سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
9. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3769/1 ترقیم الرسالہ : -- 3828
قَالَ: وَنا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ مِثْلَهُ.
ہمیں حماد نے خبر دی، وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے یہی (مذکورہ بالا حدیث) بیان کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3828]
ترقیم العلمیہ: 3769/1
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3828، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3770 ترقیم الرسالہ : -- 3829
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَا يَقُولانِ" فِي الرَّجُلِ: يَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ" يَتَزَوَّجُ إِذَا شَاءَ، وَلا يَنْظُرُ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا" .
قاسم بن محمد اور عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: جس شخص کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق بتہ دے دے، وہ جب چاہے (چوتھی) شادی کر سکتا ہے، وہ اس بات کا انتظار نہیں کرے گا (کہ اس کی سابقہ بیوی کی) عدت گزر جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3829]
ترقیم العلمیہ: 3770
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1087، 1088، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1748، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13962، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3829، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17017»
ترقیم العلمیہ : 3771 ترقیم الرسالہ : -- 3830
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" يَنْكِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَيْنِ، وَيُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَتَعْتَدُّ الأَمَةُ حَيْضَتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فَشَهْرَيْنِ، أَوْ شَهْرًا وَنِصْفًا" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”غلام شخص (بیک وقت زیادہ سے زیادہ) دو شادیاں کر سکتا ہے، اور وہ دو طلاقیں دے سکتا ہے، کنیز کی عدت دو حیض ہو گی اور اگر اسے حیض نہ آتا ہو، تو دو ماہ ہو گی۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ڈیڑھ ماہ ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3830]
ترقیم العلمیہ: 3771
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 786، 1277، 2186، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14007، 14008، 15259، 15547، 15548، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3830، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12872»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3772 ترقیم الرسالہ : -- 3831
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، نَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَقُولُ" فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا، ثُمَّ يَظْهَرُ عَلَى عَيْبٍ فِيهَا لَمْ يَكُنْ رَآهُ أَنَّ الْجَارِيَةَ تَلْزَمُهُ، وَيُوضَعُ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ، وَقَالَ: لَوْ كَانَ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ، يَرُدُّهَا وَيَرُدُّ الْعَقْرَ كَانَ ذَلِكَ شِبْهَ الإِجَارَةِ، وَكَانَ الرَّجُلُ يُصِيبُهَا، وَهُوَ يَرَى الْعَيْبَ لَمْ يَرُدِّ الْعَقْرَ، وَلَكِنَّهُ إِذَا أَصَابَهَا لَزِمَتْهُ الْجَارِيَةُ، وَوُضِعَ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ" .
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے اپنے دادا (امام زین العابدین رحمہ اللہ) کے حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جس نے کوئی کنیز خریدی، اس کے ساتھ صحبت کی، پھر اس کنیز میں موجود کسی عیب کا پتہ چلا، یہ فرماتے ہیں: ”وہ کنیز اس شخص کے پاس رہے گی، اور اس کی قیمت میں سے اس عیب کے حساب سے کمی کر دی جائے گی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر حکم اسی طرح ہو جیسے بعض لوگ کہتے ہیں، تو وہ شخص اس عورت کو واپس کرے گا، اور اس کے ساتھ عقر (شبہ کے طور پر وطی کرنے کی صورت میں ادا کیا جانے والا معاوضہ) بھی ادا کرے گا، تو یہ اجارہ کے مشابہ ہو جائے گا، تو یہ اس طرح ہو گا جیسے اس نے جب اس کنیز کے ساتھ صحبت کی، اس وقت وہ اس عیب کو دیکھ چکا تھا اور پھر اس نے (اس کے معاوضے کے طور پر) عقر ادا کر دیا، لیکن (حکم یہی ہے) جب وہ اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو وہ کنیز اس کی ہو جائے گی اور عیب کے حساب سے اس کی قیمت کم کر دی جائے گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3831]
ترقیم العلمیہ: 3772
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3831، 3832، 3833، 3835، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14685، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21280»
ترقیم العلمیہ : 3773 ترقیم الرسالہ : -- 3832
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ:" إِذَا ابْتَاعَ الأَمَةَ، ثُمَّ أَصَابَهَا، ثُمَّ وَجَدَ بِهَا عَيْبًا بَعْدَ إِصَابَتِهِ، أَخَذَ قِيمَةَ الْعَيْبِ" ، هَذَا مُرْسَلٌ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص کوئی کنیز خریدے، پھر اس کے ساتھ صحبت کر لے، اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد پھر اس میں کوئی عیب پائے، تو عیب کے حساب سے قیمت (کا حصہ) واپس لے گا۔“ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3832]
ترقیم العلمیہ: 3773
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3831، 3832، 3833، 3835، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14685، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21280»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3774 ترقیم الرسالہ : -- 3833
نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" لا يَرُدُّهَا وَلَكِنَّهَا تُكْسَرُ، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَيْبِ"، وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے امام زین العابدین رحمہ اللہ کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(خریدار، عیب والی اس کنیز) کو واپس نہیں کرے گا، بلکہ اس عیب کے اعتبار سے قیمت میں جو کمی ہو گی، وہ اسے واپس کر دی جائے گی۔“ یہ روایت بھی مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3833]
ترقیم العلمیہ: 3774
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3831، 3832، 3833، 3835، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14685، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21280»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3775 ترقیم الرسالہ : -- 3834
نَا نَا جَعْفَرٌ، نَا مُوسَى، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا رُدَّ مَعَهَا نِصْفُ الْعُشْرِ، وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا رُدَّ الْعُشْرُ" ، وَهَذَا مُرْسَلٌ، عَامِرٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر وہ کنیز ثیبہ ہو، تو خریدار اس کے ساتھ نصف عشر (یعنی اصل قیمت کا بیسواں حصہ) واپس کرے گا اور اگر وہ کنواری ہو، تو عشر (یعنی اصل قیمت کا دسواں حصہ) واپس کرے گا۔“ عامر نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3834]
ترقیم العلمیہ: 3775
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10859، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3834، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21278»
«قال الدارقطني: وهذا مرسل عامر لم يدرك عمر، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3834)»
«قال الدارقطني: وهذا مرسل عامر لم يدرك عمر، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3834)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3776 ترقیم الرسالہ : -- 3835
نَا نَا دَعْلَجٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ:" إِذَا وَطِئَهَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ، وَإِذَا رَأَى عَيْبًا قَبْلَ أَنْ يَطَأَهَا، فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّ" ، هَذَا مُرْسَلٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب مرد (خریدار) کنیز کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو اب یہ سودا طے ہو جائے گا، لیکن اگر اس خریدار نے کنیز کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اس میں عیب پا لیا، تو اسے اختیار ہو گا کہ اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو واپس کر دے۔“ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3835]
ترقیم العلمیہ: 3776
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3831، 3832، 3833، 3835، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14685، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21280»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني: (4 / 476) برقم: (3832)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 3777 ترقیم الرسالہ : -- 3836
نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، قَالَ: سُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ،" عَنْ عِدَّةِ أُمِّ وَلَدٍ، فَقَالَ: لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا، إِنْ تَكُنْ أَمَةً فَإِنْ عِدَّتَهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ" ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَوْقُوفًا أَيْضًا. وَرَفَعَهُ قَتَادَةُ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ. وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ وَقَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو.
رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ام ولد کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم ہمارے سامنے دینی احکام خلط ملط نہ کرو، اگر یہ کنیز شمار ہوتی، تو اس کی عدت تو آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک موقوف روایت کے طور پر منقول ہے، قتادہ اور مطر نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، لیکن اس کا موقوف ہونا درست ہے، قبیصہ نامی راوی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3836]
ترقیم العلمیہ: 3777
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 831، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4300، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2853، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2308، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2083، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15680، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3836، 3837، 3838، 3839، 3841، 3842، 3843، 3844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18082، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 7338، 7349، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19074، 19090»
«قال الدارقطني: ضعفه بالانقطاع بين قبيصة وعمرو، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 264)»
«قال الدارقطني: ضعفه بالانقطاع بين قبيصة وعمرو، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 264)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3778 ترقیم الرسالہ : -- 3837
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ:" لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا، عِدَّتُهَا عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے سامنے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) خلط ملط نہ کرو، اس (ام ولد) کی عدت بیوہ عورت کی عدت جتنی، یعنی چار ماہ دس دن ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3837]
ترقیم العلمیہ: 3778
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 831، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4300، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2853، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2308، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2083، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15680، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3836، 3837، 3838، 3839، 3841، 3842، 3843، 3844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18082، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 7338، 7349، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19074، 19090»
«قال الدارقطني: ضعفه بالانقطاع بين قبيصة وعمرو، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 264)»
«قال الدارقطني: ضعفه بالانقطاع بين قبيصة وعمرو، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 264)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف