🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. ما قالوا: في البكاء من خشية الله
اللہ کے خوف سے رونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36781 ترقیم الشثری: -- 38370
٣٨٣٧٠ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير او عن الحسن في قوله تعالى: ﴿لا يحزنهم الفزع الاكبر﴾ [الانبياء: ١٠٣] ، قال: إذا اطبقت النار عليهم.
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ یا حسن رضی اللہ عنہ سے اللہ کے ارشاد { لاَ یَحْزُنُہُمَ الْفَزَعُ الأَکْبَرُ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب ان کو آگ سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38370]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38370، ترقيم محمد عوامة 36781)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36782 ترقیم الشثری: -- 38371
٣٨٣٧١ - حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان عن ابي بكر الزبيدي عن ابيه قال: ما رايت حيا اكثر جلوسا في المساجد من الثوريين والعرنيين.
حضرت ابوبکر زبیدی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے کسی زندہ شخص کو بھی ثوریین اور عرنیین سے زیادہ مسجد میں قیام کرنے والا نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38371]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38371، ترقيم محمد عوامة 36782)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36783 ترقیم الشثری: -- 38372
٣٨٣٧٢ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب قال: قال الحسن: يا ابن آدم تبصر القذى في عين اخيك، وتدع (الجذل) (١) معترضا في عينك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (الجدل).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! تو اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکے کو بھی دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ میں پڑے شہتیر سے بھی درگزر کرجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38372]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38372، ترقيم محمد عوامة 36783)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36784 ترقیم الشثری: -- 38373
٣٨٣٧٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: كانوا يقولون: إن لسان الحكيم من وراء قلبه، فإذا اراد ان يقول رجع إلى قلبه، فإن كان له: قال، ⦗٨٨⦘ وإن كان عليه: امسك، وإن الجاهل قلبه في طرف لسانه لا يرجع إلى (قلبه) (١) ، ما (اتى) (٢) على لسانه (تكلم) (٣) به.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (قوله).
(٢) في [أ]: (أنا).
(٣) في [أ، ب]: (يتكلم).

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ لوگوں کا مقولہ ہے کہ دانا آدمی کی زبان اس کے دل کے پیچھے (ماتحت) ہوتی ہے۔ جب وہ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ اگر اس کا نفع ہو تو بات کہہ دیتا ہے اور اگر نقصان ہو تو خاموش رہتا ہے۔ اور جاہل آدمی کا دل اس کی زبان سے ایک طرف میں ہوتا ہے وہ اپنے دل سے نہیں پوچھتا جو منہ میں آجائے کہہ دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38373]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38373، ترقيم محمد عوامة 36784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36785 ترقیم الشثری: -- 38374
٣٨٣٧٤ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: قال ابو الدرداء: من يتبع نفسه كل ما يرى في الناس يطل حزنه ولا يشف غيظه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الحسن لم يدرك أبا الدرداء، أخرجه أحمد في الزهد ص ١٤٢، وهناد (٥٩٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢١١، وابن أبي الدنيا في مداراة الناس (٢٧)، والبيهقي في الشعب (٨٣٣٧).
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو اپنے نفس کو لوگوں کے پاس موجود اشیاء کے پیچھے لگا دیتا ہے اس کا غم زیادہ ہوجاتا ہے اور اس کا غصہ کم نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38374]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38374، ترقيم محمد عوامة 36785)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36786 ترقیم الشثری: -- 38375
٣٨٣٧٥ - حدثنا ابو اسامة عن (١) سفيان عن ابي حمزة قال: قلت لإبراهيم: إن فرقد السبخي لا ياكل اللحم ولا ياكل كذا، فقال: كان اصحاب محمد ﷺ خيرا منه، كانوا ياكلون اللحم والسمن وكذا وكذا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
حضرت ابوحمزہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے عرض کی کہ ”فَرْقَدَ السَّبَخِیَّ“ نہ تو گوشت کھاتا ہے اور نہ ہی فلاں فلاں چیزیں کھاتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ e کے صحابہ اس سے اچھے تھے اور وہ گوشت اور گھی اور اسی طرح فلاں فلاں چیزیں بھی کھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38375]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38375، ترقيم محمد عوامة 36786)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36787 ترقیم الشثری: -- 38376
٣٨٣٧٦ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: يا ابن آدم إنك لن تؤاخذ إلا بما ركبت على عمد.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اے ابن آدم! تجھ سے صرف اس عمل کا مواخذہ ہوگا کہ جس کا تو نے عمداً ارتکاب کیا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38376]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38376، ترقيم محمد عوامة 36787)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36788 ترقیم الشثری: -- 38377
٣٨٣٧٧ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: كان اهل قرية اوسع الله عليهم حتى (١) كانوا يستنجون بالخبز، فبعث الله عليهم الجوع حتى انهم كانوا ياكلون ما يقعدون به (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: زيادة (أنهم).
(٢) أي: الغائط، انظر: إصلاح الحال لابن أبي الدنيا (٣٤٣، ٣٤٦).

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بستی والوں پر اللہ تعالیٰ نے وسعت کی یہاں تک وہ روٹیوں سے استنجاء کرنے لگے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر بھوک مسلط کی یہاں تک کہ وہ اسی کو کھانے لگے جس کو وہ گراتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38377]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38377، ترقيم محمد عوامة 36788)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36789 ترقیم الشثری: -- 38378
٣٨٣٧٨ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن الحسن قال: كان رجل يكثر غشيان باب (عمر) (١) ، قال: فقال له عمر: اذهب فتعلم كتاب الله ⦗٨٩⦘ (تعالى) (٢) ، قال: فذهب الرجل ففقده عمر، ثم لقيه (لقاءة) (٣) فكانه عاتبه فقال: وجدت في كتاب الله ما اغناني عن باب (عمر) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [جـ، س].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) سقط من: [س].
(٥) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر، أخرجه ابن المبارك في الزهد ص (١٣١).

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اکثر عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا کرتا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ جا اور اللہ کی کتاب سیکھ۔ حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی چلا گیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو گم کردیا۔ پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ ملا تو عمر رضی اللہ عنہ اس کو ڈانٹنے لگے تو اس نے جواب دیا کہ میں نے اللہ کی کتاب میں وہ چیز حاصل کی جس نے مجھ کو عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے سے مستغنی کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38378]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38378، ترقيم محمد عوامة 36789)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36790 ترقیم الشثری: -- 38379
٣٨٣٧٩ - حدثنا ابو اسامة عن ابي الاشهب عن (الحسن) (١) قال: لا يزال العبد بخير ما لم يصب كبيرة تفسد عليه قلبه وعقله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آدمی ہمیشہ بھلائی ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ کوئی ایسا کبیرہ گناہ نہ کرلے کہ جو اس کی عقل ودل کو خراب کردے؟ اور حضر تحسن کا ارشاد ہے ایمان تو ایمان ہے! اس لیے کہ جو شخص مومن ہوتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کے لیے شفاعت کرنے والے ہوتے ہیں جن کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38379]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38379، ترقيم محمد عوامة 36790)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں