مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38072 ترقیم الشثری: -- 39689
٣٩٦٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح عن مجاهد قال: قالت ام هانئ: قدم النبي ﷺ مكة وله اربع غدائر تعني ضفائر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ مجاهد لم يدرك أم هاني، أخرجه أحمد (٢٦٨٩٠)، وأبو داود (٤١٩١)، والترمذي (١٧٨١)، وابن ماجه (٣٦٣١)، وابن سعد ١/ ٤٢٩، والفاكهي في أخبار مكة (١٩٢١)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ١٥، والطبراني ٢٤/ (١٠٤٩)، والخطيب في التاريخ ١٠/ ٤٣٩، والبيهقي في دلائل النبوة (٢٢٤٨).
حضرت مجاہد روایت کرتے ہیں کہ ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر چار چوٹیاں تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39689]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39689، ترقيم محمد عوامة 38072)
ترقیم عوامۃ: 38073 ترقیم الشثری: -- 39690
٣٩٦٩٠ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن ابي الزبير عن جابر ان النبي ﷺ دخل مكة وعليه عمامة سوداء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٣٥٨)، وأحمد (١٤٩٠٤).
حضرت جابر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں اس حالت میں اندر داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ عمامہ تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39690، ترقيم محمد عوامة 38073)
ترقیم عوامۃ: 38074 ترقیم الشثری: -- 39691
٣٩٦٩١ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة (عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر -وعن اخيه عبد الله بن عبيدة-) (٢) ان رسول الله ﷺ دخل مكة حين دخلها وهو (معتجر) (٣) بشقة برد اسود، فطاف على راحلته القصواء ⦗٥٤⦘ في يده محجن يستلم به الاركان، قال: قال ابن عمر: فما وجدنا لها مناخا (في) (٤) المسجد حتى نزل على ايدي الرجال، ثم خرج بها حتى (انيخت) (٥) في الوادي، ثم خطب الناس على (رجليه) (٦) فحمد الله واثنى عليه بما هو (له) (٧) اهل، ثم قال:"ايها الناس إن الله قد وضع عنكم عبية الجاهلية وتعظمها (بآبائها) (٨) الناس [رجلان، (فبر) (٩) تقي كريم على الله، وكافر شقي هين على الله، ايها الناس] (١٠) إن الله يقول: ﴿ياايها الناس إنا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن اكرمكم عند الله (اتقاكم) (١١) إن الله عليم خبير﴾ [الحجرات: ١٣] اقول هذا واستغفر الله لي ولكم"، قال: ثم عدل إلى جانب المسجد فاتي بدلو من ماء زمزم فغسل منها وجهه، (ما) (١٢) (تقع) (١٣) منه قطرة إلا في يد إنسان، إن كانت قدر ما يحسوها حساها، وإلا مسح بها، والمشركون ينظرون، فقالوا: ما راينا ملكا قط اعظم من اليوم، ولا قوما احمق من اليوم، ثم امر بلالا فرقي على ظهر الكعبة، فاذن بالصلاة، وقام المسلمون (فتجردوا) (١٤) في الازر، واخذوا الدلاء وارتجزوا على زمزم يغسلون الكعبة ظهرها ⦗٥٥⦘ وبطنها، فلم يدعوا اثرا من المشركين إلا محوه او غسلوه (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (معتمر).
(٤) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ: (وفي).
(٥) في [ب]: (نيخت).
(٦) في [س]: (راحلته).
(٧) سقط من: [ب].
(٨) في [أ، ب]: (يا بالها).
(٩) في [أ، ب]: (فير).
(١٠) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١١) في [ع]: (أثقاكم).
(١٢) في [أ، ب]: (ماءً).
(١٣) في [ب، ع، ي]: (يقع).
(١٤) في [أ، ب]: (وتجردوا).
(١٥) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي (٣٢٧٠)، وابن ماجه (٣٥٨٦)، والخطيب ٦/ ٢٣، وعبد بن حميد (٧٩٥)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٧٢)، والفاكهي (٤٥٩)، وابن أبي حاتم (١٨٦٢٢).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے لئے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا: ٢۔ اے لوگو! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگوں! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔: اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر و ہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے۔ تو وہ کہنے لگے۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔ ٤۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چناچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے نماز کے لئے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انہوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انہوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39691، ترقيم محمد عوامة 38074)
ترقیم عوامۃ: 38075 ترقیم الشثری: -- 39692
٣٩٦٩٢ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي ومحمد بن المنكدر قالا: (وكان) (٢) بها يومئذ ستون وثلاثمائة وثن على الصفا، وعلى المروة صنم، وما بينهما محفوف بالاوثان، والكعبة قد احيطت بالاوثان؛ قال (٣) محمد بن المنكدر: فقام رسول الله ﷺ ومعه قضيب يشير به إلى الاوثان، فما هو إلا ان يشير إلى شيء منها (فيتساقط) (٤) حتى اتى اسافا ونائلة وهما قدام المقام مستقبل باب الكعبة فقال: (عفروهما) (٥) ، فالقاهما المسلمون، قال:"قولوا"، قالوا: ما نقول يا رسول الله؟ قال:"قولوا: صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (وكانا).
(٣) هكذا في [هـ]، وفي بقية النسخ زيادة: (قال).
(٤) في [أ، ب]: (فتساقط)، وفي [س، ي]: (فتتساقط).
(٥) في [ق]: (غفروهما).
(٦) مرسل ضعيف؛ يعقوب وابن المنكدر تابعيان، وموسى بن عبيدة ضعيف.
حضرت یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اور محمد بن منکدر روایت کرتے ہیں کہ اس دن (فتح مکہ کے دن) کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ صفا اور مروہ پر بھی ایک بت تھا ان کے درمیان (کی جگہ تو) بتوں سے اٹی ہوئی تھی اور کعبہ کے گرد بھی بتوں کا احاطہ تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ محمد ابن المنکدر کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ان بتوں میں سے جس بت کی طرف بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ فرماتے وہ بت گر جاتا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اساف اور نائلہ (نامی) بت کے پاس پہنچے یہ دونوں کعبہ کے سامنے مقام کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو خاک میں ملا دو۔ چناچہ مسلمانوں نے ان دونوں بتوں کے نیچے گرا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو، صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہو: اللہ کا وعدہ سچا ثابت ہوا اور اس نے اپنے بندہ کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39692، ترقيم محمد عوامة 38075)
ترقیم عوامۃ: 38076 ترقیم الشثری: -- 39693
٣٩٦٩٣ - حدثنا الحسن بن موسى قال: (حدثنا) (١) شيبان عن يحيى قال: اخبرني ابو سلمة ان ابا هريرة اخبره ان خزاعة قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فاخبر بذلك رسول الله ﷺ فركب راحلته فخطب فقال:"إن الله حبس عن مكة الفيل، وسلط عليها رسوله (والمؤمنين) (٢) (الا وإنها لم تحل لاحد ⦗٥٦⦘ كان قبلي ولا تحل لاحد كان بعدي) (٣) ، الا وإنها احلت لي ساعة من النهار، الا وإنها ساعتي هذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط ساقطتها، إلا منشد ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين: إما ان يقتل وإما ان يفادي اهل القتيل". قال: فجاء رجل يقال له: ابو (شاه) (٤) فقال: اكتب لي يا رسول الله، قال:"اكتبوا لابي شاه"، فقال رجل من قريش: إلا الإذخر -يا رسول الله- فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا فقال (رسول الله ﷺ) (٥) :"إلا الإذخر" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (والمؤمنون).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، ق، هـ].
(٤) في [ب]: (نسياه).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٢)، ومسلم (١٣٥٥).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنو لیث کے ایک آدمی کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کیا جس کو بنو لیث نے (کبھی) قتل کیا تھا۔ اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں والوں سے محفوظ رکھا اور مکہ پر اپنے رسول اور اہل ایمان کو (لڑائی کے لئے) مسلط فرمایا۔ خبردار! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ خبردار! میرے لئے بھی یہ مکہ دن کی ایک گھڑی (ہی) کے لیے حلال کیا گیا تھا خبردار! میری اس گھڑی میں مکہ حرام ہے۔ اس کا کانٹا بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے درخت کو بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز کو نہیں اٹھائے گا مگر تعریف کرنے والا۔ اور جس کا کوئی قتل کیا گیا ہو تو اس کو دو چیزوں میں اختیار ہے۔ یا تو وہ بھی قتل ہو اور یا اہل مقتول کو فدیہ دے دے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک صاحب، ابو شاہ نامی، حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے (یہ بات) لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا۔ ابو شاہ کو (یہ بات) لکھ دو۔ پھر قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39693، ترقيم محمد عوامة 38076)
ترقیم عوامۃ: 38077 ترقیم الشثری: -- 39694
٣٩٦٩٤ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) مسعر عن (عمرو) (٢) بن مرة عن الزهري قال: قال رجل من بني (الديل) (٣) بن بكر: لوددت اني رايت رسول الله ﷺ وسمعت منه فقال (لرجل) (٤) : انطلق معي، فقال: إني اخاف ان (تقتلني) (٥) خزاعة، فلم يزل به حتى انطلق، فلقيه رجل من خزاعة (فعرفه) (٦) فضرب بطنه بالسيف، قال: قد اخبرتك انهم سيقتلونني، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فقام فحمد الله واثنى عليه، ثم قال:"إن الله (هو) (٧) حرم مكة ليس الناس حرموها، وإنما ⦗٥٧⦘ احلت لي ساعة من نهار وهي بعد حرم، وإن اعدى الناس على الله ثلاثة: من قتل (فيها) (٨) ، او قتل غير (قاتل) (٩) ، او طلب (بذحول) (١٠) الجاهلية، فلادين (هذا) (١١) الرجل" (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (عامر)، وفي [ق، هـ]: (عمر).
(٣) في [ق]: (وائل)، وفي [هـ]: (الدئل).
(٤) في [ب]: (الرجل).
(٥) في [ب]: (يقتلني).
(٦) في [أ، ب]: (فعرف).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) في [ي]: (منها).
(٩) في [جـ، ع، ق، ي]: (قاتله).
(١٠) في [أ، ب، س، ط]: (بدخول).
(١١) في [أ، ب]: (فهذا).
(١٢) مرسل؛ الزهري تابعي، ومراسيله من أضعف المراسيل.
حضرت زہری روایت بیان کرتے ہیں کہ بنو دؤل بن بکرکے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ ارشادات سنوں۔ چناچہ اس نے ایک آدمی سے کہا۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس آدمی نے کہا۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں بنو خزاعہ کے لوگ مجھے قتل نہ کردیں۔ (بہر حال) یہ اس کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی اس کو ملا اور اس نے اس کو پہچان لیا اور اس نے اس کے پیٹ میں تلوار ماری۔ اس مقتول نے کہا۔ میں نے تمہیں (پہلے) خبر دی تھی کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے۔ پھر یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (خود) مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے مکہ کو حرم نہیں بنایا۔ یہ مکہ تو میرے لئے دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا تھا اور اس کے بعد ابھی تک حرام ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے تین لوگ ہیں۔ وہ آدمی جو مکہ میں قتل کرے۔ وہ آدمی جو غیر قاتل کو قتل کرے۔ وہ آدمی جو جاہلیت کے انتقام مانگے۔ پس البتہ میں (خود) اس آدمی کی دیت دوں گا۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39694، ترقيم محمد عوامة 38077)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39695
٣٩٦٩٥ - قال عمرو بن مرة: (فحدثت) (١) بهذا الحديث سعيد بن المسيب فقلت: اعدى الله فقال: (اعدى) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حدثت).
(٢) في [أ، ع]: (أعدا)، وفي [ب]: (أعد).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39695، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38078 ترقیم الشثری: -- 39696
٣٩٦٩٦ - حدثنا يحيى بن آدم عن بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ عام الفتح لما جاءه العباس بن عبد المطلب بابي سفيان فاسلم بمر الظهران، فقال له العباس: يا رسول الله، إن ابا سفيان (١) يحب هذا الفخر، فلو جعلت له شيئا، قال:"نعم، من دخل دار ابي (سفيان) (٢) فهو آمن، ومن اغلق بابه فهوم آمن" (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (رجل).
(٢) سقط من: [ي].
(٣) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أبو داود (٣٠٢١)، م وابن أبي عاصم في الآحاد (٤٨٦)، والبيهقي ٩/ ١١٨، وابن عساكر ٢٣/ ٤٤٧، وابن عبد البر في الاستذكار ٥/ ١٥٢، وورد من طريق ابن إسحاق، قال: أخبرني حسين بن عبد اللَّه عن عكرمة عن ابن عباس، أخرجه البزار (١٢٩٢)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٣٢، وابن عساكر ٢٣/ ٤٤٨.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کے سال حضرت عباس بن عبد المطلب ابو سفیان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابو سفیان نے مقام مرالظہران میں اسلام قبول کیا تو حضرت عباس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ابو سفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لئے کوئی ایسی (فخریہ) چیز مقرر فرما دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ مامون ہوگا اور جو کوئی شخص اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی مامون ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39696، ترقيم محمد عوامة 38078)
ترقیم عوامۃ: 38079 ترقیم الشثری: -- 39697
٣٩٦٩٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن (١) ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"هذه (٢) (حرم) (٣) - (يعني مكة) (٤) - حرمها الله يوم خلق السماوات والارض، ووضع هذين (الاخشبين) (٥) ، (لم) (٦) تحل لاحد قبلي ولا تحل لاحد بعدي، ولم تحل لي إلا ساعة من (النهار) (٧) ، لا (يعضد) (٨) شوكها، ولا ينفر صيدها، ولا (يختلى) (٩) (خلاها) (١٠) ، ولا (يرفع) (١١) لقطتها إلا (منشد) (١٢) "، فقال العباس: يا رسول الله إن اهل مكة لا صبر لهم عن الاذخر لقينهم ولبنيانهم، فقال رسول الله ﷺ:"إلا الإذخر" (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (طاوس عن).
(٢) في [جـ، ي]: زيادة (مكة).
(٣) في [ع]: (حرام)، وسقط من: [جـ].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ب]: (الأخشين).
(٦) في [هـ]: (لا).
(٧) في [أ، ب]: (نهار)، وفي [أ]: (نها).
(٨) هكذا في: [هـ]، وفي بقية النسخ: (يحصد).
(٩) في [ع]: (يختلا).
(١٠) في [ع]: (خلاوها).
(١١) في [أ، ب، ق]: (ترفع).
(١٢) في [ع]: (المنشذ).
(١٣) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن جرير ١/ ٥٤٢، والدارقطني ٤/ ٢٣٥، والأزرقي ٢/ ١٢٦، والطحاوي ٢/ ٢٦٠، وورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٢٥٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مقام حرم ہے یعنی مکہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا تھا اسی دن سے اس کو حرمت بخشی تھی۔ یہ زمین مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلا ل نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگی۔ اور میرے لئے بھی محض دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی ہے۔ اس کے کانٹے کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بدکایا جائے گا۔ اور اس کے گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کے گمشدہ مال کو اٹھایا جائے گا لیکن تعریف کرنے والے کو اٹھانا درست ہے۔ حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اہل مکہ کو اذخر گھاس سے رکنا مشکل ہے کیونکہ وہ اپنی بنیادوں اور لوہے کے کام میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39697، ترقيم محمد عوامة 38079)
ترقیم عوامۃ: 38080 ترقیم الشثری: -- 39698
٣٩٦٩٨ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن ابن ابي مليكة قال: لما فتحت مكة صعد بلال البيت فاذن، فقال صفوان بن امية للحارث بن هشام: الا ترى إلى هذا العبد؟ فقال الحارث: إن يكرهه الله يغيره (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ ابن أبي ملكية تابعي، أخرجه الأزرقي ١/ ٢٧٤.
حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت بلال حبشی بیت اللہ کی چھت پر چڑھ گئے اور اذان دی۔ تو صفوان بن امیہ نے حارث بن ہشام سے کہا۔ کیا تم یہ غلام نہیں دیکھ رہے؟ حارث نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ کو یہ ناپسند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کردیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39698]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39698، ترقيم محمد عوامة 38080)