مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 36810 ترقیم الشثری: -- 38400
٣٨٤٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت ابا معشر الذي يروي عن إبراهيم يحدث عن إبراهيم قال: ما من قرية إلا وفيها من يدفع عن اهلها به، وإني لارجو ان يكون ابو (وائل) (١) منهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع]: (وايل).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر بستی میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کی وجہ سے اس بستی والوں سے عذاب ہٹا لیا جاتا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ابو وائل انہی میں سے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38400، ترقيم محمد عوامة 36810)
ترقیم عوامۃ: 36811 ترقیم الشثری: -- 38401
٣٨٤٠١ - حدثنا إسحاق بن منصور الاسدي عن عقبة بن إسحاق عن ابي شراعة عن يحيى بن (الجزار) (١) : ﴿وإذا القوا منها مكانا ضيقا (٢) ﴾ [الفرقان: ١٣] ، قال: (كضيق) (٣) الزج في الرمح.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الخيار).
(٢) في [ع]: زيادة ﴿مُقَرَّنِينَ﴾.
(٣) في [ع]: (بضيق).
حضرت یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں قرآن پاک کی آیت {إِذَا القوا مِنْہَا مَکَانًا ضَیِّقًا } کی تفسیر میں کہ جیسے نیزے کا نچلا حصہ اوپر والے حصہ کے لیے تنگ ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38401]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38401، ترقيم محمد عوامة 36811)
ترقیم عوامۃ: 36812 ترقیم الشثری: -- 38402
٣٨٤٠٢ - حدثنا محمد بن الحسن الاسدي قال: حدثنا ثابت بن (يزيد) (١) عن (عاصم عن) (٢) ابي قلابة قال: قال مسلم بن يسار: لو كنت بين (يدي) (٣) ملك (تطلب) (٤) حاجة لسرك ان (تخشع) (٥) له.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (يطلب).
(٥) في [أ]: (تخشح)، وفي [ب]: (يخشع)، وفي [ع]: (تخضع).
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ اگر تو کسی بادشاہ کے سامنے کسی ضرورت کو مانگے گا تو تجھ کو یہ بات بھی اچھی لگے گی کہ تو اس کے لیے جھکے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38402]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38402، ترقيم محمد عوامة 36812)
ترقیم عوامۃ: 36813 ترقیم الشثری: -- 38403
٣٨٤٠٣ - حدثنا (هاشم) (١) بن القاسم (قال) (٢) : حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال (عن العلاء بن زياد العدوي) (٣) قال: رايت في النوم كاني (ارى) (٤) عجوزا عوراء كبيرة (العين) (٥) ، والعين الاخرى قد كادت (ان) (٦) تذهب عليها من الزبرجد والحلية شيء عجب، فقلت: (ما) (٧) انت؟ قالت: (انا) (٨) الدنيا، فقلت: اعوذ بالله من شرك، قالت: فإن (سرك) (٩) ان يعيذك الله من شري فابغض الدرهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م]: (هشام).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من النسخ إلا في [هـ]، وتم استدراكه مما سبق ١١/ ٨٠ برقم [٣٢٥٣٩].
(٤) في [أ، ب]: (أرا).
(٥) في [هـ]: (العين الأخرى).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ع]: (من).
(٨) في [أ]: (أني).
(٩) في [س]: (شرك).
حضرت علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ادھیڑ عمر کانی بڑھیا کو دیکھ رہا ہوں اور اس کی دوسری آنکھ بس نکلنے کے قریب ہی تھی۔ اور اس کے اوپر زبرجد اور دوسرے کئی قسم کے عجیب و غریب زیورات تھے۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں دنیا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تجھے اللہ میرے شر سے بچائے تو درہم سے بغض رکھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38403]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38403، ترقيم محمد عوامة 36813)
ترقیم عوامۃ: 36814 ترقیم الشثری: -- 38404
٣٨٤٠٤ - حدفنا الفضل (بن) (١) دكين عن سفيان عن عمرو بن دينار قال: ⦗٩٧⦘ كان جابر بن زيد (مسلما) (٢) عند الدرهم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ، ع]: (مسلم)، وفي [س]: بياض.
حضرت مسلم بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جابر بن زید دراہم سے پرہیز کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38404]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38404، ترقيم محمد عوامة 36814)
ترقیم عوامۃ: 36815 ترقیم الشثری: -- 38405
٣٨٤٠٥ - حدثنا ابن نمير عن بن ابي عروبة عن قتادة عن عبد ربه عن (ابي) (١) عياض ﴿ (ونقلبهم) (٢) ذات اليمين وذات الشمال﴾ [الكهف: ١٨] ، قال: في كل عام مرتين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ابن).
(٢) في [س]: (وتقلبهم).
حضرت ابوعیاض رحمہ اللہ سے قرآن پاک کی آیت { وَنُقَلِّبُہُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ } کی تفسیر میں مروی ہے کہ سال میں دو مرتبہ بدلتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38405]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38405، ترقيم محمد عوامة 36815)
ترقیم عوامۃ: 36816 ترقیم الشثری: -- 38406
٣٨٤٠٦ - حدثنا ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق عن (سعيد) (١) بن (معبد) (٢) قال: حدثتني اسماء (ابنة) (٣) (عميس) (٤) ان جعفرا (جاءها) (٥) إذ هم بالحبشة (وهو يبكي) (٦) فقالت: (ما) (٧) شانك؟ قال: رايت (فتى) (٨) مترفا من الحبشة (شابا) (٩) جسيما مر على امراة فطرح دقيقا كان معها، (فسفته) (١٠) (الريح) (١١) ، ⦗٩٨⦘ (فقالت) (١٢) : (اكلك) (١٣) إلى يوم يجلس الملك على الكرسي فياخذ للمظلوم من الظالم (١٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في أكثر النسخ، ومصادر التخريج، وفي [أ، ط، هـ]: (سعد) وهو الموافق لما في التاريخ الكبير ٤/ ٦٥، ورجح ابن أبي حاتم في العلل ٢/ ٢٢٨ أنه: (سعيد).
(٢) في [أ، ب]: (منبه)، وفي [س]: (أبي سعيد).
(٣) في [س]: (بنته).
(٤) في [ع]: (عميش).
(٥) في [جـ، ع]: (أخاها).
(٦) في [ع]: (وهي تبكي).
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [أ، ب]: (قتى).
(٩) سقط من: [هـ]، وفي [أ، جـ]: (سايل)، وفي [ب]: زيادة (سمايل)، وفي [ع]: (شايل).
(١٠) في [ط، هـ]: (فنسفته).
(١١) في [أ، ب، س]: (ريح).
(١٢) في [هـ]: (قالت).
(١٣) في [هـ]: (أكللت).
(١٤) مجهول؛ لجهالة سعيد بن معبد، أخرجه ابن أبي حاتم في العلل ٢/ ٢٢٨، وابن خزيمة في التوحيد ١/ ٢٤٦ (١٥٢)، والدارمي في النقض ص ٤١٦.
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس جعفر رضی اللہ عنہ اس وقت آئے جب وہ حبشہ میں تھے اور وہ رو رہے تھے تو اسماء نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا ہے ناز ونعم والا اور جسامت والا وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا اور اس عورت کے پاس موجود آٹے کو اس نے گرا دیا۔ پھر اس آٹے کو ہوا اڑا کرلے گئی تو اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں تو تجھ کو اس دن کے سپرد کرتی ہوں کہ جس دن بادشاہ کرسی پر بیٹھے گا اور ظالم سے مظلوم کا حق دلوائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38406]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38406، ترقيم محمد عوامة 36816)
ترقیم عوامۃ: 36817 ترقیم الشثری: -- 38407
٣٨٤٠٧ - حدثنا ابو اسامة عن (محمد بن) (١) طلحة عن إبراهيم (بن) (٢) (عبد الاعلى) (٣) عن عبد الرحمن بن (الاسود) (٤) قال: إني اشم الريحان اذكر به الجنة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ]، وسبقت رواية أبي أسامة عن محمد بن طلحة ١١/ ٢٦.
(٢) في [ع]: (عن).
(٣) في [ع]: تكرر.
(٤) في [س]: (أسود).
حضرت عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ریحان خوشبو سونگھتا ہوں تو جنت یاد آتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38407]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38407، ترقيم محمد عوامة 36817)
ترقیم عوامۃ: 36818 ترقیم الشثری: -- 38408
٣٨٤٠٨ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مالك بن مغول قال: قال رجل للشعبي: افتنا ايها العالم، قال: العالم من يخاف الله.
حضرت مالک بن مغول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی آدمی نے شعبی سے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ عالم کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ عالم وہ ہے جو اللہ سے ڈرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38408]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38408، ترقيم محمد عوامة 36818)
ترقیم عوامۃ: 36819 ترقیم الشثری: -- 38409
٣٨٤٠٩ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عمرو بن قيس قال: كانوا يكرهون ان يعطي الرجل (صية) (١) شيئا فيخرجه فيراه المسكين فيبكي على اهله ويراه اليتيم فيبكي على اهله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (صبية).
حضرت عمرو بن قیس رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ لوگ اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی اپنے بچہ کو کوئی چیز دے پھر وہ اس چیز کو لے کر باہر نکلے اور اس کو کوئی مسکین دیکھ لے اور اپنے گھر والوں کے پاس جا کر روئے یا کوئی یتیم دیکھ لے اور اپنے گھر والوں کے پاس جا کر روئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38409]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38409، ترقيم محمد عوامة 36819)