🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36800 ترقیم الشثری: -- 38390
٣٨٣٩٠ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن سعيد الجريري قال: كان ابو العلاء يقرا في المصحف، فكان مطرف يقول له احيانا: (اغن) (١) عنا مصحفك سائر اليوم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أمر).
حضرت سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوالعلاء قرآن پڑھتے تو مطرف کہا کرتے تھے کہ تیرے مصحف نے ہم کو سارے دن سے مستغنی کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38390، ترقيم محمد عوامة 36800)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36801 ترقیم الشثری: -- 38391
٣٨٣٩١ - حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن هارون بن عنترة عن ابيه قال: سالت ابن عباس: اي العمل افضل؟ قال: ذكر الله اكبر، قال: ومن ابطا به عمله لم يسرع به حسبه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (الأخوص).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسدد كما في المطالب العالية (٣٣٩١)، وابن فضيل في الدعاء (١٠١)، والبيهقي في الشعب (٦٧١)، والدارمي (٣٤٥)، والخطيب في الموضح ٢/ ٥٣٣.

حضرت ہارون بن عنترہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا ذکر کرنا فرمایا کہ جس شخص کو اس کا عمل پیچھے ڈال دے اس کو اس کا حسب ونسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38391]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38391، ترقيم محمد عوامة 36801)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36802 ترقیم الشثری: -- 38392
٣٨٣٩٢ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن عبد الله بن ابي (الحسين) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"الا ادلكم على خير اخلاق اهل الدنيا والآخرة؟ من عفا ⦗٩٣⦘ عمن ظلمه، واعطى من حرمه، ووصل من قطعه، ومن احب ان (ينسا له) (٢) في عمره ويزاد له في ماله فليتق الله ربه وليصل رحمه" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: بياض، وفي [جـ، ع]: (الحسن).
(٢) في [ط، هـ]: (يتسأل).
(٣) مرسل؛ عبد اللَّه تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٢٣٧)، وابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (٢٦)، وأخرجه الطبراني مرفوعًا ١٩/ (٣٤٣) من حديث ابن أبي حسين عن كعب بن عجرة.

حضرت عبداللہ بن ابی الحسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم کو دنیا اور آخرت میں سب سے اچھے اخلاق والا نہ بتاؤں؟ یہ وہ شخص ہے جو اس کو معاف کردے جس نے اس پر ظلم کیا ہو اور اس شخص کو عطا کرے جس نے اس کو محروم رکھا ہو اور اس سے رشتہ جوڑے جس نے قطع رحمی کی ہو اور جس شخص کو یہ اچھی بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر دراز اور عمل زیادہ ہو تو وہ اپنے اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی اختیار کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38392]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38392، ترقيم محمد عوامة 36802)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36803 ترقیم الشثری: -- 38393
٣٨٣٩٣ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا حماد بن زيد عن عمرو بن مالك عن ابي الجوزاء ﴿يوم هم على النار يفتنون﴾ [الذاريات: ١٣] ، قال: يعذبون.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حضرت ابوجوزا رحمہ اللہ قرآنِ پاک کی آیت { یَوْمَ ہُمْ عَلَی النَّارِ یُفْتَنُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یُعَذَّبُونَ یعنی ان کو عذاب دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38393]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38393، ترقيم محمد عوامة 36803)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36804 ترقیم الشثری: -- 38394
٣٨٣٩٤ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن جعفر بن سليمان (١) عن ابي الجوزاء: ﴿ويخافون سوء الحساب﴾ [الرعد: ٢١] ، قال: المناقشة في (الاعمال) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن عمرو بن مالك)، وهكذا بالزيادة، أخرجه ابن جرير الطبري ١٣/ ١٤٠، وعبد الرزاق الصنعاني في التفسير ٢/ ٣٣٥ (١٣٢٨)، وأبو داود في الزهد (٣٣٩)، وبدونها أخرجه أسد بن موسى في الزهد (٧٣)، ويبدو أن رواية أبي خالد الأحمر بحذفها.
(٢) في [أ، ب]: (الحساب).

حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَیَخَافُونَ سُوئَ الْحِسَابِ } کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد اعمال میں مناقشہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38394]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38394، ترقيم محمد عوامة 36804)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36805 ترقیم الشثری: -- 38395
٣٨٣٩٥ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا سعيد بن زيد (قال) (٢) : (حدثنا) (٣) عمرو بن مالك قال: سمعت ابا الجوزاء يقول: نقل الحجارة اهون على المنافق من قراءة القرآن، و (قد) (٤) قال سعيد: اخف على المنافق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) في [أ، ب]: (عن).
(٤) سقط من: [هـ].

حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پتھروں کو منتقل کرنا منافق پر قرآن پاک کی تلاوت سے زیادہ آسان ہے اور سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منافق پر زیادہ ہلکا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38395]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38395، ترقيم محمد عوامة 36805)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36806 ترقیم الشثری: -- 38396
٣٨٣٩٦ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا سعيد بن زيد عن عمرو بن مالك قال: سمعت ابا الجوزاء يقول في هذه الآية: ﴿وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (٥٦) ⦗٩٤⦘ ما (اريد) (٢) منهم من رزق وما اريد ان يطعمون﴾ [الذاريات: ٥٦ - ٥٧] ، قال: انا ارزقهم وانا اطعمهم، ما خلقتهم إلا ليعبدون.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ]: (أزيد).

حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن پاک کی اس آیت کی تفسیر میں { وَمَا خَلَقْت الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُونِ مَا أُرِیدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ، وَمَا أُرِیدُ أَنْ یُطْعِمُونَ } کہ میں ہی ان کو رزق دیتا ہوں اور کھلاتا ہوں اور میں نے ان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38396]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38396، ترقيم محمد عوامة 36806)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36807 ترقیم الشثری: -- 38397
٣٨٣٩٧ - حدثنا عفان (قال) (١) : حدثنا سعيد بن زيد قال: حدثنا عمرو بن مالك قال: سمعت ابا الجوزاء (يقول) (٢) : ﴿ليس لهم (٣) طعام إلا من ضريع﴾ [الغاشية: ٦] ، (السلا) (٤) ، كيف (يسمن) (٥) من ياكل الشوك؟.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (ويقول).
(٣) في [ع]: زيادة (من).
(٤) هو شوك النخل، انظر: فتح الباري ٨/ ٧٠١، والتخويف من النار ص ١٠٨، والعين ٧/ ٣٠١، وتاج العروس ١/ ٢٧٠، والمصابح المنير ١/ ٢٨٧، ولسان العرب ١/ ٩٥، وإكمال الإعلام ٢/ ٣٠٨، وفي [هـ]: (السلم).
(٥) في [س]: (سمن).

حضرت ابوالجوزاء رحمہ اللہ قرآنِ پاک کی آیت { لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ إِلاَّ مِنْ ضَرِیعٍ } کی تلاوت پر فرمانے لگے کہ وہ شخص کس طرح موٹا ہوسکتا ہے کہ جو کانٹوں کو کھائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38397]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38397، ترقيم محمد عوامة 36807)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36808 ترقیم الشثری: -- 38398
٣٨٣٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال: غزا ابو ايوب المدينة، قال: قلت: القسطنطينية؟ قال: نعم، قال: فمر بقاص يقص وهو يقول: إذا عمل العبد العمل في صدر النهار عرض على اهل معارفه (من اهل الآخرة) (١) من آخر النهار، وإذا عمل (٢) (العمل) (٣) في آخر النهار عرض على اهل معارفه من اهل الآخرة في (آخر) (٤) النهار، قال فقال: ابو ايوب: انظر ما تقول؟ قال: فقال: والله إنه لكما اقول، قال: فقال ابو ايوب: اللهم إني اعوذ بك ⦗٩٥⦘ ان (تفضحني) (٥) عند عبادة بن الصامت (وسعد) (٦) بن عبادة بما عملت (بعدهم) (٧) قال: فقال القاص: والله لا يكتب الله ولايته لعبد إلا ستر عوراته واثنى عليه باحسن عمله (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (العبد).
(٣) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: (عملًا).
(٤) في [هـ]: (صدر).
(٥) في [ب]: (ينضحني).
(٦) في [هـ]: (سعيد).
(٧) في [هـ]: (بعدهما).
(٨) منقطع؛ إبراهيم بن ميسرة لم يدرك هذه الواقعة.

حضرت محمد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ایک شہر پر حملہ کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کیا قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں پھر فرماتے ہیں کہ ان کا ایک قصہ گو کے پاس سے گزر ہوا جو یہ کہہ رہا تھا کہ جب کوئی آدمی دن کے ابتدائی حصہ میں کوئی عمل کرتا ہے تو آخر دن میں اس کا عمل اس تمام جاننے والوں کو جو آخرت میں اس کے جاننے والے ہیں پیش کردیا جاتا ہے اور جب کوئی آدمی آخر دن میں کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا عمل آخرت میں اس کے جاننے والے تمام لوگوں کے سامنے ابتدائے دن میں پیش کردیا جاتا ہے تو ابوایوب نے فرمایا کہ اس کو دیکھ کہ تو کیا کہہ رہا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں یہ بات آپ دونوں کو ہی تو کہہ رہا ہوں۔ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اے اللہ میں تجھ سے عبادہ بن صامت اور سعد بن عبادہ کے سامنے اپنے ان کے بعد کیے ہوئے اعمال کی وجہ سے رسوا ہونے سے پناہ مانگتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس قصہ گو نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنی دوستی جب کسی کے لیے لکھتا ہے تو اس کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر اس نے ان کے اچھے اعمال کی تعریف کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38398، ترقيم محمد عوامة 36808)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36809 ترقیم الشثری: -- 38399
٣٨٣٩٩ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا همام عن قتادة عن مسلم بن (يسار) (١) قال: واديان عريضان لا يدرك غورهما سلك الناس فيهما، فاعمل عملا تعلم انه لا ينجيك إلا عمل صالح، وتوكل توكل رجل تعلم انه (لا) (٢) يصيبك إلا ما كتب الله (لك) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (دينار).
(٢) في [ع]: (لن).
(٣) سقط من: [أ، ب].

حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ دو وادیاں ہیں جو چوڑی ہیں اور ان کی گہرائی بھی معلوم نہیں ہے۔ لوگ اس میں چل رہے ہیں۔ پس تو ایسا عمل کر کہ تو جانتا ہے کہ تیری نجات صرف نیک عمل میں ہے اور ایسا مردانہ توکل کر کہ تو جانتا ہے کہ تجھ کو معلوم ہے کہ تجھے صرف وہی تکلیف پہنچ سکتی ہے کہ جس کا تجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38399، ترقيم محمد عوامة 36809)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں