مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
76. (باب أول ما فعل ومن فعله)
سب سے پہلے کون سا عمل کس نے کیا؟
ترقیم عوامۃ: 37170 ترقیم الشثری: -- 38767
٣٨٧٦٧ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور عن مجاهد كان يقال: الصبر عند اول صدمة.
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ صبر صدمے کے شروع میں ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38767]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38767، ترقيم محمد عوامة 37170)
ترقیم عوامۃ: 37171 ترقیم الشثری: -- 38768
٣٨٧٦٨ - حدثنا يزيد عن شعبة عن قتادة عن الحسن قال: اول من عرف ⦗١٩٢⦘ بالبصرة ابن عباس (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ قتادة مدلس، لكن روايته عن الحسن في الصحيح، وشعبة كان ينتقي من حديثه، وقد خالف ابن عباس غيره من الصحابة، وأخرجه عبد الرزاق (٨١٢٢)، وابن سعد ٢/ ٣٦٧.
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بصرہ کا تعارف سب سے پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کرایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38768]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38768، ترقيم محمد عوامة 37171)
ترقیم عوامۃ: 37172 ترقیم الشثری: -- 38769
٣٨٧٦٩ - حدثنا شريك عن ابي إسحاق عن هنيدة بن خالد الخزاعي قال: اول راس اهدي في الإسلام: راس عمرو بن الحمق اهدي إلى (معاوية) (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (لمعاوية).
(٢) حسن؛ شريك وهنيدة صدوقان، أخرجه الطبراني في الأوائل (٧٨)، وابن أبي عاصم في الأوائل (١٧٣)، وأبو عروبة (١٥٧)، وابن عساكر ٤٥/ ٥٠٣.
حضرت ہنیدہ بن خالد خزاعی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا سر جو بھیجا گیا وہ عمرو بن حمق کا سر تھا، جو حضرت معاویہ کی طرف بھیجا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38769]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38769، ترقيم محمد عوامة 37172)
ترقیم عوامۃ: 37173 ترقیم الشثری: -- 38770
٣٨٧٧٠ - حدثنا الفضل حدثنا ابو إسرائيل قال: اخبرني بعض اصحابنا ان طلحة كان اول من بايع عليا، فرآه اعرابي فقال: امر لا يتم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام راويه.
حضرت ابو اسرائیل کہتے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضرت طلحہ نے بیعت کی۔ انہیں ایک دیہاتی نے دیکھا تو کہا کہ یہ کام پورا نہیں ہوگا۔ فضل کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسرائیل سے کہا کہ یہ کس وجہ سے کہا؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے ہاتھ کی وجہ سے۔ (حضرت طلحہ کا ہاتھ غزوہ احد میں شل ہوگیا تھا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38770]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38770، ترقيم محمد عوامة 37173)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 38771
٣٨٧٧١ - فقلت لابي إسرائيل: من اي شيء؟ قال: من امر يده.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38771، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 37174 ترقیم الشثری: -- 38772
٣٨٧٧٢ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن ابي سنان قال: حدثني شيخ عن عمرو ابن مرة قال: اول من شرط الشرط عمرو بن العاص، فلما مرض مرضه الذي مات فيه ارسل إلى شرطه فقال: خذوا سلاحكم (وكراعكم) (١) وائتوني، فلما اتوه قال: إني إنما كنت اعدكم لمثل هذا اليوم، فهل تستطيعون ان تردوا عني شيئا مما انا فيه، فقالوا: سبحان الله، تقول هذا وقد كان رسول الله ﷺ يستشيرك ويؤمرك على الجيوش، (فقال) (٢) : وما يدريكم لعل رسول الله ﷺ كان يتالفني بذلك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (كرامكم).
(٢) سقط من: [س].
(٣) مجهول؛ لإبهام راويه.
حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے پہرے داروں کی شرط حضرت عمرو بن عاص نے لگائی۔ جب وہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے پہرے داروں کے لئے پیغام بھجوایا کہ اپنا اسلحہ اور حفاظتی سامان لے کر میرے پاس آجاؤ۔ جب وہ آگئے تو حضرت عمرو نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ مجھ سے اس چیز کو دور کرسکو جس کا میں شکار ہونے لگا ہوں یعنی موت کا اور میں نے تمہیں اسی دن کے لئے تو مقرر کیا تھا۔ انہوں نے کہا سبحان اللہ! آپ یہ بات فرما رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے مشورہ لیتے تھے اور آپ کو لشکروں کانگران بناتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم؟ کیا پتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا دل رکھنے کے لئے ایسا کرتے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38772]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38772، ترقيم محمد عوامة 37174)
ترقیم عوامۃ: 37175 ترقیم الشثری: -- 38773
٣٨٧٧٣ - حدثنا عبد الرحيم عن طلحة بن عمرو قال: سمعت عطاء يقول: اول ما نزل تحريم الخمر ﴿يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس (١) ﴾ [البقرة: ٢١٩] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة ﴿وَإِثْمُهُمَا أكبر مِنْ نَفْعِهِمَا﴾.
(٢) مرسل؛ عطاء تابعي.
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے لئے سب سے پہلے یہ آیت نازل ہوئی { یَسْأَلُونَک عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمَ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38773]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38773، ترقيم محمد عوامة 37175)
ترقیم عوامۃ: 37176 ترقیم الشثری: -- 38774
٣٨٧٧٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثني (موسى) (١) قال: اخبرني محمد بن (عمرو) (٢) بن علي عن علي بن ابي طالب قال: اول من دفن بالبقيع عثمان بن مظعون ثم اتبعه إبراهيم بن (محمد) (٣) رسول الله ﷺ (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ويحتمل أنه موسى بن يعقوب، وفي كتب التخريج أنه: (محمد بن موسى الفطرى)
(٢) كذا في النسخ، وصوابه: (عمر).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٤) منقطع؛ محمد بن عمر لم يدرك عليًا، وأخرجه البخاري في التاريخ ١/ ١٧٧، وابن سعد ١/ ١٤١.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جنۃ البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کو دفن کیا گیا۔ پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم بن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38774]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38774، ترقيم محمد عوامة 37176)
ترقیم عوامۃ: 37177 ترقیم الشثری: -- 38775
٣٨٧٧٥ - حدثنا حفص عن الاعمش عن حبيب عن ابي عبد الرحمن قال: قال عبد الله: إذا رايتم (الحدث) (١) فعليكم بالامر الاول (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (المحدث).
(٢) صحيح؛ أخرجه الدارمي (١٦٩)، والخطيب في الفقيه ١/ ٤٥٧، والهروي (٥٣٨).
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی نئی چیز کو وجود میں آتا دیکھو تو پہلی چیز پر عمل کرتے رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38775]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38775، ترقيم محمد عوامة 37177)
ترقیم عوامۃ: 37178 ترقیم الشثری: -- 38776
٣٨٧٧٦ - حدثنا مالك قال: حدثني سهل بن شعيب قال: حدثني فراس بن يحيى قال: اصبت (في) (١) سجن الحجاج ورقا منقوطا بالنحو، وكان اول نقط رايته، فاتيت به الشعبي فاريته إياه فقال: اقرا عليه ولا تنقطه بيدك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (من).
حضرت فراس بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کے قید خانے میں ایک صفحہ دیکھا جس پر نقطے لگائے گئے تھے۔ وہ پہلے نقطے تھے جو میں نے دیکھے۔ میں وہ ورق لے کر حضرت شعبی کے پاس آیا اور انہیں دکھایا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنی طرز پر چلتے رہو اور اپنے ہاتھ سے نقطے نہ لگاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأوائل/حدیث: 38776]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38776، ترقيم محمد عوامة 37178)