مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38062 ترقیم الشثری: -- 39679
٣٩٦٧٩ - حدثنا شبابة بن سوار قال: (حدثنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني ابو مريم عن علي قال: انطلق بي رسول الله ﷺ حتى اتى بي الكعبة فقال:"اجلس"، فجلست إلى جنب الكعبة وصعد رسول الله ﷺ على منكبي، [ثم قال لي:"انهض بي"، فنهضت به، فلما راى ضعفي تحته قال:"اجلس"، فجلست فنزل عني وجلس لي فقال:"يا علي اصعد على منكبى"] (٢) ، فصعدت على (منكبه) (٣) ، ثم نهض بي رسول الله ﷺ (٤) [فلما (نهض) (٥) بي خيل إلي ⦗٤٨⦘ (اني) (٦) لو شئت نلت افق السماء، فصعدت على الكعبة، وتنحى رسول الله ﷺ] (٧) فقال لي:" (الق) (٨) صنمهم الاكبر (صنم) (٩) قريش"، وكان من نحاس، وكان (موتودا) (١٠) باوتاد من حديد في الارض، فقال لي رسول الله ﷺ:"عالجه"، فجعلت اعالجه ورسول الله ﷺ يقول:"إيه"، (فلم) (١١) ازل اعالجه حتى استمكنت منه فقال:"اقذفه"، (فقذفته) (١٢) ونزلت (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ب، ع].
(٣) في [ب]: (منكبيه).
(٤) سقط من: [س، ع].
(٥) في [جـ]: (نض).
(٦) سقط من: [ي]، وفي [ق]: (أن).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (التي).
(٩) في [هـ]: (فصنم).
(١٠) في [أ، ب]: (موثودًا).
(١١) في [ب]: (ولم).
(١٢) سقط من: [ب].
(١٣) مجهول؛ لجهالة أبي مريم، أخرجه أحمد (٦٤٤)، والحاكم ٢/ ٢٦٦، وأبو يعلى (٢٩٢)، والنسائي (٨٥٠٧)، والضياء ٢ (٧٠٨)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار ٣/ ٢٣٦ (٣١)، والبزار (٧١٩)، وإسحاق كما في المطالب (٤٢٢٤)، والخطيب ١٣/ ٣٠٢.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر کعبہ میں پہنچے اور پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں کعبہ کی ایک جانب بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور پھر مجھے فرمایا۔ مجھے لے کر اوپر اٹھو۔ مں ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اوپر اٹھا لیکن (جب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر کھڑے ہونے میں کمزوری دیکھی تو پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چناچہ میں نیچے بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اوپر سے اتر گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہوگیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر اوپر اٹھے تو مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو میں آسمان افق کو بھی ہاتھ میں لاسکتا ہوں پھر میں کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک طرف ہٹ گئے اور مجھے ارشاد فرمایا۔ (اوپر موجود) بتوں میں سے سب سے بڑے بت کو جو کہ قریش ہے نیچے پھینک دو۔ اور وہ بت تانبے کا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ چھت پر گاڑھا ہوا تھا۔ تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا: اس کو ہلاؤ۔ چناچہ میں نے اس کو ہلانا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرماتے جا رہے تھے۔ اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ پس میں اس کو ہلاتا رہا یہاں تک کہ وہ بت میرے قابو میں آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس کو نیچے پھینک دو۔ چناچہ میں نے اس بت کو نیچے پھینک دیا اور پھر میں (خود بھی) نیچے اتر آیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39679، ترقيم محمد عوامة 38062)
ترقیم عوامۃ: 38063 ترقیم الشثری: -- 39680
٣٩٦٨٠ - حدثنا سليمان بن حرب قال: حدثنا حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة ان النبي ﷺ قدم يوم الفتح وصورة إبراهيم وإسماعيل في البيت وفي ايديهما القداح فقال رسول الله ﷺ:"ما لإبراهيم وللقداح والله ما استقسم بها قط"، ثم امر بثوب فبل ومحى به صورهما (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه الأزرقي ١/ ١٦٩، وقد ورد من حديث عكرمة عن ابن عباس مرفوعًا، أخرجه البخاري (١٦٠١).
حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے۔ بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تصاویر تھیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ابراہیم اور تیروں کا (آپس میں) کیا جوڑ ہے؟ بخدا! حضرت ابراہیم نے کبھی تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی نہیں کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لانے کا حکم دیا اور اس کو تر کر کے ان حضرات کی تصاویر کو مٹا دیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39680، ترقيم محمد عوامة 38063)
ترقیم عوامۃ: 38064 ترقیم الشثری: -- 39681
٣٩٦٨١ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) حماد بن (زيد) (٢) عن ⦗٤٩⦘ ايوب عن ابي الخليل عن مجاهد ان النبي ﷺ قدم يوم الفتح والانصاب بين الركن والمقام، فجعل يكفئها (لوجو) (٣) هها، ثم (قام) (٤) رسول الله ﷺ خطيبا فقال:"الا إن مكة حرام ابدا التي يوم القيامة، لم (تحل) (٥) لاحد قبلي، (ولا) (٦) (تحل) (٧) لاحد بعدي، غير انها احلت لي ساعة من النهار، لا يختلى خلاها، ولا ينفر صيدها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط لقطتها، إلا ان تعرف"، (فقام) (٨) العباس فقال: يا رسول الله (٩) إلا الإذخر (لصاغتنا) (١٠) (وبيوتنا وقبورنا) (١١) ، فقال:"إلا الإذخر، إلا الإذخر" (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (يزيد).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ي]: (قال).
(٥) في [ب]: (يحل).
(٦) في [أ]: (فلا).
(٧) في [ب]: (يحل).
(٨) في [ب]: (مقام).
(٩) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [أ، ب]: (لصاعتنا)، وفي [هـ]: (لصناعتنا).
(١١) في [ع]: (وقبورنا وبيوتنا).
(١٢) مرسل، مجاهد تابعي، وأخرجه مرسلًا البخاري (٤٣١٣)، وعبد الرزاق (٩١٨٩)، والفاكهي ٢/ ٢٤٨ (١٤٤٥)، وورد من طريق مجاهد عن ابن عباس، أخرجه الطحاوي ٢/ ٢٦٠، والأزرقي ٢/ ١٢٦، وابن جرير ١/ ٥٤٢، كما ورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٣٥٣).
حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ”خبردار! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لئے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لئے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لئے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لئے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ”(یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39681، ترقيم محمد عوامة 38064)
ترقیم عوامۃ: 38065 ترقیم الشثری: -- 39682
٣٩٦٨٢ - حدثنا شبابة بن سوار قال: (حدثنا) (١) ابن ابي ذئب عن عبد الرحمن ابن مهران عن (عمير) (٢) مولى ابن عباس عن اسامة بن زيد قال: دخلت مع النبي ⦗٥٠⦘ ﷺ الكعبة، فراى في البيت صورة فامرني فاتيته بدلو من ماء، فجعل يضرب تلك الصورة ويقول:"قاتل الله قوما يصورون ما لا يخلقون" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (عمر).
(٣) حسن؛ عبد الرحمن بن مهران صدوق؛ أخرجه الطيالسي (٦٢٣)، والروياني (٣٩)، والضياء (١٣٣٦)، والطحاوي ٤/ ٢٨٣، والبغوي في الجعديات (٢٨٢٠)، والطبراني (٤٠٧).
حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ میں داخل ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ڈول پانی لے کر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تصویروں پر پانی مارنا شروع فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا۔ اللہ پاک اس قوم کو ہلاک فرمائے جو ان چیزوں کی تصویر بناتی ہے جس کو وہ پیدا نہیں کرتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39682، ترقيم محمد عوامة 38065)
ترقیم عوامۃ: 38066 ترقیم الشثری: -- 39683
٣٩٦٨٣ - حدثنا علي بن مسهر ووكيع عن زكريا عن الشعبي عن الحارث بن مالك بن برصاء قال: قال رسول الله ﷺ يوم فتح مكة:"لا تغزى بعد اليوم (إلى) (١) يوم القيامة" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (إلا).
(٢) منقطع حكمًا؛ زكريا مدلس، أخرجه أحمد (١٥٤٠٤)، والترمذي (١٦١١)، والطبراني (٣٣٣٤)، والبيهقي ٩/ ٢١٤، وابن سعد ٥/ ١٤٢، وقد وصف الحديث بالاضطراب مع ما بعده.
حضرت حارث بن مالک بن برصاء سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ آج کے بعد قیامت کے دن تک (مکہ میں) لڑائی نہیں لڑی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39683]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39683، ترقيم محمد عوامة 38066)
ترقیم عوامۃ: 38067 ترقیم الشثری: -- 39684
٣٩٦٨٤ - حدثنا علي بن مسهر ووكيع عن زكريا عن الشعبي عن عبد الله بن مطيع عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:" (لا يقتل) (١) (قرشي) (٢) صبرا (بعد هذا اليوم (ابدا) ) (٣) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [جـ]: (أبدًا بعد هذا اليوم).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٢)، وأحمد (١٥٤٠٧).
حضرت عبد اللہ بن مطیع، اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ آج کے دن کے بعد ہمیشہ کے لئے (یہ حکم ہے کہ) کوئی قریشی قید کر کے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39684]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39684، ترقيم محمد عوامة 38067)
ترقیم عوامۃ: 38068 ترقیم الشثری: -- 39685
٣٩٦٨٥ - حدثنا احمد بن مفضل قال: (حدثنا) (١) اسباط بن نصر قال: زعم السدي عن مصعب بن سعد عن ابيه قال: لما كان يوم فتح مكة امن رسول الله ﷺ الناس إلا اربعة نفر وامراتين وقال:"اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين باستار الكعبة"، عكرمة بن ابي جهل، وعبد الله بن خطل، ومقيس بن صبابة، وعبد الله ابن سعد بن ابي سرح. ⦗٥١⦘ فاما عبد الله بن خطل فادرك وهو متعلق باستار الكعبة (فاستبق) (٢) إليه سعيد ابن (حريث) (٣) وعمار، فسبق سعيد عمارا، وكان (اشب) (٤) الرجلين فقتله. واما مقيس بن صبابة فادركه الناس في السوق فقتلوه. واما عكرمة فركب البحر فاصابتهم عاصف، فقال اصحاب (السفينة) (٥) لاهل السفينة: اخلصوا، فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا هاهنا، فقال عكرمة: والله لئن لم (ينجني) (٦) في البحر إلا الإخلاص ما ينجيني في البر [غيره اللهم (إن) (٧) لك عهدا إن انت عافيتني مما انا فيه اني آتي محمدا حتى اضع يدي في يده فلاجدنه عفوا كريما، قال: فجاء واسلم] (٨) . واما عبد الله بن سعد بن ابي سرح فإنه اختبا عند عثمان، فلما (دعا) (٩) رسول الله ﷺ (الناس) (١٠) (للبيعة) (١١) جاء به حتى اوقفه على النبي ﷺ فقال: يا رسول الله بايع عبد الله، قال: فرفع راسه فنظر إليه ثلاثا (كل) (١٢) ذلك يابى فبايعه بعد الثلاث، ثم اقبل على اصحابه فقال:" (اما) (١٣) كان فيكم رجل رشيد ⦗٥٢⦘ (يقوم) (١٤) إلى هذا حيث رآني كففت يدي عن (بيعته) (١٥) فيقتله"، قالوا: وما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك الا اومات إلينا بعينك؟ قال:"إنه لا ينبغي لنبي ان (تكون) (١٦) له خائنة اعين" (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (فاستيق).
(٣) في [ط]: (كريب).
(٤) في [أ، ب]: (أشبه).
(٥) في [س]: بياض.
(٦) في [أ، ق، هـ]: (ينجيني).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [ب]: (رعا)، وفي [س]: (دعى).
(١٠) سقط من: [جـ، ي].
(١١) في [أ، ب، س، ع، ي]: (إلى البيعة).
(١٢) في [أ، ب]: (أكل).
(١٣) في [هـ]: (ما).
(١٤) في [ب]: (القوم).
(١٥) في [ق، هـ]: (بيعة).
(١٦) في [ب]: (يكون).
(١٧) حسن؛ أحمد بن مفضل صدوق، وكذلك أسباط والسدي، أخرجه أبو داود (٢٦٨٣)، والنسائي (٣٥٣٠)، والحاكم ٣/ ٤٥، والبزار (١١٥١)، والطحاوي ٣/ ٣٣٠، وأبو يعلى (٧٥٧)، والدارقطني ٣/ ٥٩، والبيهقي ٨/ ٢٠٢، والضياء ٣/ (١٠٥٤)، وابن عبد البر في التمهيد ٦/ ١٧٥، وابن بشكوال ١/ ١٢٩.
حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام لوگوں کو امن دے دیا سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے، اور ارشاد فرمایا: تم لوگ ان کو اگرچہ کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا ہوا پاؤ ان کو تب بھی قتل کر ڈالو۔ (وہ یہ لوگ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبد اللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن ابی سرح، پھر عبد اللہ بن خطل کو تو اس حالت میں پایا گیا کہ وہ (واقعۃً) کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ تو اس کی طرف حضرت سعید بن حریث اور عمار (دونوں) لپکے لیکن حضرت سعید، حضرت عمار سے آگے بڑھ گئے اور یہ سعید، عمار سے زیادہ جوان تھے۔ اور انہوں نے ابن خطل کو قتل کردیا۔ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا لیا اور اس کو (وہیں) قتل کردیا اور رہا عکرمہ، تو سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوا تو ان (کشتی والوں) کو تیز آندھی نے آلیا۔ چناچہ کشتی والوں نے سواروں سے کہنا شروع کیا۔ (خدا کو) خالص طریقہ سے پکارو، کیونکہ تمہارے معبودان (باطلہ) یہاں پر تمہیں کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے۔ عکرمہ نے (دل میں) کہا۔ بخدا! اگر مجھے اس سمندر میں خالص طریقہ پر (خدا کو) پکارنا ہی نجات دے سکتا ہے تو پھر خشکی پر بھی یہی نجات دے سکتا ہے۔ اے اللہ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ اگر آپ مجھے اس موجودہ مصیبت سے عافیت عطا کریں گے تو میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں ضرور بالضرور ان کو معاف کرنے والا اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں: پس یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔ اور عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان، ان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! عبد اللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39685]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39685، ترقيم محمد عوامة 38068)
ترقیم عوامۃ: 38069 ترقیم الشثری: -- 39686
٣٩٦٨٦ - حدثنا شبابة (بن سوار) (١) قال: (حدثنا) (٢) مالك بن انس عن الزهري عن انس قال: دخل رسول الله ﷺ مكة عام الفتح وعلى راسه مغفر، فلما ان دخل نزعه فقيل له: يا رسول الله هذا ابن خطل متعلق باستار الكعبة فقال:"اقتلوه" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٤٦)، ومسلم (١٣٥٧).
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی خود اتار دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ ہے ابن خطل، کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو مار ڈالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39686]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39686، ترقيم محمد عوامة 38069)
ترقیم عوامۃ: 38070 ترقیم الشثری: -- 39687
٣٩٦٨٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن سليمان التيمي عن ابي عثمان ان ابا (برزة) (١) قتل ابن خطل وهو متعلق باستار الكعبة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (يرزة).
(٢) مجهول منقطع؛ أبو عثمان مجهول لم يثبت إدراكه للواقعة، أخرجه متصلًا أحمد (١٩٧٩٤)، وابن سعد ٤/ ٢٩٩.
حضرت ابو عثمان سے روایت ہے کہ حضرت ابو برزہ نے ابن خطل کو اس حالت میں قتل کیا کہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39687]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39687، ترقيم محمد عوامة 38070)
ترقیم عوامۃ: 38071 ترقیم الشثری: -- 39688
٣٩٦٨٨ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة (عن ثابت) (٢) عن ⦗٥٣⦘ انس ان ثمانين من اهل مكة هبطوا على رسول الله ﷺ من جبل التنعيم عند صلاة الفجر، فاخذهم رسول الله ﷺ سلما، فعفا عنهم ونزل القرآن: ﴿وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم (ببطن) (٣) (مكة) (٤) من بعد ان اظفركم عليهم﴾ [الفتح: ٢٤] (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) سقط من: [ع].
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٨)، وأحمد ٣/ ١٢٤ (١٢٢٧٦).
حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (٨٠) افراد، جبل تنعیم سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر (حملہ کے لئے) اُترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صحیح وسالم پکڑ لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی۔: اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا۔ جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39688]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39688، ترقيم محمد عوامة 38071)