مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
ترقیم عوامۃ: 38091 ترقیم الشثری: -- 39709
٣٩٧٠٩ - حدثنا إسحاق بن منصور عن الحكم بن عبد الملك عن قتادة عن انس قال: لما دخل رسول الله ﷺ مكة يوم فتح مكة امن الناس إلا اربعة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال الحكم بن عبد الملك، أخرجه الدارقطني ٤/ ١٦٧، والطبراني في الأوسط (٦٥٧٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ٦٠، وابن النحاس في الناسخ والمنسوخ ١/ ١١٢، وابن بشكوال ١/ ١٢٩، وابن عساكر ٢٩/ ٢٩.
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار افراد کے سوا بقیہ تمام لوگوں کو امن عطا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39709]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39709، ترقيم محمد عوامة 38091)
ترقیم عوامۃ: 38092 ترقیم الشثری: -- 39710
٣٩٧١٠ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) همام قال: (حدثنا) (٢) قتادة عن انس قال: انزلت على النبي ﷺ: ﴿إنا فتحنا لك فتحا مبينا﴾ [الفتح: ١] (إلى) (٣) (آخر) (٤) الآية مرجعه من الحديبية، واصحابه مخالطو الحزن (والكآبة) (٥) ، (قال) (٦) :"نزلت (علي) (٧) (آية) (٨) هي احب إلي من الدنيا وما فيها جميعا"، فلما تلاها رسول الله ﷺ قال رجل من القوم: هنيئا مريئا قد بين الله ما يفعل بك، فماذا يفعل بنا؟ فانزل الله الآية التي بعدها: ﴿ليدخل (٩) المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الانهار﴾ [الفتح: ٥] حتى ختم الآية (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) سقط من: [س].
(٤) سقط من: [س].
(٥) في [س]: (والكاتبة).
(٦) في [ع]: (فقال).
(٧) في [أ، ب]: (عليه).
(٨) في [س]: (أتيه).
(٩) في [أ، ب]: زيادة (اللَّه).
(١٠) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٨٣٤)، ومسلم (١٨٠٨).
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب صلح حدیبیہ سے واپسی پر آیات {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آخر تک، نازل ہوئیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غم اور شکستگی کی ملی جلی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ تو آپ کے ساتھ کیا جائے گا۔ آپ اس کو خوشگواری اور مزہ سے پائیں لیکن ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات پر اگلی آیت نازل فرمائی: تاکہ وہ مؤمن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ آخر آیت تک۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39710، ترقيم محمد عوامة 38092)
ترقیم عوامۃ: 38093 ترقیم الشثری: -- 39711
٣٩٧١١ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: (حدثنا) (١) مكحول ان رسول الله ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن (٢) (بالشرر يرمونه) (٣) فقال جبرائيل: تعوذ يا محمد، فتعوذ بهؤلاء الكلمات فدحروا عنه، ⦗٦٤⦘ فقال:"اعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما نزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الارض وما يخرج منها، ومن شر (٤) (الليل) (٥) والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارق يطرق بخير يا رحمن" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (يرمنه).
(٣) في [جـ]: (بالشرور)، وفي [ع]: (يرمونه بالشرر).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (ما يخرج).
(٥) في [أ، ب]: (بالليل).
(٦) مرسل؛ مكحول تابعي، والأكثر على أن الصواب أن عبد الرحمن هو ابن تميم لا ابن جابر.
حضرت مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شراروں کے ساتھ ہدف بنایا تو حضرت جبرائیل نے فرمایا: اے محمد! پناہ حاصل کیجئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کلمات کے ذریعہ سے پناہ پکڑی پس ان جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے آگے کوئی نیک و بد نہیں جاسکتا۔ ہر اس بُری چیز سے جو آسمان سے نازل ہو اور آسمان کی طرف اوپر چڑھے اور ہر اس شر سے جو زمین میں پھیلے اور ہر اس شر سے جو زمین سے نکلے اور رات، دن کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس رات کے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے۔ اے رحمن۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39711]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39711، ترقيم محمد عوامة 38093)
ترقیم عوامۃ: 38094 ترقیم الشثری: -- 39712
٣٩٧١٢ - حدثنا ابو اسامة عن زكريا عن ابي إسحاق عن (عبد الله) (١) بن حبيب قال: مر خالد بن الوليد على اللات فقال: كفرانك لا سبحانك … إني رايت الله قد اهانك (٢)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عبيد اللَّه).
(٢) مرسل؛ عبد اللَّه بن حبيب أبو عبد الرحمن السلمي تابعي، أخرجه الطبراني (٣٨١١).
حضرت عبد اللہ بن حبیب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن ولید لات پر سے گزرے تو فرمایا: اے کافروں کے بت! تیری کوئی قدر نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39712]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39712، ترقيم محمد عوامة 38094)
ترقیم عوامۃ: 38095 ترقیم الشثری: -- 39713
٣٩٧١٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) يونس بن (ابي) (٢) إسحاق عن ابي السفر قال: لما دخل رسول الله ﷺ مكة دعا شيبة بن عثمان بالمفتاح مفتاح الكعبة، فتلكا فقال لعمر: قم فاذهب معه، فإن جاء بها وإلا فاجلد راسه، قال: فجاء بها، قال: فاجالها في حجره وشيبة قائم، قال: فبكى شيبة، فقال (له) (٣) رسول الله ﷺ:"هاك فخذها، فإن الله قد رضي لكم بها في الجاهلية والإسلام" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ق، هـ].
(٤) مرسل؛ أبو السفر سعيد بن يحمد تابعي.
حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ بن عثمان (صحیح قول کے مطابق یہ نام عثمان بن طلحہ ہے) کو پیغام بھیجا کہ کعبہ کی چابی لے آئیں۔ پھر آپ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ان کے ساتھ جاؤ، اگر وہ چابی لے آئیں تو ٹھیک ورنہ انہیں مار ڈالنا۔ وہ چابی لے آئے۔ آپ نے چابی لے لی تو شیبہ رونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چابی لے لو، اللہ تعالیٰ جاہلیت اور اسلام میں تمہارے پاس اس چابی کے ہونے سے خوش ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39713]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39713، ترقيم محمد عوامة 38095)
ترقیم عوامۃ: 38096 ترقیم الشثری: -- 39714
٣٩٧١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابي السوداء عن ابن سابط ان النبي ﷺ ناول عثمان بن طلحة المفتاح من وراء الثوب (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ ابن سابط تابعي.
حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ کو (بیت اللہ کی) چابی پردے کے پیچھے سے عطا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39714]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39714، ترقيم محمد عوامة 38096)
ترقیم عوامۃ: 38097 ترقیم الشثری: -- 39715
٣٩٧١٥ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: (حدثنا) (١) محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن (عتبة) (٢) عن ابن عباس قال: خرج رسول الله ﷺ عام الفتح لعشر مضت من رمضان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ب]: (عقبة).
(٣) حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث عند أحمد، وأخرجه أحمد (٢٨٨٢)، وأصله عند البخاري (٢٩٥٣)، ومسلم (١١١٣).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان کے دس دن گزرنے کے بعد (سفر مکہ پر) نکلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39715]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39715، ترقيم محمد عوامة 38097)
ترقیم عوامۃ: 38098 ترقیم الشثری: -- 39716
٣٩٧١٦ - حدثنا حفص عن جعفر عن ابيه ان النبي ﷺ امر ان تطمس التماثيل التي حول الكعبة يوم فتح مكة (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ أبو جعفر تابعي.
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم فرمایا کہ جو تصاویر کعبہ کے گرد موجود ہیں ان کو مٹا دیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39716]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39716، ترقيم محمد عوامة 38098)
ترقیم عوامۃ: 38099 ترقیم الشثری: -- 39717
٣٩٧١٧ - حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن هشام عن ابيه ان النبي ﷺ اعتمر عام الفتح من الجعرانة، فلما فرغ من عمرته استخلف ابا بكر على مكة وامره ان يعلم الناس المناسك، وان يؤذن في الناس:"من حج العام فهو آمن، ولا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت (عريان) (٢) " (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (سلمان).
(٢) في [أ، ب]: (عريانًا).
(٣) مرسل؛ عروة تابعي.
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو مکہ پر خلیفہ بنادیا اور انہیں یہ حکم دیا کہ لوگوں کو افعال حج کی تعلیم دیں۔ اور یہ کہ وہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردیں کہ جو شخص اس سال بیت اللہ کا حج کرے گا وہ امن پا جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کرسکے گا۔ اور نہ ہی بیت اللہ کا ننگا طواف کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39717]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39717، ترقيم محمد عوامة 38099)
ترقیم عوامۃ: 38100 ترقیم الشثری: -- 39718
٣٩٧١٨ - حدثنا ابو اسامة (قال: حدثني) (١) (عبد) (٢) الحميد بن جعفر عن ⦗٦٦⦘ يزيد بن ابي حبيب عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ عام الفتح يقول:"إن الله ورسوله حرما بيع الخمر والخنازير والميتة والاصنام"، قال: فقال رجل: يا رسول الله ما ترى في شحوم الميتة فإنها تدهن بها السفن والجلود (ويستصبح) (٣) بها؟ قال:"قاتل الله اليهود إن الله لما حرم عليهم شحومها اخذوها فجملوها ثم باعوها واكلوا اثمانها" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [ع]: (بعد).
(٣) في [أ، ب]: (ونصطبح).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٣٦)، ومسلم (١٥٨١).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتح مکہ کے سال یہ بات سُنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، خنزیروں، مردار اور بتوں کو حرام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیونکہ ان کے ذریعہ سے تو کشتیوں کو تیل ملا جاتا ہے اور کھالوں کو بھی۔ اور ان کے ذریعہ سے چراغ روشن کیے جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر (مردار کی) چربیوں کو حرام کیا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر پگھلا لیا اور پھر اس کو بیچ کر اس کا ثمن (آمدنی) کھالیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39718، ترقيم محمد عوامة 38100)