🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب ما جاء في الوصايا
وصیتوں کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 946
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی قابل وصیت چیز موجود ہو اور وہ دو راتیں وصیت تحریر کیے بغیر گزار دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2738، صحيح مسلم: 1627۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 947
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: ثنا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي، أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً" .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مکہ میں اتنا بیمار ہوا کہ قریب المرگ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور صرف ایک بیٹی ہی میری وارث ہے، کیا میں دو تہائی مال صدقہ کرنے کی وصیت کر دوں؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: آدھا مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا: نہیں! میں نے پوچھا: ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ فرمایا: ایک تہائی (ہوسکتا ہے) لیکن یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ اپنے ورثا کو خوشحال چھوڑ کر جائیں، تو انہیں تنگ دست چھوڑنے سے بہتر ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6373، صحيح مسلم: 1628۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، قَالَ: وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلا شَدِيدًا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے فوت ہوتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے، جب کہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال ہی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے مابین قرعہ ڈال کر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام بنا دیا اور اس آدمی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ استعمال کیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1668۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثنا ابْنُ جَابِرٍ ، وَحَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، وَغَيْرِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَكَانَ فِيمَا تَكَلَّمَ بِهِ: " أَلا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ أَلا لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ" .
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ وغیرہ بیان کرتے ہیں جو کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبي داود: 1955۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَهَا مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمِيرَاثِ لِبَنِي الأُمِّ وَالأَبِ، دُونَ بَنِي الْعَلاتِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اور تم (قرآن میں) پڑھتے ہو: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصى بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ (کی گئی وصیت اور قرض کی ادائیگی کے بعد) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاقی بھائیوں کی بجائے حقیقی بھائیوں کے حق میں وراثت کا فیصلہ کیا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيفٌ: مسند الإمام أحمد: 1/131، سنن الترمذي: 2094، سنن ابن ماجه: 2715، ابو اسحاق مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ نیز حارث بن عبداللہ جمہور ائمہ محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيفٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا: ثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ: وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6 قَالَتْ:" أنزلت فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُصْلِحُهُ وَيَقُومُ عَلَيْهِ، إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ" ، الْحَدِيثُ لِهَارُونَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (النساء: 6) (جو شخص فقیر ہو، وہ اچھے طریقے سے کھائے) یہ آیت یتیم کے والی کے متعلق نازل ہوئی ہے، جو اس (یتیم) کی درستگی کرتا ہے اور اس کی نگرانی کرتا ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہو، تو اس مال میں سے کھا سکتا ہے۔ یہ حدیث ہارون کی بیان کردہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2765، صحيح مسلم: 3019۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ وَلَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِيَ يَتِيمٌ، فَقَالَ: " كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلا مُبَذِّرٍ، أَوْ مُبَاذِرٍ" ، شَكَّ الْحَجَبِيُّ، وَلا مُتَأَثِّلٍ.
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں محتاج ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، نیز میرے پاس ایک یتیم بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے مال سے کھا لیں، لیکن یہ خیال رکھنا کہ اسراف نہ ہو، فضول خرچی نہ ہو اور نہ ہی اپنے پاس مال جمع کرنا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/186-215، سنن أبي داود: 2872، سنن النسائي: 3698، سنن ابن ماجه: 2718۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں