مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35511 ترقیم الشثری: -- 37089
٣٧٠٨٩ - حدثنا بن نمير قال: حدثنا عبيد الله ابن عمر عن نافع (عن) (١) ابن عمر عن النبي ﷺ قال:"إذا مات احدكم عرض عليه مقعده بالغداة والعشي، إن كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة، وإن كان من اهل النار فمن اهل النار، ويقال (له) (٢) ] (٣) : هذا مقعدك حتى يبعثك الله يوم القيامة" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: تكرر.
(٢) سقط من: [أ، ب، ع].
(٣) ما بين المعكوفين سقط من: [ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥١٥، و ١٣٧٩)، ومسلم (٢٨٦٦).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانہ صبح وشام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شخص اہل جنت میں سے ہے تو جنت سے ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہے تو جہنم سے ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اس کو کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن تجھے اللہ تعالیٰ اٹھائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37089]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37089، ترقيم محمد عوامة 35511)
ترقیم عوامۃ: 35512 ترقیم الشثری: -- 37090
٣٧٠٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ (في مرضه) (١) (الذي مات فيه) (٢) :"ما فعلت الذهب؟" فقلت: عندي يا رسول الله، قال:"ائتني بها"، فاتيته بها، وهي ما بين الخمسة إلى التسعة فجعلها في كفه، فقال: بها، ثم قال:"ما ظن محمد (٣) بها ان لو لقي الله وهذه عنده، انفقيها (يا) (٤) عائشة" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٣) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٢٤٢٢٢)، والحميدي (٢٨٣)، وابن سعد ٢٣٨/ ٢، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٤١٩)، والبيهقي ٦/ ٣٥٦، وابن حبان (٣٢١٢)، وابن عساكر ٤/ ١١٠، وهناد (٦٢٠).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، یہ ارشاد فرمایا: ”سونے کا کیا ہوا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ میرے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ پانچ سے نو کے درمیان تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی ہتھیلی میں رکھا اور اس کو پلٹا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سونا محمد 5 کے پاس ہوتا اور وہ اللہ سے جا ملتا تو ان کے بارے محمد 5 کا خیال کیا ہوتا؟ اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تم ان کو خرچ کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37090]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37090، ترقيم محمد عوامة 35512)
ترقیم عوامۃ: 35513 ترقیم الشثری: -- 37091
٣٧٠٩١ - حدثنا حسين بن علي وابو اسامة عن زائدة عن (عبد) (١) الملك بن عمير عن ريعي عن ام سلمة قالت: دخل (٢) علي رسول الله ﷺ وهو ساهم الوجه، فظننت ان (ذاك) (٣) من تغير، فقلت: يا رسول الله اراك ساهم الوجه، امن علة؟ قال:"لا، ولكن السبعة الدنانير التي اتينا بها امس نسيتها في خصم الفراش (٤) ، فبت ولم اقسمها" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ]: زيادة (رجل).
(٣) في [جـ، س]: (ذلك).
(٤) أي: طرفه وناحيته، وانظر: غريب الحديث لابن الجوزي ١/ ٢٨٢.
(٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٦٦٧٢)، وابن حبان (٥١٦٠)، وأبو يعلى (٧٠١٧)، وابن جرير في مسند ابن عباس من التهذيب (٤٣١)، والطبراني ٢٣/ (٧٥١)، والبيهقي ٦/ ٣٥٧.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر تھا۔ میں نے خیال کیا کہ یہ (شاید) کسی تبدیلی کی وجہ سے ہے تو میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متغیر چہرہ دیکھ رہی ہوں۔ کیا یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ لیکن اس کی وجہ وہ سات دنانیر ہیں جو کل ہمارے پاس لائے گئے تھے۔ میں ان کو بستر کے کنارے میں (رکھ کر) بھول گیا تھا۔ پس میں نے ان کو تقسیم کیے بغیر رات گزار دی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37091]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37091، ترقيم محمد عوامة 35513)
ترقیم عوامۃ: 35514 ترقیم الشثری: -- 37092
٣٧٠٩٢ - حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير عن (عمر) (١) بن سعيد (بن) (٢) ابي حسين المكي قال: حدثني عبد الله بن ابي مليكة عن عقبة بن الحارث قال: انصرف رسول الله ﷺ من صلاة العصر سريعا، فتعجب الناس من سرعته، فخرج إليهم، (فعرف الذي في وجوههم) (٣) فقال:"ذكرت تبرا في البيت عندنا فخفت ان يبيت عندنا فامرت بقسمه" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عمرو)، وهو كذلك عند النسائي ٣/ ٨٤، وقد رواه ابن أبي عاصم في الآحاد (٤٧٦)، والطبراني ١٧/ (٩٧٩) من طريق المؤلف فقال: (عمر).
(٢) في [ع]: (عن).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٨٥١)، وأحمد (١٦١٥١).
حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) عصر کی نماز سے جلدی فارغ ہو کر مڑے تو لوگ آپ کی جلدی کی وجہ سے بہت متعجب ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں میں تعجب محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے ہاں گھر میں رکھا ہوا ٹکڑا (سونے وغیرہ کا) یاد آگیا تھا۔ تو مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ وہ رات ہمارے ہاں نہ رہ جائے۔ چناچہ میں نے اس کو بانٹنے کا حکم دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37092]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37092، ترقيم محمد عوامة 35514)
ترقیم عوامۃ: 35515 ترقیم الشثری: -- 37093
٣٧٠٩٣ - حدثنا ابن نمير عن فضيل بن غزوان عن نافع عن ابن عمر ان رسول الله ﷺ اتى فاطمة فوجد على بابها سترا، فلم يدخل قال: وقلما كان يدخل إلا (بدا ⦗٢٧٥⦘ بها) (١) ، فجاء علي فرآها (مهتمة) (٢) فقال: مالك؟ قالت: جاء إلي رسول الله ﷺ فلم يدخل (علي) (٣) ، فاتاه علي فقال: (يا رسول الله) (٤) إن فاطمة اشتد عليها انك جئتها فلم تدخل عليها، فقال:"وما (انا) (٥) (و) (٦) الدنيا، او ما انا والرقم"، قال: فذهب إلى فاطمة (فاخبرها) (٧) بقول رسول الله ﷺ فقالت: قل لرسول الله ﷺ ما (تامرني) (٨) ؟. قال:"قل لها فلترسل به إلى (بني) (٩) فلان" (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بإذنها).
(٢) في [ط، هـ]: (مهمة).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [س]: (أدنى).
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [جـ]: تكرر.
(٨) في [أ، ب]: (يأمرني)، وفي [جـ]: سقط، وفي [هـ]: زيادة (به) بعدها.
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦١٣)، وأحمد (٤٨٢٧).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دروازہ پر پردہ ڈلا ہوا دیکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف نہیں لائے۔ راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو بہت کم ایسا ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں پہلے نہ آتے۔ چناچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (جب گھر) تشریف لائے تو انہوں نے حضرت فاطمہ کو فکر مند اور مغموم دیکھا تو پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے لیکن میرے پاس اندر تشریف نہیں لائے۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حضرت فاطمہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بہت بھاری گزرا ہے کہ آپ ان کی طرف تشریف لائے اور آپ ان کے پاس اندر داخل نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور دنیا کیسے؟“ یا فرمایا ”میں اور نقش ونگار کیسے؟“ راوی کہتے ہیں پس حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور انہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتادی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37093، ترقيم محمد عوامة 35515)
ترقیم عوامۃ: 35516 ترقیم الشثری: -- 37094
٣٧٠٩٤ - حدثنا ابن إدريس عن اشعث عن الحسن قال: جاء رسول الله ﷺ إلى بيت (ابنته) (١) فاطمة، فراى سترا (منشورا) (٢) فرجع، قال: فاتاه علي فقال: الم اخبر انك اتيت ابنتك فلم تدخل، قال: فقال:"افلم ارها سترت بيتها بنفقة في سبيل الله"، فقيل للحسن: وما كان ذلك الستر؟ قال: قرام اعرابي (ثمنه) (٣) اربعة (الدراهم) (٤) ، كانت تنشره في مؤخر البيت (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [جـ]: (مستورًا).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (ثمن).
(٤) في [ع]: (دراهم).
(٥) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٧٦٣).
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تشریف لائے تو آپ نے پھیلا ہوا ایک پردہ دیکھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ مجھے یہ کیا خبر ملی ہے کہ آپ اپنی بیٹی کے ہاں تشریف لائے لیکن اندر نہیں آئے؟ راوی کہتے ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے راہ خدا کے خرچہ سے اپنے گھر پر پردہ لٹکایا ہوا تھا؟“ حضرت حسن سے پوچھا گیا یہ پردہ کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا: دیہاتی پردہ تھا جس کی قیمت چار دراہم کی تھی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کو گھر کے پچھلے حصہ میں پھیلا دیتی تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37094، ترقيم محمد عوامة 35516)
ترقیم عوامۃ: 35517 ترقیم الشثری: -- 37095
٣٧٠٩٥ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن هشام عن الحسن قال: كان ثمن مروط (نساء) (١) النبي ﷺ ستة ونحو ذلك (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کے پردوں کی قیمت چھ (درہم) یا اس کے قریب تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37095، ترقيم محمد عوامة 35517)
ترقیم عوامۃ: 35518 ترقیم الشثری: -- 37096
٣٧٠٩٦ - حدثنا وكيع عن اسامة (بن زيد عن ابن ابي لبيبة) (١) عن سعد قال: قال رسول الله ﷺ:"خير الرزق ما يكفي، وخير (الذكر) (٢) الخفي" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (عن الزهري عن ابن أبي لبنية).
(٢) في [ع]: (الرزاق).
(٣) ضعيف؛ لحال ابن أبي لبيبة، أخرجه أحمد (١٤٧٧)، وأبو يعلى (٧٣١)، وابن حبان (٨٠٩)، وعبد بن حمدي (١٣٧)، ووكيع في الزهد (١١٨)، والشاشي (١٨٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٥٥٣)، والقضاعي في مسند الشهاب (١٢٢٠)، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٨٥٤.
حضرت سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کرجائے اور بہترین ذکر، ذکر خفی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37096، ترقيم محمد عوامة 35518)
ترقیم عوامۃ: 35519 ترقیم الشثری: -- 37097
٣٧٠٩٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن عمارة بن قعقاع عن ابي (زرعة) (١) (٢) عمرو بن (جرير) (٣) عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (ذرعه).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: زيادة (بن)، وفي [ع]: (عن).
(٣) في [ع]: (حزم).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٤٦٠)، ومسلم (١٠٥٥).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! تو آل محمد 5 کے رزق کو قوت … بقدر ضرورت … بنا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37097، ترقيم محمد عوامة 35519)
ترقیم عوامۃ: 35520 ترقیم الشثری: -- 37098
٣٧٠٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن (شمر) (١) عن مغيرة بن (سعد) (٢) ابن الاخرم (عن ابيه) (٣) عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا"، قال عبد الله: (و) (٤) براذان، ما براذان ⦗٢٧٧⦘ (و) (٥) بالمدينة (ما بالمدينة) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (شهر).
(٢) في [س]: (سعيد).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ]: (مالمدينة)، وفي [ب]: (من بالمدينة).
(٧) مجهول؛ لجهالة سعد والد المغيرة، والمغيرة صدوق، روى عنه جماعة وحسن له الترمذي، والحديث أخرجه أحمد (٣٥٧٩)، والترمذي (٢٣٢٨)، وابن حبان (٧١٠)، والحميدي (١٢٢)، والطيالسي (٣٧٩)، والشاشي (٨١٢)، والحاكم ٤/ ٣٢٢، وأبو يعلى (٥٢٠٠)، وابن أبي عاصم في الزهد (٢٠٢)، وابن المبارك في الزهد (٥٠٥)، والبغوي (٤٠٣٥)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ١١٦، وأبو الشيخ في طبقات أصبهان ٢/ ١٣٥، والخطيب في التاريخ ١/ ١٨.
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زمینیں نہ بناؤ، کہ تم دنیا میں رغبت کرنے لگو۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں راذان، کیا ہے راذان، اور مدینہ، کیا ہے مدینہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37098، ترقيم محمد عوامة 35520)