🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ
باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1904 ترقیم الرسالہ : -- 1927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: أُتِيَ مُعَاذٌ فِي وَقْصِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ:" لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِشَيْءٍ، قَالَ: وَهُنَّ مَا دُونَ الثَّلاثِينَ" .
طاؤس بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گائے کا بچہ لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی تعداد ٣٠ سے کم تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1927]
ترقیم العلمیہ: 1904
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 891، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2268،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4886، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1453، 1462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1576، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 623، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1663،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1803، 1818، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1927، 1915، 1904، 1935، 1936، 1937،وأبو داود فى "المراسيل"، 107، 108»
«قال ابن الملقن: هذا مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 516)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1905 ترقیم الرسالہ : -- 1928
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، ثنا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً"، فَقَالُوا: فَالأَوْقَاصُ؟ قَالَ: مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَهُ عَنِ الأَوْقَاصِ، فَقَالَ:" لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ" . قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاثِينَ وَمَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ فَفِيهَا تَبِيعَانِ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلاثُ تَبَايِعَ، قَالَ بَقِيَّةُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: الأَوْقَاصُ هِيَ بِالسِّينِ أَوْقَاسُ، فَلا تَجْعَلَهَا بِصَادٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ، ایک جذع یا ایک جذعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں۔ لوگوں نے دریافت کیا: گائے کے بچوں کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں گا۔ پھر جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گائے کے بچھڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔ مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں: اوقاس سے مراد یہ ہے جب ان کی تعداد تیس سے کم ہو، جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو، تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ ستر ہو جائیں گی، تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اسی ہو جائیں گی، تو اس میں دو مسنہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ نوے ہو جائیں گی، تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مسعودی فرماتے ہیں: لفظ اوقاص، ’س‘ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، تم اسے ’ص‘ کے ساتھ نہ لکھو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1928]
ترقیم العلمیہ: 1905
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7388، 7389، 18740، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1928، 1940، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4868، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10974»
«قال ابن حجر: المسعودي اختلط وتفرد بوصله عنه بقية بن الوليد وقد رواه الحسن بن عمارة عن الحكم أيضا لكن الحسن ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 299)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1906 ترقیم الرسالہ : -- 1929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ، وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو ارشاد فرمایا: تم اناج (کی زکوۃ) میں اناج وصول کرنا، بکریوں کی زکوٰۃ میں بکری وصول کرنا، اونٹوں کی زکوٰۃ میں اونٹ وصول کرنا اور گائے کی زکوٰۃ میں گائے وصول کرنا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1929]
ترقیم العلمیہ: 1906
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1437، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1814، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7465، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1929،»
«قال ابن حجر: عطاء بن يسار لم يدرك معاذ بن جبل، لم يصح لأنه ولد بعد موته أو في سنة موته أو بعد موته بسنة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 533)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1907 ترقیم الرسالہ : -- 1930
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَهْلِ الْيَمَنِ:" ائْتُونِي بِخَمْسٍ، أَوْ لَبِيسٍ آخُذُ مِنْكُمْ فِي الصَّدَقَةِ، فَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ" ، فَقَالَ عَمْرٌو:" ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ". هَذَا مُرْسَلٌ، طَاوُسٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اہل یمن سے یہ کہا تھا: تم میرے پاس خمیس یا لبیس لے کر آؤ، میں تم سے زکوٰۃ وصول کروں گا، یہ تمہارے لیے آسان بھی ہو گا اور مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین کے لیے پسندیدہ زیادہ بہتر رہے گا۔ عمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تم میرے پاس چوڑے کپڑے لے کر آؤ۔ یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ طاؤس نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1930]
ترقیم العلمیہ: 1907
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7466، 7467، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1930، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10540»
«قال الدارقطني: هذا مرسل طاوس لم يدرك معاذا، سنن الدارقطني: (2 / 487) برقم: (1930)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1908 ترقیم الرسالہ : -- 1931
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاكُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَرْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا أبِي ، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" لَمْ تَكُنِ الْمَقَائِي فِيمَا جَاءَ بِهِ مُعَاذٌ، إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ، وَلَيْسَ فِي الْمَقَائِي شَيْءٌ، فَقَدْ كَانَتْ تَكُونُ عِنْدَنَا الْمَقْثَأَةُ تُخْرِجُ عَشَرَةَ آلافٍ، فَلا يَكُونُ فِيهَا شَيْءٌ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مقاثی ان چیزوں میں نہیں تھے، جنہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لے کر آئے تھے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے گندم، جو، کھجوروں اور کشمش میں زکوٰۃ وصول کی تھی، مقاثی میں کوئی چیز وصول نہیں کی تھی، ہمارے پاس مقثات (زرعی زمین) تھی، جس سے دس ہزار کی پیداوار ہوتی تھی، لیکن اس میں کوئی چیز (یعنی زکوٰۃ) لازم نہیں ہوئی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1931]
ترقیم العلمیہ: 1908
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1931،»
«قال بدرالدین العینی: في سنده عدي بن الفضل وهو متروك، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (9 / 76)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1909 ترقیم الرسالہ : -- 1932
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ عُثْمَانَ جَاءَهُ أَبُو عُلَيَّةَ، فَقَالُ لَهُ عُثْمَانُ: كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ؟ قَالَ: بِخَيْرٍ، ثُمَّ قَامَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقَامَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَاحْتَوَشُوهُ، فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَوَشَهُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا ذَرٍّ ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ" . قَالَهَا بِالزَّايِ.
مالک بن اوس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اے ابوذر! آپ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ٹھیک ہوں۔ پھر وہ ایک ستون کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے، لوگ بھی اٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گھیر لیا، میں بھی انہیں گھیرنے والوں میں شامل تھا، لوگوں نے کہا: اے ابوذر! آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیں۔ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور کتان (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ لفظ ’ز‘ کے ساتھ ذکر کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1932]
ترقیم العلمیہ: 1909
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1435، 1436، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7693، 7694، 7695، 7696، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1932، 1933، 1934، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21958، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3895، 3896، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10803»
«قال ابن حجر: طريقه ضعيفة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 345)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1910 ترقیم الرسالہ : -- 1933
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثنا مُوسَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُزِّ صَدَقَتُهَا، وَمَنْ دَفَعَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا أَوْ فِضَّةً لا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ، وَلا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . كَتَبَهُ مِنَ الأَصْلِ الْعَتِيقِ، وَفِي الْبُزِّ مُقَيَّدٌ.
مالک بن عوف بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور بز (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، جو شخص دینار، درہم، سونے کا ٹکڑا، چاندی اکٹھی کرے گا، جسے اس نے فرض کی ادائیگی کے لیے نہیں رکھا، یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے نہیں رکھا، تو یہ خزانہ شمار ہو گا، جس کے ذریعے قیامت کے دن اسے داغ لگایا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1933]
ترقیم العلمیہ: 1910
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1435، 1436، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7693، 7694، 7695، 7696، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1933، 1934، 1935، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21958، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3895، 3896، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10803»
«قال ابن حجر: طريقه ضعيفة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 345)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1911 ترقیم الرسالہ : -- 1934
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الرَّقِّيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُزِّ صَدَقَتُهُ" .
مالک بن اوس، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اونٹوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ ہوتی ہے اور بھیڑوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1934]
ترقیم العلمیہ: 1911
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1435، 1436، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7693، 7694، 7695، 7696، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1933، 1934، 1935، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21958، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3895، 3896، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10803»
«قال ابن حجر: طريقه ضعيفة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 345)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1912 ترقیم الرسالہ : -- 1935
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ:" بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو انہیں ہدایت کی کہ وہ ہر تیس اونٹ میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے برابر ’معافر‘ وصول کریں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1935]
ترقیم العلمیہ: 1912
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 891، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2268،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4886، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1453، 1462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1576، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 623، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1663،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1803، 1818، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1928، 1915، 1904، 1935، 1936، 1937،وأبو داود فى "المراسيل"، 107، 108»
«‏‏‏‏قال الدارقطني:: والمحفوظ عن أبي وائل عن مسروق عن معاذ وعن إبراهيم مرسلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 66)»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1913 ترقیم الرسالہ : -- 1936
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ وَقَالَ فِيهِ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: حَالِمٍ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: حَالِمَةٍ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ زَكَاةِ/حدیث: 1936]
ترقیم العلمیہ: 1913
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 891، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2268،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4886، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1453، 1462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1576، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 623، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1663،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1803، 1818، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1928، 1915، 1904، 1935، 1936، 1937،وأبو داود فى "المراسيل"، 107، 108»
«‏‏‏‏قال الدارقطني:: والمحفوظ عن أبي وائل عن مسروق عن معاذ وعن إبراهيم مرسلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 66)»

الحكم على الحديث: إسناده مرسل ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں