🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38524 ترقیم الشثری: -- 40152
٤٠١٥٢ - حدثنا شريك عن عطاء بن السائب عن وائل بن علقمة انه شهد الحسين بكربلاء، قال: فجاء رجل فقال: افيكم حسين؟ فقال: من انت؟ فقال: ابشر بالنار، قال: بل رب غفور رحيم مطاع، قال: ومن انت؟ قال: انا ابن (حويزة) (١) ، قال: اللهم (حزه) (٢) إلى النار، قال: فذهب (فنفر) (٣) به فرسه على (ساقيه) (٤) (فتقطع) (٥) فما بقي مثه غير رجله في الركاب (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (جويرة).
(٢) في [أ، ب، س، جـ، ع]: (خذه).
(٣) في [س]: (فنغر).
(٤) في [س]: (سافنه).
(٥) في [أ]: (فتقطع).
(٦) ضعيف؛ لاختلاط عطاء بن السائب: أخرجه الطبراني (٢٨٤٩)، والدارقطني في المؤتلف ٢ (٦٢١)، وابن أبي جرادة في بغية الطلب ١/ ٣٩.

حضرت وائل بن علقمہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں موجود تھے انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا کیا تمہارے اندر حسین ہے حضرت حسین نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا آگ کی بشارت لو انہوں نے فرمایا بلکہ رب معاف کرنے والا رحم کرنے والا فرمانبرداری کیا جانے والا ہے حضرت حسین نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں ابن حویزہ ہوں آپ نے فرمایا اے اللہ اسے آگ کی طرف جمع کرلے راوی نے فرمایا وہ آدمی گیا اس کا گھوڑا اسے اس کی پنڈلیوں کے بل لے کر بھاگا پس وہ کٹا اس کے جسم سے سوائے اس کے پاؤں کے جو رکاب میں تھے کوئی حصہ باقی نہ رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40152، ترقيم محمد عوامة 38524)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38525 ترقیم الشثری: -- 40153
٤٠١٥٣ - حدثنا علي بن مسهر عن ام حكيم (١) قالت: لما قتل الحسين بن علي ⦗٢٨٦⦘ وانا يومئذ جارية قد بلغت مبلغ النساء -او كدت ان ابلغ: مكثت السماء بعد قتله اياما كالعلقة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أم حكيم هي جدة علي بن مسهر كما في جزء الحميري (٣١)
حضرت ام حکیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا میں ان دنوں لڑکی تھی عورتوں کی عمر کو پہنچ چکی تھی یا فرمایا پہنچنے کے قریب تھی ان کی شہادت کے بعد کئی دن آسمان خون کے جمے ٹکڑے کی طرح رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40153]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40153، ترقيم محمد عوامة 38525)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38526 ترقیم الشثری: -- 40154
٤٠١٥٤ - حدثنا وكيع عن ابي عاصم الثقفي عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: جاءنا قتل عثمان وانا اؤنس من نفسي شبابا وقوة ولو قتلت القتال، فخرجت احضر الناس حتى إذا كنت بالربذة إذا علي بها، فصلى بهم العصر، فلما سلم اسند ظهره في مسجدها واستقبل القوم، قال: فقام إليه الحسن بن علي يكلمه (وهو) (١) يبكي، (٢) فقال (له) (٣) علي: تكلم ولا تحن حنين الجارية، قال: امرتك حين (حصر) (٤) الناس هذا الرجل ان تاتي مكة فتقيم بها فعصيتني، ثم امرتك حين قتل ان تلزم بيتك حتى ترجع إلى العرب (غوارب) (٥) احلامها، فلو كنت في جحر ضب لضربوا إليك اباط الإبل، حتى يستخرجوك من جحرك فعصيتني، و (انا) (٦) انشدك بالله ان تاتي العراق فتقتل بحال مضيعة، قال: فقال علي: اما قولك: آتي مكة، فلم اكن بالرجل الذي تستحل لي مكة، واما قولك: قتل الناس عثمان، فما ذنبي إن كان الناس قتلوه، واما قولك: آتي العراق، فاكون كالضبع (تستمع اللدم) (٧) (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: زيادة (قال).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ، ب، س، ع]: (حضر).
(٥) في [أ، ب، جـ، س]: (عوازب).
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) في [أ، ب، جـ، س]: (نسمع أن)، قال في جمهرة الأمثال ٢/ ٤٠٤: "قولهم: لا أكون كالضبع تسمع اللدم حتى تصاد، أي: أغفل عما يجب له التيقظ، اللدم: الضرب باليد، وإذا ضرب على وجار الضبع باليد لبدت بالأرض فتؤخذ).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٧/ ٣٩٥، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٤٢، وابن عساكر ٤٢/ ٤٥٦، وابن شبه (٢٢٣٦)، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٨٢، وابن جرير في التاريخ ٣/ ١٠، وأبو عبيد في غريب الحديث ٣/ ٤٣٦.

حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انہوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انہیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40154]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40154، ترقيم محمد عوامة 38526)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38527 ترقیم الشثری: -- 40155
٤٠١٥٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن (مجالد) (١) عن الشعبي قال: لما كان الصلح بين الحسن بن علي ومعاوية اراد الحسن الخروج إلى المدينة، فقال له معاوية: ما انت بالذي تذهب حتى تخطب الناس قال: قال الشعبي: فسمعته على المنبر: حمد الله واثنى عليه ثم قال: (اما بعد) (٢) فإن اكيس الكيس التقى، (وإن) (٣) اعجز العجز (الفجور) (٤) ، وإن هذا الامر الذي (اختلفت فيه انا) (٥) ومعاوية (حق) (٦) كان لي فتركته لمعاوية، او حق كان (لامرئ) (٧) احق به مني، وإنما فعلت هذا لحقن دمائكم، وإن ادري لعله فتنة لكم ومتاع إلى حين، ثم نزل (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) زيادة في [أ، ب، س، ح، ع].
(٣) في [أ، ب]: (وأنا).
(٤) في [أ، ب]: (العجور).
(٥) في [هـ]: (اختلف أنا فيه).
(٦) في [ط، هـ]: (حتى).
(٧) في [أ، ب، س، جـ، ع]: (لأمري).
(٨) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه الحاكم ٣/ ١٩٢، والبيهقي ٨/ ١٧٣، وابن عساكر ١٣/ ٢٧٤، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٨٨.

حضرت شعبی سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوئی حضرت حسن نے مدینہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مجاہد نے شعبی سے نقل کیا شعبی نے فرمایا میں نے ان سے منبر پر سنا کہ انہوں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثناء بیان کی پھر فرمایا یقینا سب سے عقلمندی کی بات تقوٰی ہے اور سب سے عجز کی بات فسق و فجور ہے اور یہ امر (خلافت) جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا یہ میرا حق تھا میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا یوں فرمایا یہ میرا حق تھا جس کے معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں اور میں نے یہ تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا ہے اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے تمہارے لیے آزمائش ہو اور مقررہ مدت تک نفع ہو پھر نیچے اتر آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40155]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40155، ترقيم محمد عوامة 38527)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38528 ترقیم الشثری: -- 40156
٤٠١٥٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (مجالد) (١) عن زياد بن علاقة عن اسامة بن (زيد) (٢) قال: قال رسول الله ﷺ:"من فرق بين امتي وهم جميع فاضربوا راسه كائنا من كان" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) كذا في النسخ، وصوابه: (شريك) كما في كتب التراجم والتخريج.
(٣) منكر؛ مجالد ضعيف، خالف الثقات، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١١٠٦)، والنسائي (١٤٨٦)، والطبراني (٤٨٨)، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ١٠٣، والضياء في المختارة ٤/ (١٣٩١)، واللالكائي (١٤٣)، والمزي ١٠/ ٩٠، والرامهرمزي ص ٤٨٧، ورواه شعبة وغيره عن زياد عن عرفجة، أخرجه مسلم (١٨٥٢)، وأحمد ٤/ ٢٦١، والنسائي في الكبرى (١١١٨٥).

حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے میری امت میں تفریق ڈالی جبکہ وہ مجتمع ہوں اس کی گردن مار دو جو کوئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40156]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40156، ترقيم محمد عوامة 38528)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38529 ترقیم الشثری: -- 40157
٤٠١٥٧ - حدثنا زياد بن الربيع عن عباد بن كثير الشامي عن امراة منهم يقال: لها (فسيلة) (١) عن ابيها قالت: سمعت ابي يقول: سالت رسول الله ﷺ قلت: يا رسول الله من العصبية ان يحب الرجل قومه؟ قال:"لا، ولكن من العصبية ان يعين الرجل قومه على الظلم" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سلامة)، وفي [أ]: (سبيلة)، وفي [ع]: (قتيلة).
(٢) ضعيف فيه جهالة؛ عياد ضعيف، وفسيلة فيها جهالة، أخرجه أحمد (١٦٩٨٩)، وأبو داود (٥١١٩)، وابن ماجه (٣٩٤٩)، والبخاري في الأدب المفرد (٣٩٦)، والبيهقي في الآداب (٢٠٨)، والطبراني ٢٢/ (٢٣٦)، والمزي ١٤/ ١٥، والدولابي ١/ ٤٨، والعقيلي ٣/ ١٤٢، وابن عدي ٤/ ١٣٩٥، والحربي في الغريب ١/ ٣٠١، والحارث (٨٦٩/ بغية).

حضرت فسیلہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں فرمایا کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول کیا یہ عصبیت ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم پر اپنی قوم کی اطاعت کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40157، ترقيم محمد عوامة 38529)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38530 ترقیم الشثری: -- 40158
٤٠١٥٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سنان بن ابي سنان عن ابي واقد الليثي ان رسول الله ﷺ حين اتى حنينا مر بشجرة يعلق المشركون بها اسلحتهم يقال لها ذات انواط، فقالوا: اجعل لنا ذات انواط، فقال رسول الله ﷺ:"هذا كما قال قوم موسى لموسى: اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، لتركبن سنن من (١) قبلكم" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (كان).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٨٩٧)، والترمذي (٢١٨٠)، والنسائي في الكبرى (١١١٨٥)، وابن حبّان (٦٧٠٢)، والبخاري في التاريخ ٤/ ١٦٣، ومحمد بن نصر في السنة (٤٠)، والطيالسي (١٣٤٦)، والحميدي (٨٤٨)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٦)، وأبو يعلى (١٤٤١)، والطبري ٩/ ٤٥، وابن قانع ١/ ١٧٢، والطبراني (٣٢٩٢)، والبيهقي في دلائل النبوة ٥/ ١٢٤.

حضرت ابو واقد اللیثی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین تشریف لائے تو ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا (انواط نوط کی جمع ہے حاجت معلقہ کو کہتے ہیں یہ وہ درخت تھا جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے اور اس کا گرد ٹھہرتے تھے) صحابہ اکرام نے عرض کیا ہمارے لیے ذات انواط بنادیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ ایسے ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ ہمارے لیے بھی معبود بنادیں جیسا کہ ان کے لیے معبود ہے یقینا تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40158، ترقيم محمد عوامة 38530)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38531 ترقیم الشثری: -- 40159
٤٠١٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لتتبعن سنة من كان قبلكم باعا بباع، وذراعا بذراع وشبرا بشبر، حتى لو دخلوا في جحر ضب لدخلتم فيه"، قالوا: يا رسول الله! اليهود والنصارى قال:"فمن إذن" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨١٩)، وابن ماجه (٣٩٩٤)، وابن أبي عاصم في السنة (٧٢)، وأصله عند البخاري (٧٣١٩)، والحاكم ١/ ٣٧، والحارث (٧٥٤/ بغية).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے کی پیروی کرو گے دو ہاتھ میں دو ہاتھ کی ایک ہاتھ میں ایک ہاتھ کی اور ایک بالشت میں ایک بالشت کی یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہوں تو تم بھی اس میں داخل ہوگے صحابہ کرام نے عرض کیا یہود اور نصاری کی؟ آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40159، ترقيم محمد عوامة 38531)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38532 ترقیم الشثری: -- 40160
٤٠١٦٠ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد عن (عمر) (١) بن الحكم قال: سمعت عبد الله بن (عمرو) (٢) يقول: لتركبن سنة من كان قبلكم حلوها ومرها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمرو).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه الشافعي كما في السنن المأثورة (٣٩٨)، ومحمد بن نصر في السنة (٦٦)، والروي في ذم الكلام (٧١).

حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقینا تم اپنے سے پہلے والوں کی میٹھے اور کڑوے طریقے کی پیروی کرو گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40160]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40160، ترقيم محمد عوامة 38532)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38533 ترقیم الشثری: -- 40161
٤٠١٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي قيس عن (هزيل) (١) قال: قال عبد الله: انتم اشبه الناس سمتا وهديا (ببني) (٢) إسرائيل (لتسلكن) (٣) طريقهم حذو القذة بالقذة، والنعل بالنعل، قال عبد الله: (إن) (٤) من البيان سحرا (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هذيل).
(٢) في [أ، ب]: (يعني).
(٣) في [س]: (تسلكن).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) حسن؛ أبو قيس هو عبد الرحمن بن ثروان الأوري صدوق، أخرجه البزار (٢٠٤٨)، والطبراني (٩٨٨٢).

حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا تم طریقہ اور سیرت میں بنی اسرائیل کے بہت مشابہہ ہو تم ضرور ان کے طریقے پر چلو گے جیسے تیر کا پر دوسرے پر کے برابر ہوتا ہے اور جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا کچھ بیان جادو ہوتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40161]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40161، ترقيم محمد عوامة 38533)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں