مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38380
٣٨٣٨٠ - قال: وقال الحسن: الإيمان الإيمان، فإنه من كان مؤمنا فإن له عند الله شفعاء مشفعين.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38380، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 36791 ترقیم الشثری: -- 38381
٣٨٣٨١ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: من قال قولا حسنا، وعمل عملا حسنا، فخذوا عنه، ومن قال قولا حسنا، وعمل عملا سيئا، فلا تاخذوا عنه.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اچھی بات کرے اور اس کا عمل اچھا ہو اس سے بات قبول کرو اور جو شخص اچھی بات کرے اور عمل برا ہو تو اس سے بات کو قبول نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38381]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38381، ترقيم محمد عوامة 36791)
ترقیم عوامۃ: 36792 ترقیم الشثری: -- 38382
٣٨٣٨٢ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: قال الحسن: إن من النفاق اختلاف اللسان والقلب، واختلاف السر والعلانية، واختلاف الدخول والخروج.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منافقت میں سے ہے دل اور زبان کا اختلاف اور ظاہر اور پوشیدہ کا اختلاف اور اندر اور باہر کا اختلاف۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38382]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38382، ترقيم محمد عوامة 36792)
ترقیم عوامۃ: 36793 ترقیم الشثری: -- 38383
٣٨٣٨٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابي هلال قال: حدثنا حفص (الضبعي) (١) قال: قال عبد الله بن ابي مليكة (٢) : قال عمر: يا (عم) (٣) حدثنا عن الموت! قال: نعم يا امير المؤمنين (غصن) (٤) كثير الشوك ادخل في جوف رجل، فاخذت كل شوكة بعرق، ثم ⦗٩٠⦘ جذبه رجل شديد الجذب (فاخذ) (٥) ما اخذ و (ابقى) (٦) ما (ابقى) (٧) (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الضبي).
(٢) في [أ، ب، جـ، ع]: زيادة (قال).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (يا عم)، وفي [ع]: (عمر)، وفي [هـ]: (كعب)، وفي [س]: بياض.
(٤) في [م]: (لغصن).
(٥) في [أ، ب]: (فأخذت).
(٦) في [جـ]: (أبتا).
(٧) في [جـ]: (أبتا).
(٨) منقطع؛ ابن أبي مكلية لم يدرك عمر، وأخرجه أبو نعيم في الحلية ٥/ ٣٦٥.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ اے کعب ہمیں موت کے بارے میں کچھ بتائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں اے امیر المومنین! یہ تو ٹہنی کی مثل ہے کہ جس کے بہت سے کانٹے ہوں جس کو کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کردیا جائے اور ہر کانٹا رگ میں پیوست ہوجائے۔ پھر کوئی آدمی اس کو زور سے کھینچے اور جو نکال لے وہ تو نکال لے اور جو رہ جائے وہ رہ جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38383]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38383، ترقيم محمد عوامة 36793)
ترقیم عوامۃ: 36794 ترقیم الشثری: -- 38384
٣٨٣٨٤ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا الاوزاعي عن حسان بن عطية قال: بلغني ان الله ﵎ يقول يوم القيامة: يا بني آدم إنا قد انصتنا لكم منذ (خلقتكم) (١) إلى يومكم هذا، فانصتوا لنا (نقرا) (٢) اعمالكم عليكم، فمن وجد خيرا فليحمد الله (٣) ، ومن وجد شرا فلا يلومن إلا نفسه، فإنما هي اعمالكم نردها عليكم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (خلقكم).
(٢) في [ط، هـ]: (تقرأ).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (عليه).
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ اے ابن آدم! جب سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ہم تمہارے بارے میں خاموش رہے۔ پس آج تم خاموش رہو اور ہم تمہارے اعمال نامے کو سنائیں گے جو شخص اچھا اعمال نامہ دیکھے وہ اللہ کی تعریف کرے اور جو شخص برا اعمال نامہ دیکھے وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ کیونکہ یہ تو تمہارے ہی اعمال نامے ہیں جو ہم تم کو واپس کررہے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38384]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38384، ترقيم محمد عوامة 36794)
ترقیم عوامۃ: 36795 ترقیم الشثری: -- 38385
٣٨٣٨٥ - حدثنا محمد بن مصعب قال: حدثنا ابو بكر عن ضمرة ان ابا ريحانة [استاذن صاحب (مسلحته) (١) ان ياتي اهله فقال: يا (ابا) (٢) ريحانة!] (٣) كم تريد ان اؤجلك؟ قال: ليلة، فلما قدم اتى المسجد فلم (يزل) (٤) يصلي حتى اصبح ثم (دعا) (٥) (بدابته) (٦) متوجها إلى (مسلحته) (٧) فقالوا: يا (ابا) (٨) ريحانة! اما ⦗٩١⦘ استاذنت إلى اهلك؟ فقال: إنما اجلني (اميري) (٩) ليلة، فلا اكذب ولا اخلف، قال: فانصرف إلى (مسلحته) (١٠) ولم يات اهله، وكان منزل ابي ريحانة بيت المقدس (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (مسلمه).
(٢) في [أ، ع]: (با).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [أ، ب]: (عاد).
(٦) في [س]: (بدابة).
(٧) في [س]: (مسلمه).
(٨) في [أ، ع]: (با).
(٩) في [س]: (أمري).
(١٠) في [س]: (مسلمه).
(١١) ضعيف؛ أبو بكر هو ابن أبي مريم ضعيف، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٨٧٧)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٢١)، وابن عساكر ٢٣/ ٢٠٣.
حضرت ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوریحانہ رحمہ اللہ نے اپنے توپ والے رفیق سے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ اس نے کہا کہ اے ابوریحانہ آپ کب تک واپس آجائیں گے۔ انہوں نے جو ابد یا کہ ایک رات میں۔ پھر جب آئے تو مسجد میں چلے گئے اور صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ پھر اپنی سواری منگوائی اور توپ خانے کی طرف چل دئیے۔ لوگوں نے کہا کہ اے ابوریحانہ کیا آپ نے اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھ کو میرے امیر نے صرف ایک رات کی اجازت دی تھی۔ پس نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتا ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ اپنے توپ خانہ کی طرف چل نکلے اور اپنے گھر والوں کے پاس نہیں گئے اور ابوریحانہ کی منزل اس وقت بیت المقدس تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38385]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38385، ترقيم محمد عوامة 36795)
ترقیم عوامۃ: 36796 ترقیم الشثری: -- 38386
٣٨٣٨٦ - حدثنا محمد بن مصعب (قال) (١) : حدثنا الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير ان عبد الله بن سلام (صك) (٢) غلاما له (صكة) (٣) فجعل يبكي ويقول: اقتص مني، ويقول الغلام: لا اقتص (منك) (٤) يا سيدي، قال ابن سلام: كل ذنب يغفره الله إلا (صكة) (٥) الوجه (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (مكت).
(٣) في [س]: (مكة).
(٤) في [س]: (ملك).
(٥) في [س]: (مكة).
(٦) منقطع؛ يحيى بن أبي كثير لم يدرك عبد اللَّه بن سلام، والخبر أخرجه ابن عساكر ٢٩/ ١٣٤.
حضرت یحییٰ بن کثیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا۔ پس وہ رونے لگے اور کہنے لگے کہ مجھ سے بدلہ لے لے اور غلام کہنے لگا کہ اے سردار! میں آپ سے بدلہ نہیں لوں گا تو ابن سلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف کردے گا سوائے چہرے کے تھپڑ کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38386]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38386، ترقيم محمد عوامة 36796)
ترقیم عوامۃ: 36797 ترقیم الشثری: -- 38387
٣٨٣٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن مطرف عن كعب قال: ما من عبد إلا في راسه حكمة، فإن تواضع (١) رفعه الله، وإن تكبر وضعه الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (للَّه).
حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر آدمی کی ابتداء میں قدر ومنزلت ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ تواضع کرے تو اللہ اس کی قدر کو بڑھا دیتے ہیں اور اگر تکبر کرے تو اللہ اس کی قدر ومنزلت کو گرا دیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38387]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38387، ترقيم محمد عوامة 36797)
ترقیم عوامۃ: 36798 ترقیم الشثری: -- 38388
٣٨٣٨٨ - حدثنا ابو معاوية عن عاصم عن الحسن في قول (الله) (١) ⦗٩٢⦘ (تعالى) (٢) : ﴿من يعمل (سوءا) (٣) يجز به﴾ [النساء: ١٢٣] ، قال: قال الحسن: (ذاك) (٤) لمن اراد الله هوانه، فاما من اراد الله كرامته فإنه يتجاوز عن سيئاته في اصحاب الجنة ﴿وعد الصدق الذي كانوا يوعدون﴾ [الاحقاف: ١٦] .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [جـ، ع].
(٣) في [أ، جـ]: (سوًا)، وفي [ع]: (سواءً).
(٤) سقط من: [أ، ب].
حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَنْ یَعْمَلْ سُوئًا یُجْزَ بِہِ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ جس کو اللہ کے ذلیل کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ لیکن جس شخص کو عزت دینے کا ارادہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں سے درگزر کردیتے ہیں اور جنت میں ٹھکانہ دیتے ہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِی کَانُوا یُوعَدُونَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38388، ترقيم محمد عوامة 36798)
ترقیم عوامۃ: 36799 ترقیم الشثری: -- 38389
٣٨٣٨٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا ابو هلال قال: حدثنا ابو صالح العقيلي قال: كان ابو العلاء يزيد بن عبد الله بن الشخير يقرا في المصحف حتى يغشى عليه.
حضرت ابوصالح فرماتے ہیں کہ ابوعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر قرآن پڑھتے ہوئے بےہوش ہوجایا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38389، ترقيم محمد عوامة 36799)