🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2427 ترقیم شاملہ: -- 6266
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ : " أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَنْتَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ ".
اسماعیل بن علیہ نے حبیب بن شہید سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہیں یاد ہے جب ہم، میں، تم اور ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، (کہا:) تو آپ نے ہمیں سوار کر لیا تھا اور (جگہ نہ ہونے کی بنا پر) تمہیں چھوڑ دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6266]
عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: تمہیں یاد ہے جب میں نے، تم نے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، (ابن جعفر کہتے ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار کر لیا اور تمہیں چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2427
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2427 ترقیم شاملہ: -- 6267
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَإِسْنَادِهِ.
ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے ابن علیہ کی حدیث کے مانند اور اسی کی سند سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6267]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2427
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2428 ترقیم شاملہ: -- 6268
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ ".
ابومعاویہ نے عاصم احول سے، انہوں نے مورق عجلی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جا کر) آپ سے ملایا جاتا، ایک بار آپ سفر سے آئے، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا۔ کہا: تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6268]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو (باہر لے جا کر) آپ سے ملایا جاتا، ایک بار آپ سفر سے آئے، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ انہوں نے کہا: تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2428
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2428 ترقیم شاملہ: -- 6269
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا، قَالَ: فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ، أَوْ بِالْحُسَيْنِ، قَالَ: فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْه وَالْآخَرَ خَلْفَهُ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ".
عبدالرحیم بن سلیمان نے عاصم سے روایت کی، کہا: مجھے مورق عجلی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہمیں (آپ کی محبت میں) آگے لے جا کر آپ سے ملایا جاتا، کہا: مجھے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہم کو آپ کے پاس آگے لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، یہاں تک کہ ہم (اسی طرح) مدینہ میں داخل ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6269]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملایا جاتا تھا، ایک دفعہ مجھے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو ملایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو اپنے پیچھے حتیٰ کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2428
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2429 ترقیم شاملہ: -- 6270
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ".
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حسن بن سعد نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر مجھے رازداری سے ایک بات بتائی جو میں لوگوں میں سے کسی بھی شخص کو نہیں سناؤں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6270]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی، جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2429
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں