرحمن بن زياد بن أنعم، عن أبي عبد الرحمن الحبلي، عن عبدالله بن عمرو بن العاص فذكره.
ثم قال:"إن عبدالرحمن الافريقي (هو ابن زياد بن أنعم) غير محتج به، وله شاهدٌ من حديث ابن المسيب مرسلاً، ثم قال: ورويَ موصولاً بذكر أبي هريرة، ولا يصحّ وصلُه". اهـ
قلت: وهذا المنهج اختاره أكثر المخرجين مثل ابن كثير وابن الملقن وابن حجر وغيرهم، ولكن لم نجد من أصحاب الصّحاح والمسانيد والسنن في مصنفاتهم أنهم ذكروا الحديث الضعيف، ثم قوّوه بالمراسيل والموقوفات.
وقد ذكر ابن القيم في بعض مؤلفاته العواضد التي تُقوّي الحديث الضعيف.
وأما تقوية الحديث بالشهرة فلم أجد من المحدثين المحققين من فعلَ ذلك إلا الحافظ ابن عبد البر، فإنه أحيانا يقوّي الحديث الضعيف من أجل شهرته عند بعض أهل العلم، وخاصة عند الفقهاء.
وأما تقويةُ الإسناد بإسناد آخر فهذا مما لا خلاف فيه، وإنما الخلاف في تقوية الإسناد بالمرسل، أو بالموقوف على الصحابي، أو بفتوى التابعي، أو بعمل الصالحين، أو بالخبرة والتجربة، فالأمر فيه يعود إلى اجتهاد المحدّث، وليس فيه شيء مطّرد، فالكل من قوّاه قد خالفه أيضا.
وقد قوّى البيهقي في السنن الكبرى (2/465-466) حديث عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر» . رواه من طريق عبدالرحمن بن زياد بن أنعم، عن أبي عبد الرحمن الحبلي، عن عبدالله بن عمرو بن العاص فذكره.
ثم قال:"إن عبدالرحمن الافريقي (هو ابن زياد بن أنعم) غير محتج به، وله شاهدٌ من حديث ابن المسيب مرسلاً، ثم قال: ورويَ موصولاً بذكر أبي هريرة، ولا يصحّ وصلُه". اهـ
قلت: وهذا المنهج اختاره أكثر المخرجين مثل ابن كثير وابن الملقن وابن حجر وغيرهم، ولكن لم نجد من أصحاب الصّحاح والمسانيد والسنن في مصنفاتهم أنهم ذكروا الحديث الضعيف، ثم قوّوه بالمراسيل والموقوفات.
اور بسا اوقات میں ایسی ضعیف حدیث کو بھی قبول کر لیتا ہوں جس کا ضعف معمولی ہو اور قرآن کریم اس کا معاون و مؤید ہو، یا پھر اس کی بنیاد صحابہ و تابعین کا عمل ہو، جیسا کہ حافظ بیہقی اور ابن عبد البر وغیرہ کا منہج ہے، تاہم یہ نکتہ پیشِ نظر رہے کہ محض قرآن کا ظاہر کسی ضعیف حدیث کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کو درجۂ صحت تک نہیں پہنچاتا اور نہ ہی اس سے کسی مرسل یا منقطع روایت کی نسبت متصل ہو جاتی ہے، البتہ قرآن کی گواہی اور شہادت کی بنیاد پر ایسی حدیث پر عمل کرنا جائز ہوتا ہے۔
امام ابن القيم نے اپنی بعض تصانیف میں ان معاونات و شواہد کا تذکرہ فرمایا ہے جو حدیثِ ضعیف کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔
رہی بات شہرت کی بنیاد پر حدیث کو تقویت فراہم کرنے کی، تو محقق محدثین میں حافظ ابن عبد البر کے سوا میں نے کسی ایسے عالم کو نہیں پایا جس نے اس طریقے کو اپنایا ہو؛ کیونکہ وہ بسا اوقات کسی ضعیف حدیث کو بعض اہل علم اور بالخصوص فقہاء کے ہاں اس کی شہرت و قبولیت کی بنا پر قوی قرار دے دیتے ہیں۔
جہاں تک ایک سند کو دوسری سند کے ذریعے تقویت فراہم کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، البتہ اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا سند کو روایتِ مرسل، یا قولِ صحابی (موقوف)، یا فتوائے تابعی، یا نیکوکاروں کے تعامل، یا پھر محض تجربے و مشاہدے کے ذریعے تقویت دی جا سکتی ہے، چنانچہ اس معاملے کا کلی انحصار محدث کے ذاتی اجتہاد پر ہے اور اس باب میں کوئی ایسا قاعدہِ کلیہ نہیں جو ہر مقام پر یکساں لاگو ہوتا ہو، کیونکہ جن ائمہ نے بھی ان ذرائع سے تقویت کے قول کو اختیار کیا ہے، انہوں نے خود بھی متعدد مقامات پر اس ضابطے سے انحراف کیا ہے۔
امام بیہقی نے السنن الکبری (2 465 466) میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو قوی قرار دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «طلوعِ فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعتوں کے کوئی نماز نہیں ہے» ؛ انہوں نے اسے عبد الرحمن بن زیاد بن انعم کے طریق سے، انہوں نے ابو عبد الرحمن الحبلی سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر کے ذکر کیا ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ بے شک عبدالرحمن افریقی (جو کہ ابن زیاد بن انعم ہیں) کی روایت لائقِ استناد نہیں ہے، البتہ ابن مسیب کی مرسل حدیث میں اس کا ایک شاہد موجود ہے، نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی مروی ہے، مگر اس کی سند کا اتصال پایۂ صحت کو نہیں پہنچتا۔ اھ۔
میں عرض کرتا ہوں کہ اسی اسلوبِ تحقیق کو اکثر ائمہ تخریج مثلاً ابن کثیر، ابن ملقن اور ابن حجر وغیرہ نے اپنایا ہے، تاہم ہمیں کتبِ صحاح، مسانید اور سنن کے مؤلفین کی تصانیف میں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی کہ انہوں نے پہلے کوئی ضعیف حدیث ذکر کی ہو اور پھر اسے مراسیل اور موقوف روایات کے ذریعے تقویت فراہم کی ہو۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M71]
امام ابن القيم نے اپنی بعض تصانیف میں ان معاونات و شواہد کا تذکرہ فرمایا ہے جو حدیثِ ضعیف کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔
رہی بات شہرت کی بنیاد پر حدیث کو تقویت فراہم کرنے کی، تو محقق محدثین میں حافظ ابن عبد البر کے سوا میں نے کسی ایسے عالم کو نہیں پایا جس نے اس طریقے کو اپنایا ہو؛ کیونکہ وہ بسا اوقات کسی ضعیف حدیث کو بعض اہل علم اور بالخصوص فقہاء کے ہاں اس کی شہرت و قبولیت کی بنا پر قوی قرار دے دیتے ہیں۔
جہاں تک ایک سند کو دوسری سند کے ذریعے تقویت فراہم کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، البتہ اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا سند کو روایتِ مرسل، یا قولِ صحابی (موقوف)، یا فتوائے تابعی، یا نیکوکاروں کے تعامل، یا پھر محض تجربے و مشاہدے کے ذریعے تقویت دی جا سکتی ہے، چنانچہ اس معاملے کا کلی انحصار محدث کے ذاتی اجتہاد پر ہے اور اس باب میں کوئی ایسا قاعدہِ کلیہ نہیں جو ہر مقام پر یکساں لاگو ہوتا ہو، کیونکہ جن ائمہ نے بھی ان ذرائع سے تقویت کے قول کو اختیار کیا ہے، انہوں نے خود بھی متعدد مقامات پر اس ضابطے سے انحراف کیا ہے۔
امام بیہقی نے السنن الکبری (2 465 466) میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو قوی قرار دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «طلوعِ فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعتوں کے کوئی نماز نہیں ہے» ؛ انہوں نے اسے عبد الرحمن بن زیاد بن انعم کے طریق سے، انہوں نے ابو عبد الرحمن الحبلی سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر کے ذکر کیا ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ بے شک عبدالرحمن افریقی (جو کہ ابن زیاد بن انعم ہیں) کی روایت لائقِ استناد نہیں ہے، البتہ ابن مسیب کی مرسل حدیث میں اس کا ایک شاہد موجود ہے، نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی مروی ہے، مگر اس کی سند کا اتصال پایۂ صحت کو نہیں پہنچتا۔ اھ۔
میں عرض کرتا ہوں کہ اسی اسلوبِ تحقیق کو اکثر ائمہ تخریج مثلاً ابن کثیر، ابن ملقن اور ابن حجر وغیرہ نے اپنایا ہے، تاہم ہمیں کتبِ صحاح، مسانید اور سنن کے مؤلفین کی تصانیف میں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی کہ انہوں نے پہلے کوئی ضعیف حدیث ذکر کی ہو اور پھر اسے مراسیل اور موقوف روایات کے ذریعے تقویت فراہم کی ہو۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M71]
72. تقوية الحديث الضعيف بالمتابعات
متابعات کے ذریعے حدیثِ ضعیف کی تقویت۔
حدیث نمبر: M72
هذه القاعدة معروفة عند المحدثين، ولكن لا يلزم من رواية الحديث من وجوه كثيرة أن يحصل من مجموعها أنه حسن، والمثال على ذلك حديث الغرانيق، فقد ذكره كثير من المفسّرين مثل ابن جرير والبغوي وغيرهما من طرق كثيرة متصلة ومنفصلة ومرسلة، ومع ذلك ردّه المحدثون المحققون، وبيّنوا زَيْفَه وَوَضْعَه منهم: الإمام ابن خزيمة، والقاضي عياض، والبيهقي، والشوكاني، والألباني وغيرهم، وله أمثلة كثيرة في الجامع الكامل.
إنما تفيد المتابعة إذا كان راويه ضعيفا لسوء حفظه، أو لاختلاطه، أو كان مستورا، أو لتدليسه، إلا إنْ كان المدلّسان من طبقة واحدة، فيُخشى أن يكون شيخُهما واحدًا، وأما المنقطع فلا تُفيد متابعتُه خشية أن يكون الساقط في الإسناد متّهمًا. والمتابعة على قسمين:
المتابعة التامة: وهي أن تحصل المشاركة للراوي من أول الإسناد، ومثاله ما رواه الشافعي، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر t أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإنْ غُمَّ عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
قال الحافظ إن الحديث المذكور في جميع المؤطآت عن مالك بهذا الإسناد بلفظ: فإن غم عليكم فاقدروا له، فأشار البيهقي إلى أن الشافعي تفرد بهذا اللفظ عن مالك فنظرنا فإذا البخاري قد روى الحديث في صحيحه (1907) فقال: حدثنا عبدالله بن مسلمة القعنبي، ثنا مالك بإسناده فساقه بالذي ذكره الشافعي سواء.
فهذه متابعة تامة في غاية الصحة.
والمتابعة القاصرة: وهي أن تحصل المشاركة للراوي في أثناء الإسناد، ومثاله ما أخرجه مسلم في صحيحه (1080) من طريق أبي أسامة، عن عبيدالله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر فذكر الحديث، وفي آخره: فإن أغمي عليكم فاقدروا له ثلاثين.
وأخرجه ابن خزيمة (1909) من طريق عاصم بن محمد بن زيد، عن أبيه، عن ابن عمر بلفظ: فإن غمَّ عليكم فكمّلوا ثلاثين. فهذه متابعة ناقصة.
وأحيانًا تُذكر المتابعةُ لمجرّد العلمِ بالإسنادِ الآخرِ لأصْلِ الحديثِ، لا جميع ما اشتملَ عليه.
ومثاله قول الإمام البخاري (3439) بعد أن ساق الحديث عن إبراهيم بن المنذر، حدّثنا أبو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، عن ابن عمر فذكرَ رؤيةَ النبي صلى الله عليه وسلم في المنام طواف المسيح بن مريم، والمسيح الدجال.
ثم قال: تابعه عبيدُ الله، عن نافع. ولم يذكر هذه المتابعةَ في الصحيح، وإنما ذكره مسلم (169) عن أبي أسامة ومحمد بن بشر كلاهما عن عبيدالله، عن نافع، عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم ذكر الدجال، ولم يذكر قصّة المسيح بن مريم.
وموسى هو: ابن عقبة ثقة فقيه إمام في المغازي، ومتابعة عبيدالله لمجرّد العلم ليس للتقوية، وهذا النوعُ كثيرٌ في الصحيحينِ.
الاعتبار: هو البحثُ عن المتابعة، فمن كان ضعفُه خفيفًا، لا يُترك حديثُه حتى يُبحثَ عن متابعته، فإذا وجدنا له متابعا يرتقي الحديث إلى درجة الحسن.
وعليه يُحمل قول الأئمة:"يُكتب للاعتبار" أي يُكتب حديثُه للبحث عن متابعته.
وأما إنْ كان ضعفُه شديدًا مثل فاحش الغلط، أو المتروك، أو المتهم فلا يُبحث له المتابعة، فإنّ متابعتَه لا تنفعه.
إنما تفيد المتابعة إذا كان راويه ضعيفا لسوء حفظه، أو لاختلاطه، أو كان مستورا، أو لتدليسه، إلا إنْ كان المدلّسان من طبقة واحدة، فيُخشى أن يكون شيخُهما واحدًا، وأما المنقطع فلا تُفيد متابعتُه خشية أن يكون الساقط في الإسناد متّهمًا. والمتابعة على قسمين:
المتابعة التامة: وهي أن تحصل المشاركة للراوي من أول الإسناد، ومثاله ما رواه الشافعي، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر t أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإنْ غُمَّ عليكم فأكملوا العدة ثلاثين.
قال الحافظ إن الحديث المذكور في جميع المؤطآت عن مالك بهذا الإسناد بلفظ: فإن غم عليكم فاقدروا له، فأشار البيهقي إلى أن الشافعي تفرد بهذا اللفظ عن مالك فنظرنا فإذا البخاري قد روى الحديث في صحيحه (1907) فقال: حدثنا عبدالله بن مسلمة القعنبي، ثنا مالك بإسناده فساقه بالذي ذكره الشافعي سواء.
فهذه متابعة تامة في غاية الصحة.
والمتابعة القاصرة: وهي أن تحصل المشاركة للراوي في أثناء الإسناد، ومثاله ما أخرجه مسلم في صحيحه (1080) من طريق أبي أسامة، عن عبيدالله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر فذكر الحديث، وفي آخره: فإن أغمي عليكم فاقدروا له ثلاثين.
وأخرجه ابن خزيمة (1909) من طريق عاصم بن محمد بن زيد، عن أبيه، عن ابن عمر بلفظ: فإن غمَّ عليكم فكمّلوا ثلاثين. فهذه متابعة ناقصة.
وأحيانًا تُذكر المتابعةُ لمجرّد العلمِ بالإسنادِ الآخرِ لأصْلِ الحديثِ، لا جميع ما اشتملَ عليه.
ومثاله قول الإمام البخاري (3439) بعد أن ساق الحديث عن إبراهيم بن المنذر، حدّثنا أبو ضمرة، حدثنا موسى، عن نافع، عن ابن عمر فذكرَ رؤيةَ النبي صلى الله عليه وسلم في المنام طواف المسيح بن مريم، والمسيح الدجال.
ثم قال: تابعه عبيدُ الله، عن نافع. ولم يذكر هذه المتابعةَ في الصحيح، وإنما ذكره مسلم (169) عن أبي أسامة ومحمد بن بشر كلاهما عن عبيدالله، عن نافع، عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم ذكر الدجال، ولم يذكر قصّة المسيح بن مريم.
وموسى هو: ابن عقبة ثقة فقيه إمام في المغازي، ومتابعة عبيدالله لمجرّد العلم ليس للتقوية، وهذا النوعُ كثيرٌ في الصحيحينِ.
الاعتبار: هو البحثُ عن المتابعة، فمن كان ضعفُه خفيفًا، لا يُترك حديثُه حتى يُبحثَ عن متابعته، فإذا وجدنا له متابعا يرتقي الحديث إلى درجة الحسن.
وعليه يُحمل قول الأئمة:"يُكتب للاعتبار" أي يُكتب حديثُه للبحث عن متابعته.
وأما إنْ كان ضعفُه شديدًا مثل فاحش الغلط، أو المتروك، أو المتهم فلا يُبحث له المتابعة، فإنّ متابعتَه لا تنفعه.
یہ قاعدہ محدثین کے نزدیک مسلم و معروف ہے، تاہم یہ قطعاً ضروری نہیں کہ کسی حدیث کے کثیر طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے ان کے مجموعہ کی بنیاد پر اسے 'حسن' قرار دے دیا جائے؛ اس کی واضح مثال 'حدیثِ غرانیق' ہے جسے ابن جریر اور بغوی جیسے کثیر مفسرین نے متصل، منقطع اور مرسل جیسے متعدد طرق سے نقل کیا ہے، اس کے باوجود محقق محدثین نے اسے مسترد کرتے ہوئے اس کے باطل اور من گھڑت ہونے کو طشت از بام کیا ہے، جن میں امام ابن خزیمہ، قاضی عیاض، بیہقی، شوکانی اور البانی وغیرہ شامل ہیں، اور کتاب 'الجامع الکامل' میں اس نوعیت کی کثیر مثالیں موجود ہیں۔
متابعت محض اس صورت میں نفع بخش ہوتی ہے جب اس کا راوی سوءِ حفظ یا اختلاط کی بنا پر ضعیف ہو، یا وہ مستور ہو، یا اس کا ضعف تدلیس کی وجہ سے ہو، الا یہ کہ دونوں مدلسین ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، ایسی صورت میں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ان دونوں کا شیخ ایک ہی ہو، رہی بات حدیثِ منقطع کی، تو اس کی متابعت فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ یہ احتمال رہتا ہے کہ سند سے ساقط شدہ راوی کہیں متہم نہ ہو، اور متابعت کی دو اقسام ہیں:
متابعتِ تامہ سے مراد یہ ہے کہ سند کے آغاز ہی سے راوی کی مشارکت حاصل ہو جائے، اور اس کی مثال وہ روایت ہے جسے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پس تم اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اور نہ ہی اس وقت تک افطار (عید) کرو جب تک اسے دیکھ نہ لو، پھر اگر مطلع تم پر ابر آلود ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
حافظ فرماتے ہیں کہ امام مالک سے مروی تمام نسخہ جاتِ مؤطا میں مذکورہ حدیث اسی سند کے ساتھ ان الفاظ میں مروى ہے: ”پس اگر تم پر (چاند) پوشیدہ ہو جائے تو اس کا اندازہ کر لو“؛ چنانچہ امام بیہقی نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ امام شافعی امام مالک سے ان الفاظ کی روایت میں منفرد ہیں، لیکن جب ہم نے تحقیق کی تو پایا کہ امام بخاری نے بھی اپنی صحیح 1 9 0 7 میں اسے روایت کیا ہے، وہ رقمطراز ہیں: ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں امام مالک نے اپنی سند سے حدیث بیان کی، چنانچہ انہوں نے اسے بعینہِ انہیں الفاظ کے ساتھ نقل کیا جو امام شافعی نے ذکر کیے ہیں۔
پس یہ غایت درجہ کی صحیح متابعتِ تامہ ہے۔
اور متابعتِ قاصرہ یہ ہے کہ راوی کی مشارکت سند کے درمیان میں حاصل ہو، اور اس کی مثال وہ روایت ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح (1080) میں ابو اسامہ کے طریق سے، بحوالہ عبید اللہ بن عمر، از نافع، از ابن عمر نقل کیا ہے، پس انہوں نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں یہ (الفاظ) ہیں: "پھر اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تم اس (ماہ) کے تیس دن شمار کرو"۔
اسے امام ابن خزیمہ نے (1909) عاصم بن محمد بن زید کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اگر تم پر (مطلع) ابر آلود ہو جائے تو تیس دن مکمل کر لیا کرو“، پس یہ ایک متابعتِ ناقصہ ہے۔
اور بسا اوقات متابعت محض اس غرض سے ذکر کی جاتی ہے کہ اصلِ حدیث کی ایک دوسری سند کا علم ہو جائے، نہ کہ ان تمام امور و تفاصیل کی آگہی کے لیے جو اس (روایت) میں مندرج ہیں۔
اور اس کی مثال امام بخاری کا وہ قول (حدیث نمبر 3439) ہے جو انہوں نے ابراہیم بن منذر، ابو ضمرہ، موسیٰ اور نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کو بیان کرنے کے بعد رقم فرمایا ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کا تذکرہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام اور مسیح دجال کو (بیت اللہ کا) طواف کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
پھر انہوں نے فرمایا کہ عبید اللہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے اس کی متابعت کی ہے، اور انہوں نے اس متابعت کا ذکر اپنی صحیح میں نہیں کیا، بلکہ اسے امام مسلم 169 نے ابو اسامہ اور محمد بن بشر کی وساطت سے نقل کیا ہے، ان دونوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا اور حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کا قصہ ذکر نہیں فرمایا۔
اور موسیٰ سے مراد ابن عقبہ ہیں جو کہ ثقہ، فقیہ اور مغازی کے فن میں امام کا درجہ رکھتے ہیں، اور عبید اللہ کی متابعت محض علم و آگاہی کے لیے ہے نہ کہ تقویت و تائید کے لیے، اور اس نوع کی مثالیں صحیحین میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
اعتبار سے مراد متابعت کی جستجو کرنا ہے، چنانچہ جس راوی کا ضعف معمولی ہو اس کی روایت اس وقت تک ترک نہیں کی جاتی جب تک کہ اس کی متابعت کی تحقیق نہ کر لی جائے، پھر اگر ہمیں اس کی کوئی متابعت مل جائے تو وہ حدیث درجۂ حسن تک فائق ہو جاتی ہے۔
اور ائمہِ فن کے اس قول: "یہ روایت اعتبار کے لیے لکھی جائے گی" کا محمل یہی ہے، یعنی اس کی حدیث اس مقصد کے لیے لکھی جاتی ہے تاکہ اس کے متابعات کی جستجو اور تلاش کی جا سکے۔
بہر کیف! اگر راوی کا ضعف شدید ہو، مثلاً وہ فاحش الغلط، متروک یا متہم ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے متابعت کی جستجو نہیں کی جائے گی، کیونکہ ایسی متابعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M72]
متابعت محض اس صورت میں نفع بخش ہوتی ہے جب اس کا راوی سوءِ حفظ یا اختلاط کی بنا پر ضعیف ہو، یا وہ مستور ہو، یا اس کا ضعف تدلیس کی وجہ سے ہو، الا یہ کہ دونوں مدلسین ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، ایسی صورت میں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ان دونوں کا شیخ ایک ہی ہو، رہی بات حدیثِ منقطع کی، تو اس کی متابعت فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ یہ احتمال رہتا ہے کہ سند سے ساقط شدہ راوی کہیں متہم نہ ہو، اور متابعت کی دو اقسام ہیں:
متابعتِ تامہ سے مراد یہ ہے کہ سند کے آغاز ہی سے راوی کی مشارکت حاصل ہو جائے، اور اس کی مثال وہ روایت ہے جسے امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک سے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پس تم اس وقت تک روزہ نہ رکھو جب تک چاند نہ دیکھ لو، اور نہ ہی اس وقت تک افطار (عید) کرو جب تک اسے دیکھ نہ لو، پھر اگر مطلع تم پر ابر آلود ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
حافظ فرماتے ہیں کہ امام مالک سے مروی تمام نسخہ جاتِ مؤطا میں مذکورہ حدیث اسی سند کے ساتھ ان الفاظ میں مروى ہے: ”پس اگر تم پر (چاند) پوشیدہ ہو جائے تو اس کا اندازہ کر لو“؛ چنانچہ امام بیہقی نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ امام شافعی امام مالک سے ان الفاظ کی روایت میں منفرد ہیں، لیکن جب ہم نے تحقیق کی تو پایا کہ امام بخاری نے بھی اپنی صحیح 1 9 0 7 میں اسے روایت کیا ہے، وہ رقمطراز ہیں: ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں امام مالک نے اپنی سند سے حدیث بیان کی، چنانچہ انہوں نے اسے بعینہِ انہیں الفاظ کے ساتھ نقل کیا جو امام شافعی نے ذکر کیے ہیں۔
پس یہ غایت درجہ کی صحیح متابعتِ تامہ ہے۔
اور متابعتِ قاصرہ یہ ہے کہ راوی کی مشارکت سند کے درمیان میں حاصل ہو، اور اس کی مثال وہ روایت ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح (1080) میں ابو اسامہ کے طریق سے، بحوالہ عبید اللہ بن عمر، از نافع، از ابن عمر نقل کیا ہے، پس انہوں نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں یہ (الفاظ) ہیں: "پھر اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو جائے تو تم اس (ماہ) کے تیس دن شمار کرو"۔
اسے امام ابن خزیمہ نے (1909) عاصم بن محمد بن زید کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اگر تم پر (مطلع) ابر آلود ہو جائے تو تیس دن مکمل کر لیا کرو“، پس یہ ایک متابعتِ ناقصہ ہے۔
اور بسا اوقات متابعت محض اس غرض سے ذکر کی جاتی ہے کہ اصلِ حدیث کی ایک دوسری سند کا علم ہو جائے، نہ کہ ان تمام امور و تفاصیل کی آگہی کے لیے جو اس (روایت) میں مندرج ہیں۔
اور اس کی مثال امام بخاری کا وہ قول (حدیث نمبر 3439) ہے جو انہوں نے ابراہیم بن منذر، ابو ضمرہ، موسیٰ اور نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کو بیان کرنے کے بعد رقم فرمایا ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کا تذکرہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام اور مسیح دجال کو (بیت اللہ کا) طواف کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
پھر انہوں نے فرمایا کہ عبید اللہ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے اس کی متابعت کی ہے، اور انہوں نے اس متابعت کا ذکر اپنی صحیح میں نہیں کیا، بلکہ اسے امام مسلم 169 نے ابو اسامہ اور محمد بن بشر کی وساطت سے نقل کیا ہے، ان دونوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا اور حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کا قصہ ذکر نہیں فرمایا۔
اور موسیٰ سے مراد ابن عقبہ ہیں جو کہ ثقہ، فقیہ اور مغازی کے فن میں امام کا درجہ رکھتے ہیں، اور عبید اللہ کی متابعت محض علم و آگاہی کے لیے ہے نہ کہ تقویت و تائید کے لیے، اور اس نوع کی مثالیں صحیحین میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
اعتبار سے مراد متابعت کی جستجو کرنا ہے، چنانچہ جس راوی کا ضعف معمولی ہو اس کی روایت اس وقت تک ترک نہیں کی جاتی جب تک کہ اس کی متابعت کی تحقیق نہ کر لی جائے، پھر اگر ہمیں اس کی کوئی متابعت مل جائے تو وہ حدیث درجۂ حسن تک فائق ہو جاتی ہے۔
اور ائمہِ فن کے اس قول: "یہ روایت اعتبار کے لیے لکھی جائے گی" کا محمل یہی ہے، یعنی اس کی حدیث اس مقصد کے لیے لکھی جاتی ہے تاکہ اس کے متابعات کی جستجو اور تلاش کی جا سکے۔
بہر کیف! اگر راوی کا ضعف شدید ہو، مثلاً وہ فاحش الغلط، متروک یا متہم ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے متابعت کی جستجو نہیں کی جائے گی، کیونکہ ایسی متابعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M72]
73. تقوية الحديث بالشواهد
شواہد کے ذریعے حدیث کی تقویت۔
حدیث نمبر: M73
لا ننكر تصحيح أو تحسين الحديث الذي ضعفُه يسيرٌ، وتقويته بالشواهد، وأيضا لا ننكر العمل والاحتجاج بها، ولكننا أفردنا الصحيح والحسن فهما من شرط هذا الكتاب كما هو منهج أصحاب الصحاح، ثم ربما ذكرنا بعض الأحاديث الضعيفة المشهورة لبيان ضعفها وإنْ كانت تتقوى بمجموعها وترتقي إلى الحسن كما هو صنيع النووي في كتابه"الخلاصة"، حيث جعله في فصلين: فصل في الصحيح والحسن، وأفرد فصلا في الضعيف.
وكما فعل أيضا التبريزي في الفصل الثالث من كتابه «مشكاة المصابيح» مع أن بعض أحاديث الفصل الثالث تتقوى بالفصلين الأول والثاني.
وكما فعل أيضا التبريزي في الفصل الثالث من كتابه «مشكاة المصابيح» مع أن بعض أحاديث الفصل الثالث تتقوى بالفصلين الأول والثاني.
ہم اس حدیث کی تصحیح یا تحسین کے منکر نہیں ہیں جس کا ضعف معمولی ہو اور اسے شواہد کے ذریعے تقویت حاصل ہو، اور نہ ہی ہم ایسی احادیث پر عمل کرنے اور ان سے استدلال برتنے کے منکر ہیں، لیکن ہم نے اس تالیف میں صحیح اور حسن احادیث کو منفرد و مختص رکھا ہے کیونکہ یہی اس کتاب کی شرط ہے جیسا کہ اصحابِ صحاح کا منہج رہا ہے، پھر بسا اوقات ہم نے بعض مشہور ضعیف احادیث کا ذکر محض ان کا ضعف واضح کرنے کے لیے کیا ہے، اگرچہ وہ اپنے مجموعی طرق کی بنا پر تقویت پا کر درجۂ حسن تک پہنچ جاتی ہوں، جیسا کہ امام نووی کا اپنی کتاب "الخلاصة" میں طریقہ کار ہے، جہاں انہوں نے اسے دو فصلوں پر تقسیم کیا ہے: ایک فصل صحیح و حسن کے لیے اور ایک مستقل فصل ضعیف احادیث کے لیے مختص کی ہے۔
اور جیسا کہ امام تبریزی نے بھی اپنی کتاب «مشکاۃ المصابیح» کی تیسری فصل میں یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے، حالانکہ تیسری فصل کی بعض احادیث پہلی اور دوسری فصل کی مرویات سے تقویت پاتی ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M73]
اور جیسا کہ امام تبریزی نے بھی اپنی کتاب «مشکاۃ المصابیح» کی تیسری فصل میں یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے، حالانکہ تیسری فصل کی بعض احادیث پہلی اور دوسری فصل کی مرویات سے تقویت پاتی ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M73]
74. الاجتناب من تصحيح الأحاديث المنكرة والموضوعة بالشواهد
شواہد کی بنیاد پر منکر اور موضوع احادیث کی تصحیح سے اجتناب برتنا۔
حدیث نمبر: M74
يجبُ التجنّبُ من تصحيح الأحاديث الضعيفة شديدة الضعف، وكذلك المنكرة والموضوعة بالشواهد الصحيحة، لأن هذا المنهج لم يكن معروفا في القرون الثلاثة الأولى، والعمدة في ذلك منهج الشيخين البخاري ومسلم فإنهما لم يُصحّحا الأحاديث الضعيفة بالشواهد، وكذلك لم يفعل ذلك ابن خزيمة وابن حبان مع تساهلهما في الرجال، وأوّل من انتهج هذا المنهج وتوسّع فيه هو الحافظ أبو عبدالله الحاكم صاحب المستدرك، ولذا كثر فيه الأحاديث المنكرة والموضوعة كما قال الذهبي وغيره، ولو كان هذا المنهج سائغا لما اجتهد المحدثون هذا الاجتهاد العظيم في تنقية الأحاديث الصحيحة من الأحاديث الضعيفة.
وأما الأحاديث التي لها شواهد كثيرة وليس لها أصول ثابتة، وكذلك الأحاديث الضعيفة التي لا ترتقي إلى درجة الحسن بالمتابعات، فقد ذكرتُ بعض هذه الأحاديث تحت الباب لبيان حالها، وأعرضتُ عن ذكرها في صُلب الكتاب.
وكذلك ذكرتُ أحيانًا أحاديثَ المتروكين والمتهمين لبيان حالها فقط.
وأما الأحاديث التي لها شواهد كثيرة وليس لها أصول ثابتة، وكذلك الأحاديث الضعيفة التي لا ترتقي إلى درجة الحسن بالمتابعات، فقد ذكرتُ بعض هذه الأحاديث تحت الباب لبيان حالها، وأعرضتُ عن ذكرها في صُلب الكتاب.
وكذلك ذكرتُ أحيانًا أحاديثَ المتروكين والمتهمين لبيان حالها فقط.
شواہدِ صحیحہ کی بنیاد پر شدید ضعیف، نیز منکر اور موضوع احادیث کی تصحیح سے اجتناب واجب ہے، کیونکہ یہ منہج قرونِ ثلاثہ اولیٰ میں معروف نہ تھا، اور اس باب میں اصل بنیاد شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کا منہج ہے کہ انہوں نے شواہد کی بنا پر ضعیف احادیث کو صحیح قرار نہیں دیا، اور یہی طرزِ عمل ابن خزیمہ اور ابن حبان کا بھی رہا باوجودیکہ وہ رجال کی توثیق میں تساہل برتنے والے تھے؛ اس منہج کو سب سے پہلے الحافظ ابو عبداللہ الحاکم (صاحبِ مستدرک) نے اپنایا اور اس میں حد درجہ وسعت اختیار کی، یہی سبب ہے کہ ان کی کتاب میں منکر اور موضوع احادیث کثرت سے موجود ہیں جیسا کہ امام ذہبی اور دیگر محدثین نے بیان فرمایا ہے، اور اگر یہ منہج علمی طور پر مستحسن ہوتا تو محدثینِ کرام ضعیف احادیث سے صحیح روایات کی تلخیص و تنقیح کے لیے اس قدر عظیم علمی تگ و دو اور اجتہاد نہ فرماتے۔
باقی رہیں وہ احادیث جن کے شواہد تو کثیر ہیں مگر ان کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں، اور اسی طرح وہ ضعیف احادیث جو متابعات کی بدولت بھی درجۂ حسن تک نہیں پہنچ پاتیں، تو ان میں سے بعض احادیث کو میں نے ان کی حقیقت و کیفیت کی وضاحت کی غرض سے متعلقہ باب کے تحت ذکر کیا ہے، جبکہ کتاب کے اصل متن میں انہیں درج کرنے سے احتراز برتا ہے۔
اور اسی طرح بسا اوقات میں نے متروک اور (کذب کے) متہم راویوں کی احادیث کا تذکرہ محض ان کی فنی حقیقت اور حالِ زار کی وضاحت کی خاطر کیا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M74]
باقی رہیں وہ احادیث جن کے شواہد تو کثیر ہیں مگر ان کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں، اور اسی طرح وہ ضعیف احادیث جو متابعات کی بدولت بھی درجۂ حسن تک نہیں پہنچ پاتیں، تو ان میں سے بعض احادیث کو میں نے ان کی حقیقت و کیفیت کی وضاحت کی غرض سے متعلقہ باب کے تحت ذکر کیا ہے، جبکہ کتاب کے اصل متن میں انہیں درج کرنے سے احتراز برتا ہے۔
اور اسی طرح بسا اوقات میں نے متروک اور (کذب کے) متہم راویوں کی احادیث کا تذکرہ محض ان کی فنی حقیقت اور حالِ زار کی وضاحت کی خاطر کیا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M74]
75. الاجتناب من تصحيح الحديث بالمكاشفات
مکاشفات کے ذریعے حدیث کی تصحیح (اس کی صحت کے فیصلے) سے اجتناب برتنا۔
حدیث نمبر: M75
قال الحافظ ابن القيم: ومن أحالك على غير «أخبرنا» و «حدثنا» فقد أحالك إما على خيال صوفي، أو قياس فلسفي، أو رأي نَفْسي، فليس بعد القرآن و «أخبرنا» و «حدثنا» إلا شبهات المتكلمين، وآراء المنحرفين، وخيالات المتصوفين، وقياس المتفلسفين، ومن فارق الدليل ضلَّ عن سواء السبيل ( [82] ) .
لأنه سبق أن قال ابن عربي الصوفي في الفتوحات المكية، ونقل عنه العجلوني في كشف الخفاء:"ورُبَّ حديثٍ ترك العمل به لضعف طريقه من أجل وضاع في رواته، يكون صحيحا في نفس الأمر لسماع المكاشف له من الروح (جبريل) ، لأنه ينزل المكاشفات منزلة الصحابي الذي شهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سؤال جبريل عن الإسلام والإيمان والإحسان حين إلقائه على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورُبَّ حديث يكون صحيحا من طريق رواته يحصل لهذا المكاشف أنه غير صحيح لسؤاله لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فيعلم وضعه ويترك العمل به، وإن عمل به أهل النقل لصحة طريقه، وهو في نفس الأمر ليس لك" ( [83] ) .
قلت: هذا كلام باطلٌ فإن فيه هدماً لمناهج المحدثين في الجرح والتعديل.
لأنه سبق أن قال ابن عربي الصوفي في الفتوحات المكية، ونقل عنه العجلوني في كشف الخفاء:"ورُبَّ حديثٍ ترك العمل به لضعف طريقه من أجل وضاع في رواته، يكون صحيحا في نفس الأمر لسماع المكاشف له من الروح (جبريل) ، لأنه ينزل المكاشفات منزلة الصحابي الذي شهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سؤال جبريل عن الإسلام والإيمان والإحسان حين إلقائه على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ورُبَّ حديث يكون صحيحا من طريق رواته يحصل لهذا المكاشف أنه غير صحيح لسؤاله لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فيعلم وضعه ويترك العمل به، وإن عمل به أهل النقل لصحة طريقه، وهو في نفس الأمر ليس لك" ( [83] ) .
قلت: هذا كلام باطلٌ فإن فيه هدماً لمناهج المحدثين في الجرح والتعديل.
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص تمہیں "أخبرنا" (ہمیں خبر دی) اور "حدثنا" (ہم سے حدیث بیان کی) کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف مائل کرے، تو اس نے تمہیں یا تو صوفیانہ تخیل، یا فلسفیانہ قیاس، یا پھر نفسانی رائے کے سپرد کر دیا؛ پس قرآنِ کریم اور "أخبرنا" و "حدثنا" کے بعد متکلمین کے شبہات، کج رو لوگوں کی آراء، صوفیا کے اوہام اور فلسفیوں کے قیاسات کے سوا کچھ نہیں، اور جو شخص دلیل سے جدا ہوا وہ ﴿سَوَاءَ السَّبِيلِ﴾ [سورة المائدة: 12] سے بھٹک گیا۔ (82)
کیونکہ اس سے قبل صوفی ابن عربی 'الفتوحات المکیہ' میں صراحت کر چکے ہیں، اور انہی سے عجلونی نے 'کشف الخفاء' میں نقل کیا ہے کہ: بسا اوقات کوئی ایسی حدیث جس کی سند میں کسی کذاب و وضاع راوی کی موجودگی کے باعث ضعف کی وجہ سے اس پر عمل ترک کر دیا جاتا ہے، وہ فی نفسہِ (حقیقت میں) صحیح ہوتی ہے کیونکہ صاحبِ کشف نے اسے روح (جبرئیل علیہ السلام) سے سماعت کیا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ان مکاشفات کو اس صحابی کے درجے میں رکھتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں اس وقت حاضر تھا جب جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول کے وقت اسلام، ایمان اور احسان کے متعلق سوالات کیے تھے؛ اور بسا اوقات کوئی حدیث ایسی ہوتی ہے جو اپنی اسناد کے اعتبار سے تو صحیح قرار پاتی ہے مگر اس صاحبِ کشف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روحانی) استفسار کے نتیجے میں یہ منکشف ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے، پس وہ اس کے من گھڑت ہونے کو جان لیتا ہے اور اس پر عمل ترک کر دیتا ہے، اگرچہ اہلِ نقل (محدثین) سند کی صحت کی بنیاد پر اس پر عمل پیرا ہوں، حالانکہ وہ فی الواقع صحیح نہیں ہوتی۔ [83]
میں کہتا ہوں کہ یہ کلام باطل ہے، کیونکہ اس میں جرح و تعدیل کے باب میں محدثین کے مسلمہ مناہج کی بیخ کنی اور ان کا مکمل انہدام پایا جاتا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M75]
کیونکہ اس سے قبل صوفی ابن عربی 'الفتوحات المکیہ' میں صراحت کر چکے ہیں، اور انہی سے عجلونی نے 'کشف الخفاء' میں نقل کیا ہے کہ: بسا اوقات کوئی ایسی حدیث جس کی سند میں کسی کذاب و وضاع راوی کی موجودگی کے باعث ضعف کی وجہ سے اس پر عمل ترک کر دیا جاتا ہے، وہ فی نفسہِ (حقیقت میں) صحیح ہوتی ہے کیونکہ صاحبِ کشف نے اسے روح (جبرئیل علیہ السلام) سے سماعت کیا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ان مکاشفات کو اس صحابی کے درجے میں رکھتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں اس وقت حاضر تھا جب جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول کے وقت اسلام، ایمان اور احسان کے متعلق سوالات کیے تھے؛ اور بسا اوقات کوئی حدیث ایسی ہوتی ہے جو اپنی اسناد کے اعتبار سے تو صحیح قرار پاتی ہے مگر اس صاحبِ کشف پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روحانی) استفسار کے نتیجے میں یہ منکشف ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے، پس وہ اس کے من گھڑت ہونے کو جان لیتا ہے اور اس پر عمل ترک کر دیتا ہے، اگرچہ اہلِ نقل (محدثین) سند کی صحت کی بنیاد پر اس پر عمل پیرا ہوں، حالانکہ وہ فی الواقع صحیح نہیں ہوتی۔ [83]
میں کہتا ہوں کہ یہ کلام باطل ہے، کیونکہ اس میں جرح و تعدیل کے باب میں محدثین کے مسلمہ مناہج کی بیخ کنی اور ان کا مکمل انہدام پایا جاتا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M75]
76. تضعيف الأحاديث التي تخالف الواقع
ان احادیث کو ضعیف قرار دینا جو حقائقِ واقعہ کے منافی ہوں۔
حدیث نمبر: M76
الأحاديث التي ظاهر إسنادها الصحة إلا أنها تخالف الواقع فتضعيفُها أولى من تأويلاتها البعيدة، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان من أفصح العرب، فكيف يتكلم بكلام يخالف الواقع، وغيرُ مراد به، ثم نحنُ نجلس ونؤوّله.
ومثاله: حديث عقبة بن عامر: «لو أن القرآن جُعِلَ في إهابٍ، ثم أُلقيَ في النار ما احترقَ» ( [84] ) .
ومثاله: حديث عقبة بن عامر: «لو أن القرآن جُعِلَ في إهابٍ، ثم أُلقيَ في النار ما احترقَ» ( [84] ) .
وہ احادیث جن کی اسناد کا ظاہر تو صحیح معلوم ہوتا ہے لیکن وہ حقائقِ نفس الامری کے خلاف ہوں، تو ایسی صورت میں انھیں ضعیف قرار دینا ان کی دور از کار تاویلات کرنے سے زیادہ اولیٰ ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فصحائے عرب میں سب سے بڑھ کر تھے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی گفتگو فرمائیں جو حقیقت کے منافی ہو اور جس سے وہ ظاہری معنی بھی مراد نہ ہو، اور پھر ہم بیٹھ کر اس کی تاویلات کے درپے رہیں۔
اس کی مثال حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیثِ مبارکہ ہے کہ: ”اگر قرآنِ کریم کو کسی چمڑے میں بند کر کے آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ ہرگز نہیں جلے گا“ (84)۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M76]
اس کی مثال حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیثِ مبارکہ ہے کہ: ”اگر قرآنِ کریم کو کسی چمڑے میں بند کر کے آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ ہرگز نہیں جلے گا“ (84)۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M76]
77. الاعتماد على تصحيح الأئمة المتقدمين
ائمهِ متقدمین کی تصحیح پر تکیہ و اعتماد کرنا۔
حدیث نمبر: M77
ولم أتطرّق إلى التعقيب على أئمة الحديث، جهابذة هذا الفن الذين هم عمدة هذا العلم من أمثال شعبة ويحيى القطان، وابن مهدي، ونحوهم، وأصحابهم مثل أحمد وابن المديني وابن معين وابن راهويه وطائفة، ثم أصحابهم مثل البخاري ومسلم وأبي داود والترمذي والنسائي، هكذا إلى زمن الدارقطني والبيهقي، ولم يجيء بعدهم مساوٍ لهم ولا مقارب كما أفاد العلائي، وقال:"فمتى وجدنا في كلام أحد من المتقدمين الحكم به كان معتمدا لما أعطاهم الله من الحفظ الغزير، وإنْ اختلف النقل عنهم عدل إلى الترجيح" ( [85] ) .
ولكنْ قد أشيرُ بكلمات خفيفة إلى ما أُرجّحه بدون أن يمسَّ مقامهم في هذا العلم، والأصل أن الأئمة إذا صحّحوا حديثا، فلا أشتغلُ في تضعيفه أو تأويله أو تنسيخه؛ لأن التصحيح يقتضي انتفاء جميع موانع الضعف مثل الإرسال، والانقطاع، والإعضال في الإسناد، والضعف في الرجال، والنكارة والشذوذ والاضطراب؛ فإنّ الاشتغال فيه يؤدّي إلى تضعيف عدد كبير من الأحاديث الصحيحة، إلا أن يكون الإمام موصوفا بالتساهل في التصحيح مثل الترمذي وابن حبان والحاكم وغيرهم، فلا بأس بمخالفتهم إذا ظهرت العلة، وكذلك إذا ضعّفوا حديثا فلا بأس بالاشتغال به لإزالة العلة التي أعلّوا بها، وفي الجامع الكامل أمثلة كثيرة من هذا النوع، وأذكر هنا مثالاً واحداً.
قال إسحاق بن هانئ: قال لي أبو عبد الله - يعني أحمد بن حنبل - قال لي يحيى بن سعيد: لا أعلم عبيد الله يعني ابن عمر أخطأ إلا في حديث واحد لنافع عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( (لا تسافر امرأة فوق ثلاثة أيام...) ) الحديث، قال أبو عبد الله: ( (فأنكره يحيى بن سعيد عليه!) ) .
قال أبو عبد الله فقال لي يحيى بن سعيد: ( (فوجدته قد حدث به العمري -الصغير- عن نافع عن ابن عمر مثله) ) . قال أبو عبد الله: ( (لم يسمعه إلا من عبيد الله، فلما بلغه عن العمري- صحّحه) ) .
قال ابن رجب: وهذا الكلام يدل على أن النكارة عند يحيى القطان لا تزول إلا بمعرفة الحديث من وجه آخر ( [86] ) .
ولكنْ قد أشيرُ بكلمات خفيفة إلى ما أُرجّحه بدون أن يمسَّ مقامهم في هذا العلم، والأصل أن الأئمة إذا صحّحوا حديثا، فلا أشتغلُ في تضعيفه أو تأويله أو تنسيخه؛ لأن التصحيح يقتضي انتفاء جميع موانع الضعف مثل الإرسال، والانقطاع، والإعضال في الإسناد، والضعف في الرجال، والنكارة والشذوذ والاضطراب؛ فإنّ الاشتغال فيه يؤدّي إلى تضعيف عدد كبير من الأحاديث الصحيحة، إلا أن يكون الإمام موصوفا بالتساهل في التصحيح مثل الترمذي وابن حبان والحاكم وغيرهم، فلا بأس بمخالفتهم إذا ظهرت العلة، وكذلك إذا ضعّفوا حديثا فلا بأس بالاشتغال به لإزالة العلة التي أعلّوا بها، وفي الجامع الكامل أمثلة كثيرة من هذا النوع، وأذكر هنا مثالاً واحداً.
قال إسحاق بن هانئ: قال لي أبو عبد الله - يعني أحمد بن حنبل - قال لي يحيى بن سعيد: لا أعلم عبيد الله يعني ابن عمر أخطأ إلا في حديث واحد لنافع عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( (لا تسافر امرأة فوق ثلاثة أيام...) ) الحديث، قال أبو عبد الله: ( (فأنكره يحيى بن سعيد عليه!) ) .
قال أبو عبد الله فقال لي يحيى بن سعيد: ( (فوجدته قد حدث به العمري -الصغير- عن نافع عن ابن عمر مثله) ) . قال أبو عبد الله: ( (لم يسمعه إلا من عبيد الله، فلما بلغه عن العمري- صحّحه) ) .
قال ابن رجب: وهذا الكلام يدل على أن النكارة عند يحيى القطان لا تزول إلا بمعرفة الحديث من وجه آخر ( [86] ) .
میں نے ائمہ حدیث پر نقد و تعاقب کی قطعاً جسارت نہیں کی جو اس فن کے جلیل القدر عبقری اور اس علم کے ستون ہیں، جیسے شعبہ، یحییٰ القطان اور ابن مہدی وغیرہ؛ نیز ان کے رفقاء جیسے احمد، ابن المدینی، ابن معین، ابن راہویہ اور ان کا طبقہ؛ پھر ان کے تلامذہ جیسے بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی؛ اور یہی سلسلہ دارقطنی اور بیہقی کے عہد تک چلتا ہے، اور جیسا کہ علامہ علائی نے صراحت کی ہے کہ ان بزرگوں کے بعد ان کا کوئی ہمسر یا ان کے قریب تر پیدا نہیں ہوا، مزید برآں انہوں نے فرمایا کہ: "جب بھی ہمیں متقدمین میں سے کسی کے کلام میں کسی روایت پر کوئی حکم مل جائے تو ان کے اس غزرِ حفظ اور وفورِ حافظہ کی بنیاد پر جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ودیعت فرمایا تھا، وہی قابلِ اعتماد ہوگا، اور اگر ان سے منقول اقوال میں اختلاف پایا جائے تو پھر ترجیح کی جانب رجوع کیا جائے گا" (85)۔
لیکن بسا اوقات میں ان ائمہ کے علمی مقام و مرتبے کو مجروح کیے بغیر اختصار کے ساتھ اپنی ترجیحات کی جانب اشارہ کر دیتا ہوں، اور اصل قاعدہ یہ ہے کہ جب ائمہ کسی حدیث کی تصحیح فرما دیں تو میں اس کی تضعیف، تاویل یا اسے منسوخ قرار دینے کے درپے نہیں ہوتا؛ کیونکہ تصحیح اس امر کی مقتضی ہے کہ ضعف کے تمام موانع مثلاً ارسال، انقطاع، سند میں اعضال، راویوں کا ضعف، نکارت، شذوذ اور اضطراب مفقود ہوں، ورنہ اس میں حد سے زیادہ تدقیق بہت سی صحیح احادیث کی تضعیف کا باعث بن سکتی ہے، الا یہ کہ وہ امام تصحیح میں تساہل کے حوالے سے معروف ہو جیسے امام ترمذی، ابنِ حبان اور حاکم وغیرہ، تو ایسی صورت میں اگر کوئی علت واضح ہو جائے تو ان سے اختلاف میں کوئی مضائقہ نہیں، اسی طرح اگر وہ کسی حدیث کی تضعیف کریں تو اس علت کو دور کرنے کی غرض سے تحقیق و جستجو میں کوئی حرج نہیں جس کی بنا پر انہوں نے اسے معلول قرار دیا تھا، اور 'الجامع الکامل' میں اس قبیل کی بکثرت مثالیں موجود ہیں جن میں سے میں یہاں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
اسحاق بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابو عبد اللہ یعنی امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں عبید اللہ یعنی ابن عمر کی کسی خطا سے واقف نہیں ہوں سوائے ایک حدیث کے جو انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت تین دن سے زائد کا سفر نہ کرے...“ (الحدیث)؛ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ پس یحییٰ بن سعید نے اس حدیث کی بابت ان پر نکارت کا اظہار کیا تھا۔
ابو عبداللہ (امام بخاری) بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھ سے کہا: ”میں نے دیکھا کہ عمری صغیر نے بھی اسے نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمر سے اسی کی مثل روایت کیا ہے“؛ ابو عبداللہ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے صرف عبید اللہ سے سنا تھا، پھر جب انہیں عمری کے واسطے سے بھی اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے اس کی تصحیح کر دی“۔
ابنِ رجبؒ بیان فرماتے ہیں کہ یہ کلام اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ امام یحییٰ القطانؒ کے نزدیک کسی روایت کی نکارت اس وقت تک زائل نہیں ہوتی جب تک کہ اس حدیث کی معرفت کسی دوسرے طریق سے حاصل نہ ہو جائے 86۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M77]
لیکن بسا اوقات میں ان ائمہ کے علمی مقام و مرتبے کو مجروح کیے بغیر اختصار کے ساتھ اپنی ترجیحات کی جانب اشارہ کر دیتا ہوں، اور اصل قاعدہ یہ ہے کہ جب ائمہ کسی حدیث کی تصحیح فرما دیں تو میں اس کی تضعیف، تاویل یا اسے منسوخ قرار دینے کے درپے نہیں ہوتا؛ کیونکہ تصحیح اس امر کی مقتضی ہے کہ ضعف کے تمام موانع مثلاً ارسال، انقطاع، سند میں اعضال، راویوں کا ضعف، نکارت، شذوذ اور اضطراب مفقود ہوں، ورنہ اس میں حد سے زیادہ تدقیق بہت سی صحیح احادیث کی تضعیف کا باعث بن سکتی ہے، الا یہ کہ وہ امام تصحیح میں تساہل کے حوالے سے معروف ہو جیسے امام ترمذی، ابنِ حبان اور حاکم وغیرہ، تو ایسی صورت میں اگر کوئی علت واضح ہو جائے تو ان سے اختلاف میں کوئی مضائقہ نہیں، اسی طرح اگر وہ کسی حدیث کی تضعیف کریں تو اس علت کو دور کرنے کی غرض سے تحقیق و جستجو میں کوئی حرج نہیں جس کی بنا پر انہوں نے اسے معلول قرار دیا تھا، اور 'الجامع الکامل' میں اس قبیل کی بکثرت مثالیں موجود ہیں جن میں سے میں یہاں صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں۔
اسحاق بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ابو عبد اللہ یعنی امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں عبید اللہ یعنی ابن عمر کی کسی خطا سے واقف نہیں ہوں سوائے ایک حدیث کے جو انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی عورت تین دن سے زائد کا سفر نہ کرے...“ (الحدیث)؛ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ پس یحییٰ بن سعید نے اس حدیث کی بابت ان پر نکارت کا اظہار کیا تھا۔
ابو عبداللہ (امام بخاری) بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے مجھ سے کہا: ”میں نے دیکھا کہ عمری صغیر نے بھی اسے نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمر سے اسی کی مثل روایت کیا ہے“؛ ابو عبداللہ نے فرمایا: ”انہوں نے اسے صرف عبید اللہ سے سنا تھا، پھر جب انہیں عمری کے واسطے سے بھی اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے اس کی تصحیح کر دی“۔
ابنِ رجبؒ بیان فرماتے ہیں کہ یہ کلام اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ امام یحییٰ القطانؒ کے نزدیک کسی روایت کی نکارت اس وقت تک زائل نہیں ہوتی جب تک کہ اس حدیث کی معرفت کسی دوسرے طریق سے حاصل نہ ہو جائے 86۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M77]
78. منهج المتقدمين والمتأخرين
متقدمین اور متاخرین کا علمی و تحقیقی منہج۔
حدیث نمبر: M78
لقد كَثُرَ القولُ بين طلبة العلم عن منهج المتقدمين والمتأخرين، وسألني بعض الطلبة الفرقَ بينهما فأجبتُ:
مما لا شكَّ فيه أن الأئمة المتقدمين لهم شأن في هذا العلم لاطلاعهم الواسع، واتصافهم بالانصاف، والديانة، والنصح، مثل شعبة، ويحيى بن سعيد القطان، وعبدالرحمن بن مهدي، وغيرهم.
ثم أصحابهم مثل أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ويحيى بن معين، وإسحاق بن راهويه وغيرهم.
ثم أصحابهم مثل البخاري، ومسلم، وأبي حاتم وأبي زرعة الرازيين، وأبي داود، والترمذي، وابن ماجه، والنسائي، وغيرهم.
ثم الدارقطني، والحاكم، والبيهقي، وابن عبد البر، والخطيب وغيرهم إلى نهاية القرن الخامس، وهي نهاية رواية الحديث، فكلام هولاء مقدمٌ على غيرهم لوفرة علمهم، ولوقوفهم على دقائق علم الحديث وعلله إلا ما ظهر لنا خطأهم مما لا مجال فيه للتأويل والتوجيه.
ثم إن المتقدمين والمتأخرين يجتمعون في بعض الصور، ويفترقون في صورٍ أخرى، مثل أن يُروى الحديثُ من أوجهٍ كثيرةٍ فمن المتقدمين مثل الشيخين وأبي داود وغيرهم يختارون من هذه الوجوه الإسنادَ النظيفَ الذي يتوفّر فيه شروطُ القبول، وليس فيه علةٌ قادحةٌ، ويتجاوزون عن بقية الطرق، ويدلّ على هذا قول البخاري: انتقيتُ هذا من كذا... وكذلك قول أبي داود، أي: أنّ هذه الأحاديث رُويتْ من طرقٍ أخرى، وليس كلها صحيحة.
وبه أخذ أيضا الحاكم، والبيهقي، وابن عبد البر، والخطيب، والنووي، وضياء الدين المقدسي، وابن عبد الهادي، وابن حجر وغيرهم.
ومن المتقدمين من يُعلّلون الحديثَ من كثرة الطرق فيختارون منها ما هو الأحوط مثل المرسل على الموصول، والموقوف على المرفوع، والمنقطع على المسند.
واختار هذا المنهج من الأئمة المتقدمين أبو حاتم وأبو زرعة الرازيان كما في علل ابن أبي حاتم، والنسائي في السنن الكبرى، والدارقطني في كتابه العلل، والإمام البخاري –أحيانا- كما في سؤالات الترمذي وغيرهم.
وخالفهم غيرهم فقدّموا الموصول على المرسل، والمرفوع على الموقوف، والمسند على المنقطع لزيادة العلم.
اختار هذا المنهج النووي، وابن الملقن، وابن كثير، وابن حجر وغيرهم.
وهنا تظهر قوة الباحث وتمكّنه في هذا العلم الشريف للتوفيق بين هذين المنهجين، واختيار ما هو الأصوب والأصحّ بالقرائن والشواهد. وكلٌّ لهم درجاتٌ عند ربهم، فمن أصاب فله أجران، ومن أخطأ فله أجرٌ واحدٌ، فإن الله تعالى قد ادّخر للمتأخر ما لم يقف عليه المتقدّم.
ومن جملة الاختلاف بين المتقدمين والمتأخرين أن المتقدمين كانوا ينظرون إلى كل حديث بإسناده، فيصحّحون أو يضعّفون بغضّ النظر عن وجود شواهد كثيرة أو قليلة له، وأما المتأخرون فيصحّحون الحديث الضعيف بالشواهد، ومنهم من يبالغ في تصحيح الأحاديث، وبعض رواتها متهمون أو متروكون بحجة:"قد يصدُقُ الكذوبُ".
وكثُرَ هذا المنهج في نهاية القرن الرابع وأوائل القرن الخامس، ومن أشهر العلماء الذين اختاروا منهج تصحيح الحديث بالشاهد هو أبو عبدالله الحاكم.
والصحيح في هذا، الوسطُ بين المنهجين وهو أن الراوي الضعيف الذي خفَّ ضعفُه مثل سيء الحفظ، ومن قيل فيه: ربما أخطأ، أو اختلط في آخره ونحوه، إذا وُجِدَ له شاهدٌ صحيحٌ يدلُّ على أنه لم يخطئ أو لم يَهِمْ فلا بأس بتصحيحه بالشاهد، وأما من وُصِفَ بشدّة الضعف، أو أنه متروك ومتهم فلا يتقوّى بالشاهد.
ومن جملة الاختلاف بينهم تصحيح حديث مجهول، من روى عنه راو مشهور أو جماعة ولم يوثق، فمنهج المتقدمين لم يكن واسعا في هذا المجال، وأنهم اختاروا من أحاديثه لوجود قرائن ودلائل بخلاف المتأخرين فإنهم وسّعوا في هذا الباب، والصحيح هو الوسط بين المنهجين، فمن كان من التابعين، وروى عنه جماعة، ولم يكن في حديثه نكارة، ولم يجرحه أحدٌ، ولحديثه أصلٌ ثابتٌ فلا بأس بتحسينه.
مما لا شكَّ فيه أن الأئمة المتقدمين لهم شأن في هذا العلم لاطلاعهم الواسع، واتصافهم بالانصاف، والديانة، والنصح، مثل شعبة، ويحيى بن سعيد القطان، وعبدالرحمن بن مهدي، وغيرهم.
ثم أصحابهم مثل أحمد بن حنبل، وعلي بن المديني، ويحيى بن معين، وإسحاق بن راهويه وغيرهم.
ثم أصحابهم مثل البخاري، ومسلم، وأبي حاتم وأبي زرعة الرازيين، وأبي داود، والترمذي، وابن ماجه، والنسائي، وغيرهم.
ثم الدارقطني، والحاكم، والبيهقي، وابن عبد البر، والخطيب وغيرهم إلى نهاية القرن الخامس، وهي نهاية رواية الحديث، فكلام هولاء مقدمٌ على غيرهم لوفرة علمهم، ولوقوفهم على دقائق علم الحديث وعلله إلا ما ظهر لنا خطأهم مما لا مجال فيه للتأويل والتوجيه.
ثم إن المتقدمين والمتأخرين يجتمعون في بعض الصور، ويفترقون في صورٍ أخرى، مثل أن يُروى الحديثُ من أوجهٍ كثيرةٍ فمن المتقدمين مثل الشيخين وأبي داود وغيرهم يختارون من هذه الوجوه الإسنادَ النظيفَ الذي يتوفّر فيه شروطُ القبول، وليس فيه علةٌ قادحةٌ، ويتجاوزون عن بقية الطرق، ويدلّ على هذا قول البخاري: انتقيتُ هذا من كذا... وكذلك قول أبي داود، أي: أنّ هذه الأحاديث رُويتْ من طرقٍ أخرى، وليس كلها صحيحة.
وبه أخذ أيضا الحاكم، والبيهقي، وابن عبد البر، والخطيب، والنووي، وضياء الدين المقدسي، وابن عبد الهادي، وابن حجر وغيرهم.
ومن المتقدمين من يُعلّلون الحديثَ من كثرة الطرق فيختارون منها ما هو الأحوط مثل المرسل على الموصول، والموقوف على المرفوع، والمنقطع على المسند.
واختار هذا المنهج من الأئمة المتقدمين أبو حاتم وأبو زرعة الرازيان كما في علل ابن أبي حاتم، والنسائي في السنن الكبرى، والدارقطني في كتابه العلل، والإمام البخاري –أحيانا- كما في سؤالات الترمذي وغيرهم.
وخالفهم غيرهم فقدّموا الموصول على المرسل، والمرفوع على الموقوف، والمسند على المنقطع لزيادة العلم.
اختار هذا المنهج النووي، وابن الملقن، وابن كثير، وابن حجر وغيرهم.
وهنا تظهر قوة الباحث وتمكّنه في هذا العلم الشريف للتوفيق بين هذين المنهجين، واختيار ما هو الأصوب والأصحّ بالقرائن والشواهد. وكلٌّ لهم درجاتٌ عند ربهم، فمن أصاب فله أجران، ومن أخطأ فله أجرٌ واحدٌ، فإن الله تعالى قد ادّخر للمتأخر ما لم يقف عليه المتقدّم.
ومن جملة الاختلاف بين المتقدمين والمتأخرين أن المتقدمين كانوا ينظرون إلى كل حديث بإسناده، فيصحّحون أو يضعّفون بغضّ النظر عن وجود شواهد كثيرة أو قليلة له، وأما المتأخرون فيصحّحون الحديث الضعيف بالشواهد، ومنهم من يبالغ في تصحيح الأحاديث، وبعض رواتها متهمون أو متروكون بحجة:"قد يصدُقُ الكذوبُ".
وكثُرَ هذا المنهج في نهاية القرن الرابع وأوائل القرن الخامس، ومن أشهر العلماء الذين اختاروا منهج تصحيح الحديث بالشاهد هو أبو عبدالله الحاكم.
والصحيح في هذا، الوسطُ بين المنهجين وهو أن الراوي الضعيف الذي خفَّ ضعفُه مثل سيء الحفظ، ومن قيل فيه: ربما أخطأ، أو اختلط في آخره ونحوه، إذا وُجِدَ له شاهدٌ صحيحٌ يدلُّ على أنه لم يخطئ أو لم يَهِمْ فلا بأس بتصحيحه بالشاهد، وأما من وُصِفَ بشدّة الضعف، أو أنه متروك ومتهم فلا يتقوّى بالشاهد.
ومن جملة الاختلاف بينهم تصحيح حديث مجهول، من روى عنه راو مشهور أو جماعة ولم يوثق، فمنهج المتقدمين لم يكن واسعا في هذا المجال، وأنهم اختاروا من أحاديثه لوجود قرائن ودلائل بخلاف المتأخرين فإنهم وسّعوا في هذا الباب، والصحيح هو الوسط بين المنهجين، فمن كان من التابعين، وروى عنه جماعة، ولم يكن في حديثه نكارة، ولم يجرحه أحدٌ، ولحديثه أصلٌ ثابتٌ فلا بأس بتحسينه.
اہلِ علم کے مابین متقدمین اور متاخرین کے منہج کے متعلق گفتگو کی کثرت ہو گئی ہے، اور مجھ سے بعض طلبہ نے ان دونوں کے مابین پائے جانے والے فرق کے بارے میں استفسار کیا، تو میں نے یوں جواب دیا:
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ائمہِ متقدمین اپنے وسیع مطالعے اور انصاف پسندی، دین داری اور خیر خواہی جیسی صفاتِ عالیہ سے متصف ہونے کے سبب اس علم میں ایک بلند مقام و مرتبت کے حامل ہیں، جن میں امام شعبہ، یحییٰ بن سعید القطان اور عبدالرحمن بن مہدی وغیرہم جیسی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔
پھر ان کے اصحاب و رفقاء کا درجہ ہے جیسے احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین، اسحاق بن راہویہ اور ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر ائمہ۔
پھر ان کے تلامذہ و معاصرین کا طبقہ ہے جیسے امام بخاری، امام مسلم، ابو حاتم اور ابو زرعہ رازیین، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام نسائی اور ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر ائمہ و محدثین۔
پھر امام دارقطنی، حاکم، بیہقی، ابن عبد البر اور خطیب وغیرہ پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک، جو کہ روایتِ حدیث کے دور کا اختتام ہے، پس ان جلیل القدر ائمہ کے اقوال دوسروں پر مقدم و فائق ہیں؛ کیونکہ ان کا علم نہایت وسیع ہے اور وہ علمِ حدیث کے غوامض، دقیق پہلوؤں اور پوشیدہ علتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، سوائے ان مقامات کے جہاں ان کی ایسی صریح غلطی سامنے آ جائے جس میں کسی علمی تاویل یا توجیہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہ ہو۔
پھر یہ کہ متقدمین اور متاخرین بعض صورتوں میں باہم متفق ہوتے ہیں اور دیگر صورتوں میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، مثلاً جب ایک حدیث کثیر سندوں سے مروی ہو تو متقدمین میں سے شیخین، امام ابو داؤد اور دیگر ائمہ ان وجوہ میں سے اس عمدہ اور صاف ستھری سند کا انتخاب کرتے ہیں جس میں قبولیت کی تمام شرائط بدرجہ اتم موجود ہوں اور وہ کسی بھی قسم کی علتِ قادحہ سے پاک ہو، جبکہ وہ بقیہ طرق سے صرفِ نظر کر لیتے ہیں، امام بخاری کا یہ ارشاد: "میں نے اسے اتنی احادیث سے منتخب کیا ہے" اسی منہج پر دلالت کرتا ہے، اور اسی طرح امام ابو داؤد کا قول بھی، جس کا مقصود یہ ہے کہ یہ احادیث دیگر طرق سے بھی مروی ہیں لیکن وہ سب کی سب صحیح نہیں ہیں۔
اسی موقف و مسلک کو امام حاکم، امام بیہقی، علامہ ابن عبد البر، خطیب بغدادی، امام نووی، ضیاء الدین مقدسی، ابن عبد الہادی، حافظ ابن حجر اور دیگر جلیل القدر ائمہ و محدثین نے بھی اختیار کیا ہے۔
متقدمینِ علمائے حدیث میں سے بعض وہ ہیں جو کثرتِ طرق کی بنا پر حدیث کی تعلیل کرتے ہیں اور ان میں سے اس صورت کو اختیار فرماتے ہیں جو احتیاط کے زیادہ قریب ہو، مثلاً وہ موصول کے مقابلے میں مرسل کو، مرفوع کے مقابلے میں موقوف کو اور مسند کے مقابلے میں منقطع کو ترجیح دیتے ہیں۔
ائمیہ متقدمین میں سے اس اسلوب و منہج کو امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رازی نے اختیار کیا ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم کی کتاب "العلل" میں مرقوم ہے، نیز امام نسائی نے "السنن الکبریٰ" میں، امام دارقطنی نے اپنی تصنیف "العلل" میں اور امام بخاری نے بھی بعض اوقات اسی روش کو اپنایا ہے جیسا کہ "سوالاتِ ترمذی" وغیرہ سے ظاہر ہے۔
دیگر اہل علم نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے موصول روایت کو مرسل پر، مرفوع کو موقوف پر اور مسند کو منقطع پر محض اس بنا پر مقدم رکھا ہے کہ ان صورتوں میں علم کی زیادتی و اضافت پائی جاتی ہے۔
اس منہج کو امام نووی، ابن الملقن، ابن کثیر، ابن حجر اور دیگر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
یہیں اس علمِ شریف میں محقق کی علمی قوت اور اس کی مہارت و دسترس کا ظہور ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ان دونوں منہجوں کے درمیان تطبیق پیدا کرتا ہے اور قرائن و شواہد کی بنیاد پر اصوب و اصح قول کا انتخاب کرتا ہے، اور ان سب کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں، چنانچہ جس نے حق کو پالیا اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جس سے خطا ہوئی اس کے لیے ایک اجر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پچھلوں کے لیے وہ علمی اسرار و نکات محفوظ کر رکھے ہیں جن سے پہلوں کو آگاہی نہ ہو سکی۔
متقدمین اور متاخرین کے مابین پائے جانے والے اختلافات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ متقدمین ہر حدیث کو اس کی مخصوص سند کی روشنی میں دیکھتے تھے، چنانچہ وہ شواہد کی کثرت یا قلت سے قطعِ نظر اس کی تصحیح یا تضعیف کیا کرتے تھے، جبکہ اس کے برعکس متاخرین ضعیف حدیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دے دیتے ہیں، اور ان میں سے بعض تو احادیث کی تصحیح میں اس درجہ مبالغہ برتتے ہیں کہ ان روایات کو بھی صحیح قرار دے دیتے ہیں جن کے بعض راوی متہم یا متروک ہوتے ہیں اور اس کے لیے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ "کبھی جھوٹا بھی سچ بول دیتا ہے"۔
یہ علمی منہج چوتھی صدی ہجری کے اواخر اور پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں بکثرت رائج ہوا، اور ان ممتاز علماء میں جنہوں نے شواہد کی بنیاد پر حدیث کی تصحیح کے اسلوب کو اختیار کیا، ابو عبداللہ الحاکم سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔
اس باب میں قولِ فیصل اور راہِ اعتدال یہ ہے کہ وہ ضعیف راوی جس کا ضعف خفیف ہو، جیسے سئی الحفظ (کمزور حافظے والا)، یا وہ جس کے متعلق یہ کہا گیا ہو کہ 'وہ بسا اوقات خطا کر جاتا ہے' یا 'عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا' اور اسی نوع کے دیگر الفاظ، تو جب اس کے لیے ایسی 'شاہدِ صحیح' (صحیح تائیدی روایت) مل جائے جو اس بات پر دلالت کرے کہ اس مخصوص روایت میں اس سے نہ تو خطا ہوئی ہے اور نہ ہی وہم، تو اس شاہد کی بنیاد پر ایسی روایت کی تصحیح میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن جس راوی کو شدید ضعف کے ساتھ متصف کیا گیا ہو یا وہ 'متروک' اور 'متہم' ہو، تو ایسا راوی کسی شاہد کے ذریعے بھی تقویت حاصل نہیں کر سکے گا۔
علماء کے مابین پائے جانے والے اختلافات میں سے ایک اختلاف ایسے مجہول راوی کی حدیث کو صحیح قرار دینے کے متعلق ہے جس سے کسی مشہور راوی یا ایک جماعت نے روایت تو کی ہو لیکن اس کی باقاعدہ توثیق نہ ہوئی ہو، پس اس سلسلے میں متقدمین کا منہج زیادہ وسیع نہیں تھا اور انہوں نے ایسے راوی کی احادیث کا انتخاب محض قرائن و شواہد کی بنیاد پر کیا، بخلاف متأخرین کے کہ انہوں نے اس باب میں وسعت سے کام لیا، جبکہ صحیح موقف ان دونوں مناہج کے مابین راہِ اعتدال ہے، چنانچہ جو راوی تابعین میں سے ہو، اس سے ایک جماعت نے روایت کی ہو، اس کی حدیث میں کوئی نکارت نہ ہو، کسی نے اسے مجروح قرار نہ دیا ہو اور اس کی حدیث کی کوئی ثابت شدہ اصل بھی موجود ہو، تو اسے درجۂ حسن میں شمار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M78]
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ائمہِ متقدمین اپنے وسیع مطالعے اور انصاف پسندی، دین داری اور خیر خواہی جیسی صفاتِ عالیہ سے متصف ہونے کے سبب اس علم میں ایک بلند مقام و مرتبت کے حامل ہیں، جن میں امام شعبہ، یحییٰ بن سعید القطان اور عبدالرحمن بن مہدی وغیرہم جیسی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں۔
پھر ان کے اصحاب و رفقاء کا درجہ ہے جیسے احمد بن حنبل، علی بن المدینی، یحییٰ بن معین، اسحاق بن راہویہ اور ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر ائمہ۔
پھر ان کے تلامذہ و معاصرین کا طبقہ ہے جیسے امام بخاری، امام مسلم، ابو حاتم اور ابو زرعہ رازیین، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام نسائی اور ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر ائمہ و محدثین۔
پھر امام دارقطنی، حاکم، بیہقی، ابن عبد البر اور خطیب وغیرہ پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک، جو کہ روایتِ حدیث کے دور کا اختتام ہے، پس ان جلیل القدر ائمہ کے اقوال دوسروں پر مقدم و فائق ہیں؛ کیونکہ ان کا علم نہایت وسیع ہے اور وہ علمِ حدیث کے غوامض، دقیق پہلوؤں اور پوشیدہ علتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، سوائے ان مقامات کے جہاں ان کی ایسی صریح غلطی سامنے آ جائے جس میں کسی علمی تاویل یا توجیہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہ ہو۔
پھر یہ کہ متقدمین اور متاخرین بعض صورتوں میں باہم متفق ہوتے ہیں اور دیگر صورتوں میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، مثلاً جب ایک حدیث کثیر سندوں سے مروی ہو تو متقدمین میں سے شیخین، امام ابو داؤد اور دیگر ائمہ ان وجوہ میں سے اس عمدہ اور صاف ستھری سند کا انتخاب کرتے ہیں جس میں قبولیت کی تمام شرائط بدرجہ اتم موجود ہوں اور وہ کسی بھی قسم کی علتِ قادحہ سے پاک ہو، جبکہ وہ بقیہ طرق سے صرفِ نظر کر لیتے ہیں، امام بخاری کا یہ ارشاد: "میں نے اسے اتنی احادیث سے منتخب کیا ہے" اسی منہج پر دلالت کرتا ہے، اور اسی طرح امام ابو داؤد کا قول بھی، جس کا مقصود یہ ہے کہ یہ احادیث دیگر طرق سے بھی مروی ہیں لیکن وہ سب کی سب صحیح نہیں ہیں۔
اسی موقف و مسلک کو امام حاکم، امام بیہقی، علامہ ابن عبد البر، خطیب بغدادی، امام نووی، ضیاء الدین مقدسی، ابن عبد الہادی، حافظ ابن حجر اور دیگر جلیل القدر ائمہ و محدثین نے بھی اختیار کیا ہے۔
متقدمینِ علمائے حدیث میں سے بعض وہ ہیں جو کثرتِ طرق کی بنا پر حدیث کی تعلیل کرتے ہیں اور ان میں سے اس صورت کو اختیار فرماتے ہیں جو احتیاط کے زیادہ قریب ہو، مثلاً وہ موصول کے مقابلے میں مرسل کو، مرفوع کے مقابلے میں موقوف کو اور مسند کے مقابلے میں منقطع کو ترجیح دیتے ہیں۔
ائمیہ متقدمین میں سے اس اسلوب و منہج کو امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ رازی نے اختیار کیا ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم کی کتاب "العلل" میں مرقوم ہے، نیز امام نسائی نے "السنن الکبریٰ" میں، امام دارقطنی نے اپنی تصنیف "العلل" میں اور امام بخاری نے بھی بعض اوقات اسی روش کو اپنایا ہے جیسا کہ "سوالاتِ ترمذی" وغیرہ سے ظاہر ہے۔
دیگر اہل علم نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے موصول روایت کو مرسل پر، مرفوع کو موقوف پر اور مسند کو منقطع پر محض اس بنا پر مقدم رکھا ہے کہ ان صورتوں میں علم کی زیادتی و اضافت پائی جاتی ہے۔
اس منہج کو امام نووی، ابن الملقن، ابن کثیر، ابن حجر اور دیگر اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
یہیں اس علمِ شریف میں محقق کی علمی قوت اور اس کی مہارت و دسترس کا ظہور ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ان دونوں منہجوں کے درمیان تطبیق پیدا کرتا ہے اور قرائن و شواہد کی بنیاد پر اصوب و اصح قول کا انتخاب کرتا ہے، اور ان سب کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں، چنانچہ جس نے حق کو پالیا اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور جس سے خطا ہوئی اس کے لیے ایک اجر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پچھلوں کے لیے وہ علمی اسرار و نکات محفوظ کر رکھے ہیں جن سے پہلوں کو آگاہی نہ ہو سکی۔
متقدمین اور متاخرین کے مابین پائے جانے والے اختلافات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ متقدمین ہر حدیث کو اس کی مخصوص سند کی روشنی میں دیکھتے تھے، چنانچہ وہ شواہد کی کثرت یا قلت سے قطعِ نظر اس کی تصحیح یا تضعیف کیا کرتے تھے، جبکہ اس کے برعکس متاخرین ضعیف حدیث کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دے دیتے ہیں، اور ان میں سے بعض تو احادیث کی تصحیح میں اس درجہ مبالغہ برتتے ہیں کہ ان روایات کو بھی صحیح قرار دے دیتے ہیں جن کے بعض راوی متہم یا متروک ہوتے ہیں اور اس کے لیے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ "کبھی جھوٹا بھی سچ بول دیتا ہے"۔
یہ علمی منہج چوتھی صدی ہجری کے اواخر اور پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں بکثرت رائج ہوا، اور ان ممتاز علماء میں جنہوں نے شواہد کی بنیاد پر حدیث کی تصحیح کے اسلوب کو اختیار کیا، ابو عبداللہ الحاکم سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔
اس باب میں قولِ فیصل اور راہِ اعتدال یہ ہے کہ وہ ضعیف راوی جس کا ضعف خفیف ہو، جیسے سئی الحفظ (کمزور حافظے والا)، یا وہ جس کے متعلق یہ کہا گیا ہو کہ 'وہ بسا اوقات خطا کر جاتا ہے' یا 'عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا' اور اسی نوع کے دیگر الفاظ، تو جب اس کے لیے ایسی 'شاہدِ صحیح' (صحیح تائیدی روایت) مل جائے جو اس بات پر دلالت کرے کہ اس مخصوص روایت میں اس سے نہ تو خطا ہوئی ہے اور نہ ہی وہم، تو اس شاہد کی بنیاد پر ایسی روایت کی تصحیح میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن جس راوی کو شدید ضعف کے ساتھ متصف کیا گیا ہو یا وہ 'متروک' اور 'متہم' ہو، تو ایسا راوی کسی شاہد کے ذریعے بھی تقویت حاصل نہیں کر سکے گا۔
علماء کے مابین پائے جانے والے اختلافات میں سے ایک اختلاف ایسے مجہول راوی کی حدیث کو صحیح قرار دینے کے متعلق ہے جس سے کسی مشہور راوی یا ایک جماعت نے روایت تو کی ہو لیکن اس کی باقاعدہ توثیق نہ ہوئی ہو، پس اس سلسلے میں متقدمین کا منہج زیادہ وسیع نہیں تھا اور انہوں نے ایسے راوی کی احادیث کا انتخاب محض قرائن و شواہد کی بنیاد پر کیا، بخلاف متأخرین کے کہ انہوں نے اس باب میں وسعت سے کام لیا، جبکہ صحیح موقف ان دونوں مناہج کے مابین راہِ اعتدال ہے، چنانچہ جو راوی تابعین میں سے ہو، اس سے ایک جماعت نے روایت کی ہو، اس کی حدیث میں کوئی نکارت نہ ہو، کسی نے اسے مجروح قرار نہ دیا ہو اور اس کی حدیث کی کوئی ثابت شدہ اصل بھی موجود ہو، تو اسے درجۂ حسن میں شمار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M78]
79. مصادر تصحيح المتقدمين للأحاديث
احادیث کی تصحیح و توثیق کے باب میں متقدمین (ائمہِ سلف) کے علمی مآخذ و مصادر۔
حدیث نمبر: M79
أولاً: كتب الصّحاح
التي أُلّفَتْ إلى عصر الحاكم النيسابوري مثل صحيح البخاري، وصحيح مسلم، وصحيح ابن خزيمة، وصحيح ابن حبان، والمستدرك للحاكم.
ثانيًا: كتب السنن
مثل تصحيح الترمذي في كتابه"السنن"، وكذا تصحيح أبي داود، والنسائي، والدارقطني وغيرهم لبعض الأحاديث في كتبهم"السنن".
ثالثًا: كتب المسانيد
مثل مسند البزار فإنّ مؤلفه أحيانًا يبيّن حكمَ الحديث تحسينَه وتصحيحَه، ولم أقف على غيره من أصحاب المسانيد من اهتمَّ بتصحيح الحديث في مسنده.
رابعًا: كتب العلل
مثل علل ابن المديني، وعلل الإمام أحمد، وعلل الترمذي، وعلل ابن أبي حاتم، وعلل الدراقطني وغيرهم.
خامسًا: كتب السؤالات
مثل سؤالات أبي داود لأحمد، سؤالات الآجري لأبي داود، سؤالات ابن الجنيد لابن معين، وسؤالات البرقاني للدارقطني وغيرها.
سادسًا: كتب الرجال
مثل تاريخ ابن معين، والجرح والتعديل لابن أبي حاتم، والكامل لابن عدي وغيرها. وأصحاب كتب التخريج غالبا ينقلون الأحكام في تصحيح الأئمة من هذه الكتب.
التي أُلّفَتْ إلى عصر الحاكم النيسابوري مثل صحيح البخاري، وصحيح مسلم، وصحيح ابن خزيمة، وصحيح ابن حبان، والمستدرك للحاكم.
ثانيًا: كتب السنن
مثل تصحيح الترمذي في كتابه"السنن"، وكذا تصحيح أبي داود، والنسائي، والدارقطني وغيرهم لبعض الأحاديث في كتبهم"السنن".
ثالثًا: كتب المسانيد
مثل مسند البزار فإنّ مؤلفه أحيانًا يبيّن حكمَ الحديث تحسينَه وتصحيحَه، ولم أقف على غيره من أصحاب المسانيد من اهتمَّ بتصحيح الحديث في مسنده.
رابعًا: كتب العلل
مثل علل ابن المديني، وعلل الإمام أحمد، وعلل الترمذي، وعلل ابن أبي حاتم، وعلل الدراقطني وغيرهم.
خامسًا: كتب السؤالات
مثل سؤالات أبي داود لأحمد، سؤالات الآجري لأبي داود، سؤالات ابن الجنيد لابن معين، وسؤالات البرقاني للدارقطني وغيرها.
سادسًا: كتب الرجال
مثل تاريخ ابن معين، والجرح والتعديل لابن أبي حاتم، والكامل لابن عدي وغيرها. وأصحاب كتب التخريج غالبا ينقلون الأحكام في تصحيح الأئمة من هذه الكتب.
اولاً: کتبِ صحاح (یعنی وہ مستند کتب جن میں احادیثِ صحیحہ کو جمع کرنے کا التزام کیا گیا ہے)۔
وہ کتب جو امام حاکم نیشاپوری کے عہد تک تالیف کی گئیں، مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان اور امام حاکم کی المستدرک۔
ثانياً: کتبِ سنن۔
مثلاً امام ترمذی کا اپنی کتاب "السنن" میں بعض احادیث کی تصحیح فرمانا، اور اسی طرح امام ابو داؤد، امام نسائی، امام دارقطنی اور دیگر ائمہ کا اپنی کتبِ "سنن" میں بعض احادیث کو صحیح قرار دینا ہے۔
تیسری قسم: کتبِ مسانید۔
جیسے مسندِ بزار کہ اس کے مؤلف بسا اوقات حدیث کا حکم یعنی اس کے حسن یا صحیح ہونے کی صراحت کر دیتے ہیں، اور اصحابِ مسانید میں ان کے علاوہ میری نظر سے کوئی ایسا صاحبِ تصنیف نہیں گزرا جس نے اپنی مسند میں احادیث کی تصحیح و تحسین کا باقاعدہ اہتمام کیا ہو۔
چوتھی قسم: کتبِ عِلل (یعنی وہ کتب جو احادیث کے پوشیدہ فنی اسقام اور مخفی عیوبِ ضعف کے بیان پر مشتمل ہیں)۔
مثلاً علل ابن المدینی، عللِ امام احمد، عللِ ترمذی، عللِ ابن ابی حاتم اور عللِ دارقطنی وغیرہم۔
پنجم: کتبِ سوالات۔
مثلاً امام ابو داؤد کے امام احمد بن حنبل سے مرویاتِ سوالات، امام آجری کے امام ابو داؤد سے استفسارات، ابن الجنید کے امام ابنِ معین سے منقول سوالات، اور امام برقانی کے امام دارقطنی سے کیے گئے سوالات اور ان کے علاوہ دیگر علمی سوالات کی کتب۔
چھٹا: کتبِ اسماء الرجال۔
مثلاً تاریخ ابنِ معین، ابنِ ابی حاتم کی الجرح والتعدیل، اور ابنِ عدی کی الکامل وغیرہ؛ نیز کتبِ تخریج کے مؤلفین بالعموم ائمہ کی جانب سے دی گئی تصحیحِ احادیث کی آراء و احکام انہی کتب سے اخذ و نقل کرتے ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M79]
وہ کتب جو امام حاکم نیشاپوری کے عہد تک تالیف کی گئیں، مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان اور امام حاکم کی المستدرک۔
ثانياً: کتبِ سنن۔
مثلاً امام ترمذی کا اپنی کتاب "السنن" میں بعض احادیث کی تصحیح فرمانا، اور اسی طرح امام ابو داؤد، امام نسائی، امام دارقطنی اور دیگر ائمہ کا اپنی کتبِ "سنن" میں بعض احادیث کو صحیح قرار دینا ہے۔
تیسری قسم: کتبِ مسانید۔
جیسے مسندِ بزار کہ اس کے مؤلف بسا اوقات حدیث کا حکم یعنی اس کے حسن یا صحیح ہونے کی صراحت کر دیتے ہیں، اور اصحابِ مسانید میں ان کے علاوہ میری نظر سے کوئی ایسا صاحبِ تصنیف نہیں گزرا جس نے اپنی مسند میں احادیث کی تصحیح و تحسین کا باقاعدہ اہتمام کیا ہو۔
چوتھی قسم: کتبِ عِلل (یعنی وہ کتب جو احادیث کے پوشیدہ فنی اسقام اور مخفی عیوبِ ضعف کے بیان پر مشتمل ہیں)۔
مثلاً علل ابن المدینی، عللِ امام احمد، عللِ ترمذی، عللِ ابن ابی حاتم اور عللِ دارقطنی وغیرہم۔
پنجم: کتبِ سوالات۔
مثلاً امام ابو داؤد کے امام احمد بن حنبل سے مرویاتِ سوالات، امام آجری کے امام ابو داؤد سے استفسارات، ابن الجنید کے امام ابنِ معین سے منقول سوالات، اور امام برقانی کے امام دارقطنی سے کیے گئے سوالات اور ان کے علاوہ دیگر علمی سوالات کی کتب۔
چھٹا: کتبِ اسماء الرجال۔
مثلاً تاریخ ابنِ معین، ابنِ ابی حاتم کی الجرح والتعدیل، اور ابنِ عدی کی الکامل وغیرہ؛ نیز کتبِ تخریج کے مؤلفین بالعموم ائمہ کی جانب سے دی گئی تصحیحِ احادیث کی آراء و احکام انہی کتب سے اخذ و نقل کرتے ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M79]
80. الفرق بين توثيق المتقدمين وتوثيق المتأخرين
ائمہ متقدمین اور ائمہ متاخرین کی توثیقِ رواۃ کے مابین پائے جانے والے فرق و امتیاز کا بیان۔
حدیث نمبر: M80
فنقبل توثيق المتقدمين أعني به الأئمة الذين كانوا قبل نهاية القرن الرابع الهجري مثل أئمة القرون الثلاثة ثم الذين جاءوا بعدهم مثل: النسائي، وابن خزيمة، والعقيلي، وابن أبي حاتم، وابن حبان، وابن عدي، وأبو أحمد الحاكم، وابن شاهين، والدارقطني، والأزدي وغيرهم.
وأما توثيق المتأخرين الذين جاؤوا بعدهم فإنْ كان مبنيًّا على كلام أهل العلم الذين سبقوهم فهو مقبول، وإلاّ فيُتوقّف حتى يتبيّن لنا وجه توثيقهم وإنْ كان عصرُ الرواية استمرَّ إلى القرن الخامس مثل توثيق الخطيب البغدادي (ت 463هـ) ، فإنه إنْ وثّقَ راويًا في القرن الثالث ولم يوثّقه أحدٌ ممن سبقه، فيكون حكمه عليه بسبر مروياته ظنًّا منه بأنه لم يخطئ فيها، وهو قد يُصيبُ في ظنّه هذا، وقد يُخطئ، وله أمثلة في الجامع الكامل.
وأما توثيق المتأخرين الذين جاؤوا بعدهم فإنْ كان مبنيًّا على كلام أهل العلم الذين سبقوهم فهو مقبول، وإلاّ فيُتوقّف حتى يتبيّن لنا وجه توثيقهم وإنْ كان عصرُ الرواية استمرَّ إلى القرن الخامس مثل توثيق الخطيب البغدادي (ت 463هـ) ، فإنه إنْ وثّقَ راويًا في القرن الثالث ولم يوثّقه أحدٌ ممن سبقه، فيكون حكمه عليه بسبر مروياته ظنًّا منه بأنه لم يخطئ فيها، وهو قد يُصيبُ في ظنّه هذا، وقد يُخطئ، وله أمثلة في الجامع الكامل.
چنانچہ ہم متقدمین کی توثیق کو قبول کرتے ہیں، جن سے میری مراد وہ ائمہ عظام ہیں جو چوتھی صدی ہجری کے اختتام سے قبل گزرے ہیں، جیسے کہ قرونِ ثلاثہ کے ائمہ اور پھر ان کے مابعد آنے والے حضرات، مثلاً: النسائی، ابن خزیمہ، العقیلی، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابن عدی، ابو احمد الحاکم، ابن شاہین، الدارقطنی اور الازدی وغیرہ۔
رہا ان متاخرین کا کسی راوی کو ثقہ قرار دینا جو متقدمین کے بعد تشریف لائے، تو اگر ان کی یہ توثیق ان سے پہلے گزرے ہوئے اہل علم کے اقوال پر مبنی ہو تو وہ مقبول ہے، بصورتِ دیگر اس وقت تک توقف کیا جائے گا جب تک کہ ان کی توثیق کی بنیاد ہم پر واضح نہ ہو جائے، خواہ روایتِ حدیث کا عہد پانچویں صدی ہجری تک ہی کیوں نہ ممتد رہا ہو جیسا کہ خطیب بغدادی (وفات 463ھ) کی توثیق کا معاملہ ہے؛ کیونکہ اگر وہ تیسری صدی ہجری کے کسی ایسے راوی کی توثیق کریں جس کی ان سے پہلے کسی نے توثیق نہ کی ہو، تو ان کا یہ حکم مذکورہ راوی کی مرویات کے بنظرِ غائر مطالعہ اور جانچ پرکھ (سبر) پر مبنی ہوگا، اس گمان کے تحت کہ اس نے ان روایات میں کوئی غلطی نہیں کی، اور وہ اپنے اس گمان میں کبھی راہِ صواب پر ہوتے ہیں اور کبھی ان سے خطا بھی ہو سکتی ہے، اور اس کی مثالیں 'الجامع الکامل' میں موجود ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M80]
رہا ان متاخرین کا کسی راوی کو ثقہ قرار دینا جو متقدمین کے بعد تشریف لائے، تو اگر ان کی یہ توثیق ان سے پہلے گزرے ہوئے اہل علم کے اقوال پر مبنی ہو تو وہ مقبول ہے، بصورتِ دیگر اس وقت تک توقف کیا جائے گا جب تک کہ ان کی توثیق کی بنیاد ہم پر واضح نہ ہو جائے، خواہ روایتِ حدیث کا عہد پانچویں صدی ہجری تک ہی کیوں نہ ممتد رہا ہو جیسا کہ خطیب بغدادی (وفات 463ھ) کی توثیق کا معاملہ ہے؛ کیونکہ اگر وہ تیسری صدی ہجری کے کسی ایسے راوی کی توثیق کریں جس کی ان سے پہلے کسی نے توثیق نہ کی ہو، تو ان کا یہ حکم مذکورہ راوی کی مرویات کے بنظرِ غائر مطالعہ اور جانچ پرکھ (سبر) پر مبنی ہوگا، اس گمان کے تحت کہ اس نے ان روایات میں کوئی غلطی نہیں کی، اور وہ اپنے اس گمان میں کبھی راہِ صواب پر ہوتے ہیں اور کبھی ان سے خطا بھی ہو سکتی ہے، اور اس کی مثالیں 'الجامع الکامل' میں موجود ہیں۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M80]