سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
290. بَابُ جَامِعِ الشَّهَادَةِ 2
شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
ترقیم دار السلفیہ: 2853 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4029
نا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: نا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلا، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ، فَلا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ". قَالَ: فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ، قَدْ بَدَتْ خَلاخِلُهُنَّ وَأَسْوُقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمُ! الْغَنِيمَةَ، ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: إِنَّا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَلَمَّا، أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ، فَانْقَلَبُوا مُنْهَزِمِينَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ فِي أُخْرَاهُمْ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا اثْنَا عَشَرَ رَجُلا، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ رَجُلا، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَصَابُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةَ رَجُلٍ، سَبْعِينَ أَسِيرًا، وَسَبْعِينَ قَتِيلا، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَمَّا هَؤُلاءِ فَقَدْ قُتِلُوا، فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ، قَالَ: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لأَحْيَاءٌ، وَقَدْ بَقَّى اللَّهُ لَكَ مَا يَسُوءُكَ، فَقَالَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ أُعْلُ هُبَلُ، أُعْلُ هُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا تُجِيبُوهُ؟" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ"، فَقَالَ: إِنَّ لَنَا الْعُزَّى، وَلا عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا تُجِيبُوهُ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا اللَّهُ مَوْلانَا، وَلا مَوْلَى لَكُمْ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن تیر اندازوں پر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، اور وہ پچاس آدمی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم ہمیں دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک کر لے جا رہے ہیں تو اپنی جگہ سے ہرگز نہ ہٹنا، جب تک میں تمہیں پیغام نہ بھیجوں۔ اور اگر تم دیکھو کہ ہم قوم کو شکست دے کر روند رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا، جب تک میں تمہیں پیغام نہ بھیجوں۔“ پھر اللہ نے کفار کو شکست دی۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑ پر دوڑ رہی تھیں، ان کے پاؤں کی پازیبیں اور پنڈلیاں ظاہر ہو رہی تھیں، اور وہ اپنے کپڑے اٹھائے بھاگ رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا: ”لوگو! مال غنیمت! مال غنیمت! تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں، اب کس چیز کا انتظار ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم بھول گئے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اللہ کی قسم ضرور جائیں گے اور مال غنیمت حاصل کریں گے۔“ چنانچہ جب وہ نیچے اترے تو ان کا رخ پھیر دیا گیا اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی پشت کی طرف سے بلا رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تھے۔ کفار نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کر دیے، جبکہ غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کفار میں سے ایک سو چالیس کو نقصان پہنچایا تھا، ستر کو قید کیا اور ستر کو قتل۔ ابوسفیان نے آواز دی: ”کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں؟“ تین بار۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ جواب نہ دیں۔ پھر اس نے کہا: ”کیا ابوبکر موجود ہیں؟“ تین بار۔ پھر کہا: ”کیا عمر بن خطاب موجود ہیں؟“ تین بار۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور کہا: ”یہ سب مارے گئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بول اٹھے: ”جھوٹا ہے تو اے اللہ کے دشمن! جن کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں، اور اللہ نے تجھے وہ چیز باقی رکھی ہے جو تجھے رنج دے گی۔“ ابوسفیان نے کہا: ”آج کا دن بدر کے دن کے بدلے میں ہے، اور جنگ تو ادل بدل چلتی رہتی ہے۔ تم اپنے مقتولین میں مثلے پاؤ گے، میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے اس پر افسوس بھی نہیں۔“ پھر وہ نعرے لگانے لگا: ”اعل هبل، اعل هبل!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اللہ سب سے بلند اور سب سے عظیم ہے۔“ پھر ابوسفیان نے کہا: ”ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس نہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3039، 3986، 4043، 4067، 4561، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4738، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8581، 11013، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2662، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2853، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18892، 18899، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 761»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2854 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4030
نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أنا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَفِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَفِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک گروہ جہاد کرے گا، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہو؟ اگر جواب دیا: ہاں، تو ان کے لیے فتح ہوگی۔ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ گروہ میں وہ ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت پائی ہوگی، پھر ان کے لیے بھی فتح ہوگی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2897، 3594، 3649، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2532، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4768، 6666، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2854، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11198، والحميدي فى «مسنده» برقم: 760، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 974»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2855 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4031
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَتِ الأَنْصَارُ تَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعْنَا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا عَيْشَ إِلا عَيْشُ الآخِرَةِ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ" .
غزوہ خندق کے دن انصار یہ اشعار پڑھتے تھے: ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی، جب تک ہم زندہ ہیں، جہاد کرتے رہیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے: ”زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی عزت فرما۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2834، 2835، 2961، 3795، 3796، 4099، 4100، 6413، 7201، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1805، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5789، 7259، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7216، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6602، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3857، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2855، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12919، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26596»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2856 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4032
نا نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيَّ ، مِنْ وَرَاءِ نَهْرِ بَلْخٍ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ، وَهُوَ يَقُولُ: " لا عَيْشَ إِلا طِرَادُ الْخَيْلِ الْخَيْلَ" .
سیدنا بریدہ الاسلمی رضی اللہ عنہ نہر بلخ کے اس پار گھوڑے پر سوار کہہ رہے تھے: ”زندگی تو صرف گھوڑوں کی دوڑ ہے!“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2856، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19890»
قال أبو حاتم الرازي: هذا خطأ إنما هو محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب عن رجل سمع بريدة الأسلمي، علل الحديث: (3 / 482)
قال أبو حاتم الرازي: هذا خطأ إنما هو محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب عن رجل سمع بريدة الأسلمي، علل الحديث: (3 / 482)
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2857 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4033
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالا: " أَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ الْخَنْدَقَ عَلَى عَسْكَرِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے شخص ہیں جنہوں نے لشکر کے گرد خندق بنانے کا طریقہ جاری فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعيف في حفظه، وكان رجلا صالحا
قال ابن حجر: عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ضعيف في حفظه، وكان رجلا صالحا
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2858 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4034
نا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ" ، وَقَالَ مَرَّةً: لَبِسَ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، دِرْعَيْنِ".
غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زرہیں پہنی تھیں، یا جیسا کہ سفیان نے کہا: دو زرہیں زیب تن فرمائیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1138، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8529، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2590، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2806، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2858، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15963»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجه فى «سننه» برقم: 2806
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجه فى «سننه» برقم: 2806
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2859 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4035
نا نا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : " لَوْلا ثَلاثٌ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ قَدْ مُتُّ: لَوْلا أَنْ أَضَعَ جَبِينِي لِلَّهِ، وَأُجَالِسَ أَقْوَامًا يَتَلَقَّطُونَ طَيِّبَ الْكَلامِ كَمَا يُتَلَقَّطُ طَيِّبُ الثَّمَرِ، وَالسَّيْرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں چاہتا کہ میں مر چکا ہوتا: اللہ کے لیے اپنا ماتھا جھکانا، نیک باتیں جمع کرنے والے لوگوں کی مجلس، اور اللہ کی راہ میں سفر کرنا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2859، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19765، 35607»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2860 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4036
نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جَلَسَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ فِي جَبَلِ بَدْرٍ يَقُولُونَ حَيْثُ مَا كَانَتِ الدَّبْرَةُ: كُنَّا مَعَ أَهْلِهَا، فَلَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ نَصْرَ رَسُولِهِ جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَمْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! سَمِعْنَا شَيْئًا يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ، وَسَمِعْنَا حَمْحَمَةَ الْخَيْلِ، وَقَرْعَ الأَدَاةِ، وَسَمِعْنَا شَيْئًا يُقَالُ لَهُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ" .
بدر کے دن کچھ عرب پہاڑ پر بیٹھے یہ کہتے تھے: ”ہم تو اسی کے ساتھ ہیں جس کے پاس غلبہ ہو۔“ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ دیا، وہ آئے اور کہا: ”اے رسول اللہ! ہم نے آسمان سے کچھ اترتے سنا، گھوڑوں کی ہنکار اور سامان کی جھنکار سنی، اور آواز سنی: اقدم حيزوم۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2861 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4037
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوِّمُوا فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ قَدْ سَوَّمَتْ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نشانی لگاؤ، بے شک فرشتوں نے بھی نشانی لگائی تھی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2861، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33391، 37066، 37823»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2862 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 4038
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ"، قَالَ:" وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دشمن پر رعب کے ذریعے مدد دی گئی، اور مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے، اور جب میں سو رہا تھا، تو زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2977، 6998، 7013، 7273، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 523، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2313، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3087، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4280، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4280، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1553 م، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 567، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2862، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7386، والحميدي فى «مسنده» برقم: 975، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32301»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح