🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37946 ترقیم الشثری: -- 39555
٣٩٥٥٥ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن ثابت عن انس عن ابي طلحة قال: رفعت راسي يوم احد فجعلت انظر، فما ارى احدا من القوم إلا يميد تحت حجفته من النعاس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٠٦٨)، والترمذي (٣٠٠٧)، والحاكم ٢/ ٢٥٧.

حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے احد کے دن سر اوپر کر کے دیکھنا شروع کیا۔ تو مجھے صحابہ میں سے کوئی ایک بھی نظر نہ آیا مگر یہ کہ وہ اونگھ کی وجہ سے اپنی ڈھال کے نیچے جھٹکے کھا رہا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39555، ترقيم محمد عوامة 37946)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37947 ترقیم الشثری: -- 39556
٣٩٥٥٦ - حدثنا مالك قال: (حدثنا) (١) يعقوب (بن) (٢) عبد الله (عن) (٣) جعفر ابن ابي المغيرة عن ابن ابزى قال: بارز علي يوم احد من بني شيبة طلحة (ومسافعا) (٤) ، قال: وسمى إنسانا آخر، قال: فقتلهم سوى من قتل من الناس فقال لفاطمة حيث نزل: خذي السيف غير ذميم فقال له رسول الله ﷺ:"لئن كنت ابليت فقد ابلى (فلان الانصاري) (٥) وفلان الانصاري (وفلان الانصاري) (٦) حتى انقطع نفسه او كاد ينقطع نفسه" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (عن).
(٣) في [ط]: (بن).
(٤) في [ع]: (مسافع).
(٥) في [أ، ب، ع]: (عتبة).
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) مرسل؛ ابن أبزى، هو سعيد بن عبد الرحمن تابعي.

حضرت ابن ابزی سے روایت ہے کہ احد کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنی شیبہ میں سے طلحہ اور مسافع کے ساتھ مبارزت کی۔ راوی کہتے ہیں: ایک اور آدمی کا نام بھی (استاد) نے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو عام لوگوں (کفار) کو قتل کیا تھا ان کے سوا ان تینوں کو بھی قتل کردیا۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ سے کہا۔ بغیر مذمت کے تلوار کو پکڑو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے عمدگی سے قتال کیا ہے تو فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی بہترین قتال کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان ختم کردی یا جان ختم کرنے کے قریب ہوگئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39556، ترقيم محمد عوامة 37947)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37948 ترقیم الشثری: -- 39557
٣٩٥٥٧ - حدثنا يحيى بن عبد الملك بن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن الحكم قال: لما كسرت (رباعية) (٢) رسول الله يوم احد قال رسول الله ﷺ: ("اشتد غضب الله على ثلاثة (٣) : من زعم انه ملك الاملاك) (٤) اشتد غضب الله على (من) (٥) كسر رياعية رسول الله ﷺ واثر في وجهه، (اشتد) (٦) غضب الله على من زعم ⦗٤٨٦⦘ ان لله (ولدا) (٧) " (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (عتبة).
(٢) في [جـ]: بياض.
(٣) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (على).
(٤) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٥) سقط من: [ي].
(٦) في [ي]: (أشد).
(٧) في [أ، ب]: (ولد).
(٨) مرسل؛ الحكم تابعي، وورد من حديث الحكم عن مقسم عن ابن عباس، أخرجه الطبراني (١٢١١٣).

حضرت حکم سے روایت ہے کہ جب احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے چار دندان مبارک شہید ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین لوگوں پر اللہ کا غضب شدید ہے۔ اس آدمی پر جو خود کو بادشاہوں کا بادشاہ گمان کرتا ہے۔ اور اس آدمی پر بھی اللہ کا غضب شدید ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان کو شہید کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کو زخمی کیا۔ اور خدا کا غضب اس آدمی پر بھی شدید ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39557]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39557، ترقيم محمد عوامة 37948)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37949 ترقیم الشثری: -- 39558
٣٩٥٥٨ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) مالك بن انس عن عبد الله بن ابي بكر عن رجل قال: هشمت البيضة على (راس) (٢) رسول الله ﷺ يوم احد، وكسرت رياعيته، وجرح في وجهه، ودووي بحصير محرق وكان علي بن ابي طالب ينقل إليه الماء في (الحجفة) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [هـ]: (الجحفة).
(٤) مجهول؛ لإبهام الرجل.

ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر خود ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلی ہوئی چٹائی کے ذریعہ دوا کی گئی۔ اور علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39558]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39558، ترقيم محمد عوامة 37949)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37950 ترقیم الشثری: -- 39559
٣٩٥٥٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا حماد بن زيد عن ايوب قال: قال عبد الرحمن بن ابي بكر لابي بكر: رايتك يوم احد (فصغت) (١) عنك، قال: فقال ابو بكر: لكني لو رايتك ما (صغت) (٢) عنك (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فصدفت)، وفي المستدرك: (فصفحت).
(٢) في [هـ]: (صدفت)، وفي المستدرك: (صفحت).
(٣) في [ع]: (هنا انتهى الجزء الأول من المغازي والحمد للَّه سيكون الثاني)، وتكررت الأربعة الأحاديث الأخيرة بعد ذلك.
(٤) مرسل؛ أيوب تابعي، وأخرجه الحاكم ٣/ ٥٣٩ (٦٠٠٥).

حضرت ایوب سے روایت ہے کہ عبد الرحمان بن ابی بکر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ میں نے احد کے دن آپ کو دیکھا تھا لیکن میں نے آپ سے اعراض کیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابوبکر نے فرمایا: لیکن اگر میں تمہیں دیکھتا تو میں تم سے اعراض نہ کرتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39559]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39559، ترقيم محمد عوامة 37950)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں