🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37936 ترقیم الشثری: -- 39545
٣٩٥٤٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن ابي زياد عن عبد الله بن الحارث بن نوفل ان النبي ﷺ استقبله رجل من المشركين يوم احد مصلتا يمشي، فاستقبله رسول الله ﷺ يمشي فقال: انا النبي غير الكذب … انا ابن عبد المطلب قال: فضربه رسول الله ﷺ فقتله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف؛ عبد اللَّه بن الحارث ليس له رواية، ويزيد ضعيف.
حضرت عبد اللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک مشرک تلوار سونتے ہوئے چل رہا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چلتے ہوئے اس کے سامنے تشریف لے گئے اور فرمایا؛ میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ضرب لگائی اور اس کو قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39545، ترقيم محمد عوامة 37936)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37937 ترقیم الشثری: -- 39546
٣٩٥٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (اخبرنا) (١) عطاء بن السائب عن الشعبي ان امراة دفعت (إلى) (٢) ابنها يوم احد السيف، فلم يطلق حمله ⦗٤٧٩⦘ فشدته على ساعده بنسعة، ثم اتت به النبي ﵊ فقالت: يا رسول الله هذا ابني يقاتل عنك، فقال النبي ﵊:"اي بني احمل هاهنا اي بني احمل هاهنا"، فاصابته جراحة، فصرع فاتى النبي ﷺ فقال:"اي بني لعلك جزعت؟" قال: لا، يا رسول الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب]: (على).
(٣) مرسل؛ الشعبي تابعي، والأظهر أن رواية حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب قبل اختلاطه.

حضرت شعبی سے منقول ہے کہ ایک عورت نے احد کے دن اپنے بیٹے کو تلوار دی تو وہ لڑکا تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ پس اس عورت نے تلوار اس لڑکے کے بازو رپر رسی کے ذریعہ سے باندھ دی پھر وہ عورت اس لڑکے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ میرا بیٹا ہے اور یہ آپ کی طرف سے قتال کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا: اے بیٹے! اس طرف حملہ کرو۔ اے بیٹے! اس طرف حملہ کرو۔ پھر اس لڑکے کو زخم لگ گیا اور وہ گرگیا۔ پھر اس لڑکے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ اے بیٹے! شاید کہ تم ڈر گئے ہو؟ اس نے عرض کیا۔ نہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39546، ترقيم محمد عوامة 37937)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37938 ترقیم الشثری: -- 39547
٣٩٥٤٧ - حدثنا عفان، قال: حدثنا حماد بن سلمة، قال: (اخبرنا) (١) عطاء بن السائب، عن الشعبي، عن ابن مسعود ان النساء كن يوم احد خلف المسلمين يجهزن على جرحى المشركين فلو حلفت يومئذ لرجوت ان ابر: انه ليس احد منا يريد الدنيا حتى انزل الله: ﴿منكم من يريد الدنيا ومنكم من يريد الآخرة ثم صرفكم عنهم ليبتليكم﴾ [آل عمران: ١٥٢] فلما خالف اصحاب النبي ﷺ وعصوا ما امروا به، (افرد) (٢) رسول الله ﷺ في تسعة: سبعة من الانصار ورجلين من قريش وهو عاشرهم، فلما رهقوه (قال) (٣) :"رحم الله رجلا ردهم عنا"، قال: فقام رجل من الانصار فقاتل ساعة حتى قتل، فلما رهقوه ايضا قال:"يرحم (الله رجلا ردهم) (٤) عنا"، فلم يزل يقول حتى قتل السبعة، فقال النبي ﷺ لصاحبيه:"ما انصفنا اصحابنا". فجاء ابو سفيان فقال: اعل هبل، فقال رسول الله ﷺ: ("قولوا: الله اعلى واجل"، فقال ابو سفيان: لنا عزى ولا عزى لكم، فقال رسول الله ﷺ) (٥) : قولوا: ⦗٤٨٠⦘"الله مولانا، والكافرون لا مولى لهم"، فقال ابو سفيان: يوم بيوم بدر، يوم لنا ويوم علينا، ويوما (نساء) (٦) ويوما نسر، حنظلة بحنظلة، وفلان بفلان، وفلان بفلان، فقال رسول الله ﷺ:"لا سواء، اما قتلانا فاحياء يرزقون، وقتلاكم في النار يعذبون". ثم قال ابو سفيان: قد كان في القوم مثلة، وإن كانت (٧) بغير ملاء مني، ما امرت ولا نهيت، ولا احببت ولا كرهت، ولا ساءني ولا (سرني) (٨) . قال: فنظروا فإذا حمزة قد بقر بطنه واخذت هند كبده فلاكتها فلم تستطع إن تاكلها، فقال رسول الله ﷺ:"اكلت منه شيئا؟"قالوا: لا، قال:"ما كان الله ليدخل شيئا من حمزة النار"، فوضع رسول الله ﷺ حمزة (فصلى) (٩) عليه، وجيء برجل من الانصار فوضع إلي جنبه فصلى عليه، فرفع الانصاري وترك حمزة، ثم جيء بآخر فوضعه إلى جنب حمزة فصلى عليه، ثم رفع وترك حمزة حتى صلى عليه يومئذ سبعين صلاة (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [جـ]: (فرد).
(٣) في [أ، ب]: (فقال).
(٤) في [ي]: (يرحم).
(٥) سقط من: [جـ، ي].
(٦) في [أ، ب]: (مشا).
(٧) في [هـ]: زيادة (لعن).
(٨) في [أ، ب]: (يسر نحو).
(٩) في [ص، ي]: (فصل).
(١٠) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٤١٤)، وابن سعد ٣/ ١٦، وعبد الرزاق (٦٦٥٣).

حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کے پیچھے عورتیں تھیں جو مشرکین کے زخمیوں کو مار رہی تھیں۔ پس اگر میں اس دن قسم کھاتا تو میں حانث نہ ہوتا کہ: ہم میں سے کوئی ایک بھی دنیا کا ارادہ نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الآخِرَۃَ، ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ } ٢۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اختلاف کیا اور حکم کے برخلاف عمل کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو (٩) افراد کے درمیان… جن میں سے سات انصاری اور دو قریشی تھے … خالی چھوڑ دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان افراد میں دسویں تھے۔ پھر جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہیں ہم سے دور کر دے۔ راوی کہتے ہیں: انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کچھ دیر قتال کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے پھر مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہں ی (مشرکین کو) ہم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات مسلسل کہتے رہے یہاں تک کہ سات افراد قتل ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ٣۔ پھر ابو سفیان آیا اور اس نے کہا۔ ہُبل بلند ہو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم (صحابہ) کہو۔ اللہ تعالیٰ بلند ہے اور بزرگی والا ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ ہمارے لئے عُزّی ہے اور تمہارے لئے کوئی عُزّی نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: تم کہو: اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ (یہ) دن بدر کے دن کے بدلہ میں ہے۔ ایک دن ہمارے حق میں اور ایک دن ہمارے خلاف ہے ایک دن ہمارے ساتھ بُرا ہوتا ہے اور ایک دن ہمیں خوش کردیا جاتا ہے۔ حنظلہ کا قتل حنظلہ کے بدلہ میں ہے اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں۔ اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواباً) ارشاد فرمایا: یہ برابری نہیں ہے۔ بہرصورت ہمارے جو مقتولین ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں عذاب دیئے جا رہے ہیں۔ ٤۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ لوگوں میں مثلہ کا عمل (پایا گیا) ہے اگرچہ یہ مجھ سے مشورہ کئے بغیر ہوا ہے۔ نہ میں نے حکم دیا ہے اور نہ میں نے منع کیا ہے۔ نہ میں نے (اس کو) پسند کیا ہے اور نہ میں نے ناپسند کیا ہے۔ اور یہ چیز نہ تو مجھے بُری محسوس ہوئی ہے اور نہ ہی اچھی محسوس ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حمزۃ کا پیٹ چاک کردیا گیا ہے اور ہندہ نے آپ کا کلیجہ لیا اور اس کو چبایا۔ لیکن وہ کلیجہ نہ کھا سکی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ہندہ نے کلیجہ میں سے کچھ کھایا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حمزہ کی کسی چیز کو جہنم میں داخل کرنا نہیں چاہا۔ ٥۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ (کی میت) کو رکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک انصاری صاحب (مقتول صحابی) کو لایا گیا اور انہیں حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی پھر انصاری کی میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی میت رہنے دی گئی اور پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میت پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر دوسری میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی رہنے دی گئی پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر یہ میت اٹھا لی گئی اور حضرت حمزہ کو رہنے دیا گیا۔ یہاں تک کہ ا س دن حضرت حمزہ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39547، ترقيم محمد عوامة 37938)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37939 ترقیم الشثری: -- 39548
٣٩٥٤٨ - حدثنا محمد بن مروان عن عمارة بن ابي حفصة عن عكرمة قال: شج النبي ﷺ (في وجهه يوم احد) (١) وكسرت رباعيته، (وذلق) (٢) من العطش حتى ⦗٤٨١⦘ جعل (يقع) (٣) على ركبتيه، وتركه اصحابه فجاء ابي بن خلف يطلبه بدم اخيه امية بن خلف، فقال: اين هذا الذي يزعم انه نبي فليبرز (لي) (٤) فإنه إن كان نبيا قتلني، فقال رسول الله ﷺ:"اعطوني الحرية"، فقالوا: يا رسول الله وبك حراك فقال:"إني قد (استسقيت) (٥) (الله) (٦) دمه"، فاخذ الحربة ثم مشى إليه فطعنه فصرعه عن دابته وحمله اصحابه فاستنقذوه، فقالوا (له) (٧) : ما نرى بك باسا، قال:"إنه قد (استسقى) (٨) الله دمي، إني لاجد لها ما لو كانت على ربيعة ومضر لوسعتهم" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يوم أحد في وجهه).
(٢) في [أ، ب]: (وملق).
(٣) في [ي]: (تقع).
(٤) في [جـ، ق]: (إلي).
(٥) في [ق، هـ]: (استسعيت).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) سقط من: [جـ].
(٨) في [ق، هـ]: (استسعى).
(٩) مرسل؛ عكرمة تابعي، وورد أوله من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه ابن عدي في الكامل ٥/ ٢٩٨.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ احد کے دن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیاس کی وجہ سے لبِ دم ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھٹنوں کے بل جھکنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہوگئے۔ تو ابی بن خلف، اپنے بھائی امیہ بن خلف کے خون کا مطالبہ کرتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ آدمی! جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میرے ساتھ مبارزت کرے۔ پس اگر وہ نبی ہوا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے نیزہ دے دو۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ میں حرکت ہے؟ (یعنی آپ تو پیاسے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خون کے ذریعہ سے سیرابی طلب کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیزہ پکڑا اور اس کی طرف چل دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نیزہ مارا اور اس کو اس کی سواری سے گرا دیا۔ اُبی بن خلف کے ساتھیوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو بچا کرلے گے اور انہوں نے اس کو کہا۔ ہمارے خیال میں تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا؟ اس نے جواب دیا۔ بلاشبہ انہوں (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ سے میرے خون کے ذریعہ سیرابی مانگی ہے۔ پس میں وہ تکلیف محسوس کر رہا ہوں کہ اگر وہ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر کے لئے ہوتی تو ان کو بھی کفایت کر جاتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39548، ترقيم محمد عوامة 37939)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37940 ترقیم الشثری: -- 39549
٣٩٥٤٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن ابيه عن الزبير مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٥٨.
حضرت زبیر سے بھی اس کے مثل روایت منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39549، ترقيم محمد عوامة 37940)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37941 ترقیم الشثری: -- 39550
٣٩٥٥٠ - حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا ابو بكر (عن) (١) يزيد (عن) (٢) مقسم عن ابن عباس قال: لما قتل حمزة يوم احد اقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع، قال: فلقيت عليا والزبير، فقال علي للزبير: (اذكره) (٣) لامك، وقال الزبير: ⦗٤٨٢⦘ لا، بل (٤) (اذكره) (٥) انت لعمتك، قالت: ما فعل حمزة؟ قال: (فارياها) (٦) انهما لا يدريان، قال: فجاء النبي ﷺ فقال:"إني لاخاف على عقلها"، قال: فوضع (يده) (٧) على صدرها ودعا لها، قال: فاسترجعت وبكت، قال: ثم جاء فقام عليه وقد مثل به، فقال:" (لولا) (٨) جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون (السباع) (٩) "، قال: ثم امر بالقتلى فجعل يصلي عليهم، قال: (فيضع) (١٠) تسعة وحمزة، فيكبر عليهم سبع تكبيرات، ثم يرفعون ويترك حمزة، ثم يجاء فيكبر عليهم سبعا حتى فرغ منهم (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [جـ]: (ابن).
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٤) في [ع]: زيادة (قل).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (اذكر).
(٦) في [أ، ب]: (فأراهما).
(٧) في [أ، ب]: (يدها).
(٨) في [أ]: (لولى).
(٩) في [جـ]: بياض.
(١٠) في [ي]: (فنضع).
(١١) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٧، وابن ماجه (١٥١٣)، وابن سعد ٣/ ١٤، والطحاوي ١/ ٥٠٣، والطبراني ٣/ (٢٩٣٥)، والبيهقي ٤/ ١٢.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کے دن حضرت حمزہ قتل ہوگئے تو حضرت صفیہ انہیں تلاش کرنے کو آئیں۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر سے ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر نے کہا۔ نہیں! بلکہ آپ انہیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ کہنے لگی۔ حمزہ نے کیا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: ان دونوں (علی رضی اللہ عنہ، زبیر) نے اسے یہ ظاہر کیا کہ انہیں خبر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لئے دُعا کی۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت صفیہ نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہوئے۔ درآنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ اور فرمایا: اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان (حمزہ) کو یونہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کے بارے میں حکم دیا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ کو رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھا دی گئیں اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نو افراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فارغ ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39550، ترقيم محمد عوامة 37941)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37942 ترقیم الشثری: -- 39551
٣٩٥٥١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) (عبد الرحمن) (٢) بن عبد العزيز قال: حدثنا الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن ابيه ان رسول الله ﷺ قال يوم احد:"من راى مقتل حمزة؟" فقال رجل (اعزل) (٣) : انا رايت مقتله، قال: فانطلق (فارناه) (٤) ، فخرج حتى وقف على حمزة فرآه قد ⦗٤٨٣⦘ (بقر) (٥) بطنه وقد مثل به، فقال: يا رسول الله مثل به (والله) (٦) ، فكره رسول الله ﷺ ان ينظر إليه، ووقف بين ظهراني القتلى فقال:" (انا) (٧) شهيد على هؤلاء القوم، لفوهم في دمائهم فإنه ليس جريح يجرح إلا جرحه يوم القيامة يدمى، لونه لون الدم، وريحه ريح المسك، قدموا اكثر القوم قرآنا (فاجعلوه) (٨) في اللحد" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (عبد العزيز).
(٣) في [جـ]: (أعزك).
(٤) في [ع]: (فأريناه).
(٥) في [ع]: (شرط).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [ي].
(٨) في [ي]: (واجعلوه).
(٩) شاذ؛ أخرجه الطبراني ١٩/ (١٦٧)، والبيهقي ٤/ ١١، وصوابه الزهري عن عبد الرحمن عن جابر، كما أخرجه البخاري (١٣٤٣)، وأبو داود (٣١٣٨)، وابن ماجه (١٥١٤)، والترمذي (١٠٣٦)، والنسائي ٤/ ٦٢، وابن حبان (٣١٩٧).

حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن ارشاد فرمایا: حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! بخدا! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا: میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں۔ انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39551، ترقيم محمد عوامة 37942)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37943 ترقیم الشثری: -- 39552
٣٩٥٥٢ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن ايوب عن حميد بن هلال عن سعد بن هشام بن عامر عن ابيه قال: اشتكى إلى رسول الله ﷺ شدة الجراح يوم احد فقال:"احفروا واوسعوا وادفنوا في القبر الاثنين والثلاثة، وقدموا اكثرهم قرآنا"، فقدموا ابي بين يدي رجلين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد ٤/ ٢٠ (١٦٣٠٠)، وأبو داود (٣٢٠١٥)، والترمذي (١٧١٣)، والنسائي (٢١٣٨)، وابن ماجه (١٥٦٠)، وسعيد بن منصور (٢٥٨٢)، والطبراني ٢٢/ (٤٤٤)، وعبد الرزاق (١٥٠١)، والبيهقي ٣/ ٤١٣، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٢٠، وابن شبه (٣٧٩)، وابن حزم ٥/ ١١٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٤٤)، وأبو يعلى (١٥٥٣).
حضرت سعید بن ہشام، اپنے والد سے روایت کرے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقتولین کی کثرت کا کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو اور کھلی کھودو اور بہترین بناؤ۔ اور ایک قبر میں، دو یا تین افراد کو دفن کردو۔ مُردوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو۔ پس لوگوں نے میرے والد کو دو آدمیوں سے مقدم کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39552، ترقيم محمد عوامة 37943)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37944 ترقیم الشثری: -- 39553
٣٩٥٥٣ - حدثنا ابو اسامة عن شعبة عن عدي بن ثابت عن عبد الله بن يزيد عن زيد بن ثابت قال: (لما خرج رسول الله ﷺ إلى احد خرج معه ناس فرجعوا، ⦗٤٨٤⦘ قال: فكان اصحاب رسول الله ﷺ) (١) فيهم فرقتين: قالت فرقة: (نقتلهم) (٢) ، وفرقة (قالت) (٣) : لا نقتلهم، فنزلت: ﴿ (فما لكم) (٤) في المنافقين فئتين والله اركسهم بما كسبوا﴾ [النساء: ٨٨] ، قال: فقال رسول الله ﷺ:"إنها طيبة، وإنها تنفي (الخبث) (٥) كما تنفي النار خبث (الفضة) (٦) " (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق، ي].
(٢) في [أ، ب]: (تقتلهم).
(٣) في [ع]: (وقالت: فرقة).
(٤) في [ي]: (مالكم).
(٥) في [أ، ب]: (الخبيث).
(٦) في [س، ع]: (الحديد).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٨٤)، ومسلم (٢٧٧٦).

حضرت زید بن ثاب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کی طرف نکلے تو کچھ (منافق) لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے پھر واپس آگئے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ، ایسے لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال کریں گے۔ اور دوسری جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا } راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے اور یہ خباثت کو یوں ختم کردیتا ہے۔ جیسا کہ آگ چاندی کی گندگی کو ختم کردیتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39553]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39553، ترقيم محمد عوامة 37944)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37945 ترقیم الشثری: -- 39554
٣٩٥٥٤ - (حدثنا) (١) كثير بن هشام قال: حدثنا هشام الدستوائي عن ابي الزبير عن جابر قال: صرخ إلى قتلانا يوم احد إذ اجرى معاوية العين (فاستخرجناهم) (٢) بعد اربعين سنة لينة اجسادهم تتثنى اطرافهم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (فاستخرجنه).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٥٦٣، والطحاوي في شرح المشكل ٣/ ٤٩، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٩١، وابن شبه في أخبار المدينة (٣٨٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٩/ ٢٤١، وابن الأثير في أسد الغابة ٢/ ٧١.

حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت معاویہ نے چشمہ جاری فرمایا تو ہمارے احد کے شہداء بارے میں فریاد ہوئی پس ہم نے انھیں چالیس سال (کا عرصہ گزرنے) کے بعد نکالا۔ ان کے جسم ان اعضاء کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39554]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39554، ترقيم محمد عوامة 37945)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں