الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. الفرق بين المحدثين المؤلفين في الحديث، وبين المحدثين المؤلفين في الرجال
حدیثِ مبارکہ کے موضوع پر کتب تالیف کرنے والے محدثین اور علمِ اسماء الرجال کے فن میں تصنیف و تالیف کی خدمات انجام دینے والے محدثین کے مابین پایا جانے والا تفاوت و فرق۔
حدیث نمبر: M81
المحدثون المؤلفون في الحديث نظروا إلى متن الحديث، فإذا كان الحديث له أصول ثابتة صحّحوا الأحاديث التي في رجاله جهالة، أو ضعف خفيف، لأن مقصدهم في تأليفهم الاحتجاج بالأحاديث الواردة في الباب مثل أبي داود، والترمذي، والنسائي، وابن ماجه، والدارقطني، وابن خزيمة، وابن حبان، والبيهقي،وغيرهم، بخلاف المؤلفين في الرجال مثل يحيى بن معين، وعلي بن المديني، والبخاري في تواريخه، وابن أبي حاتم في الجرح والتعديل، وغيرهم.
فيجب على المشتغلين بالحديث مراعاة هذا الجانب فإن الحكم على الرجل بالضعف لا يجعل جميع أحاديثه ضعيفة كما أن الحكم على الرجل بالثقة لا يجعل جميع أحاديثه صحيحة، وهنا يأتي دور المحدث في استعمال دراية علم الحديث في تخريج الأحاديث.
ومن أوائل هولاء الذين كانوا قدوة الإمام النووي (ت 676هـ) في كتابه"خلاصة الأحكام في مهمات السنن وقواعد الإسلام"، وفي كتابه"المجموع شرح المهذب"، والحافظ الزيلعي (ت 726هـ) في كتابه"نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية"، وابن الملقن (ت 804 هـ) في كتابه"البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير" وغيرهم.
وتجد أيها القارئ الكريم في الجامع الكامل تطبيق هذا المنهج.
فيجب على المشتغلين بالحديث مراعاة هذا الجانب فإن الحكم على الرجل بالضعف لا يجعل جميع أحاديثه ضعيفة كما أن الحكم على الرجل بالثقة لا يجعل جميع أحاديثه صحيحة، وهنا يأتي دور المحدث في استعمال دراية علم الحديث في تخريج الأحاديث.
ومن أوائل هولاء الذين كانوا قدوة الإمام النووي (ت 676هـ) في كتابه"خلاصة الأحكام في مهمات السنن وقواعد الإسلام"، وفي كتابه"المجموع شرح المهذب"، والحافظ الزيلعي (ت 726هـ) في كتابه"نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية"، وابن الملقن (ت 804 هـ) في كتابه"البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير" وغيرهم.
وتجد أيها القارئ الكريم في الجامع الكامل تطبيق هذا المنهج.
وہ محدثین جو کتبِ حدیث کے مصنف ہیں، انہوں نے حدیث کے متن کو ملحوظ رکھا ہے، چنانچہ جب کسی حدیث کے اصول (دیگر شواہد سے) ثابت ہوں تو وہ ایسی احادیث کی تصحیح کر دیتے ہیں جن کے راویوں میں جہالت یا معمولی ضعف پایا جاتا ہو، کیونکہ ان کی تالیف کا مقصد متعلقہ باب میں وارد شدہ احادیث سے استدلال و احتجاج کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ امام ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارقطنی، ابن خزیمہ، ابن حبان اور بیہقی وغیرہ کا طریقِ کار ہے، بخلاف ان مصنفین کے جن کا موضوعِ تالیف اسماء الرجال ہے، جیسے یحییٰ بن معین، علی بن مدینی، امام بخاری اپنی کتبِ تواریخ میں اور ابن ابی حاتم 'الجرح والتعدیل' میں، وغیرہ۔
پس فنِ حدیث کے غواصوں اور اس کے مشتغلین پر اس پہلو کو ملحوظِ خاطر رکھنا واجب ہے کہ کسی راوی پر ضعف کا حکم صادر کر دینا اس کی جملہ مرویات کے ضعیف ہونے کو مستلزم نہیں، جس طرح کسی راوی کا ثقہ قرار پانا اس کی تمام احادیث کے صحیح ہونے کا موجب نہیں بنتا، اور یہیں سے احادیث کی تخریج و تحقیق میں درایتِ حدیث کو بروئے کار لانے کے حوالے سے ایک ماہرِ فن محدث کے حقیقی منصب اور اس کے اجتہادی کردار کا ظہور ہوتا ہے۔
ان اولین شخصیات میں جن کی اس باب میں امامت و پیشوائی مسلم ہے، امام نووی (متوفی 676ھ) اپنی تصنیف "خلاصة الأحكام في مهمات السنن وقواعد الإسلام" اور "المجموع شرح المهذب" میں، حافظ زیلعی (متوفی 726ھ) اپنی کتاب "نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية" میں، اور ابن الملقن (متوفی 804ھ) اپنی تالیف "البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير" میں سرِ فہرست ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ و محدثین بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔
اور اے قاریِ ذی وقار! آپ "الجامع الکامل" میں اسی منہج کی عملی تطبیق ملاحظہ فرمائیں گے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M81]
پس فنِ حدیث کے غواصوں اور اس کے مشتغلین پر اس پہلو کو ملحوظِ خاطر رکھنا واجب ہے کہ کسی راوی پر ضعف کا حکم صادر کر دینا اس کی جملہ مرویات کے ضعیف ہونے کو مستلزم نہیں، جس طرح کسی راوی کا ثقہ قرار پانا اس کی تمام احادیث کے صحیح ہونے کا موجب نہیں بنتا، اور یہیں سے احادیث کی تخریج و تحقیق میں درایتِ حدیث کو بروئے کار لانے کے حوالے سے ایک ماہرِ فن محدث کے حقیقی منصب اور اس کے اجتہادی کردار کا ظہور ہوتا ہے۔
ان اولین شخصیات میں جن کی اس باب میں امامت و پیشوائی مسلم ہے، امام نووی (متوفی 676ھ) اپنی تصنیف "خلاصة الأحكام في مهمات السنن وقواعد الإسلام" اور "المجموع شرح المهذب" میں، حافظ زیلعی (متوفی 726ھ) اپنی کتاب "نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية" میں، اور ابن الملقن (متوفی 804ھ) اپنی تالیف "البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير" میں سرِ فہرست ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ و محدثین بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔
اور اے قاریِ ذی وقار! آپ "الجامع الکامل" میں اسی منہج کی عملی تطبیق ملاحظہ فرمائیں گے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M81]
82. مراتب أهل العلم في التصحيح والتضعيف
تصحیح و تضعیف کے باب میں اہلِ علم کے علمی مراتب و درجات۔
حدیث نمبر: M82
اتفق أهل العلم على أن تصحيح البخاري أعلى مرتبة من تصحيح مسلم، وتصحيح مسلم أعلى مرتبة من تصحيح الترمذي والدارقطني وابن خزيمة وابن حبان وابن منده وغيرهم، وتَصحيحُ هولاء أعلى من تصحيحِ الحاكم، فإن الحاكم أضعفُ مرتبةً ممن يُصحّح الحديثَ.
اہلِ علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ امام بخاری کی تصحیحِ حدیث کا مرتبہ امام مسلم کی تصحیح سے فائق ہے، اور امام مسلم کی تصحیح کا درجہ امام ترمذی، دارقطنی، ابن خزیمہ، ابن حبان، ابن مندہ اور دیگر ائمہ کی تصحیح سے برتر ہے، نیز ان حضرات کی تصحیح امام حاکم کی تصحیح سے بلند تر ہے، کیونکہ امام حاکم کا مرتبہ حدیث کی تصحیح کرنے والے دیگر ائمہ کی نسبت فروتر ہے۔ [الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M82]
83. ذكر قول الهيثمي في مجمع الزوائد للاستئناس به
تائید و استشہاد کی غرض سے مجمع الزوائد میں موجود علامہ ہیثمی کے قول کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: M83
وإني التزمتُ بذكر قول الحافظ الهيثمي في"مجمع الزوائد": بعد الحكم على الإسناد صحةً وضعفًا فإن قولَه: ( (رجاله ثقات) ) أو ( (رجاله موثقون) ) ، يقصد به غالبا توثيق ابن حبان، وابن حبان ذكر في كتابه"الثقات" من ذكرَهم البخاري في التاريخ الكبير، وابن أبي حاتم في الجرح والتعديل، ولم يقولا فيهم شيئا، وهم في الحقيقة في درجة المجهولين، وهم الذين يقول الحافظ ابن حجر في التقريب"مقبول".
وكذلك قوله: ( (رجاله رجال الصحيح) ) أي رجال الشيخين أو أحدهما، و لا يلزم منه تصحيح الإسناد وتحسينه؛ لاحتمال وجود العلل كالانقطاع، والإرسال، والشذوذ، والنكارة وغيرها، فإن قول الهيثمي المراد منه الحكم على الرجال دون الإسناد.
وكذلك إذا قال:"إسناده صحيح"، و"إسناده حسن" فلا ينبغي للباحث أن يسارع إلى تصحيح الإسناد أو تحسينه، لما عُرِفَ من منهجه الاعتماد على توثيق ابن حبان، بل يجب عليه دراسة الإسناد، ثم الحكم عليه.
وهنا أحبّ أن أُنبّهَ إلى أمرين هامّين أحدهما: أن قول الحافظ الهيثمي رحمه الله في مجمع الزوائد:"رجاله رجال الصحيح"، أو"رجاله ثقات" لا يلزم منه صحّة الإسناد؛ لأن صحة الإسناد لا بُدَّ أن يضاف إليه بقية شروط الحديث الصحيح، وثقات الرجال من إحدى هذه الشروط.
وثانيها: عدم الاعتماد الكامل على تقريب التهذيب؛ فإن المؤلف رحمه الله تعالى لم يعتمد عليه في كتبه مثل"فتح الباري" و"التلخيص" وغيرهما، فيجب على طلبة العلم المشتغلين بالحديث الاجتهادُ في معرفة الرجال، ولا بأس بالاستئناس بكلام الحافظ ابن حجر إذا كان اجتهاده موافقا لما في التقريب تجنّبا من التناقض.
وكذلك قوله: ( (رجاله رجال الصحيح) ) أي رجال الشيخين أو أحدهما، و لا يلزم منه تصحيح الإسناد وتحسينه؛ لاحتمال وجود العلل كالانقطاع، والإرسال، والشذوذ، والنكارة وغيرها، فإن قول الهيثمي المراد منه الحكم على الرجال دون الإسناد.
وكذلك إذا قال:"إسناده صحيح"، و"إسناده حسن" فلا ينبغي للباحث أن يسارع إلى تصحيح الإسناد أو تحسينه، لما عُرِفَ من منهجه الاعتماد على توثيق ابن حبان، بل يجب عليه دراسة الإسناد، ثم الحكم عليه.
وهنا أحبّ أن أُنبّهَ إلى أمرين هامّين أحدهما: أن قول الحافظ الهيثمي رحمه الله في مجمع الزوائد:"رجاله رجال الصحيح"، أو"رجاله ثقات" لا يلزم منه صحّة الإسناد؛ لأن صحة الإسناد لا بُدَّ أن يضاف إليه بقية شروط الحديث الصحيح، وثقات الرجال من إحدى هذه الشروط.
وثانيها: عدم الاعتماد الكامل على تقريب التهذيب؛ فإن المؤلف رحمه الله تعالى لم يعتمد عليه في كتبه مثل"فتح الباري" و"التلخيص" وغيرهما، فيجب على طلبة العلم المشتغلين بالحديث الاجتهادُ في معرفة الرجال، ولا بأس بالاستئناس بكلام الحافظ ابن حجر إذا كان اجتهاده موافقا لما في التقريب تجنّبا من التناقض.
میں نے "مجمع الزوائد" میں حافظ ہیثمی کے قول کو نقل کرنے کا التزام کیا ہے؛ سند پر صحت و ضعف کے اعتبار سے حکم لگانے کے بعد ان کا یہ فرمانا کہ "اس کے رجال ثقات ہیں" یا "اس کے رجال موثق ہیں"، اس سے ان کی مراد غالباً امام ابنِ حبان کی توثیق ہوتی ہے، جبکہ ابنِ حبان نے اپنی کتاب "الثقات" میں ان راویوں کا تذکرہ کیا ہے جنہیں امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" میں اور ابنِ ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" میں ذکر کیا ہے اور ان کے بارے میں کوئی کلام نہیں فرمایا، حالانکہ ایسے راوی حقیقت میں مجہول کے درجے میں ہوتے ہیں، اور یہ وہی راوی ہیں جن کے بارے میں حافظ ابنِ حجر "التقریب" میں "مقبول" کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح ان کا یہ قول کہ "اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں" اس سے مراد شیخین یا ان میں سے کسی ایک کے رواۃ ہیں، اور اس سے اسناد کی تصحیح یا تحسین لازم نہیں آتی؛ کیونکہ اس میں انقطاع، ارسال، شذوذ اور نکارت جیسی دیگر علل کے پائے جانے کا احتمال موجود ہوتا ہے، پس علامہ ہیثمی کے اس قول سے مقصود محض راویوں پر حکم لگانا ہے نہ کہ مجموعی طور پر سند پر۔
اسی طرح جب وہ یہ کہے کہ ”اس کی سند صحیح ہے“ یا ”اس کی سند حسن ہے“ تو محقق کے لیے یہ قطعاً مناسب نہیں کہ وہ مذکورہ سند کی تصحیح یا تحسین میں عجلت کا مظاہرہ کرے، کیونکہ ابنِ حبان کی توثیق پر حد درجہ اعتماد کرنے کے حوالے سے ان کا جو علمی منہج معروف ہے اس کے پیشِ نظر محقق پر لازم ہے کہ وہ اولاً سند کا تنقیدی جائزہ لے اور پھر اس پر کسی حکم کا اطلاق کرے۔
یہاں میں دو اہم امور کی جانب تنبیہ کرنا چاہتا ہوں؛ ان میں سے اول یہ ہے کہ حافظ ہثیمی رحمہ اللہ کا ’مجمع الزوائد‘ میں یہ قول کہ ”اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں“ یا ”اس کے راوی ثقہ ہیں“، اس سے اسناد کی صحت لازم نہیں آتی، کیونکہ صحتِ اسناد کے لیے حدیثِ صحیح کی بقیہ شرائط کا پایا جانا بھی ناگزیر ہے، اور راویوں کا ثقہ ہونا محض ان شرائط میں سے ایک شرط ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ 'تقریب التہذیب' پر مکمل انحصار نہ کیا جائے؛ کیونکہ خود مؤلف رحمہ اللہ نے اپنی دیگر تصانیف مثلاً 'فتح الباری' اور 'التلخیص' وغیرہ میں اس پر کلی اعتماد نہیں فرمایا، لہٰذا حدیثِ نبوی کے علوم میں مشغول طلبہ پر لازم ہے کہ وہ معرفتِ رجال میں خود تگ و دو اور اجتہاد سے کام لیں، البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام سے استئناس حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان کا اجتہاد 'تقریب' میں مذکور حکم کے موافق ہو تاکہ کسی بھی قسم کے تناقض سے بچا جا سکے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M83]
اسی طرح ان کا یہ قول کہ "اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں" اس سے مراد شیخین یا ان میں سے کسی ایک کے رواۃ ہیں، اور اس سے اسناد کی تصحیح یا تحسین لازم نہیں آتی؛ کیونکہ اس میں انقطاع، ارسال، شذوذ اور نکارت جیسی دیگر علل کے پائے جانے کا احتمال موجود ہوتا ہے، پس علامہ ہیثمی کے اس قول سے مقصود محض راویوں پر حکم لگانا ہے نہ کہ مجموعی طور پر سند پر۔
اسی طرح جب وہ یہ کہے کہ ”اس کی سند صحیح ہے“ یا ”اس کی سند حسن ہے“ تو محقق کے لیے یہ قطعاً مناسب نہیں کہ وہ مذکورہ سند کی تصحیح یا تحسین میں عجلت کا مظاہرہ کرے، کیونکہ ابنِ حبان کی توثیق پر حد درجہ اعتماد کرنے کے حوالے سے ان کا جو علمی منہج معروف ہے اس کے پیشِ نظر محقق پر لازم ہے کہ وہ اولاً سند کا تنقیدی جائزہ لے اور پھر اس پر کسی حکم کا اطلاق کرے۔
یہاں میں دو اہم امور کی جانب تنبیہ کرنا چاہتا ہوں؛ ان میں سے اول یہ ہے کہ حافظ ہثیمی رحمہ اللہ کا ’مجمع الزوائد‘ میں یہ قول کہ ”اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں“ یا ”اس کے راوی ثقہ ہیں“، اس سے اسناد کی صحت لازم نہیں آتی، کیونکہ صحتِ اسناد کے لیے حدیثِ صحیح کی بقیہ شرائط کا پایا جانا بھی ناگزیر ہے، اور راویوں کا ثقہ ہونا محض ان شرائط میں سے ایک شرط ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ 'تقریب التہذیب' پر مکمل انحصار نہ کیا جائے؛ کیونکہ خود مؤلف رحمہ اللہ نے اپنی دیگر تصانیف مثلاً 'فتح الباری' اور 'التلخیص' وغیرہ میں اس پر کلی اعتماد نہیں فرمایا، لہٰذا حدیثِ نبوی کے علوم میں مشغول طلبہ پر لازم ہے کہ وہ معرفتِ رجال میں خود تگ و دو اور اجتہاد سے کام لیں، البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام سے استئناس حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان کا اجتہاد 'تقریب' میں مذکور حکم کے موافق ہو تاکہ کسی بھی قسم کے تناقض سے بچا جا سکے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M83]
84. رجال الصحيحين لا يلزم منه تصحيح الحديث
محض صحیحین کے راویوں کا کسی سند میں پایا جانا بذاتِ خود اس حدیث کی صحت کو مستلزم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: M84
إذا كان رجال الإسناد رجال الصحيحين فلا يلزم منه صحته على شرطهما لوجود شذوذ أو علة خفية كما هو معروف عند أهل العلم، ولذا لم أستعملْ (صحيح على شرط الشيخين، أو صحيح على شرط أحدهما) .
اگر کسی سند کے راوی صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی ہوں تو اس سے قطعاً یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث ان دونوں اماموں کے معیار و شرائط پر بھی صحیح ہو، کیونکہ اس میں شذوذ یا کسی مخفی علت کے پائے جانے کا احتمال رہتا ہے جیسا کہ اہل علم کے ہاں یہ بات معروف و مسلم ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ تعبیر اختیار نہیں کی کہ "یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے" یا "یہ ان میں سے کسی ایک کی شرط پر صحیح ہے"۔ [الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M84]
85. صحة الإسناد لا تستلزم منه صحة المتن
سند کا صحیح ہونا لازمی طور پر متن کی صحت کو مستلزم نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: M85
الأصل أن صحة الإسناد يلزم منه صحة الحديث. قال يحيى بن سعيد القطان:"لا تنظروا إلى الحديث، ولكن انظروا إلى الإسناد، فإنْ صحَّ الإسنادُ، و إلاّ فلا تغترّوا بالحديث إذا لم يصحّ الإسناد" ( [87] ) .
هذا هو الغالب، ولكن أحيانا مع صحّة الإسناد يعلّل المتن بالشذوذ والنكارة، والإمام البخاري في كتاب التاريخ الكبير يُضّعفُ كثيراً من الأحاديث لمخالفتها مع صحّة إسنادها.
قال الحافظ ابن القيم رحمه الله:"وقد علم أن صحة الإسناد شرط من شروط صحة الحديث، وليست موجبة لصحته؛ فإن الحديث إنما يصحّ بمجموع أمور.
منها: صحة سنده.
ومنها: انتفاء علّته.
ومنها: عدم شذوذه.
ومنها: عدم نكارته.
ومنها: أن لا يكون راويه قد خالف الثقات، أو شذّ عنهم". ( [88] )
قال الذهبي في تعليقه على المستدرك (4/99) في حديث رواه أبو هريرة مرفوعا: «لاَ تجوزُ شهادةُ بدويٍّ على صاحبِ قريةٍ» قال: لم يصحّحه المؤلّفُ وهو حديثٌ منكرٌ على نظافةِ سندِه.
إذاً من الخطأ أن يُظنّ أن كل حديثٍ رويَ بإسنادٍ رجالُه ثقات، فهو صحيحٌ.
هذا هو الغالب، ولكن أحيانا مع صحّة الإسناد يعلّل المتن بالشذوذ والنكارة، والإمام البخاري في كتاب التاريخ الكبير يُضّعفُ كثيراً من الأحاديث لمخالفتها مع صحّة إسنادها.
قال الحافظ ابن القيم رحمه الله:"وقد علم أن صحة الإسناد شرط من شروط صحة الحديث، وليست موجبة لصحته؛ فإن الحديث إنما يصحّ بمجموع أمور.
منها: صحة سنده.
ومنها: انتفاء علّته.
ومنها: عدم شذوذه.
ومنها: عدم نكارته.
ومنها: أن لا يكون راويه قد خالف الثقات، أو شذّ عنهم". ( [88] )
قال الذهبي في تعليقه على المستدرك (4/99) في حديث رواه أبو هريرة مرفوعا: «لاَ تجوزُ شهادةُ بدويٍّ على صاحبِ قريةٍ» قال: لم يصحّحه المؤلّفُ وهو حديثٌ منكرٌ على نظافةِ سندِه.
إذاً من الخطأ أن يُظنّ أن كل حديثٍ رويَ بإسنادٍ رجالُه ثقات، فهو صحيحٌ.
بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ سند کا صحیح ہونا حدیث کی صحت کو مستلزم ہے؛ چنانچہ یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ کا قول ہے: "تم محض حدیث (کے متن) کو نہ دیکھو بلکہ اس کی سند پر نظر رکھو، پس اگر سند صحیح ثابت ہو جائے (تو حدیث قبول کرو) وگرنہ جب سند ہی صحیح نہ ہو تو تم حدیث سے ہرگز دھوکا نہ کھاؤ"۔ [87]
غالب احوال تو یہی ہیں، تاہم بسا اوقات سند کی صحت کے باوجود متن میں شذوذ اور نکارت کی بنا پر علتِ قادحہ پیدا ہو جاتی ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب 'التاریخ الکبیر' میں ایسی بکثرت احادیث کی تضعیف فرماتے ہیں جو اپنی سند کی صحت کے باوجود (دیگر ثقہ روایات سے) مخالفت کی بنا پر ضعیف قرار پاتی ہیں۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سند کا صحیح ہونا صحتِ حدیث کے لیے محض ایک شرط ہے، یہ بذاتِ خود حدیث کی مجموعی صحت کے لیے موجب نہیں ہے؛ کیونکہ حدیث درحقیقت متنوع امور و شرائط کے مجموعے ہی سے صحیح قرار پاتی ہے۔
ان میں سے ایک (شرط) اس کی سند کا صحیح ہونا ہے۔
اور انہی میں سے ایک صورت اس کی علت کا منتفی ہونا ہے۔
اور ان (شرائطِ صحت) میں سے ایک یہ ہے کہ وہ روایت شاذ نہ ہو (یعنی اس میں شذوذ نہ پایا جائے)۔
اور ان (شرائط) میں سے ایک (شرط) اس کا نکارت سے پاک ہونا ہے۔
اور ان (شرائطِ صحت) میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کا راوی ثقہ و معتبر راویوں کی مخالفت نہ کرے اور نہ ہی ان سے الگ تھلگ ہو کر کوئی شاذ بات بیان کرے۔ [88]
امام ذہبی نے المستدرک پر اپنے حاشیہ (4/99) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی اس حدیث کہ «کسی دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف جائز نہیں ہے» کے متعلق فرمایا ہے کہ اسے مؤلف نے صحیح قرار نہیں دیا اور یہ حدیث اپنی سند کی ظاہری نفاست و عمدگی کے باوجود منکر ہے۔
چنانچہ یہ گمان کرنا علمی طور پر قطعاً غلط ہے کہ ہر وہ حدیث جو ایسی سند کے ساتھ مروی ہو جس کے تمام رواۃ ثقہ ہوں، وہ لازمی طور پر صحیح ہی ہوتی ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M85]
غالب احوال تو یہی ہیں، تاہم بسا اوقات سند کی صحت کے باوجود متن میں شذوذ اور نکارت کی بنا پر علتِ قادحہ پیدا ہو جاتی ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب 'التاریخ الکبیر' میں ایسی بکثرت احادیث کی تضعیف فرماتے ہیں جو اپنی سند کی صحت کے باوجود (دیگر ثقہ روایات سے) مخالفت کی بنا پر ضعیف قرار پاتی ہیں۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سند کا صحیح ہونا صحتِ حدیث کے لیے محض ایک شرط ہے، یہ بذاتِ خود حدیث کی مجموعی صحت کے لیے موجب نہیں ہے؛ کیونکہ حدیث درحقیقت متنوع امور و شرائط کے مجموعے ہی سے صحیح قرار پاتی ہے۔
ان میں سے ایک (شرط) اس کی سند کا صحیح ہونا ہے۔
اور انہی میں سے ایک صورت اس کی علت کا منتفی ہونا ہے۔
اور ان (شرائطِ صحت) میں سے ایک یہ ہے کہ وہ روایت شاذ نہ ہو (یعنی اس میں شذوذ نہ پایا جائے)۔
اور ان (شرائط) میں سے ایک (شرط) اس کا نکارت سے پاک ہونا ہے۔
اور ان (شرائطِ صحت) میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کا راوی ثقہ و معتبر راویوں کی مخالفت نہ کرے اور نہ ہی ان سے الگ تھلگ ہو کر کوئی شاذ بات بیان کرے۔ [88]
امام ذہبی نے المستدرک پر اپنے حاشیہ (4/99) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی اس حدیث کہ «کسی دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف جائز نہیں ہے» کے متعلق فرمایا ہے کہ اسے مؤلف نے صحیح قرار نہیں دیا اور یہ حدیث اپنی سند کی ظاہری نفاست و عمدگی کے باوجود منکر ہے۔
چنانچہ یہ گمان کرنا علمی طور پر قطعاً غلط ہے کہ ہر وہ حدیث جو ایسی سند کے ساتھ مروی ہو جس کے تمام رواۃ ثقہ ہوں، وہ لازمی طور پر صحیح ہی ہوتی ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M85]
86. لكلّ حديثٍ نقدٌ خاصٌّ
ہر حدیث کا اپنا ایک مخصوص تنقیدی جائزہ اور فنی پرکھ کا جداگانہ معیار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: M86
ينبغي أن يُعلم أن لكل حديث ذوقاً و نقدًا يختصّ به دون غيره، فإن السند الواحد قد يُحكم له بالصحة إذا كان سالما من الشذوذ والنكارة، وقد يُحكم عليه بالضعف عند وجود العلة، وكذا الحال في الرواة الذين تفردوا ولم يخالفهم الثقات، فالحكم على هؤلاء يعود إلى جهابذة هذا الفن، كما قال الحافظ ابن رجب الحنبلي:
"وأما أكثر الحفاظ المتقدمين فإنهم يقولون في الحديث -إذا تفرّد به واحد- وإن لم يرو الثقات خلافه-:"إنه لا يتابع عليه"، ويجعلون ذلك علة فيه، اللهم إلا أن يكون ممن كثُرَ حفظُه، واشتهرتْ عدالتُه، وحديثُه كالزهري ونحوه، وربما يستنكرون بعضَ تفرّدات الثقاتِ الكبار أيضاً، ولهم في كلِّ حديثٍ نقدٌ خاصٌّ، وليس عندهم لذلك ضابطٌ يضبطه" ( [89] ) .
وإنَّ أكبر ما يُواجه المخرّج تحديد درجة الرواة المختلف فيهم، فيختار أحد الأقوال بناء على ما ظهر له بعد دراسة أقوال أهل العلم، فمرةً يقول: قول الإمام أحمد بأنه منكر الحديث، لأنه وجد في كلامه ما يؤيّد هذا، ومرة يقبل من يقول فيه سيء الحفظ، لأنه ظهر له أنه أخطأ فيه، ويترك بجانبه أقوال الآخرين، فيظنّ من لا علمَ له في هذا الفنّ الدقيق أنه تعصب لقول فلان، والصحيحُ أنه لم يتعصّب، بل اختار من كلامهم ما يناسب حاله في كل حديث يرويه.
"وأما أكثر الحفاظ المتقدمين فإنهم يقولون في الحديث -إذا تفرّد به واحد- وإن لم يرو الثقات خلافه-:"إنه لا يتابع عليه"، ويجعلون ذلك علة فيه، اللهم إلا أن يكون ممن كثُرَ حفظُه، واشتهرتْ عدالتُه، وحديثُه كالزهري ونحوه، وربما يستنكرون بعضَ تفرّدات الثقاتِ الكبار أيضاً، ولهم في كلِّ حديثٍ نقدٌ خاصٌّ، وليس عندهم لذلك ضابطٌ يضبطه" ( [89] ) .
وإنَّ أكبر ما يُواجه المخرّج تحديد درجة الرواة المختلف فيهم، فيختار أحد الأقوال بناء على ما ظهر له بعد دراسة أقوال أهل العلم، فمرةً يقول: قول الإمام أحمد بأنه منكر الحديث، لأنه وجد في كلامه ما يؤيّد هذا، ومرة يقبل من يقول فيه سيء الحفظ، لأنه ظهر له أنه أخطأ فيه، ويترك بجانبه أقوال الآخرين، فيظنّ من لا علمَ له في هذا الفنّ الدقيق أنه تعصب لقول فلان، والصحيحُ أنه لم يتعصّب، بل اختار من كلامهم ما يناسب حاله في كل حديث يرويه.
یہ جاننا ضروری ہے کہ ہر حدیث ایک خاص علمی ذوق اور تنقیدی بصیرت کی متقاضی ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے؛ چنانچہ ایک ہی سند کو اس وقت تو صحیح قرار دیا جاتا ہے جب وہ شذوذ اور نکارت سے پاک ہو، لیکن کسی پوشیدہ علت کی موجودگی میں اسی سند پر ضعف کا حکم صادر کر دیا جاتا ہے، اور یہی معاملہ ان راویوں کا ہے جو روایت میں منفرد ہوں اور ثقہ راویوں نے ان کی مخالفت نہ کی ہو، لہٰذا ان کے متعلق حتمی فیصلہ صادر کرنا اس فن کے جلیل القدر نکتہ رس ماہرین ہی کا منصب ہے، جیسا کہ حافظ ابن رجب حنبلی نے ذکر کیا ہے:
جہاں تک متقدمین حفاظِ حدیث کی اکثریت کا تعلق ہے، تو وہ ایسی حدیث کے بارے میں —جس کی روایت میں کوئی ایک راوی منفرد ہو، اگرچہ دیگر ثقات نے اس کے خلاف روایت نہ بھی کی ہو— یہ حکم لگاتے ہیں کہ "اس کی متابعت نہیں کی گئی"، اور وہ اس تفرد کو حدیث میں ایک علت قرار دیتے ہیں؛ الّا یہ کہ وہ راوی کثرتِ حفظ، شہرتِ عدالت اور وسعتِ حدیث میں امام زہری اور ان جیسے کبار ائمہ کے قبیل سے ہو، بلکہ بسا اوقات وہ جلیل القدر ثقہ راویوں کے بعض تفردات کو بھی منکر قرار دے دیتے ہیں، اور ہر حدیث کے بارے میں ان کا ایک خاص نقد ہوتا ہے اور ان کے ہاں اس کے لیے کوئی ایسا کلی ضابطہ نہیں ہے جو اس کا احاطہ کر سکے۔ 89
یقیناً ایک محققِ حدیث (مخرِّج) کو جن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک اُن راویوں کے مرتبے کا تعین ہے جن کی ثقاہت و عدمِ ثقاہت میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ چنانچہ وہ ائمہِ فن کے اقوال کی عمیق غواصی کے بعد اُسی قول کو ترجیح دیتا ہے جو دلائل کی روشنی میں اس پر منکشف ہوتا ہے۔ کبھی وہ امام احمد کے اِس قول کو اختیار کرتا ہے کہ راوی 'منکر الحدیث' ہے کیونکہ اسے اس کی مرویات میں ایسے شواہد مل جاتے ہیں جو اس موقف کی تائید کرتے ہیں، اور کبھی وہ اس جرح کو قبول کر لیتا ہے کہ راوی 'سیء الحفظ' (کمزور حافظے والا) ہے کیونکہ اس پر راوی کی غلطی واضح ہو جاتی ہے، اور وہ دیگر اقوال کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے؛ چنانچہ اس دقیق فن سے ناواقف شخص یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ محقق نے کسی خاص امام کے قول کی جانب تعصب برتا ہے، حالانکہ درست بات یہ ہے کہ اس نے کسی قسم کے تعصب سے کام نہیں لیا بلکہ ائمہ کے ارشادات میں سے وہی قول منتخب کیا ہے جو اس کی ہر حدیث کی انفرادی کیفیت اور حقیقتِ حال کے عین مطابق ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M86]
جہاں تک متقدمین حفاظِ حدیث کی اکثریت کا تعلق ہے، تو وہ ایسی حدیث کے بارے میں —جس کی روایت میں کوئی ایک راوی منفرد ہو، اگرچہ دیگر ثقات نے اس کے خلاف روایت نہ بھی کی ہو— یہ حکم لگاتے ہیں کہ "اس کی متابعت نہیں کی گئی"، اور وہ اس تفرد کو حدیث میں ایک علت قرار دیتے ہیں؛ الّا یہ کہ وہ راوی کثرتِ حفظ، شہرتِ عدالت اور وسعتِ حدیث میں امام زہری اور ان جیسے کبار ائمہ کے قبیل سے ہو، بلکہ بسا اوقات وہ جلیل القدر ثقہ راویوں کے بعض تفردات کو بھی منکر قرار دے دیتے ہیں، اور ہر حدیث کے بارے میں ان کا ایک خاص نقد ہوتا ہے اور ان کے ہاں اس کے لیے کوئی ایسا کلی ضابطہ نہیں ہے جو اس کا احاطہ کر سکے۔ 89
یقیناً ایک محققِ حدیث (مخرِّج) کو جن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک اُن راویوں کے مرتبے کا تعین ہے جن کی ثقاہت و عدمِ ثقاہت میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ چنانچہ وہ ائمہِ فن کے اقوال کی عمیق غواصی کے بعد اُسی قول کو ترجیح دیتا ہے جو دلائل کی روشنی میں اس پر منکشف ہوتا ہے۔ کبھی وہ امام احمد کے اِس قول کو اختیار کرتا ہے کہ راوی 'منکر الحدیث' ہے کیونکہ اسے اس کی مرویات میں ایسے شواہد مل جاتے ہیں جو اس موقف کی تائید کرتے ہیں، اور کبھی وہ اس جرح کو قبول کر لیتا ہے کہ راوی 'سیء الحفظ' (کمزور حافظے والا) ہے کیونکہ اس پر راوی کی غلطی واضح ہو جاتی ہے، اور وہ دیگر اقوال کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے؛ چنانچہ اس دقیق فن سے ناواقف شخص یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ محقق نے کسی خاص امام کے قول کی جانب تعصب برتا ہے، حالانکہ درست بات یہ ہے کہ اس نے کسی قسم کے تعصب سے کام نہیں لیا بلکہ ائمہ کے ارشادات میں سے وہی قول منتخب کیا ہے جو اس کی ہر حدیث کی انفرادی کیفیت اور حقیقتِ حال کے عین مطابق ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M86]
87. الاجتناب من نقل الكلام المتناقض عن أئمة الحديث
ائمۂ حدیث سے منسوب متناقض اور باہم متعارض اقوال کی نقل سے احتراز و اجتناب کرنا۔
حدیث نمبر: M87
كثيرٌ من طلبة العلم ينقلون من أئمة الحديث أحكامًا متناقضةً في الحديث الواحد، فيقولون مثلا: صحّحه فلان، وحسّنه فلان ولا يوفقّون بين قولَيْهما، فإن الحسن ينزل درجةً عن الصحيح، فيجبُ عليهم أن يبيّنوا ما هو الراجح في الحكم، فإن لم يستطيعوا بيان الراجح من القول فمن الأفضل أن يكتفوا بنقل حكم واحد من أئمة الحديث، حتى لا يضطرب القارئ لمعرفة أيهما الصحيح.
وأشدّ من هذا أن ينقل من أحد الأئمة صحّة الحديث، ثم ينقل من الآخر تضعيفه، ولا يبيّن الراجح منهما بعد الدراسة والدراية من علوم الحديث.
وأشدّ من هذا أن ينقل من أحد الأئمة صحّة الحديث، ثم ينقل من الآخر تضعيفه، ولا يبيّن الراجح منهما بعد الدراسة والدراية من علوم الحديث.
کثیر تعداد میں طلبہِ علم ائمہِ حدیث سے ایک ہی حدیث کے متعلق متضاد احکام نقل کرتے ہیں، مثلاً وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں نے اسے 'صحیح' قرار دیا اور فلاں نے اسے 'حسن' کہا ہے، مگر وہ ان دونوں اقوال کے مابین تطبیق نہیں دیتے، حالانکہ مرتبہ و فضیلت میں 'حسن' 'صحیح' سے ایک درجہ فروتر ہوتی ہے، لہٰذا ان پر لازم ہے کہ وہ حکم میں قولِ راجح کی وضاحت کریں، اور اگر وہ راجح قول کے بیان کی قدرت نہ رکھتے ہوں تو بہتر یہی ہے کہ ائمہِ حدیث کے کسی ایک ہی حکم کے نقل کرنے پر اکتفا کریں، تاکہ قاری یہ جاننے کے لیے اضطراب و تذبذب کا شکار نہ ہو کہ ان میں سے صحیح قول کون سا ہے۔
اور اس سے بھی کہیں زیادہ قبیح صورت یہ ہے کہ کسی ایک امامِ فن سے حدیث کی صحت نقل کی جائے اور پھر دوسرے امام سے اس کی تضعیف منقول ہو، مگر علومِ حدیث کی روشنی میں علمی مطالعہ اور درایت کے بعد ان میں سے قولِ راجح کی وضاحت نہ کی جائے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M87]
اور اس سے بھی کہیں زیادہ قبیح صورت یہ ہے کہ کسی ایک امامِ فن سے حدیث کی صحت نقل کی جائے اور پھر دوسرے امام سے اس کی تضعیف منقول ہو، مگر علومِ حدیث کی روشنی میں علمی مطالعہ اور درایت کے بعد ان میں سے قولِ راجح کی وضاحت نہ کی جائے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M87]
88. الاختلاف على الثقة
کسی ثقہ اور مستند راوی سے منقول روایت کے طرق یا الفاظ میں دیگر راویوں کا باہمی اختلاف۔
حدیث نمبر: M88
إن كان الاختلاف على الثقة مؤثّرًا فيكون الحديثُ ضعيفا، وإن كان الاختلاف غير مؤثّر فيكون الحديث صحيحا.
وتوسّطَ بعض النقاد فجعلوا الاختلاف على الثقة حسنا، سواء كان مؤثراً أو غير مؤثر، واختار هذا المنهج الحافظ ابن حجر عند تخريج الحديث في"الفتح"، و"نتائج الأفكار".
وتوسّطَ بعض النقاد فجعلوا الاختلاف على الثقة حسنا، سواء كان مؤثراً أو غير مؤثر، واختار هذا المنهج الحافظ ابن حجر عند تخريج الحديث في"الفتح"، و"نتائج الأفكار".
اگر ثقہ راوی کے بیان میں واقع ہونے والا اختلاف مؤثر ہو تو حدیث ضعیف قرار پائے گی، اور اگر یہ اختلاف غیر مؤثر ہو تو حدیث صحیح متصور ہوگی۔
بعض ناقدین نے راہِ اعتدال اختیار کرتے ہوئے ثقہ راوی کے بارے میں پائے جانے والے اختلاف کو 'حسن' قرار دیا ہے، خواہ وہ اختلاف (علت کے اعتبار سے) موثر ہو یا غیر موثر، اور حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" اور "نتائج الافكار" میں تخریجِ حدیث کے دوران اسی منہج کو منتخب فرمایا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M88]
بعض ناقدین نے راہِ اعتدال اختیار کرتے ہوئے ثقہ راوی کے بارے میں پائے جانے والے اختلاف کو 'حسن' قرار دیا ہے، خواہ وہ اختلاف (علت کے اعتبار سے) موثر ہو یا غیر موثر، اور حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" اور "نتائج الافكار" میں تخریجِ حدیث کے دوران اسی منہج کو منتخب فرمایا ہے۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M88]
89. تصحيح أحاديث جماعة سبق الكلام فيهم
ان رواۃ کی ایک جماعت کی مرویات کی تصحیح جن کے متعلق پہلے کلام (جرح و تنقید) گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: M89
وقد ذكرتُ في هذا الجامع أحاديث جماعة من الرواة الذين سبق الكلام الخفيف فيهم من بعض الأئمة، فنظرتُ في أخبار ما رووه فإنْ ظهر لي صدق ما رووه أدخلته في الجامع، وإنْ ظهر لي خطأهم تجنّبتُ منه.
قال ابن عبد الهادي:"وأصحاب الصحيح إذا رووا لمن تُكلّمَ فيه فإنهم ينتقون من حديثه ما لم ينفردْ به، بل وافق فيه الثقاتُ، وقامت شواهدُ صدقه" ( [90] ) .
وكل حديث له نقدٌ خاصّ لا يُقاس عليه غيره.
قال ابن عبد الهادي:"وأصحاب الصحيح إذا رووا لمن تُكلّمَ فيه فإنهم ينتقون من حديثه ما لم ينفردْ به، بل وافق فيه الثقاتُ، وقامت شواهدُ صدقه" ( [90] ) .
وكل حديث له نقدٌ خاصّ لا يُقاس عليه غيره.
میں نے اس کتابِ جامع میں راویوں کی ایک ایسی جماعت کی احادیث نقل کی ہیں جن کے متعلق بعض ائمہ کی جانب سے کسی قدر کلام کیا جا چکا تھا، پس میں نے ان کی مرویات کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا، چنانچہ جب مجھ پر ان کی مرویات کی صداقت واضح ہو گئی تو میں نے انہیں اس جامع میں شامل کر لیا اور جہاں ان کی خطا ظاہر ہوئی وہاں میں نے اس سے اجتناب برتا۔
ابن عبد الہادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ صحیح جب کسی ایسے راوی سے روایت نقل کرتے ہیں جس پر جرح و کلام کیا گیا ہو، تو وہ اس کی مرویات میں سے محض ان احادیث کا انتخاب کرتے ہیں جن میں وہ منفرد نہ ہو، بلکہ دیگر ثقہ راویوں نے اس کی موافقت کی ہو اور اس کی صداقت کے شواہد و براہین قائم ہو چکے ہوں ( [90] )۔
اور ہر حدیث اپنی ایک انفرادی فنی پرکھ اور مخصوص تنقیدی معیار کی حامل ہوتی ہے جس پر کسی دوسری روایت کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M89]
ابن عبد الہادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اصحابِ صحیح جب کسی ایسے راوی سے روایت نقل کرتے ہیں جس پر جرح و کلام کیا گیا ہو، تو وہ اس کی مرویات میں سے محض ان احادیث کا انتخاب کرتے ہیں جن میں وہ منفرد نہ ہو، بلکہ دیگر ثقہ راویوں نے اس کی موافقت کی ہو اور اس کی صداقت کے شواہد و براہین قائم ہو چکے ہوں ( [90] )۔
اور ہر حدیث اپنی ایک انفرادی فنی پرکھ اور مخصوص تنقیدی معیار کی حامل ہوتی ہے جس پر کسی دوسری روایت کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M89]
90. حديث المدلس
مدلس حدیث (یعنی وہ روایت جس کی سند میں تدلیس کا عمل واقع ہوا ہو)
حدیث نمبر: M90
وهو أن يروي عمن لقيه أو عاصره فإن بيّن السماع فلا خلاف بين أهل العلم في قبول حديثه إذا لم يكن لقبوله مانع آخر. انظر شرحه المفصل في كتابي:"معجم مصطلحات الحديث".
واختلفَ أهلُ العلم في الذي لم يبين فيه السماع، وقد ثبت لقاؤه فذهب أصحاب الكتب الصحاح مثل البخاري ومسلم وابن خزيمة وابن حبان والحاكم وغيره وكذلك أصحاب السنن كالدارقطني والبيهقي إلى قبولهم مطلقا في الغالب سواء بيّن السماعَ أو لم يبيّن.
والمثال على ذلك أبو الزبير وهو محمد بن مسلم بن تدرس أحد أئمة الحديث، واعتمده مسلم، وروى له البخاري متابعة وهو ممن عُرفَ بالتدليس، وكان الإمامُ مسلمٌ رحمه الله قَبِلَ حديثَه مطلقًا سواء صرّحَ بالتحديث أو لم يُصرّح، وسواء رواه عنه الليث بن سعد أو روى عنه غيره، لأن الليث بن سعد قال: جئت أبا الزبير فدفع إلى كتابين، فانقلبت بهما، ثم قلت في نفسي: لو أنني عاودته فسألته أسمع هذا كله من جابر؟ فسألته فقال: منه ما سمعت منه، ومنه ما حُدّثتُ عنه، فقلت له: أَعْلِمْ لي على ما سمعتَ منه، فأعْلَمَ لي على هذا الذي عندي" ( [91] ) .
وقد تتبع الذهبي رواية أبي الزبير في صحيح مسلم فقال:"وفي صحيح مسلم عدة أحاديث مما لم يوضح فيها أبو الزبير السماع من جابر، وهي من غير طريق الليث عنه، ففي القلب منه شيء".
ومن هذه الأحاديث:
لا يحل لأحد حمل السلاح بمكة. صحيح مسلم (1356)
رأى النبي صلى الله عليه وسلم امرأة، فأتى أهله زينب، فقضى حاجته. صحيح مسلم (1403)
نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبور. صحيح مسلم (970) انتهى كلامه.
قلتُ: وقد وجدت في صحيح مسلم أحاديث أبي الزبير، عن جابر من غير طريق الليث بن سعد عنه أكثر من هذا بدون التصريح، فالظاهر أن الإمام مسلما لم يُعِلّ الحديثَ بعنعنة أبي الزبير سواء روى عنه الليث بن سعد أو غيره.
فالمنهج الذي اخترتُه في حديث المدلسين هو ما يأتي:
المدلّسون الذين ذكرهم الحافظ ابن حجر في الطبقة الأولي والثانية مثل يحيى بن سعيد الأنصاري، وسفيان بن سعيد بن مسروق الثوري، وسفيان بن عيينة بن أبي عمران الهلالي، وغيرهم يُقبل تدليسُهم مطلقا، لأنهم لا يدلّسون إلا عن الثقات، ويُلحق بهم الأعمش، وابن جريج، والزهري، وقتادة، وعمرو بن دينار وغيرهم، وإن كان بعض هولاء ممن ذكرهم ابن حجر في الطبقة الثالثة، وذكرهم العلائي في الطبقة الثانية، فإنَّ ردَّ رواية هولاء بالعنعنة يودّي إلى تضعيف طائفة كبيرة من الأحاديث الصحيحة.
فإن قيل: لماذا كان هولاء يدلّسون؟ وهم أئمة هذا الفن وعمدتهم؟
فالجواب: لهم ظروف وحالات، فإذا كانوا في مجلس التحديث والرواية فما كانوا يدلسون، إذ المطلوب في مجلس التحديث اتصال الإسناد، وحديث المدلّس فيه انقطاع، وأما إن كانوا في المسجد أو في السوق أو في مقام الفتيا فكانوا يختصرون الإسناد إذ ليس المقصود منه في هذه الحالة اتصال الإسناد، فإذا سئلوا هل سمعتَ من فلان؟ فقالوا: لا، إنما سمعت من فلان عنه.
أن ينص أحد الأئمة على أن فلانا دلّس في هذا الحديث مثل حديث أبي ذرّ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ بنى لله مسجدًا ولو كمفحصِ قطاةٍ بنى اللهُ له بيتا في الجنة» . رواه علي بن المديني قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان الثوري، قال: حدثنا سليمان الأعمش، عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي ذر فذكره.قال علي ابن المديني: قال يحيى بن سعيد: قال سفيان وشعبة: لم يسمع الأعمشُ هذا الحديثَ من إبراهيم التيمي. انظر: مقدمة التمهيد (1/32) .
أن يعترف المدلس نفسه بأنه دلّس في هذا الحديث إذا سئل.
أن يروي المدلس حديثا يخالف المعروف، فالحمل عليه بأنه دلس عن بعض الضعفاء.
أن يُعرف بأنه لا يبالي عمن يدلس حبًّا لكثرة الحديث مثل محمد بن إسحاق والحسن البصري وغيرهما، فهولاء لابد لهم من التصريح بالسماع، والحسن البصري إنما يُخشى من تدليسه ما رواه عن الصحابة بالعنعنة، وأما ما رواه عن التابعين المعاصرين له فالتدليس فيه مستبعد.
أن يُعرف أنه يكثر تدليس عن الضعفاء والمجاهيل فهذا لا يقبل حتى يصرّح مثل بقية بن الوليد.
أن يكون المدلس قد ضُعِّفَ أيضا بسبب آخر فلا يُقبل ولو صرّح بالسماع، وهم الذين ذكرهم الحافظ ابن حجر في الطبقة الخامسة.
والذي يكثر النظرَ في الكتب يجد أن الرواةَ غيّروا صيغة الأداء في كثير من روايات المدلسين، فإننا نجد راويًا واحدًا مرة يروي بصيغة السماع، وأخرى بصيغة العنعنة، وقد نبّهتُ على ذلك في كثير من المواضع في الجامع الكامل.
والمثال الغريب الذي وقفتُ عليه هو ما ذكره مسلم في كتابه"التمييز" بأن النبي صلى الله عليه وسلم وقّتَ لأهل العراق ذات عرق، فليس بصحيح، لأنه رواه ابن جريج فقال في حديث أبي الزبير، عن جابر. هكذا قال في التمييز.
ثم وجدناه أنه روى هذا الحديث في صحيحه (1183) من طرق عن محمد بن بكر، أخبرنا ابن جريج، أخبرني أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبد الله فذكر الحديث.
فهذا الإسناد فيه دليل صريح أنه وقع تغيير في صيغة الأداء لأنه من المستبعد أن يكون أبو الزبير مرة قال: عن جابر، وأخرى: أنه سمع جابرا.
ولذا يجب الاحتياط في ردّ حديث الأئمة المدلسين الثقات بالعنعنة، وفي كلام مسلم إشارة إلى أنه أول من أظهر تدليس أبي الزبير، ومع ذلك فإنه أخرج أحاديثه في صحيحه.
ويؤكد ذلك ابن حبان في مقدمة صحيحه ( [92] ) بقوله:"فإذا صحَّ عندي خبر من رواية مدلس أنه بيّن السماع فيه، لا أبالي أن أذكره من غير بيان السماع في خبره بعد صحته عندي من طريق آخر".
يعني أن ابن حبان رحمه الله يُغيّر السماع بالعنعنة، فكل حديث مدلس بالعنعنة عند ابن حبان في صحيحه يُحمل على السماع.
وما قاله ابن حبان أخشى أن يكون هو الذي فعله بعض الرواة فغيّروا صيغة الأداء من السماع إلى العنعنة اختصارًا ظنًّا منهم بأن الصيغتين سواء كما ذكره الحافظ ابن حجر في ترجمة جعفر بن مسافر في تهذيبه.
قال يعقوب بن سفيان الفسوي:"سمعت عبد الرحمن بن إبراهيم دحيمًا، حَدَّثَنَا الوليد (هو ابن مسلم، مدلّس تدليس التسوية) قَال: كان الأوزاعي إذا حَدَّثَنَا يقول: حَدَّثَنَا يحيى قَال: حَدَّثَنَا فلان، حَدَّثَنَا فلان حتى ينتهي، قال الوليد:"فربما حدّثتُ كما حدّثني، وربما قلتُ: عن، عن، عن، تخففنا من الأخبار" ( [93] ) . انتهى.
ومن يطالع"تحفة الأشراف" للمزي فيجد أنه غيّر جميع صيغ الأداء بالعنعنة اختصارًا، ولذا اضطرّ الحافظ ابن حجر إلى تنصيص ذلك في مقدمة"إتحاف المهرة" ( [94] ) بأنه يسوق ألفاظ الصيغ في الإسناد غالبا لتظهر فائدة ما يصرح به المدلس بخلاف المزي.
فيظهر من ذلك أن تغيير صيغة الأداء لم يكن عندهم من الأمور المحظورة.
ولذا يجب الاحتياط في ردّ أحاديث المدلسين الثقات من أجل العنعنة إلا من عُرفَ أنه يُكثر التدليس عن الضعفاء والمجاهيل، فهذا لا يُقبل حتى يصرّح مثل بقية بن الوليد.
وأما من ضُعِّفَ بأمر آخرَ مع التدليس فحديثه مردود، ولو صرّح بالسماع مثل الحجاج بن أرطاة، وإبراهيم بن أبي يحيى، وجابر الجعفي وغيرهم ويلحق بهم ابن لهيعة إلا إذا روى عنه أحد العبادلة وصرّح بالسماع فحديثه حسن.
وأما المراتب التي ذكرها الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى في كتابه"تعريف أهل التقديس لمراتب الموصوفين بالتدليس" فهي مستمدة من جامع التحصيل للعلائي، فإليكم ذكر هذه الطبقات مع ذكر ما حذفه ابن حجر:
الأولى: من لم يوصف بذلك إلا نادرا كيحيى بن سعيد الأنصاري.
ولدى العلائي: هشام بن عروة وموسى بن عقبة.
الثانية: من احتمل الأئمة تدليسه، وأخرجوا له في الصحيح لإمامته وقلة تدليسه بجانب ما رواه كالثوري، أو كان لا يدلس إلا عن ثقة كابن عيينة.
وعند العلائي الزهري، وسليمان الأعمش، وإبراهيم النخعي، وإسماعيل بن أبي خالد، وسليمان التيمي، وحميد الطويل، والحكم بن عتيبة، ويحيى بن أبي كثير، وابن جريج، وشريك، وهشيم، وقال: ففي الصحيحين وغيرهما لهؤلاء الحديث الكثير مما ليس فيه التصريح بالسماع، وبعض الأئمة حمل ذلك على أن الشيخين اطلعا على سماع الواحد لذلك الحديث الذي أخرجه بلفظ"عن" ونحوها من شيخه، وفيه تطويل.
قلت: إنْ صحَّ ما قالوا: فمعنى ذلك أن بعض الرواة غيّروا صيغة السماع إلى"عن".
الثالثة: من أكثر من التدليس فلم يحتج الأئمة من أحاديثهم إلا بما صرّحوا فيه بالسماع ومنهم من ردّ حديثهم مطلقا ومنهم من قبله مطلقا كأبي الزبير المكي، وكذلك الزهري، وقتادة، وحميد الطويل صاحب أنس.
والذي في جامع التحصيل من توقف فيهم جماعة فلم يحتجوا بهم إلا بما صرّحوا فيه بالسماع، وقبلهم آخرون مطلقا كالطبقة التي قبلها لأحد الأسباب المتقدمة كالحسن، وقتادة، وأبي إسحاق السبيعي، وأبي الزبير المكي، وأبي سفيان طلحة بن نافع، وعبد الملك بن عمير.
الرابعة: من اتفق على أنه لا يحتج بشيء من حديثهم إلا بما صرحوا فيه بالسماع لكثرة تدليسهم عن الضعفاء والمجاهيل كبقية بن الوليد.
وزاد العلائي: كابن إسحاق، وحجاج بن أرطأة، وجابر الجعفي، وسويد بن سعيد، وأضرابهم.
الخامسة: من ضُعِّفَ بأمر آخر سوى التدليس فحديثهم مردود ولو صرحوا بالسماع. مثل جابر الجعفي وعبدالرحمن بن زياد بن أنعم الافريقي.
وذكر العلائي في هذه الطبقة: أبا جناب الكلبي، وأبا سعيد البقال، وذكر جابرا الجعفي في الطبقة الرابعة، إلا أن ابن حجر لم يلتزم بتطبيق هذه الطبقات في كتابه" فتح الباري"، فكنت تحيرت من مخالفته، ثم أخبرني أحد الطلاب الدارسين عندي في المسجد النبوي أن الحافظ ابن حجر ألف كتابا آخر رجع فيه عن كتابه تعريف أهل التقديس، وتوجد منه نسخة في إحدى المكتبات في تركيا، فعرفت سبب مخالفته.
واختلفَ أهلُ العلم في الذي لم يبين فيه السماع، وقد ثبت لقاؤه فذهب أصحاب الكتب الصحاح مثل البخاري ومسلم وابن خزيمة وابن حبان والحاكم وغيره وكذلك أصحاب السنن كالدارقطني والبيهقي إلى قبولهم مطلقا في الغالب سواء بيّن السماعَ أو لم يبيّن.
والمثال على ذلك أبو الزبير وهو محمد بن مسلم بن تدرس أحد أئمة الحديث، واعتمده مسلم، وروى له البخاري متابعة وهو ممن عُرفَ بالتدليس، وكان الإمامُ مسلمٌ رحمه الله قَبِلَ حديثَه مطلقًا سواء صرّحَ بالتحديث أو لم يُصرّح، وسواء رواه عنه الليث بن سعد أو روى عنه غيره، لأن الليث بن سعد قال: جئت أبا الزبير فدفع إلى كتابين، فانقلبت بهما، ثم قلت في نفسي: لو أنني عاودته فسألته أسمع هذا كله من جابر؟ فسألته فقال: منه ما سمعت منه، ومنه ما حُدّثتُ عنه، فقلت له: أَعْلِمْ لي على ما سمعتَ منه، فأعْلَمَ لي على هذا الذي عندي" ( [91] ) .
وقد تتبع الذهبي رواية أبي الزبير في صحيح مسلم فقال:"وفي صحيح مسلم عدة أحاديث مما لم يوضح فيها أبو الزبير السماع من جابر، وهي من غير طريق الليث عنه، ففي القلب منه شيء".
ومن هذه الأحاديث:
لا يحل لأحد حمل السلاح بمكة. صحيح مسلم (1356)
رأى النبي صلى الله عليه وسلم امرأة، فأتى أهله زينب، فقضى حاجته. صحيح مسلم (1403)
نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبور. صحيح مسلم (970) انتهى كلامه.
قلتُ: وقد وجدت في صحيح مسلم أحاديث أبي الزبير، عن جابر من غير طريق الليث بن سعد عنه أكثر من هذا بدون التصريح، فالظاهر أن الإمام مسلما لم يُعِلّ الحديثَ بعنعنة أبي الزبير سواء روى عنه الليث بن سعد أو غيره.
فالمنهج الذي اخترتُه في حديث المدلسين هو ما يأتي:
المدلّسون الذين ذكرهم الحافظ ابن حجر في الطبقة الأولي والثانية مثل يحيى بن سعيد الأنصاري، وسفيان بن سعيد بن مسروق الثوري، وسفيان بن عيينة بن أبي عمران الهلالي، وغيرهم يُقبل تدليسُهم مطلقا، لأنهم لا يدلّسون إلا عن الثقات، ويُلحق بهم الأعمش، وابن جريج، والزهري، وقتادة، وعمرو بن دينار وغيرهم، وإن كان بعض هولاء ممن ذكرهم ابن حجر في الطبقة الثالثة، وذكرهم العلائي في الطبقة الثانية، فإنَّ ردَّ رواية هولاء بالعنعنة يودّي إلى تضعيف طائفة كبيرة من الأحاديث الصحيحة.
فإن قيل: لماذا كان هولاء يدلّسون؟ وهم أئمة هذا الفن وعمدتهم؟
فالجواب: لهم ظروف وحالات، فإذا كانوا في مجلس التحديث والرواية فما كانوا يدلسون، إذ المطلوب في مجلس التحديث اتصال الإسناد، وحديث المدلّس فيه انقطاع، وأما إن كانوا في المسجد أو في السوق أو في مقام الفتيا فكانوا يختصرون الإسناد إذ ليس المقصود منه في هذه الحالة اتصال الإسناد، فإذا سئلوا هل سمعتَ من فلان؟ فقالوا: لا، إنما سمعت من فلان عنه.
أن ينص أحد الأئمة على أن فلانا دلّس في هذا الحديث مثل حديث أبي ذرّ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ بنى لله مسجدًا ولو كمفحصِ قطاةٍ بنى اللهُ له بيتا في الجنة» . رواه علي بن المديني قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان الثوري، قال: حدثنا سليمان الأعمش، عن إبراهيم التيمي، عن أبيه، عن أبي ذر فذكره.قال علي ابن المديني: قال يحيى بن سعيد: قال سفيان وشعبة: لم يسمع الأعمشُ هذا الحديثَ من إبراهيم التيمي. انظر: مقدمة التمهيد (1/32) .
أن يعترف المدلس نفسه بأنه دلّس في هذا الحديث إذا سئل.
أن يروي المدلس حديثا يخالف المعروف، فالحمل عليه بأنه دلس عن بعض الضعفاء.
أن يُعرف بأنه لا يبالي عمن يدلس حبًّا لكثرة الحديث مثل محمد بن إسحاق والحسن البصري وغيرهما، فهولاء لابد لهم من التصريح بالسماع، والحسن البصري إنما يُخشى من تدليسه ما رواه عن الصحابة بالعنعنة، وأما ما رواه عن التابعين المعاصرين له فالتدليس فيه مستبعد.
أن يُعرف أنه يكثر تدليس عن الضعفاء والمجاهيل فهذا لا يقبل حتى يصرّح مثل بقية بن الوليد.
أن يكون المدلس قد ضُعِّفَ أيضا بسبب آخر فلا يُقبل ولو صرّح بالسماع، وهم الذين ذكرهم الحافظ ابن حجر في الطبقة الخامسة.
والذي يكثر النظرَ في الكتب يجد أن الرواةَ غيّروا صيغة الأداء في كثير من روايات المدلسين، فإننا نجد راويًا واحدًا مرة يروي بصيغة السماع، وأخرى بصيغة العنعنة، وقد نبّهتُ على ذلك في كثير من المواضع في الجامع الكامل.
والمثال الغريب الذي وقفتُ عليه هو ما ذكره مسلم في كتابه"التمييز" بأن النبي صلى الله عليه وسلم وقّتَ لأهل العراق ذات عرق، فليس بصحيح، لأنه رواه ابن جريج فقال في حديث أبي الزبير، عن جابر. هكذا قال في التمييز.
ثم وجدناه أنه روى هذا الحديث في صحيحه (1183) من طرق عن محمد بن بكر، أخبرنا ابن جريج، أخبرني أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبد الله فذكر الحديث.
فهذا الإسناد فيه دليل صريح أنه وقع تغيير في صيغة الأداء لأنه من المستبعد أن يكون أبو الزبير مرة قال: عن جابر، وأخرى: أنه سمع جابرا.
ولذا يجب الاحتياط في ردّ حديث الأئمة المدلسين الثقات بالعنعنة، وفي كلام مسلم إشارة إلى أنه أول من أظهر تدليس أبي الزبير، ومع ذلك فإنه أخرج أحاديثه في صحيحه.
ويؤكد ذلك ابن حبان في مقدمة صحيحه ( [92] ) بقوله:"فإذا صحَّ عندي خبر من رواية مدلس أنه بيّن السماع فيه، لا أبالي أن أذكره من غير بيان السماع في خبره بعد صحته عندي من طريق آخر".
يعني أن ابن حبان رحمه الله يُغيّر السماع بالعنعنة، فكل حديث مدلس بالعنعنة عند ابن حبان في صحيحه يُحمل على السماع.
وما قاله ابن حبان أخشى أن يكون هو الذي فعله بعض الرواة فغيّروا صيغة الأداء من السماع إلى العنعنة اختصارًا ظنًّا منهم بأن الصيغتين سواء كما ذكره الحافظ ابن حجر في ترجمة جعفر بن مسافر في تهذيبه.
قال يعقوب بن سفيان الفسوي:"سمعت عبد الرحمن بن إبراهيم دحيمًا، حَدَّثَنَا الوليد (هو ابن مسلم، مدلّس تدليس التسوية) قَال: كان الأوزاعي إذا حَدَّثَنَا يقول: حَدَّثَنَا يحيى قَال: حَدَّثَنَا فلان، حَدَّثَنَا فلان حتى ينتهي، قال الوليد:"فربما حدّثتُ كما حدّثني، وربما قلتُ: عن، عن، عن، تخففنا من الأخبار" ( [93] ) . انتهى.
ومن يطالع"تحفة الأشراف" للمزي فيجد أنه غيّر جميع صيغ الأداء بالعنعنة اختصارًا، ولذا اضطرّ الحافظ ابن حجر إلى تنصيص ذلك في مقدمة"إتحاف المهرة" ( [94] ) بأنه يسوق ألفاظ الصيغ في الإسناد غالبا لتظهر فائدة ما يصرح به المدلس بخلاف المزي.
فيظهر من ذلك أن تغيير صيغة الأداء لم يكن عندهم من الأمور المحظورة.
ولذا يجب الاحتياط في ردّ أحاديث المدلسين الثقات من أجل العنعنة إلا من عُرفَ أنه يُكثر التدليس عن الضعفاء والمجاهيل، فهذا لا يُقبل حتى يصرّح مثل بقية بن الوليد.
وأما من ضُعِّفَ بأمر آخرَ مع التدليس فحديثه مردود، ولو صرّح بالسماع مثل الحجاج بن أرطاة، وإبراهيم بن أبي يحيى، وجابر الجعفي وغيرهم ويلحق بهم ابن لهيعة إلا إذا روى عنه أحد العبادلة وصرّح بالسماع فحديثه حسن.
وأما المراتب التي ذكرها الحافظ ابن حجر رحمه الله تعالى في كتابه"تعريف أهل التقديس لمراتب الموصوفين بالتدليس" فهي مستمدة من جامع التحصيل للعلائي، فإليكم ذكر هذه الطبقات مع ذكر ما حذفه ابن حجر:
الأولى: من لم يوصف بذلك إلا نادرا كيحيى بن سعيد الأنصاري.
ولدى العلائي: هشام بن عروة وموسى بن عقبة.
الثانية: من احتمل الأئمة تدليسه، وأخرجوا له في الصحيح لإمامته وقلة تدليسه بجانب ما رواه كالثوري، أو كان لا يدلس إلا عن ثقة كابن عيينة.
وعند العلائي الزهري، وسليمان الأعمش، وإبراهيم النخعي، وإسماعيل بن أبي خالد، وسليمان التيمي، وحميد الطويل، والحكم بن عتيبة، ويحيى بن أبي كثير، وابن جريج، وشريك، وهشيم، وقال: ففي الصحيحين وغيرهما لهؤلاء الحديث الكثير مما ليس فيه التصريح بالسماع، وبعض الأئمة حمل ذلك على أن الشيخين اطلعا على سماع الواحد لذلك الحديث الذي أخرجه بلفظ"عن" ونحوها من شيخه، وفيه تطويل.
قلت: إنْ صحَّ ما قالوا: فمعنى ذلك أن بعض الرواة غيّروا صيغة السماع إلى"عن".
الثالثة: من أكثر من التدليس فلم يحتج الأئمة من أحاديثهم إلا بما صرّحوا فيه بالسماع ومنهم من ردّ حديثهم مطلقا ومنهم من قبله مطلقا كأبي الزبير المكي، وكذلك الزهري، وقتادة، وحميد الطويل صاحب أنس.
والذي في جامع التحصيل من توقف فيهم جماعة فلم يحتجوا بهم إلا بما صرّحوا فيه بالسماع، وقبلهم آخرون مطلقا كالطبقة التي قبلها لأحد الأسباب المتقدمة كالحسن، وقتادة، وأبي إسحاق السبيعي، وأبي الزبير المكي، وأبي سفيان طلحة بن نافع، وعبد الملك بن عمير.
الرابعة: من اتفق على أنه لا يحتج بشيء من حديثهم إلا بما صرحوا فيه بالسماع لكثرة تدليسهم عن الضعفاء والمجاهيل كبقية بن الوليد.
وزاد العلائي: كابن إسحاق، وحجاج بن أرطأة، وجابر الجعفي، وسويد بن سعيد، وأضرابهم.
الخامسة: من ضُعِّفَ بأمر آخر سوى التدليس فحديثهم مردود ولو صرحوا بالسماع. مثل جابر الجعفي وعبدالرحمن بن زياد بن أنعم الافريقي.
وذكر العلائي في هذه الطبقة: أبا جناب الكلبي، وأبا سعيد البقال، وذكر جابرا الجعفي في الطبقة الرابعة، إلا أن ابن حجر لم يلتزم بتطبيق هذه الطبقات في كتابه" فتح الباري"، فكنت تحيرت من مخالفته، ثم أخبرني أحد الطلاب الدارسين عندي في المسجد النبوي أن الحافظ ابن حجر ألف كتابا آخر رجع فيه عن كتابه تعريف أهل التقديس، وتوجد منه نسخة في إحدى المكتبات في تركيا، فعرفت سبب مخالفته.
اور وہ یہ ہے کہ راوی اپنے کسی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات رہی ہو یا وہ اس کا ہم عصر ہو، چنانچہ اگر وہ سماع کی صراحت کر دے تو اہل علم کے مابین اس کی حدیث کی قبولیت میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، جبکہ اس کی قبولیت میں کوئی دوسرا مانع موجود نہ ہو؛ اس کی مفصل شرح میری کتاب ”معجم مصطلحات الحديث“ میں ملاحظہ فرمائیں۔
اہلِ علم کے مابین اس (راوی کی روایت) کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے جس میں سماع کی صراحت نہ ہو حالانکہ اس کی (اپنے شیخ سے) ملاقات ثابت ہو چکی ہو، چنانچہ کتبِ صحاح کے مصنفین مثلاً امام بخاری، مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ، اور اسی طرح اصحابِ سنن مثلاً دارقطنی اور بیہقی غالباً ان روایات کی مطلق قبولیت کی طرف گئے ہیں، خواہ ان میں سماع کی تصریح کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔
اس کی مثال ابو الزبیر ہیں اور وہ محمد بن مسلم بن تدرس ہیں جو ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں، امام مسلم نے ان پر مکمل اعتماد کیا ہے اور امام بخاری نے ان سے بطورِ متابعت روایت لی ہے، وہ ان راویوں میں سے ہیں جو تدلیس کے ساتھ معروف ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ ان کی حدیث کو مطلقاً قبول کرتے تھے خواہ وہ تحدیث کی صراحت کریں یا نہ کریں اور خواہ ان سے لیث بن سعد روایت کریں یا ان کے علاوہ کوئی اور؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیث بن سعد نے فرمایا: میں ابو الزبیر کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے دو کتابیں دیں، میں انہیں لے کر واپس لوٹا، پھر میں نے اپنے دل میں کہا: کاش میں ان کے پاس دوبارہ جا کر ان سے پوچھ لوں کہ کیا آپ نے یہ سب جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ چنانچہ میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: ان میں سے بعض وہ ہیں جو میں نے ان سے سنی ہیں اور بعض وہ ہیں جو مجھے ان کی طرف سے بیان کی گئی ہیں، پس میں نے ان سے کہا: میرے لیے ان روایات پر نشان لگا دیں جو آپ نے خود سنی ہیں، تو انہوں نے میرے لیے ان روایات پر نشان لگا دیے جو میرے پاس موجود ہیں۔ 91
امام ذہبی نے صحیح مسلم میں ابو الزبیر کی مرویات کا تتبع و استقصاء کیا اور فرمایا کہ صحیح مسلم میں ایسی متعدد احادیث موجود ہیں جن میں ابو الزبیر نے حضرت جابر سے سماع کی صراحت نہیں کی ہے، اور یہ روایات ان سے امام لیث کے واسطے کے علاوہ دیگر طرق سے مروی ہیں، چنانچہ ان کے متعلق دل میں کچھ کھٹک اور تامل باقی ہے۔
اور انھی احادیثِ مبارکہ میں سے ایک یہ بھی ہے:
مکہ مکرمہ کی حدود میں کسی بھی شخص کے لیے اسلحہ اٹھانا یا ہتھیار لے کر چلنا ہرگز روا نہیں ہے۔ [صحیح مسلم: 1356]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، پھر آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور اپنی حاجت پوری فرمائی۔ [صحيح مسلم: 1403]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ (چونا گچ) کرنے سے منع فرمایا ہے، صحیح مسلم 970، یہاں ان کا کلام ختم ہوا۔
میں عرض گزار ہوں کہ میں نے صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ابو الزبیر کی ایسی کثیر احادیث پائی ہیں جو لیث بن سعد کے علاوہ دیگر طرق سے منقول ہیں اور ان میں سماع کی صراحت بھی موجود نہیں ہے، لہٰذا قرینِ قیاس یہی ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ ابو الزبیر کے عنعنہ کو باعثِ علت قرار نہیں دیتے، خواہ ان سے روایت کرنے والے لیث بن سعد ہوں یا کوئی اور راوی۔
پس وہ منہج و اسلوب جسے میں نے مدلسین کی حدیث کے باب میں اختیار کیا ہے، وہ حسبِ ذیل ہے:
وہ مدلسین جن کا ذکر حافظ ابن حجر نے طبقہ اولیٰ اور ثانیہ میں فرمایا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید انصاری، سفیان بن سعید بن مسروق الثوری، اور سفیان بن عیینہ بن ابی عمران الہلالی وغیرہم، ان کی تدلیس مطلقاً مقبول ہے، کیونکہ یہ حضرات صرف ثقات ہی سے تدلیس کرتے ہیں، اور انہی کے زمرے میں اعمش، ابن جریج، زہری، قتادہ اور عمرو بن دینار وغیرہم کو بھی شامل کیا جائے گا، اگرچہ ان میں سے بعض وہ ہیں جنہیں ابن حجر نے تیسرے طبقے میں شمار کیا ہے جبکہ علائی نے دوسرے طبقے میں جگہ دی ہے، پس ان ائمہ کی معنعن روایات کو محض عنعنہ کی بنیاد پر مسترد کرنا صحیح احادیث کی ایک بڑی جماعت کی تضعیف کا موجب بنے گا۔
پس اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ یہ حضرات تدلیس کیوں کیا کرتے تھے، حالانکہ وہ اس فن کے ائمہ اور اس کے معتبر ستون ہیں؟
پس جواب یہ ہے کہ ان کے مختلف احوال اور مخصوص ظروف ہوتے تھے، چنانچہ جب وہ روایت و تحدیث کی مجلس میں رونق افروز ہوتے تو تدلیس کا ارتکاب نہیں کرتے تھے کیونکہ مجلسِ تحدیث میں سند کا متصل ہونا ہی مطلوب ہوتا ہے جبکہ مدلس کی حدیث میں انقطاع پایا جاتا ہے، البتہ جب وہ مسجد، بازار یا منصبِ افتا پر متمکن ہوتے تو سند میں اختصار سے کام لیتے تھے کیونکہ اس حالت میں اتصالِ سند مقصود نہیں ہوتا تھا، چنانچہ جب ان سے دریافت کیا جاتا کہ کیا آپ نے براہِ راست فلاں سے سماع کیا ہے؟ تو وہ صاف کہہ دیتے کہ نہیں، بلکہ میں نے فلاں کے واسطے سے اس سے سنا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ ائمہِ فن میں سے کوئی امام اس امر کی صراحت فرما دے کہ فلاں راوی نے اس خاص حدیث میں تدلیس سے کام لیا ہے، جیسا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایک مسجد تعمیر کی، خواہ وہ (قطاہ نامی) پرندے کے انڈے دینے کی جگہ کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرمائے گا“۔ اسے علی بن المدینی نے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ بن سعید القطان نے سفیان ثوری سے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، پھر مکمل روایت ذکر کی۔ علی بن المدینی بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ سفیان اور شعبہ نے صراحت کی ہے کہ اعمش نے یہ حدیث ابراہیم تیمی سے براہِ راست نہیں سنی۔ ملاحظہ ہو: مقدمہ التمہید 1 32۔
یہ کہ جب مدلس سے دریافت کیا جائے تو وہ خود اس امر کا اعتراف کر لے کہ اس نے اس مخصوص حدیث میں تدلیس کا ارتکاب کیا ہے۔
جب کوئی مدلس راوی ایسی حدیث روایت کرے جو معروف روایات کے خلاف ہو، تو اس کا محمل یہی قرار پائے گا کہ اس نے اسے بعض ضعیف راویوں سے حذف کر کے تدلیس کا ارتکاب کیا ہے۔
یہ بات کہ راوی کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ کثرتِ حدیث کے شوق میں اس امر کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کس سے تدلیس کر رہا ہے، جیسا کہ محمد بن اسحاق اور حسن بصری وغیرہ؛ پس ایسے راویوں کے لیے سماع کی صراحت ناگزیر ہے، اور حسن بصری کی تدلیس کا اندیشہ صرف ان مرویات میں ہوتا ہے جو انہوں نے صحابہ کرام سے بصیغہٴ 'عن' روایت کی ہوں، لیکن جہاں تک ان مرویات کا تعلق ہے جو انہوں نے اپنے ہم عصر تابعین سے بیان کی ہیں تو ان میں تدلیس کا احتمال بعید ہے۔
جب یہ امر متحقق ہو جائے کہ کوئی راوی ضعیف اور مجہول اساتذہ سے بکثرت تدلیس کرنے میں معروف ہے، تو اس کی مرویات اس وقت تک درجۂ قبولیت کو نہیں پہنچیں گی جب تک کہ وہ سماع کی صراحت نہ کر دے، جیسا کہ بقیہ بن ولید کا معاملہ ہے۔
یہ کہ مدلس راوی کسی دوسرے سبب کی بنا پر بھی ضعیف قرار دیا گیا ہو، ایسی صورت میں اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ سماع کی صراحت ہی کیوں نہ کر دے، اور یہ وہی رواۃ ہیں جن کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے پانچویں طبقے میں کیا ہے۔
جو شخص کتبِ حدیث کا کثرت سے مطالعہ کرتا ہے وہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ راویوں نے مدلسین کی کثیر روایات میں صیغۂ ادا کو تبدیل کر دیا ہے، چنانچہ ہمیں ایک ہی راوی ملتا ہے جو کبھی صیغۂ سماع کے ساتھ روایت کرتا ہے اور کبھی صیغۂ عنعنہ کے ساتھ، اور میں نے "الجامع الکامل" میں بکثرت مقامات پر اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے۔
اور وہ نادر مثال جس پر میں مطلع ہوا وہ ہے جو امام مسلم نے اپنی کتاب "التمیز" میں بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے "ذاتِ عرق" کو میقات مقرر فرمایا، تو یہ (ارشادِ نبوی کے طور پر) صحیح نہیں ہے کیونکہ اسے ابن جریج نے روایت کیا اور انہوں نے اسے ابو زبیر کی حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، امام مسلم نے کتاب "التمیز" میں اسی طرح ذکر کیا ہے۔
پھر ہم نے یہ پایا کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی صحیح (1183) میں محمد بن بکر سے مروی متعدد طرق کے واسطے سے روایت کیا ہے؛ (وہ کہتے ہیں کہ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں کہ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سماعت کی، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر فرمائی۔
پس یہ سند اس امر پر دلیلِ صریح ہے کہ صیغۂ ادا میں تبدیلی واقع ہوئی ہے، کیونکہ یہ بات نہایت بعید از قیاس ہے کہ ابو الزبیر نے ایک مرتبہ تو "عن جابر" (جابر سے مروی ہے) کہا ہو اور دوسری مرتبہ یہ صراحت کی ہو کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماعت کی ہے۔
اسی لیے تدلیس کرنے والے ثقہ ائمہ کی معنعن روایات کو مسترد کرنے کے باب میں احتیاط لازم ہے، اور امام مسلم کے کلام میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ابو الزبیر کی تدلیس کو آشکار کیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی صحیح میں ان کی احادیث کی تخریج فرمائی ہے۔
ابن حبان اپنی صحیح کے مقدمہ [92] میں اس کی تائید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: "جب میرے نزدیک کسی مدلس کی روایت سے ایسی خبر پایۂ صحت کو پہنچ جائے جس میں اس نے سماع کی صراحت کر دی ہو، تو پھر مجھے اس امر کا کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ میں اسے اس کی خبر میں بیانِ سماع کے بغیر ذکر کروں، جبکہ وہ خبر کسی دوسرے طریق سے میرے نزدیک پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہو"۔
مقصود یہ ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ صراحتِ سماع کو 'عنعنہ' کے لفظ سے بدل دیتے ہیں، لہٰذا امام ابن حبان کی 'صحیح' میں عنعنہ کے پیرائے میں مروی ہر مدلس حدیث سماع (سماعت کی صراحت) پر ہی محمول ہو گی۔
ابنِ حبان نے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ وہی عمل ہے جو بعض رواۃ سے سرزد ہوا کہ انہوں نے محض اختصار کی خاطر صیغۂ ادا کو 'سماع' سے 'عنعنہ' میں بدل دیا، اس گمان کی بنیاد پر کہ یہ دونوں صیغے (حکم میں) یکساں ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ حجر نے اپنی تالیف 'تہذیب' میں جعفر بن مسافر کے حالاتِ زندگی میں تذکرہ فرمایا ہے۔
يعقوب بن سفیان الفسوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن ابراہیم دحیم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں ولید (یعنی ابن مسلم، جو تدلیسِ تسویہ کے لیے معروف ہیں) نے خبر دی، انہوں نے کہا: امام اوزاعی جب ہمیں حدیث بیان کرتے تو فرماتے کہ ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے کہ ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی، ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی حتیٰ کہ وہ سلسلۂ سند مکمل کر لیتے، ولید نے کہا کہ چنانچہ بسا اوقات میں بعینہ اسی طرح بیان کر دیتا جیسے انہوں نے مجھ سے بیان کیا تھا، اور بسا اوقات اخبار میں تخفیف و اختصار کی خاطر 'عن، عن، عن' کے الفاظ استعمال کر لیتا تھا [93] ۔ بات ختم ہوئی۔
اور جو کوئی امام مزی کی تالیف "تحفۃ الاشراف" کا مطالعہ کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ انہوں نے اختصار کے پیشِ نظر ادا کے تمام صیغوں کو "عنعنہ" سے تبدیل کر دیا ہے، اسی بنا پر حافظ ابن حجر "اتحاف المہرہ" 94 کے مقدمے میں اس بات کی صراحت کرنے پر مجبور ہوئے کہ وہ امام مزی کے برعکس سند میں ادا کے اصل صیغے ہی ذکر کرتے ہیں تاکہ مدلس راوی کی تصریحِ سماع کا فائدہ واضح ہو سکے۔
اس سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ صیغۂ ادا میں تبدیلی ان کے نزدیک امورِ ممنوعہ میں سے نہ تھی۔
اسی بنا پر ثقہ مدلسین کی مرویات کو محض عنعنہ کے سبب مسترد کرنے میں احتیاط برتنا ناگزیر ہے، الّا یہ کہ وہ راوی ضعیف اور مجہول اساتذہ سے کثرتِ تدلیس کے لیے معروف ہو؛ چنانچہ ایسے راوی کی حدیث اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگی جب تک کہ وہ صراحت کے ساتھ تحدیث و سماع کا ذکر نہ کر دے، جیسا کہ بقیہ بن ولید کا معاملہ ہے۔
اور جہاں تک اس راوی کا تعلق ہے جو تدلیس کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے سبب کی بنا پر بھی ضعیف قرار دیا گیا ہو، تو اس کی حدیث مردود ہے، خواہ وہ سماع کی تصریح ہی کیوں نہ کر دے، جیسا کہ حجاج بن ارطاہ، ابراہیم بن ابی یحییٰ، جابر جعفی اور ان کے علاوہ دیگر رواة؛ اور انہی کے زمرے میں ابن لہیعہ کو بھی شامل کیا جائے گا، سوائے اس صورت کے کہ جب ان سے "عبادلہ" (عبد اللہ نامی ائمہ) میں سے کوئی روایت کرے اور وہ سماع کی صراحت کر دیں، تو ایسی صورت میں ان کی حدیث حسن کے درجے میں ہوگی۔
جہاں تک ان مراتب و درجات کا تعلق ہے جن کا تذکرہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصنیف "تعريف أهل التقديس لمراتب الموصوفين بالتدليس" میں کیا ہے، تو وہ امام علائی کی کتاب "جامع التحصيل" سے ماخوذ ہیں؛ لہٰذا ان طبقات کا تذکرہ ان امور کے بیان کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں جنہیں حافظ ابن حجر نے حذف کر دیا تھا۔
پہلی قسم: یہ وہ حضرات ہیں جنہیں اس وصف (تدلیس) کے ساتھ محض شاذ و نادر ہی متصف کیا گیا ہے، جیسا کہ یحییٰ بن سعید انصاری۔
اور امام علائی کے نزدیک ہشام بن عروہ اور موسیٰ بن عقبہ مراد ہیں۔
دوسری قسم ان راویوں کی ہے جن کی تدلیس کو ائمہِ حدیث نے گوارا کیا ہے اور ان کی جلالتِ قدر اور مرویات کی کثرت کے مقابلے میں تدلیس کے شاذ و نادر وقوع کی بنا پر ائمہِ صحاح نے ان کی احادیث کو اپنی کتبِ صحیح میں جگہ دی ہے، جیسے سفیان ثوری؛ یا وہ راوی جو صرف کسی ثقہ راوی ہی سے تدلیس کرتے ہوں، جیسے سفیان بن عیینہ۔
امام علائی کے نزدیک زہری، سلیمان اعمش، ابراہیم نخعی، اسماعیل بن ابی خالد، سلیمان تیمی، حمید طویل، حکم بن عتیبہ، یحییٰ بن ابی کثیر، ابن جریج، شریک اور ہشیم بھی (مدلسین میں شامل) ہیں، اور انہوں نے فرمایا کہ صحیحین اور ان کے علاوہ دیگر کتبِ حدیث میں ان رواۃ کی ایسی کثیر احادیث موجود ہیں جن میں سماع کی صراحت نہیں ہے، چنانچہ بعض ائمہ نے اس امر کو اس پر محمول کیا ہے کہ شیخین (امام بخاری و مسلم) اس مخصوص حدیث کے متعلق، جسے ان رواۃ نے لفظِ "عن" یا اس کے ہم معنی الفاظ سے روایت کیا ہے، اپنے شیخ سے ان کے سماعِ حقیقی پر مطلع تھے، اور اس بحث میں مزید تفصیل و طوالت ہے۔
میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ان کی بات درست ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ بعض راویوں نے صیغۂ سماع کو لفظ "عن" سے بدل دیا ہے۔
تیسری قسم ان راویوں کی ہے جنہوں نے کثرت سے تدلیس سے کام لیا، چنانچہ ائمہِ فن نے ان کی احادیث میں سے صرف انہی مرویات کو لائقِ حجت تسلیم کیا ہے جن میں انہوں نے صراحت کے ساتھ سماع کا ذکر کیا ہے، جب کہ بعض محدثین نے ان کی حدیث کو علی الاطلاق مسترد کر دیا ہے اور بعض نے اسے مطلقا قبول کر لیا ہے، جیسے ابو الزبیر المکی، اور اسی طرح زہری، قتادہ، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مصاحب حمید الطویل ہیں۔
کتاب "جامع التحصیل" کی رو سے ائمہ کی ایک جماعت نے ان راویوں کے معاملے میں توقف سے کام لیا ہے اور ان کی صرف انہی مرویات کو بطورِ حجت قبول کیا ہے جن میں انہوں نے صیغۂ سماع کی صراحت کی ہو، جبکہ دیگر محدثین نے سابقہ وجوہ میں سے کسی وجہ کی بنا پر انہیں ماقبل والے طبقے کی مانند علی الاطلاق قبول کیا ہے، جن میں امام حسن بصری، قتادہ، ابو اسحاق سبیعی، ابو زبیر مکی، ابو سفیان طلحہ بن نافع اور عبد الملک بن عمیر جیسے کبار ائمہ شامل ہیں۔
چوتھا طبقہ ان رواة کا ہے جن کے بارے میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان کی کسی بھی حدیث سے اس وقت تک احتجاج نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اس میں صراحتاً اپنے سماع کا ذکر نہ کر دیں، کیونکہ وہ ضعیف اور مجہول راویوں سے کثرت کے ساتھ تدلیس کرتے ہیں، جیسا کہ بقیہ بن ولید ہیں۔
اور امام علائی نے (اس میں) ان جیسے رواۃ کا مزید اضافہ کیا ہے: مثلاً ابنِ اسحاق، حجاج بن ارطاۃ، جابر الجعفی، سوید بن سعید اور ان کے ہم پلہ دیگر افراد۔
پانچویں صورت یہ ہے کہ جن راویوں کی تضعیف تدلیس کے علاوہ کسی اور سبب سے ہوئی ہو، ان کی روایت مردود ہی شمار ہوگی خواہ وہ سماع کی صراحت بھی کر دیں؛ جیسے جابر الجعفی اور عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی۔
امام علائی نے اس طبقے میں ابوجناب کلبی اور ابوسعید بقال کا ذکر فرمایا ہے، جبکہ جابر جعفی کو چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے، مگر حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب "فتح الباری" میں ان طبقات کی ترتیب و تطبیق کی پاسداری نہیں کی، جس پر میں ان کی اس مخالفت کے سبب حیرت زدہ تھا، یہاں تک کہ مسجد نبوی میں میرے ایک زیرِ تعلیم طالب علم نے مجھے مطلع کیا کہ حافظ ابن حجر نے ایک اور کتاب تالیف فرمائی تھی جس میں انہوں نے اپنی تصنیف "تعریف اہل التقديس" میں اختیار کردہ موقف سے رجوع کر لیا تھا اور اس کا ایک نسخہ ترکی کے کتب خانوں میں سے کسی میں موجود ہے، تب مجھے ان کے اس اختلاف کا اصل سبب معلوم ہوا۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M90]
اہلِ علم کے مابین اس (راوی کی روایت) کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے جس میں سماع کی صراحت نہ ہو حالانکہ اس کی (اپنے شیخ سے) ملاقات ثابت ہو چکی ہو، چنانچہ کتبِ صحاح کے مصنفین مثلاً امام بخاری، مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ، اور اسی طرح اصحابِ سنن مثلاً دارقطنی اور بیہقی غالباً ان روایات کی مطلق قبولیت کی طرف گئے ہیں، خواہ ان میں سماع کی تصریح کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو۔
اس کی مثال ابو الزبیر ہیں اور وہ محمد بن مسلم بن تدرس ہیں جو ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں، امام مسلم نے ان پر مکمل اعتماد کیا ہے اور امام بخاری نے ان سے بطورِ متابعت روایت لی ہے، وہ ان راویوں میں سے ہیں جو تدلیس کے ساتھ معروف ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ ان کی حدیث کو مطلقاً قبول کرتے تھے خواہ وہ تحدیث کی صراحت کریں یا نہ کریں اور خواہ ان سے لیث بن سعد روایت کریں یا ان کے علاوہ کوئی اور؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیث بن سعد نے فرمایا: میں ابو الزبیر کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے دو کتابیں دیں، میں انہیں لے کر واپس لوٹا، پھر میں نے اپنے دل میں کہا: کاش میں ان کے پاس دوبارہ جا کر ان سے پوچھ لوں کہ کیا آپ نے یہ سب جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ چنانچہ میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: ان میں سے بعض وہ ہیں جو میں نے ان سے سنی ہیں اور بعض وہ ہیں جو مجھے ان کی طرف سے بیان کی گئی ہیں، پس میں نے ان سے کہا: میرے لیے ان روایات پر نشان لگا دیں جو آپ نے خود سنی ہیں، تو انہوں نے میرے لیے ان روایات پر نشان لگا دیے جو میرے پاس موجود ہیں۔ 91
امام ذہبی نے صحیح مسلم میں ابو الزبیر کی مرویات کا تتبع و استقصاء کیا اور فرمایا کہ صحیح مسلم میں ایسی متعدد احادیث موجود ہیں جن میں ابو الزبیر نے حضرت جابر سے سماع کی صراحت نہیں کی ہے، اور یہ روایات ان سے امام لیث کے واسطے کے علاوہ دیگر طرق سے مروی ہیں، چنانچہ ان کے متعلق دل میں کچھ کھٹک اور تامل باقی ہے۔
اور انھی احادیثِ مبارکہ میں سے ایک یہ بھی ہے:
مکہ مکرمہ کی حدود میں کسی بھی شخص کے لیے اسلحہ اٹھانا یا ہتھیار لے کر چلنا ہرگز روا نہیں ہے۔ [صحیح مسلم: 1356]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، پھر آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور اپنی حاجت پوری فرمائی۔ [صحيح مسلم: 1403]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ (چونا گچ) کرنے سے منع فرمایا ہے، صحیح مسلم 970، یہاں ان کا کلام ختم ہوا۔
میں عرض گزار ہوں کہ میں نے صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ابو الزبیر کی ایسی کثیر احادیث پائی ہیں جو لیث بن سعد کے علاوہ دیگر طرق سے منقول ہیں اور ان میں سماع کی صراحت بھی موجود نہیں ہے، لہٰذا قرینِ قیاس یہی ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ ابو الزبیر کے عنعنہ کو باعثِ علت قرار نہیں دیتے، خواہ ان سے روایت کرنے والے لیث بن سعد ہوں یا کوئی اور راوی۔
پس وہ منہج و اسلوب جسے میں نے مدلسین کی حدیث کے باب میں اختیار کیا ہے، وہ حسبِ ذیل ہے:
وہ مدلسین جن کا ذکر حافظ ابن حجر نے طبقہ اولیٰ اور ثانیہ میں فرمایا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید انصاری، سفیان بن سعید بن مسروق الثوری، اور سفیان بن عیینہ بن ابی عمران الہلالی وغیرہم، ان کی تدلیس مطلقاً مقبول ہے، کیونکہ یہ حضرات صرف ثقات ہی سے تدلیس کرتے ہیں، اور انہی کے زمرے میں اعمش، ابن جریج، زہری، قتادہ اور عمرو بن دینار وغیرہم کو بھی شامل کیا جائے گا، اگرچہ ان میں سے بعض وہ ہیں جنہیں ابن حجر نے تیسرے طبقے میں شمار کیا ہے جبکہ علائی نے دوسرے طبقے میں جگہ دی ہے، پس ان ائمہ کی معنعن روایات کو محض عنعنہ کی بنیاد پر مسترد کرنا صحیح احادیث کی ایک بڑی جماعت کی تضعیف کا موجب بنے گا۔
پس اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ یہ حضرات تدلیس کیوں کیا کرتے تھے، حالانکہ وہ اس فن کے ائمہ اور اس کے معتبر ستون ہیں؟
پس جواب یہ ہے کہ ان کے مختلف احوال اور مخصوص ظروف ہوتے تھے، چنانچہ جب وہ روایت و تحدیث کی مجلس میں رونق افروز ہوتے تو تدلیس کا ارتکاب نہیں کرتے تھے کیونکہ مجلسِ تحدیث میں سند کا متصل ہونا ہی مطلوب ہوتا ہے جبکہ مدلس کی حدیث میں انقطاع پایا جاتا ہے، البتہ جب وہ مسجد، بازار یا منصبِ افتا پر متمکن ہوتے تو سند میں اختصار سے کام لیتے تھے کیونکہ اس حالت میں اتصالِ سند مقصود نہیں ہوتا تھا، چنانچہ جب ان سے دریافت کیا جاتا کہ کیا آپ نے براہِ راست فلاں سے سماع کیا ہے؟ تو وہ صاف کہہ دیتے کہ نہیں، بلکہ میں نے فلاں کے واسطے سے اس سے سنا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ ائمہِ فن میں سے کوئی امام اس امر کی صراحت فرما دے کہ فلاں راوی نے اس خاص حدیث میں تدلیس سے کام لیا ہے، جیسا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے ایک مسجد تعمیر کی، خواہ وہ (قطاہ نامی) پرندے کے انڈے دینے کی جگہ کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرمائے گا“۔ اسے علی بن المدینی نے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ بن سعید القطان نے سفیان ثوری سے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے اور انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، پھر مکمل روایت ذکر کی۔ علی بن المدینی بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ سفیان اور شعبہ نے صراحت کی ہے کہ اعمش نے یہ حدیث ابراہیم تیمی سے براہِ راست نہیں سنی۔ ملاحظہ ہو: مقدمہ التمہید 1 32۔
یہ کہ جب مدلس سے دریافت کیا جائے تو وہ خود اس امر کا اعتراف کر لے کہ اس نے اس مخصوص حدیث میں تدلیس کا ارتکاب کیا ہے۔
جب کوئی مدلس راوی ایسی حدیث روایت کرے جو معروف روایات کے خلاف ہو، تو اس کا محمل یہی قرار پائے گا کہ اس نے اسے بعض ضعیف راویوں سے حذف کر کے تدلیس کا ارتکاب کیا ہے۔
یہ بات کہ راوی کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ کثرتِ حدیث کے شوق میں اس امر کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کس سے تدلیس کر رہا ہے، جیسا کہ محمد بن اسحاق اور حسن بصری وغیرہ؛ پس ایسے راویوں کے لیے سماع کی صراحت ناگزیر ہے، اور حسن بصری کی تدلیس کا اندیشہ صرف ان مرویات میں ہوتا ہے جو انہوں نے صحابہ کرام سے بصیغہٴ 'عن' روایت کی ہوں، لیکن جہاں تک ان مرویات کا تعلق ہے جو انہوں نے اپنے ہم عصر تابعین سے بیان کی ہیں تو ان میں تدلیس کا احتمال بعید ہے۔
جب یہ امر متحقق ہو جائے کہ کوئی راوی ضعیف اور مجہول اساتذہ سے بکثرت تدلیس کرنے میں معروف ہے، تو اس کی مرویات اس وقت تک درجۂ قبولیت کو نہیں پہنچیں گی جب تک کہ وہ سماع کی صراحت نہ کر دے، جیسا کہ بقیہ بن ولید کا معاملہ ہے۔
یہ کہ مدلس راوی کسی دوسرے سبب کی بنا پر بھی ضعیف قرار دیا گیا ہو، ایسی صورت میں اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ سماع کی صراحت ہی کیوں نہ کر دے، اور یہ وہی رواۃ ہیں جن کا تذکرہ حافظ ابن حجر نے پانچویں طبقے میں کیا ہے۔
جو شخص کتبِ حدیث کا کثرت سے مطالعہ کرتا ہے وہ اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ راویوں نے مدلسین کی کثیر روایات میں صیغۂ ادا کو تبدیل کر دیا ہے، چنانچہ ہمیں ایک ہی راوی ملتا ہے جو کبھی صیغۂ سماع کے ساتھ روایت کرتا ہے اور کبھی صیغۂ عنعنہ کے ساتھ، اور میں نے "الجامع الکامل" میں بکثرت مقامات پر اس امر کی جانب توجہ دلائی ہے۔
اور وہ نادر مثال جس پر میں مطلع ہوا وہ ہے جو امام مسلم نے اپنی کتاب "التمیز" میں بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے "ذاتِ عرق" کو میقات مقرر فرمایا، تو یہ (ارشادِ نبوی کے طور پر) صحیح نہیں ہے کیونکہ اسے ابن جریج نے روایت کیا اور انہوں نے اسے ابو زبیر کی حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، امام مسلم نے کتاب "التمیز" میں اسی طرح ذکر کیا ہے۔
پھر ہم نے یہ پایا کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی صحیح (1183) میں محمد بن بکر سے مروی متعدد طرق کے واسطے سے روایت کیا ہے؛ (وہ کہتے ہیں کہ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں کہ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سماعت کی، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر فرمائی۔
پس یہ سند اس امر پر دلیلِ صریح ہے کہ صیغۂ ادا میں تبدیلی واقع ہوئی ہے، کیونکہ یہ بات نہایت بعید از قیاس ہے کہ ابو الزبیر نے ایک مرتبہ تو "عن جابر" (جابر سے مروی ہے) کہا ہو اور دوسری مرتبہ یہ صراحت کی ہو کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماعت کی ہے۔
اسی لیے تدلیس کرنے والے ثقہ ائمہ کی معنعن روایات کو مسترد کرنے کے باب میں احتیاط لازم ہے، اور امام مسلم کے کلام میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ابو الزبیر کی تدلیس کو آشکار کیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی صحیح میں ان کی احادیث کی تخریج فرمائی ہے۔
ابن حبان اپنی صحیح کے مقدمہ [92] میں اس کی تائید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: "جب میرے نزدیک کسی مدلس کی روایت سے ایسی خبر پایۂ صحت کو پہنچ جائے جس میں اس نے سماع کی صراحت کر دی ہو، تو پھر مجھے اس امر کا کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا کہ میں اسے اس کی خبر میں بیانِ سماع کے بغیر ذکر کروں، جبکہ وہ خبر کسی دوسرے طریق سے میرے نزدیک پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہو"۔
مقصود یہ ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ صراحتِ سماع کو 'عنعنہ' کے لفظ سے بدل دیتے ہیں، لہٰذا امام ابن حبان کی 'صحیح' میں عنعنہ کے پیرائے میں مروی ہر مدلس حدیث سماع (سماعت کی صراحت) پر ہی محمول ہو گی۔
ابنِ حبان نے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ وہی عمل ہے جو بعض رواۃ سے سرزد ہوا کہ انہوں نے محض اختصار کی خاطر صیغۂ ادا کو 'سماع' سے 'عنعنہ' میں بدل دیا، اس گمان کی بنیاد پر کہ یہ دونوں صیغے (حکم میں) یکساں ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ حجر نے اپنی تالیف 'تہذیب' میں جعفر بن مسافر کے حالاتِ زندگی میں تذکرہ فرمایا ہے۔
يعقوب بن سفیان الفسوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن ابراہیم دحیم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں ولید (یعنی ابن مسلم، جو تدلیسِ تسویہ کے لیے معروف ہیں) نے خبر دی، انہوں نے کہا: امام اوزاعی جب ہمیں حدیث بیان کرتے تو فرماتے کہ ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے کہ ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی، ہمیں فلاں نے حدیث بیان کی حتیٰ کہ وہ سلسلۂ سند مکمل کر لیتے، ولید نے کہا کہ چنانچہ بسا اوقات میں بعینہ اسی طرح بیان کر دیتا جیسے انہوں نے مجھ سے بیان کیا تھا، اور بسا اوقات اخبار میں تخفیف و اختصار کی خاطر 'عن، عن، عن' کے الفاظ استعمال کر لیتا تھا [93] ۔ بات ختم ہوئی۔
اور جو کوئی امام مزی کی تالیف "تحفۃ الاشراف" کا مطالعہ کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ انہوں نے اختصار کے پیشِ نظر ادا کے تمام صیغوں کو "عنعنہ" سے تبدیل کر دیا ہے، اسی بنا پر حافظ ابن حجر "اتحاف المہرہ" 94 کے مقدمے میں اس بات کی صراحت کرنے پر مجبور ہوئے کہ وہ امام مزی کے برعکس سند میں ادا کے اصل صیغے ہی ذکر کرتے ہیں تاکہ مدلس راوی کی تصریحِ سماع کا فائدہ واضح ہو سکے۔
اس سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ صیغۂ ادا میں تبدیلی ان کے نزدیک امورِ ممنوعہ میں سے نہ تھی۔
اسی بنا پر ثقہ مدلسین کی مرویات کو محض عنعنہ کے سبب مسترد کرنے میں احتیاط برتنا ناگزیر ہے، الّا یہ کہ وہ راوی ضعیف اور مجہول اساتذہ سے کثرتِ تدلیس کے لیے معروف ہو؛ چنانچہ ایسے راوی کی حدیث اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگی جب تک کہ وہ صراحت کے ساتھ تحدیث و سماع کا ذکر نہ کر دے، جیسا کہ بقیہ بن ولید کا معاملہ ہے۔
اور جہاں تک اس راوی کا تعلق ہے جو تدلیس کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے سبب کی بنا پر بھی ضعیف قرار دیا گیا ہو، تو اس کی حدیث مردود ہے، خواہ وہ سماع کی تصریح ہی کیوں نہ کر دے، جیسا کہ حجاج بن ارطاہ، ابراہیم بن ابی یحییٰ، جابر جعفی اور ان کے علاوہ دیگر رواة؛ اور انہی کے زمرے میں ابن لہیعہ کو بھی شامل کیا جائے گا، سوائے اس صورت کے کہ جب ان سے "عبادلہ" (عبد اللہ نامی ائمہ) میں سے کوئی روایت کرے اور وہ سماع کی صراحت کر دیں، تو ایسی صورت میں ان کی حدیث حسن کے درجے میں ہوگی۔
جہاں تک ان مراتب و درجات کا تعلق ہے جن کا تذکرہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصنیف "تعريف أهل التقديس لمراتب الموصوفين بالتدليس" میں کیا ہے، تو وہ امام علائی کی کتاب "جامع التحصيل" سے ماخوذ ہیں؛ لہٰذا ان طبقات کا تذکرہ ان امور کے بیان کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں جنہیں حافظ ابن حجر نے حذف کر دیا تھا۔
پہلی قسم: یہ وہ حضرات ہیں جنہیں اس وصف (تدلیس) کے ساتھ محض شاذ و نادر ہی متصف کیا گیا ہے، جیسا کہ یحییٰ بن سعید انصاری۔
اور امام علائی کے نزدیک ہشام بن عروہ اور موسیٰ بن عقبہ مراد ہیں۔
دوسری قسم ان راویوں کی ہے جن کی تدلیس کو ائمہِ حدیث نے گوارا کیا ہے اور ان کی جلالتِ قدر اور مرویات کی کثرت کے مقابلے میں تدلیس کے شاذ و نادر وقوع کی بنا پر ائمہِ صحاح نے ان کی احادیث کو اپنی کتبِ صحیح میں جگہ دی ہے، جیسے سفیان ثوری؛ یا وہ راوی جو صرف کسی ثقہ راوی ہی سے تدلیس کرتے ہوں، جیسے سفیان بن عیینہ۔
امام علائی کے نزدیک زہری، سلیمان اعمش، ابراہیم نخعی، اسماعیل بن ابی خالد، سلیمان تیمی، حمید طویل، حکم بن عتیبہ، یحییٰ بن ابی کثیر، ابن جریج، شریک اور ہشیم بھی (مدلسین میں شامل) ہیں، اور انہوں نے فرمایا کہ صحیحین اور ان کے علاوہ دیگر کتبِ حدیث میں ان رواۃ کی ایسی کثیر احادیث موجود ہیں جن میں سماع کی صراحت نہیں ہے، چنانچہ بعض ائمہ نے اس امر کو اس پر محمول کیا ہے کہ شیخین (امام بخاری و مسلم) اس مخصوص حدیث کے متعلق، جسے ان رواۃ نے لفظِ "عن" یا اس کے ہم معنی الفاظ سے روایت کیا ہے، اپنے شیخ سے ان کے سماعِ حقیقی پر مطلع تھے، اور اس بحث میں مزید تفصیل و طوالت ہے۔
میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ان کی بات درست ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ بعض راویوں نے صیغۂ سماع کو لفظ "عن" سے بدل دیا ہے۔
تیسری قسم ان راویوں کی ہے جنہوں نے کثرت سے تدلیس سے کام لیا، چنانچہ ائمہِ فن نے ان کی احادیث میں سے صرف انہی مرویات کو لائقِ حجت تسلیم کیا ہے جن میں انہوں نے صراحت کے ساتھ سماع کا ذکر کیا ہے، جب کہ بعض محدثین نے ان کی حدیث کو علی الاطلاق مسترد کر دیا ہے اور بعض نے اسے مطلقا قبول کر لیا ہے، جیسے ابو الزبیر المکی، اور اسی طرح زہری، قتادہ، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مصاحب حمید الطویل ہیں۔
کتاب "جامع التحصیل" کی رو سے ائمہ کی ایک جماعت نے ان راویوں کے معاملے میں توقف سے کام لیا ہے اور ان کی صرف انہی مرویات کو بطورِ حجت قبول کیا ہے جن میں انہوں نے صیغۂ سماع کی صراحت کی ہو، جبکہ دیگر محدثین نے سابقہ وجوہ میں سے کسی وجہ کی بنا پر انہیں ماقبل والے طبقے کی مانند علی الاطلاق قبول کیا ہے، جن میں امام حسن بصری، قتادہ، ابو اسحاق سبیعی، ابو زبیر مکی، ابو سفیان طلحہ بن نافع اور عبد الملک بن عمیر جیسے کبار ائمہ شامل ہیں۔
چوتھا طبقہ ان رواة کا ہے جن کے بارے میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ان کی کسی بھی حدیث سے اس وقت تک احتجاج نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اس میں صراحتاً اپنے سماع کا ذکر نہ کر دیں، کیونکہ وہ ضعیف اور مجہول راویوں سے کثرت کے ساتھ تدلیس کرتے ہیں، جیسا کہ بقیہ بن ولید ہیں۔
اور امام علائی نے (اس میں) ان جیسے رواۃ کا مزید اضافہ کیا ہے: مثلاً ابنِ اسحاق، حجاج بن ارطاۃ، جابر الجعفی، سوید بن سعید اور ان کے ہم پلہ دیگر افراد۔
پانچویں صورت یہ ہے کہ جن راویوں کی تضعیف تدلیس کے علاوہ کسی اور سبب سے ہوئی ہو، ان کی روایت مردود ہی شمار ہوگی خواہ وہ سماع کی صراحت بھی کر دیں؛ جیسے جابر الجعفی اور عبدالرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی۔
امام علائی نے اس طبقے میں ابوجناب کلبی اور ابوسعید بقال کا ذکر فرمایا ہے، جبکہ جابر جعفی کو چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے، مگر حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب "فتح الباری" میں ان طبقات کی ترتیب و تطبیق کی پاسداری نہیں کی، جس پر میں ان کی اس مخالفت کے سبب حیرت زدہ تھا، یہاں تک کہ مسجد نبوی میں میرے ایک زیرِ تعلیم طالب علم نے مجھے مطلع کیا کہ حافظ ابن حجر نے ایک اور کتاب تالیف فرمائی تھی جس میں انہوں نے اپنی تصنیف "تعریف اہل التقديس" میں اختیار کردہ موقف سے رجوع کر لیا تھا اور اس کا ایک نسخہ ترکی کے کتب خانوں میں سے کسی میں موجود ہے، تب مجھے ان کے اس اختلاف کا اصل سبب معلوم ہوا۔
[الجامع الكامل/مقدمة/حدیث: M90]