🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. (حديث فتح مكة)
فتح مکہ کی احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38101 ترقیم الشثری: -- 39719
٣٩٧١٩ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) اسامة بن زيد عن الزهري عن عبد الرحمن بن الازهر قال: رايت رسول الله ﷺ عام الفتح وانا غلام (شاب) (٢) يسال عن منزل خالد بن الوليد، (واتي) (٣) بشارب فضربوه بما في ايديهم، فمنهم من ضرب بالسوط وبالنعل وبالعصى، (وحثا) (٤) عليه النبي ﷺ التراب، فلما كان ابو بكر اتي بشارب فسال اصحابه: كم ضرب رسول الله ﷺ الذي ضرب؟ (فحزره) (٥) اربعين فضرب ابو بكر اربعين (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (مثاب).
(٣) في [هـ]: (فأتي).
(٤) في [أ، ب، جـ، ي]: (وحثى)، وفي [ع]: (وحصا)، وفي [س]: (وجثي).
(٥) في [جـ، س، ي]: (فحزره)، وفي [ق]: (فجدره)، وفي [هـ]: (فحرز)، وفي [ع]: (فحرر).
(٦) منقطع؛ الزهري لا يروي عن عبد الرحمن بن الأزهر، أخرجه أحمد (١٦٨٠٩)، وأبو داود (٤٤٨٩)، والنسائي في الكبرى (٥٢٨٣)، والبيهقي ٨/ ٣٢٠، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٨٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٣٨)، والحاكم ٤/ ٣٧٤.

حضرت عبد الرحمان بن ازہر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے سال دیکھا جبکہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کے گھر کا پوچھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا چناچہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا انہوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ کچھ نے کوڑے کے ساتھ اور کچھ نے جوتیوں کے ساتھ اور کچھ نے لاٹھی کے ساتھ مارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مٹی گرائی پھر حضرت ابوبکر کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔ جس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مارا تھا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا مارا تھا؟ تو اس کا اندازہ چالیس لگایا گیا چناچہ حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39719، ترقيم محمد عوامة 38101)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38102 ترقیم الشثری: -- 39720
٣٩٧٢٠ - حدثنا يونس بن محمد قال: (حدثنا) (١) ليث بن سعد عن عقيل عن ⦗٦٧⦘ ابن شهاب عن عمرو بن عبد الرحمن بن امية بن يعلى بن (منية) (٢) ان اباه اخبره ان يعلى قال: جئت رسول الله ﷺ (بابي) (٣) امية يوم الفتح، فقلت: يا رسول الله بايع ابي على الهجرة، فقال رسول الله ﷺ:"بل ابايعه على الجهاد فقد انقطعت الهجرة" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (أمية).
(٣) في [ع]: (في أمية).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن أمية وابنه، أخرجه أحمد (١٧٩٥٨)، والنسائي ٧/ ١٤٥، وابن حبان (٤٨٦٤)، والحاكم ٣/ ٤٢٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٧١)، والبيهقي ٩/ ١٦، والزي ١٦/ ٥٣٩، والطبراني ٢٢/ (٦٦٥)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٦٢٢)، والفسوي في المعرفة ١/ ٤٠٠.

حضرت یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد امیہ کو لے کر حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے والد کو ہجرت پر بیعت کرلیجئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (نہیں) بلکہ میں تو ان سے جہاد پر بعتب لوں گا کیونکہ ہجرت تو ختم ہوگئی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39720، ترقيم محمد عوامة 38102)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38103 ترقیم الشثری: -- 39721
٣٩٧٢١ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) وهيب قال: (حدثنا) (٢) عبد الله بن عثمان بن خثيم عن مجاهد عن السائب انه كان يشارك رسول الله ﷺ قبل الإسلام في التجارة، فلما كان يوم الفتح اتاه فقال:"مرحبا باخي وشريكي، كان لا يداري ولا يماري، يا سائب قد كنت تعمل اعمالا في الجاهلية لا تتقبل منك، وهي اليوم تتقبل منك"، وكان ذا سلف وصلة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) صحيح؛ مجاهد مولى السائب، وقد لقيه وروى عنه ولا يصح أن يطعن في ذلك، بما رواه إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن قائد السائب؛ لأن ابن مجاهد ضعيف، والحديث أخرجه أحمد (١٥٥٠٥)، وأبو داود (٤٨٣٦)، والنسائي في الكبرى (١٠١٤٤)، وإبن ماجه (٢٢٨٧)، والحاكم ٢/ ٦١، والبيهقي ٦/ ٧٨، والطبراني (٦٦٢٠).

حضرت سائب سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اسلام (کی آمد) سے پہلے تجارت میں شریک تھے۔ چناچہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مرحبا! میرے بھائی اور میرے شریک (تجارت)! جو نہ دھوکہ دیتا تھا اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتا تھا۔ اے سائب! تحقیق تم جاہلیت میں کچھ ایسے (اچھے) اعمال کرتے تھے جو تم سے قبول نہیں کیے جاتے تھے۔ آج وہ اعمال تم سے قبول کئے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39721، ترقيم محمد عوامة 38103)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38104 ترقیم الشثری: -- 39722
٣٩٧٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن حمزة الزيات قال: لما كان يوم فتح مكة دخل رسول الله ﷺ من (اعلى) (١) مكة، ودخل خالد بن الوليد من اسفل مكة، ⦗٦٨⦘ قال: [فقال (رسول) (٢) الله ﷺ:"لا تقتلن"، فوضع يده في القتل، فقال رسول الله ﷺ:"لا تقتلن"، فوضع يده في القتل] (٣) ، فقال:"ما حملك على ما صنعت؟" فقال: يا رسول الله ما قدرت على ان لا اصنع إلا الذي (صنعت) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: (أعلا).
(٢) في [س]: (يا رسول).
(٣) في [هـ]: تكرر ما بين المعكوفين.
(٤) في [س]: (صنعته).
(٥) مرسل؛ حمزة الزيات من تابعي التابعين.

حضرت حمزہ زیات روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور حضرت خالد بن ولید مکہ کے نچلے حصہ سے داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا: تم ہرگز قتل نہ کرنا۔ پھر ان کا ہاتھ قتل میں ملوث ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس چیز نے ابھارا تھا؟ انہوں نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے سوا کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39722، ترقيم محمد عوامة 38104)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38105 ترقیم الشثری: -- 39723
٣٩٧٢٣ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: (حدثنا) (١) ابن جريج قال (٢) : محمد بن جعفر حدثني حديثا رفعه إلى ابي سلمة بن سفيان وعبد الله بن عمرو عن عبد الله ابن السائب قال: حضرت رسول الله ﷺ يوم الفتح فصلى في قبل الكعبة، فخلع نعليه فوضعهما عن يساره، ثم استفتح سورة المؤمنين فلما جاء ذكر (عيسى او موسى) (٣) اخذته سعلة فركع (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: زيادة (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (موسى أو عيسى).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٥٥)، وأحمد ٣/ ٤١١ (١٥٤٣٤).

حضرت عبد اللہ بن سائب سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک اتار کر اپنے بائیں طرف رکھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة المومنون شروع فرمائی۔ پھر جب حضرت عیسیٰ یا موسیٰ کا ذکر (سورۃ) میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آگئی چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع فرما لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39723، ترقيم محمد عوامة 38105)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38106 ترقیم الشثری: -- 39724
٣٩٧٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) ابو (مالك) (٢) الاشجعي قال: حدثنا سالم بن ابي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: خرج رسول الله ﷺ من بعض حجره فجلس عند بابها، وكان إذا جلس وحده لم ياته احد حتى يدعوه، قال:"ادع لي (ابا بكر) (٣) "، قال: فجاء فجلس (٤) بين يديه فناجاه طويلا، ثم امره فجلس عن يمينه او عن يساره، ثم قال:"ادع لي عمر"، فجاء فجلس ⦗٦٩⦘ (مجلس) (٥) ابي بكر فناجاه طويلا، فرفع عمر صوته فقال: يا رسول الله هم راس الكفر، هم الذين زعموا انك ساحر، وانك كاهن، وانك كذاب، وانك مفتر، ولم يدع شيئا مما كان اهل مكة يقولونه إلا ذكره، فامره ان يجلس من الجانب الآخر فجلس احدهما عن يمينه والآخر عن يساره، ثم دعا الناس فقال:"الا احدثكم بمثل صاحبيكم هذين؟" قالوا: نعم يا رسول الله، فاقبل بوجهه إلى ابي بكر فقال:"إن إبراهيم كان الين في الله من الدهن (باللبن) (٦) "، ثم اقبل على عمر فقال:"إن نوحا كان اشد في الله من الحجر، وإن الامر امر عمر فتجهزوا"، فقاموا فتبعوا ابا بكر فقالوا: يا ابا بكر إنا كرهنا ان نسال عمر ما هذا الذي (ناجاك) (٧) به رسول الله ﷺ (٨) ؟ قال: قال لي:"كيف (تامرني) (٩) في (غزو) (١٠) مكة؟"، قال: قلت: يا رسول الله هم قومك، قال: حتى رايت انه (سيطيعني) (١١) ، قال: ثم دعا عمر، فقال عمر: إنهم راس الكفر حتى ذكر كل سوء كانوا (يقولونه) (١٢) ،"وايم الله لا تذل العرب حتى يذل اهل مكة فآمركم (بالجهاز) (١٣) (لتغزوا) (١٤) مكة" (١٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (ملك).
(٣) في [أ، ب]: (عمر).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (مجلس).
(٥) في [ع]: (إلى).
(٦) في [ع]: (بالليل)، وفي [هـ]: (في اللبن).
(٧) في [أ، ب]: (ناجاه).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [ق، هـ]: (تأمروني).
(١٠) في [هـ]: (غزوة).
(١١) في [س]: (سيطيني).
(١٢) في [هـ]: (يذكرونه).
(١٣) في [أ، ب، ط، ق، هـ]: (بالجهاد).
(١٤) في [هـ]: (ولتغزوا).
(١٥) مرسل؛ محمد بن الحنفية تابعي.

حضرت محمد بن الحنفیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر نکلے اور اس کے دروازہ پر تشریف فرما ہوگئے اور (عادت یہ تھی کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے تشریف فرما ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی بھی نہیں آتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خود بلاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پس حضرت ابوبکر تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کافی دیر تک سرگوشی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا چناچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب یا بائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت عمر کو میرے پاس بلاؤ۔ چناچہ حضرت عمر حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کی جگہ (سامنے) بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی کافی لمبی سرگوشی فرمائی اس دوران حضرت عمر کی آواز بلند ہوگئی اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ تو کفر کے سردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو جادو گر گمان کیا اور آپ کو کاہن کہا اور آپ کو کذاب سمجھا اور آپ کو جھوٹ باندھنے والا کہا۔ حضرت عمر نے ان تما م باتوں کا ذکر فرمایا جو اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری جانب بیٹھ جائیں۔ چناچہ ان حضرات شیخین میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے ان دو ساتھیوں کی مثال نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت ابوبکر کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا: یقین کرو کہ ابراہیم اللہ تعالیٰ کے بارے میں دودھ میں تیل سے بھی زیادہ نرم تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت عمر کی طرف کیا اور فرمایا۔ حضرت نوح اللہ کے بارے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ اور فیصلہ تو وہی ہے جو عمر نے کیا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے تیاری شرو ع کردی اور کھڑے ہوگئے۔ اور حضرت ابوبکر کے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے۔ اے ابوبکر! حضرت عمر سے پوچھنا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ تم مکہ (والوں سے) لڑنے کے بارے میں مجھے کیا کہتے ہو؟ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ آپ ہی کی قوم ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ عنقریب میری اطاعت کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا تو حضرت عمر نے کہا۔ یہ لوگ تو کفر کے سردار ہیں حتی کہ حضرت عمر نے ہر اس بُری بات کا ذکر کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے۔ اور خدا کی قسم! جب تک مکہ والے ذلیل نہیں ہوں گے تب تک عرب والے ذلیل نہیں ہوں گے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مکہ پر حملہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39724، ترقيم محمد عوامة 38106)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں