مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38081 ترقیم الشثری: -- 39699
٣٩٦٩٩ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن هشام بن عروة عن ابيه ان بلالا اذن يوم الفتح فوق الكعبة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، أخرجه ابن عساكر ١٠/ ٤٦٦، وأبو داود في المراسيل (٢٣).
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال نے فتح مکہ کے دن بیت اللہ کی چھت پر اذان دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39699]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39699، ترقيم محمد عوامة 38081)
ترقیم عوامۃ: 38082 ترقیم الشثری: -- 39700
٣٩٧٠٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن (سعيد) (١) (عن سعيد) (٢) بن المسيب قال: (خرج) (٣) النبي ﷺ عام الفتح من المدينة بثمانية آلاف او عشرة آلاف (و) (٤) من اهل مكة بالفين (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (سعد).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [س]: (خرق).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، وأخرجه ابن سعد ٢/ ١٣٩، والفاكهي ٥/ (١٨٩).
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال مدینہ منورہ سے آٹھ ہزار، یا دس ہزار کے لشکر کے ہمراہ نکلے تھے۔ اور اہل مکہ میں سے دو ہزار لوگ تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39700]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39700، ترقيم محمد عوامة 38082)
ترقیم عوامۃ: 38083 ترقیم الشثری: -- 39701
٣٩٧٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن ابي هند عن ابي مرة مولى عقيل بن ابي طالب عن ام هانئ بنت ابي طالب قالت: لما افتتح رسول الله ﷺ مكة (فر) (١) إلي رجلان من احمائي من بني مخزوم، قالت: فخباتهما في بيتي، فدخل علي اخي علي بن ابي طالب فقال: (لاقتلنهما) (٢) ، قالت: فاغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول الله ﷺ (باعلى) (٣) مكة وهو يغتسل في (جفنة) (٤) إن فيها اثر العجين، وفاطمة ابنته تستره، فلما فرغ رسول الله ﷺ من غسله اخذ ثوبا فتوشح به ثم صلى ثماني ركعات من الضحى، ثم اقبل فقال:"مرحبا واهلا بام هانئ، ما جاء بك؟" (قالت) (٥) : قلت: يا نبي الله فر إلي رجلان من احمائي، فدخل علي علي بن ابي طالب فزعم انه قاتلهما، فقال:"لا، قد ⦗٦٠⦘ (اجرنا من اجرت) (٦) يا ام هانئ، وامنا من امنت" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فرا).
(٢) في [أ، ب]: (لأقبلتهما).
(٣) في [ب]: (على).
(٤) في [س]: (في جفنته).
(٥) في [أ، ب]: (قال).
(٦) في [أ، ب]: (أخرنا من أخرت).
(٧) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح بالسماع عند الطبراني ٢٤/ (١٠٢١)، والطحاوي ٣/ ٣٢٣، وابن بشكوال ١/ ٦٤٢، وأخرجه البخاري (٣٥٠)، ومسلم (٣٣٦)، وأحمد (٢٦٨٩٢).
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میرے سسرال بنو مخزوم میں سے دو آدمی میری طرف بھاگ کر آگئے۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ پس میں نے انہیں اپنے گھروں میں چھپا دیا۔ پھر میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے ہاں آئے اور کہنے لگے، میں ضرور بالضرور ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ میں نے ان دونوں آدمیوں کو (کمرہ میں داخل کر کے) دروازہ بند کردیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے بالائی مقام پر حاضر ہوئی تب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹب میں غسل فرما رہے تھے۔ جس میں گوندھے آٹے کے اثرات تھے اور حضرت فاطمہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پردہ کیے ہوئے تھی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے پکڑے اور زیب تن فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا: ام ہانی! مرحبا خوش آمدید۔ کس غرض سے آئی ہو۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے سسرالی رشتہ داروں میں سے دو بندے (پناہ کے لئے) میری طرف بھاگ کر آئے ہیں اور پھر علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے پاس آگئے اور اب علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ان دونوں کو قتل کرنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ نہیں! یقین کرو۔ اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی ا س کو پناہ دی اور جس کو تم نے امن دیا ہے اس کو ہم نے بھی امن دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39701]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39701، ترقيم محمد عوامة 38083)
ترقیم عوامۃ: 38084 ترقیم الشثری: -- 39702
٣٩٧٠٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابي البختري عن ابي سعيد الخدري عن رسول الله ﷺ انه قال: لما (نزلت) (١) هذه السورة: ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ [النصر: ١] قال: قراها رسول الله ﷺ (حتى ختمها) (٢) وقال:"الناس (حيز) (٣) ، وانا واصحابى (حيز) (٤) "، وقال:"لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية"، فقال له مروان: كذبت وعنده زيد بن ثابت ورافع بن خديج وهما قاعدان (معه) (٥) على السرير، فقال ابو سعيد: لو شاء هذان لحدثاك، ولكن هذا يخاف ان تنزعه عن [ (عرافة) (٦) قومه، وهذا (يخشى) (٧) ان تنزعه عن] (٨) الصدقة، فسكتا، فرفع مروان الدرة ليضربه، فلما رايا ذلك قالا: صدق (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (نزل)، وفي [ع]: (أنزلت).
(٢) سقط من: [أ، ب]، وفي [ق]: (في أتمها).
(٣) في [ب، س]: (خير).
(٤) أي: في ناحية من الفضل، وفي [ب، س]: (خير).
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٦) في [ع]: (عراقة).
(٧) في [جـ، ع]: (يخشا).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٩) منقطع؛ أبو البختري لا يروي عن أبي سعيد، أخرجه أحمد (١١١٦٧)، والطيالسي (٦٠٢)، والحاكم ٢/ ٢٥٧، والبيهقي في الدلائل ٥/ ١٠٩، والطبراني (٤٤٤٤)، والقضاعي في مسند الشهاب (٨٤٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٦٢٩)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٨٤.
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سورة اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح۔ نازل ہوئی۔ مکمل تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ اور پھر ارشاد فرمایا۔ ایک جہت میں (بعد والے) لوگ ہیں اور ایک جہت میں میں اور میرے صحابہ (پہلے ایمان لانے والے) ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نبوت باقی ہے۔ مروان نے حضرت ابو سعید خدری سے کہا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ (اس وقت) مروان کے پاس زید بن ثابت اور رافع بن خدیج موجود تھے اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا: اگر یہ دونوں چاہتے تو یہ بھی تمہیں (یہ) حدیث بیان کرتے لیکن (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ تم اس کو اپنی قوم کی طرف سے نکال دو گے اور (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے تم اس کو صدقہ سے نکال دو گے۔ لیکن یہ دونوں حضرات خاموش رہے کہ اسی دوران مروان نے درہ بلند کیا تاکہ ابو سعید کو مارے۔ پس جب ان دونوں حضرات نے یہ دیکھا تو دونوں نے فرمایا۔ ابوسعید نے سچ بات بتائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39702، ترقيم محمد عوامة 38084)
ترقیم عوامۃ: 38085 ترقیم الشثری: -- 39703
٣٩٧٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن طاوس عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية، وإذا استنفرتم فانفروا" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٣٥٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت (کاثواب) باقی نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے پس جب تم سے نکلنے کو کہا جائے تو تم (راہِ خدا میں) نکلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39703، ترقيم محمد عوامة 38085)
ترقیم عوامۃ: 38086 ترقیم الشثری: -- 39704
٣٩٧٠٤ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن عبيد الله بن ابي زياد عن ام يحيى بنت يعلى عن ابيها (قال) (١) : جئت بابي يوم فتح مكة فقلت: يا رسول الله هذا يبايعك على الهجرة، فقال:"لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ي]: (قالت).
(٢) مجهول؛ لجهالة أم يحيى، أخرجه أحمد (١٧٩٥٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٧٣)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٦٢١)، والنسائي ٧/ ١٤٥، وابن حبان (٤٨٦٤)، والحاكم ٣/ ٤٢٣، والبيهقي ٩/ ١٦، والطبراني ٢٢/ (٦٦٤)، وسيأتي ١٤/ ٥٠٤ برقم [٣٩٧٢٠].
حضرت ام یحییٰ بنت یعلیٰ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں اپنے والد کو لے کر فتح مکہ والے دن حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39704]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39704، ترقيم محمد عوامة 38086)
ترقیم عوامۃ: 38087 ترقیم الشثری: -- 39705
٣٩٧٠٥ - [حدثنا ابن نمير عن عبد الله (بن) (١) حبيب بن ابي ثابت عن ابن ابي حسين عن عطاء عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية"] (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) سقط الحديث من: [س].
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٦٤)، وأصله عند البخاري (٢٩١٤).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39705]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39705، ترقيم محمد عوامة 38087)
ترقیم عوامۃ: 38088 ترقیم الشثری: -- 39706
٣٩٧٠٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم عن ابي عثمان عن مجاشع بن مسعود قال: اتيت النبي ﷺ انا واخي قال: فقلت: يا رسول الله، (بايعنا) (١) على الهجرة، (فقال) (٢) :"مضت الهجرة لاهلها"، (فقلت) (٣) : (علام) (٤) نبايعك يا ⦗٦٢⦘ رسول الله؟ قال:"على الإسلام والجهاد"، (قال) (٥) : فلقيت اخاه فسالته، فقال: صدق مجاشع (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ق]: (بايعني).
(٢) في [ب]: (فقالت).
(٣) في [أ، ب]: (فقال).
(٤) في [س، ع]: (على ما).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٦٢)، ومسلم (١٨٦٣).
حضرت مجاشع بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ہم سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہجرت تو اہل ہجرت کے لئے ختم ہوگئی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام اور جہاد پر۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں میں مجاشع کے بھائی سے ملا اور میں نے اس سے پوچھا: انہوں نے جواب دیا: مجاشع نے سچ بات بتائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39706]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39706، ترقيم محمد عوامة 38088)
ترقیم عوامۃ: 38089 ترقیم الشثری: -- 39707
٣٩٧٠٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس ان النبي ﷺ صام عام الفتح حتى بلغ الكديد ثم افطر، (وإنما) (١) يؤخذ بالآخر من فعل رسول الله ﷺ (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وأنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٥٣)، ومسلم (١١١٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کے سال روزہ رکھا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام کدید میں پہنچے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطار کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال میں سے تو آخری عمل کو ہی لیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39707]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39707، ترقيم محمد عوامة 38089)
ترقیم عوامۃ: 38090 ترقیم الشثری: -- 39708
٣٩٧٠٨ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس ان النبي ﷺ اقام حيث فتح مكة خمس (عشرة) (١) يقصر الصلاة حتى سار إلى حنين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عشر).
(٢) منقطع حكمًا وفيه علة؛ ابن إسحاق مدلس، وقال أبو داود: "روى هذا الحديث عبدة بن سليمان وأحمد بن خالد الوهبي وسلمة بن الفضل عن ابن إسحاق ولم يذكروا فيه ابن عباس"، وقال البيهقي: "لا أراه محفوظا"، وأخرجه أبو داود (١٢٣١)، وابن ماجه (١٠٧٦)، والنسائي ٣/ ١٢١، والبيهقي ٣/ ١٥١، والطحاوي ٢/ ٤١٧، وابن سعد ٢/ ١٤٣، وابن عبد البر في الاستذكار ٢/ ٢٤٨، وأصله عند البخاري (٤٢٩٨).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ روز قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز قصر پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی طرف روانگی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39708]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39708، ترقيم محمد عوامة 38090)